جنت ایسے نہیں ملتی


لگتا تھا کہ زمانہ بدل چکا ہے اور اس بدلتے زمانے کے ساتھ فرسودہ روایتوں کو تھامنے والے بھی بدل چکے ہیں۔ لیکن یہ صرف خام خیالی تھی۔ اور اس سے بھی بڑی خام خیالی یہ تھی کہ نہ بدلنے والے دور دراز علاقوں میں رہنے والے ہوں گے۔ جہاں نئی سہولتوں اور نئی سوچ والوں کا گزر بھی نہیں ہوتا ہو گا۔ میرا یہ ابہام جب دور ہوا تو جو تکلیف ہوئی سو ہوئی، لیکن جو دھچکا لگا وہ ناقابل بیان ہے۔

دو ماہ پہلے ایک ویڈیو نظر سے گزری تھی جس میں مدرسے کے طالب علم کو الٹا لٹکا کر مارا جا رہا تھا۔ اذیت کے وہ مناظر میری برداشت سے باہر تھے۔ اس بچے کی اذیت کا سوچ سوچ کر کتنے سارے دن تکلیف میں گزرے، بس نہیں چل رہا تھا کہ استاد کو بھی تھانے لے جا کر ایسے ہی لٹکا دوں۔ سوچا یہ ضرور کسی دور دراز علاقے کی ویڈیو ہے۔ بہر حال کچھ نہ کر سکنے والا صرف کڑھتا رہتا ہے میں بھی یہی کرتی رہی، اور بچے کے استاد اور والدین کو کوستی رہی۔ کہ پتہ نہیں کیسے جاہل لوگ ہیں جو جنت کا راستہ تشدد میں ڈھونڈتے ہیں۔ اللہ نے تو دین اپنانے میں جبر سے منع کیا ہے تو یہ کون لوگ ہیں ہیں جو دیندار لوگوں کو زبردستی دین گھول کے پلانا چاہتے ہیں۔ کافی سارے دن پریشانی میں گزرے پھر رفتہ رفتہ یہ قصہ بھول گئی اور زندگی پھر سے روٹین میں آ گئی۔

لیکن کل جب مجھے میری بڑی بہن نے بہت دھیمے لہجے میں بتا یا کہ میرے بھانجے کو اس کے قاری نے مارا ہے۔ تو میں بات کو ہلکا ہی لیا۔ سوچا دو تین سٹک پڑ گئی ہوں گی۔ چلو بچے کے سدھار کے لیے استاد کو اتنا مارجن دے دینا چاہیے۔

پوچھا کیا ہوا کس بات پہ مار پڑی تو کہنے لگی حارث کی غلطی ہے یہ شرارتیں کر رہا تھا۔ اور قاری کے سامنے سیٹی بجائی تھی۔ سیٹی کا سن کے میری ہنسی نکل گئی۔ مزید بتانے لگی قاری نے اس کو منع کیا کہ شرارتیں نہ کرو تو اس کو مزید شرارت سوجھنے لگی۔ اس نے واش روم جانے کی اجازت لینا تھی لیکن اس نے پھر سیٹی بجا دی۔ اس پر قاری کو غصہ آ گیا اس نے پہلے سٹک سے مارا اور پھر مکوں اور لاتوں سے۔ پچاس ساٹھ سال کا طاقتور مرد بارہ سال کے بچے کے منہ پر تابڑ توڑ مکے مار رہا ہے اور کوئی بچانے والا نہیں، سوچ کر ہی جھرجھری آ گئی۔

اس نے سیٹی بجائی تھی یا گولی چلا دی تھی، جو قاری نے ایسے کیا میں غصے میں بولی۔ اگر منہ پہ مکے مارنے سے بچے کے دانت ٹوٹ جاتے تو قاری کا کیا جاتا۔

بھائی نے جا کر قاری سے پوچھا کہ اس نے اس بیدردی سے کیوں مارا۔ تو میری بیوقوف بہن، جی ہاں میں اس وجہ سے اسے حد سے زیادہ بیوقوف کہوں گی۔ جو اس شدید ظلم پر شکایت کرنے کی بجائے کہہ رہی تھی غلطی تو ہمارے بچے کی ہے اس نے شرارت کی تھی۔ اس کے پاپا جا رہے تھے پوچھنے، تو حارث نے کہا پاپا میری غلطی ہے میں شرارت کی تھی۔

یار کیسے بیوقوف ہو تم۔ وہ بچہ تو ڈر کے مارے کبھی بھی جانے نہیں دے گا کہ قاری کہیں مزید مجھے نہ مارے۔ لیکن آپ کو تو عقل کرنی چاہیے۔

قاری کی قسمت اچھی ہے کہ اس کا پالا تم احمقوں سے پڑا ہے۔ ورنہ اگر تمھاری جگہ کوئی اور ہوتا تو سیدھا جا کر تھانے بند کروا دیتا۔ خیر بات دونوں کی سمجھ میں آ گئی۔

بھائی گئے قاری کے پاس کہ اس سے پہلے بھی آپ بچے کو شرارت کرنے پہ سزا دیتے رہے ہیں لیکن ہم نے کچھ نہیں کہا۔ لیکن اب گھر والے برداشت نہیں کر رہے۔ ہر کوئی تڑپ اٹھا ہے، کوئی بھی معاف کرنے کو تیار نہیں۔ رات اہل محلہ، مسجد کمیٹی کے ممبران اور دیگر اساتذہ کی میٹنگ ہوئی، قاری نے اس تشدد پہ معذرت کی۔ لیکن کمیٹی نے اس معاملے کو مدرسے کے خطیب اور ناظم کے سامنے پیش کرنے کا کہا ہے۔

قاری صاحب شاید بھول گئے تھے کہ یہ کوئی دور افتادہ پسماندہ علاقہ نہیں جہاں جنت کی الاٹمنٹ کے لیے طالبعلموں پر تشدد کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اور والدین اور رشتے دار بھی بچے پہ ہوئے زدو کوب کو ثواب، اور جس جس عضو پہ استاد کی مار پڑے اس پہ جہنم کو حرام سمجھتے ہیں۔ ایسے استاد اور والدین اس فرسودہ سوچ سے باہر نکل آئیں اور جان لیں جنت ایسے نہیں ملتی۔ طالبعلموں پہ ایسے تشدد کرنے سے اب جیل ملتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ اگر کوئی پوچھنے والا ہو تو۔

مانتے ہیں بچے شرارتیں کرتے ہیں کچھ بچے زیادہ شرارتی ہوتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ شرارت پہ بچے کو جان سے مارنے کی کوشش کی جائے۔ کچھ بچے کند ذہن بھی ہوتے ہیں جو سبق یاد نہیں کر پاتے۔ اساتذہ انھیں بیدردی سے مارتے ہیں۔ بچے کی کند ذہنی یا شرارت کا علاج مار نہیں ہے۔ بچہ کسی کا بھی ہو مار ناقابل قبول ہے۔

مدرسے میں مار کھانے والا میرا بھانجا اکیلا بچہ نہیں جسے اس بیدردی سے پیٹا گیا ہو، اور ایسا کرنے والا یہ استاد بھی واحد نہیں ہے۔ ایسے سینکڑوں اساتذہ ہیں جو بیدردی سے اپنے طالبعلموں کو مارتے ہیں۔

خدا کے لیے والدین ہوش کے ناخن لیں۔ اپنے بچوں کو شعور دیں کہ کوئی بھی ان پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتا۔ وہ اس بھول سے نکل آئیں کہ جنت میں جانے کا راستہ استاد کی مار سے ہو کر گزرتا ہے۔ خدا کے لیے اپنے بچوں کی حفاظت کریں۔ بچوں کو ایسے درندہ صفت اساتذہ کے رحم و کرم پہ ہرگز نہ چھوڑیں۔ اپنے بچوں کے ساتھ مضبوط سہارا بن کر کھڑے ہوں۔ اگر کوئی استاد آپ کے بچے کو مارتا ہے تو فوری ایکشن لیں ورنہ یونہی مدرسوں میں بچوں پر بدترین تشدد کیا جاتا رہے گا۔ میری اعلی حکام سے بھی درخواست ہے جیسے سکولوں میں مار نہیں پیار کا قانون لاگو ہے ویسے ہی مدرسوں میں بھی اس قانون پہ عمل کروایا جائے۔ بچوں کو شعور دیا جائے کہ انھیں اساتذہ کے تشدد کو سہنا نہیں اسے گھر میں بتانا ہے۔ ورنہ یہ اساتذہ وحشیوں کی طرح بچوں کو پیٹتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS