استحکام پاکستان پارٹی وقت کی ضرورت


پاکستان میں استحکام ہر پاکستانی کی پرانی اور سچی خواہش ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر 1957 تک پاکستان میں سات وزرائے اعظم آئے اس طرح پاکستان اپنے قیام سے لے کر آج تک سیاسی استحکام کا متلاشی رہا ہے۔ یہ ہی وجہ بنی کہ پاکستان میں جب پہلا مارشل لا جنرل ایوب خان نے لگایا تو سیاست دان اپنی لڑائیوں میں مصروف ہونے کی وجہ سے کوئی مزاحمت نا کرسکے اور سیاست دانوں کی انھی لڑائیوں نے بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کو مداخلت کا موقع دیا۔

اس کے بعد 1990 کی دہائی میں بھی نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی آتی جاتی حکومتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور کرپٹ ثابت کرنے پر لگی رہیں اور اس طرح عوام کی سیاست دانوں سے وابستہ امیدیں مزید دم توڑ گئیں۔ عوام جو اس امید پر ان دو پارٹیوں کو سپورٹ کر رہے تھے کہ یہ پاکستان کو استحکام کی طرف گامزن کریں گے ان سے نا امید ہو کر اب کسی تیسری قوت کی طرف دیکھ رہے تھے۔ 2011 میں عمران خان سیاست کے افق پر ایک نئے کھلاڑی کی حیثیت سے ابھرے عوام کو سہانے خواب دکھائے کہ وہ استحکام پاکستان کے لئے کام کریں گے اسے ایک فلاحی ریاست بنائیں گے مگر ہوا کیا؟

خان صاحب نے اپنے وعدوں کے برعکس اپنے اقتدار کی طوالت کے لئے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لئے کئی سازشیں کی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان 9 مئی کو ایک خوفناک سانحہ سے دوچار ہو گیا۔ ہماری 75 سال کی دردناک کہانی ہی یہ ہے کہ ہر نیا حکمران یہ وعدہ ضرور کرتا ہے کہ وہ پاکستان میں استحکام لائے گا مگر اس کے برعکس ہر 8، 10 سال بعد پاکستان ایک نئے سانحہ کا شکار ہو جاتا ہے، سوال یہ ہے کیا استحکام پاکستان پارٹی عوام کی 75 سالہ خواہش پوری کرسکے گی، کیا وہ پاکستان میں استحکام لا سکے گی۔

اگر دیکھا جائے تو جہانگیر ترین اور علیم خان نے اس پارٹی کا نام بہت سوچ بچار کے بعد رکھا ہے کیونکہ اس وقت پاکستان کو ایک ایسی پارٹی کی ضرورت ہے جو پاکستان کو سیاسی، معاشی اور خارجی استحکام کی طرف گامزن کرسکے۔ استحکام پاکستان پارٹی میں بہت سے باصلاحیت اور سینئر سیاست دان موجود ہیں جو سیاسی استحکام میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ جب ملک میں سیاسی استحکام آئے گا تو ہی معاشی استحکام آ سکے گا۔ استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین اور صدر علیم خان کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی پارٹی میں موجود باصلاحیت افراد موجود ہیں ان سے فائدہ اٹھائیں اور سیاسی پارٹیوں سے بات چیت کے ذریعہ معاملات کا حل نکالیں تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرے چارٹر آف اکانومی کی طرف لی کر آئیں کیونکہ مضبوط معیشت ہی استحکام پاکستان کی ضمانت ہے۔

دوسری سیاسی جماعتوں بالخصوص نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو بھی چاہیے کہ ماضی سے سبق سیکھیں اور آگے بڑھیں ایک دوسرے کو طعنے دینے اور ماضی کی سیاسی وابستگیاں یاد کروانے کی بجائے صاف دل سے قبول کر کے بات چیت کے دروازے کھولیں اور جو استحکام پاکستان کا پیغام لے کر جہانگیر ترین نے نئی پارٹی کی بنیاد رکھی ہے اس میں اپنا حصہ ڈالیں کیونکہ جس نفرت کی سیاست کی بنیاد عمران خان نے ڈالی ہے اسے نفرت سے نہیں بلکہ بات چیت سے ختم کیا جا سکتا ہے۔

استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہونے والے رہنما جو استحکام کا عزم لی کر شامل ہوئے ہیں انھیں بھی چاہیے اب چور ڈاکو کرپشن کے تحریک انصاف کے نعروں کو چھوڑ کر جہانگیر ترین کی قیادت میں پاکستان کی عوام کو ایک نئی امید دلائیں کہ وہ ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام لے کر آئیں گے۔ ان کے پاس ایک اچھا موقع ہے کہ وہ کام کر کے دکھائیں اور تمام سیاسی پنڈتوں کے اندازوں کو غلط ثابت کر دیں۔

خدا کرے استحکام پاکستان پارٹی ملک میں ایک نئے سیاسی دور کا آغاز کرے جہاں رواداری اور برداشت کی سیاست کو فروغ ملے کیونکہ اس سیاسی کشیدگی کہ ماحول میں ملک کو تحمل اور برداشت کی اشد ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS