یہ آخری کشتی نہیں جو ڈوبی ہے – مکمل کالم


آپ میں سے جن لوگوں میں نیٹ فلکس پر فلم The Swimmers نہیں دیکھی وہ یہ فلم ضرور دیکھیں۔ یہ دو بہنوں کی کہانی ہے جن کا تعلق شام سے ہے، اِن کا باپ انہیں تیراکی کی تربیت دیتا ہے تاکہ یہ اولمپک میں شرکت کر کے اپنے ملک کے لیے تمغہ جیت کر لائیں۔ لیکن پھر شام میں خانہ جنگی شروع ہوجاتی ہے، شروع شروع میں انہیں لگتا ہے جیسے یہ کچھ ہی دنوں کی بات ہے اور حالات جلد معمول پر آ جائیں گے مگر ایسا نہیں ہوتا۔ لڑائی کی شدت بڑھتی چلی جاتی ہے اور خطرہ لوگوں کے گھروں تک پہنچ جاتا ہے، آئے دن کسی نہ کسی جاننے والی کی خبر آتی ہے کہ وہ مارا گیا، اسی طرح ایک دن یہ لڑکیاں تیراکی کی مشق کر رہی ہوتی ہیں کہ ایک میزائل سیدھا آن کر اُن کے سوئمنگ پول میں گرتا ہے اور وہ بال بال بچتی ہیں۔ اُس روز وہ فیصلہ کرتی ہیں کہ یہ ملک اب رہنے کے قابل نہیں رہا اور انہیں یہاں سے نکل جانا چاہیے۔

اُن کا باپ مخالفت تو کرتا ہے مگر وہ اسے یہ کہہ کر قائل کر لیتی ہیں کہ جرمنی نے پناہ گزینوں کے لیے دروازے کھول دیے ہیں سو وہ جرمنی پہنچ کر باقی گھر والوں کو وہاں بلا لیں گے۔ باپ بہت مشکل سے اِس شرط پر راضی ہوتا ہے کہ وہ بذریعہ ہوائی جہاز سفر کریں گی اور ساتھ اپنے کزن کو بھی لے کر جائیں گی تاکہ محفوظ طریقے سے جرمنی پہنچ سکیں۔ یہ تینوں ہوائی جہاز میں استنبول پہنچتے ہیں مگر وہاں جا کر انہیں پتا چلتا ہے کہ اُن کی طرح کے بے شمار لوگ استنبول میں موجود ہیں جو بذریعہ سمندر یورپ جانا چاہتے ہیں، استنبول کے بازار میں انہیں ایک ایجنٹ ملتا ہے جو اُن سے یورو لے کر یورپ پہنچانے کا وعدہ کرتا ہے۔ یہاں سے کہانی ایک نیا رُخ لیتی ہے۔ اِن لوگوں کے ساتھ راستے میں کیا ہوتا ہے، انہیں کس قدر ہولناک سفر کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کیا وہ یورپ پہنچ پاتے ہیں، یہ باتیں جاننے کے لیے آپ فلم دیکھیں، میں مزید کہانی بتا کر آپ کو بور نہیں کرنا چاہتا۔

مگر یہ فلم صرف آپ کو ہی نہیں بلکہ اُن سب لوگوں کو بھی دیکھنی چاہیے جو اچھے مستقبل کی خاطر اپنے جگر کے ٹکڑوں کو غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کی اجازت دیتے ہیں یا پھر وہ بیچارے خود ہی کسی ایجنٹ کی چکنی چُپڑی باتوں میں آ کر یہ فیصلہ کرتے ہیں۔ ابھی دو دن پہلے یونان کی سمندری حدود میں ایک کشتی الٹنے سے تین سو پاکستانی جاں بحق ہو گئے، یہ سب لوگ یہاں کسی انسانی سمگلر کو بیس بیس لاکھ روپے دیکھ کر یورپ جانے کے لیے اِس بد قسمت کشتی میں سوار ہوئے تھے جو منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی الٹ گئی۔ اِس میں عورتیں اور بچے بھی تھے، بمشکل بارہ افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے اور یہاں ہر خاندان والا یہ دعا کر رہا ہے کہ کاش زندہ بچ جانے والا اُن کا بچہ ہو۔ اِس واقعے کی مزید جو تفصیلات سامنے آئی ہیں وہ بھی دل ہلا دینے والی ہیں، جو پاکستانی اِس کشتی میں سوار تھے اُن کی موت بے حد اذیت ناک انداز میں ہوئی۔

یہ اِس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ آخری ہو گا۔ چند ماہ پہلے بھی اسی قسم کے دو تین واقعات میں سینکڑوں پاکستانی جاں بحق ہوئے تھے۔ اُس وقت بھی انسانی سمگلروں کے خلاف کارروائی کا بہت شور مچا تھا، اب بھی مچا ہے اور سنا ہے کہ ایک آدھ بندہ گرفتار بھی ہوا ہے جس نے مبینہ طور پر پیسے لے کر انہیں اُس سفر پر بھیجا تھا۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ اِس گرفتاری سے کچھ نہیں ہو گا کیونکہ مسئلہ انسانی سمگلر نہیں بلکہ مسئلہ معاشی اور سماجی مجبوری ہے اور مجبوری بھی ایسی کہ جس کی خاطر بندہ یہ خطرناک سفر اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

لوگوں کو اپنا حق چاہیے اور وہ بھی اسی زندگی میں، وہ کسی سیاست دان کے وعدوں پر اپنی زندگیاں نہیں گزار سکتے، آج کل معاشی حالات جس نہج پر ہیں اُن سے اچھے بھلے کھاتے پیتے لوگ متاثر ہوئے ہیں، غریب آدمی تو کسی شمار میں ہی نہیں۔ ایسے میں جب لوگ ہر قیمت پر یورپ جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اُن کے دماغ میں بس یہی ہوتا ہے کہ ایک یورو کے ساڑھے تین سو ملیں گے، چند ہی دنوں میں سارا قرضہ اتر جائے گا، ماں کا علاج ہو جائے گا، بہن کی شادی ہو جائے گی، پھر میں چھوٹے بھائی کو بھی یہیں سپین بلا لوں گا، اپنے ساتھ دکان پر کام کرے گا، کمائی دُگنی ہو جائے گی، پھر ہم اپنا مکان بھی بنا لیں گے۔ یہ خواب دیکھنا کوئی غلط بات نہیں، اور نہ ہی یہ ناجائز خواہشات ہیں، یہ تو ذمہ داریاں ہیں جو ہر کسی نے پوری کرنی ہیں۔ اِس ضمن میں اِن لوگوں کا کوئی قصور نہیں، یہ بیچارے تو بس اپنے لیے محفوظ اور پُرسکون مستقبل مانگتے ہیں، کوئی گناہ نہیں کرتے۔

انسانی سمگلروں کے گرد گھیرا تنگ کرنا اچھی بات ہے مگر یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں، مسئلے کا حل یہ ہے کہ پاکستان کو سیکورٹی سٹیٹ کی بجائے ایک فلاحی مملکت بنایا جائے، جہاں کوئی اِس فکر کے ساتھ نہ سوئے کہ پتا نہیں کل اگر وہ مر گیا تو اُس کی جوان بہن کا کیا ہو گا، اُس کے بوڑھے ماں باپ کہاں دھکے کھائیں گے۔ مگر یہاں تو حال یہ ہے کہ وہ زندہ بھی ہے تو بے بس ہے، اپنے ماں باپ اور بہن بھائی کے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔ ایسے بندے کو جب کوئی انسانی سمگلر ملتا ہے اور یورپ پہنچ جانے والے خوش قسمت لوگوں کی تصاویر دکھاتا ہے جن میں وہ یورپ کی سڑکوں پر گھومتے نظر آتے ہیں تو بندے کی سمجھ بوجھ کام نہیں کرتی اور نہ ہی وہ یہ اندازہ کر پاتا ہے کہ یہ سفر کس قدر خطرناک ہو گا۔

آج سے کئی سال پہلے ہمارے ایک وزیر اعظم سے کسی نے انٹرویو میں پوچھا تھا کہ لوگ پاکستان کے حالات سے تنگ آ کر ملک چھوڑ کر کیوں جا رہے ہیں تو انہیں نے اطمینان سے جواب دیا تھا کہ جو لوگ ملک چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں وہ شوق سے جائیں۔ حالانکہ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جنہیں ملک چھوڑنے کا شوق ہوتا ہے اور وہ بھی ایسا بھیانک سفر اختیار کر کے۔ کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ بحر اوقیانوس میں کشتی الٹنے سے دو سو امریکی جاں بحق ہو گئے اور یہ امریکی اچھے مستقبل کی خاطر بذریعہ سمندر پاکستان پہنچنا چاہتے تھے!

ایک سوال یہ بھی ذہن میں اُبھرتا ہے کہ جب بار بار یہ خبریں آتی ہیں کہ غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے والے لوگ سمندر میں ڈوب جاتے ہیں تو پھر بھی لوگ اِس قسم کا سفر کرنے کا خطرہ کیوں مول لیتے ہیں۔ اِس کی ایک وجہ تو بیان کردی کہ معاشی حالات اِس قدر خراب ہیں کہ لوگ مجبور ہو کر یہ قدم اٹھاتے ہیں، دوسری وجہ یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ خطرے کے باوجود وہاں پہنچنے کے امکانات کم نہیں ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ہم کسی موٹر سائیکل سوار کو دیکھتے ہیں جو اپنی بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو بٹھا کر تیز رفتاری سے اشارہ کاٹتے ہوئے نکل جاتا ہے، اُس کا مفروضہ یہ ہوتا ہے کہ خطرے کے باوجود اِس حرکت کے نتیجے میں مرنے کا امکان کم ہے۔ اور جب وہ بچ جاتا ہے تو اُس کے خیال کو تقویت ملتی ہے۔ مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا، حقیقت میں آئے روز حادثات ہوتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے اخبارات میں ٹریفک کے حادثات میں مرنے والوں کی خبریں بھی خبرناک حد تک زیادہ ہو گئی ہیں۔ بحیثیت قوم ہم تقریباً پاگل ہوچکے ہیں اور اِس کی وجوہات ان گنت ہیں۔ اگر آپ کو یہ وجوہات نہیں معلوم تو کسی روز جون جولائی کی تپتی گرمی میں سڑک کے کنارے کسی مزدور کو کام کرتے ہوئے دیکھیں، شاید کچھ اندازہ ہو جائے!

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada