تیاگی گئی محبتیں اور ذبح کی گئی شیر جوانیاں!


میں کافی دیر قلم ہاتھ میں لیے ساکت رہا۔ الفاظ کے انتظار میں تھا کہ کہیں سے آ کر میری مدد کریں۔ آفات نے تو ہمارے ملک کا گھر دیکھ لیا ہے، اور ساتھ ساتھ سانحات نے بھی صدائیں لگا رکھیں ہیں کہ ہم سینہ کوبی کیوں نہیں کرتے، نوحے کیوں نہیں پڑھتے! آنسؤں کا آنکھوں میں پتھر ہونا کئی جگہ نثر اور نظم میں پڑھا تھا۔ بس آج اس کو محسوس کر لیا۔ پتھر جسم، پتھر آنکھیں اور پتھر آنسو! نوجوان کی کشتیاں پہلے بھی ڈوبی تھیں، بہت سی جگہوں سے کئی جوان بے یارو مددگار زندگی گنوا بیٹھے تھے۔

پھر کسی نے کہا کہ ”ایسے حالات میں یہ جو نوجوان اپنے خاندانوں کے حالات بہتر کرنے کے سپنے لیے موت کی رتھ پر سوار ہو کر نکل پڑتے ہیں زندگی کے مقتل سے غیر یقینی کے مقتل کی طرف“ ان کی وجوہات پر لکھوں۔ اور یہ بھی لکھوں کہ اس سلسلے میں کیا کرنا چاہیے۔ میں خاموش رہا، پھر سوچا کہ پاکستان میں بہت سے ادارے ہیں، بہت سے لوگ ہیں، جن کے ذمے یہ کام ہے۔ کئی لوگ اور ادارے پاکستان کی سیاسی اقتصادیات، جیو اسٹریٹجک پوزیشن، جیو پولیٹیکل۔

سے لے کر نوجوانوں کی تعلیم، علم، ہنر، روزگار اور بہتر مستقبل جیسے اہم کاموں میں مشغول ہیں۔ یہ ہی ان کو کرنا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے ہی ان کو ساری مراعات، تنخواہیں، نام اور عزت ملتی ہے۔ ان لوگوں اور اداروں کا کام میں کیوں کروں؟ اس دوست کو میں نے کہا ”میں جذباتی ہو گیا ہوں، دکھی ہوں، میرے روح اور جسم میں جیسے کئی ہزار سویاں پیوست ہو گئی ہیں۔ میں بس اس دکھ، درد اور جذبات کے سوا کچھ نہیں لکھ سکتا! یہ پردیسی شہزادے، جو بچھڑی ہوئی کونجوں کی مانند مشرق وسطیٰ کے تپتے صحراؤں سے لے کر یورپ کی سخت ترین سردیوں میں۔

پتا نہیں کہاں کہاں پر اپنی جوانی اور زندگی کو ہتھیلی پے لیے مارے مارے پھرتے ہیں۔ لیکن ناخوش نہیں ہوتے، اپنی قسمت کو برا بھلا نہیں کہتے، یہ تک کہ کوئی دکھ، کوئی تکلیف، کسی عرب سپاہی کی گالیاں، اپنے ہی لوگوں کے دھکے جو ان کو ائرپورٹ، اس کے باہر اور (باہر جانے کے لیے ) دفاتر میں کھانے پڑتے ہیں، وہ ان سب سے بے پرواہ ہو جاتے ہیں۔ بس اپنوں اور اپنے خاندان کی پرواہ، ان کے لیے کمانے کے علاوہ ان کو کچھ یاد نہیں رہتا تھا۔ کسی بدتمیز ہمارے اسلامی بھائی عرب سپاہی کی ذلت بھری نگاہ کو بھی ہنس کے ٹال دیتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ان کی عزت نفس نہیں ہے، ایسا نہیں ہے کہ وہ بے حس ہیں۔ ایسا بالکل نہیں ہے!

چوبیس کروڑ کے اس ملک میں پندرہ کروڑ نوجوان ہیں! ایسی قوت بازو اور جوانی شاید دنیا کے کسی اور ملک کو نصیب نہیں۔ لیکن ایسی دربدری بھی شاید کسی نوجوان نسل کو نصیب نہیں! پنو عاقل سے لے کر پاراچنار تک، کراچی سے لے کر کوٹلی تک، میرپور خاص سے لے کر ملتان تک، آپ پاکستان کے کسی بھی شہر اور بستی کا نام لیں وہاں کا کوئی نہ کوئی نوجوان اپنے خاندان اور اپنوں کی محبت میں سب کچھ قربان کر کے ان کے لیے جی رہا ہے۔ یہ نوجوان اپنے وطن سے دور محنت اور مزدوری کر رہے ہیں اور ہمیں زر مبادلہ بھیج رہے ہیں۔ اور یہ تھکتے ہی نہیں!

یہ نہیں کہ پاکستان کے اندر نوجوان کچھ نہیں کر رہے، اپنے خلاف وہ ہر جگہ محاذ بنا دیکھتے ہیں۔ رشوت، اقرباپروری، اپنوں کو نوازنا، تعلیم، صحت اور ہنر کی سہولتوں سے عاری معاشرے میں، اپنے روزگار کے لیے مارے مارے پھر رہتے ہیں۔ پھر جب کوئی راستہ نظر نہیں آتا تو باہر کا سوچتے ہیں۔ مائیں اپنے زیور بیچ کر، خاندان قرضے لے کے اپنے لخت جگروں کو باہر بھیجتے ہیں۔ کچھ کو پہلے سے ہی پتہ ہوتا ہے کہ یہاں ان کو کچھ نہیں بننا اس لیے جیسے جوانی کی دہلیز پر پہنچتے ہیں تو باہر جانے کے راستے ڈھونڈتے ہیں۔

پھر کچھ انسانوں کی سمگلنگ کرنے والی مافیاؤں کے ہتھے لگ جاتے ہیں اور یونان کے سمندر جیسے واقعے کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں! کیا عجب اتفاق ہے کہ اس ڈوبنے والے میں کثرت پاکستان، مصر اور شام کے نوجوانوں کی ہے۔ پاکستانی ایف آئی اے نے شاید اس گھناونے کاروبار میں ملوث رہزن کو پکڑ لیا ہے، پر آخر یہ واقعات ہم جیسے ممالک میں کیوں ہوتے ہیں۔ شام، مصر اور پاکستان میں آخر اسلامی ملک ہونے کے علاوہ اور کیا قدر مشترک ہے؟!

پاکستان کی طول و عرض میں تھانے سے لے کر ضلعے تک، تحصیل سے لے کر صوبائی سطح تک لوگوں کی تقرریوں اور تبادلوں پر دیا اور لیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نوجوان کا مستقبل کیونکر محفوظ ہو سکتا ہے!

یہ نوجوان جو اپنے آپ کو سمندروں کے حوالے کر دیتے ہیں، کیوں ایسا کیوں کرتے ہیں۔ زندگی کی پل صراط پر چڑھ کر موت کے دلاسے کے ساتھ سخت ترین صورتحال میں باہر جانے کے جتن کرتے ہیں۔ کیوں! ان کو پتہ ہے کہ موت سے بچ گئے تو شاید لمبی جیل میں چلے جائیں۔ ان کو پتہ ہے کہ باہر کے ممالک میں ان کے سفارت خانے ان کے لیے کچھ کرنے جوگے نہیں ہیں! پھر بھی کرتے ہیں یہ زندگی کا سودہ!

سعودی سے لے کر خلیج کے ممالک میں جب بھی ان پر کوئی سختی آتی ہے، ان کے ساتھ کوئی غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے۔ تو وہ چپ کر سہ جاتے ہیں۔ جبکہ اپنے اردگرد اور ممالک کے لوگ، (چاہے فلپین یا ایسے کسی غریب ملک کا شہری ہو) جب تکلیف میں ہوتے ہیں تو ان کے ممالک اور حکومتیں دوڑی دوڑی آتی ہیں۔ لیکن ہمارا قصہ ہی کچھ اور ہے۔ پردیس میں اگر کسی پاکستان کو اپنے وطن کی یاد ستائے تو اپنے ملک کے سفارتخانے یا کاؤنسولیٹ میں چلے جائیں۔ وہ ہی لائیں، وہ ہی اقربا پروری، وہ ہی اعلیٰ عمل داران و افسران کے رعب و تاب، وہ ہی مزدور لوگ ان کی منتیں کرتے ہوئے۔ دکھے کھاتے! ۔ گر سفارتخانے کچھ بہتر کرتے ہیں تو اوروں کے ڈر سے اپنے لوگوں کو آسانیاں دینے کے لیے نہیں۔ خیر یہ تو برسہا برس کی باتیں ہیں!

باہر کام کرنے والے ٹیکسی ڈرائیور، مزدوری اور کام کرنے والے کئی پاکستانی نوجوانوں سے میری بات ہوئی ہے۔ سب بہتر زندگی کے خواب لے کر پہنچتے ہیں۔ یہ بہتر زندگی کا خواب ان کے اپنے لیے نہیں ہوتا! وہ اپنے خاندان، بھائی بہن، ماں باپ اور پھر بچوں کے لیے کرتے ہیں۔

”میری تین بیٹیاں ہیں، اب بڑی دسویں کلاس میں ہے۔ انشاء اللہ ڈاکٹر ہوگی۔ مجھے آٹھ سال ہو گئے ہیں۔ اب سب تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ گھر کے کمرے بھی بنوا لیے ہیں۔ امی ابا کو حج پر بھی بھیجا تھا۔ بس سال ڈیڑھ میں اک دفعہ جاتا ہوں۔ سکون میں ہوتا ہوں کہ میرے بچوں کے پیٹ میں روٹی ہے اور وہ بیماری میں ہسپتال میں علاج کرا سکتے ہیں۔“

اک اور نوجوان نے بتایا ”میں۔ سے تعلق رکھتا ہوں، مجھے کمپیوٹر میں شوق تھا، لیکن۔ دھماکوں میں ہمارے والد صاحب کا دکان ختم۔ ہم روڈ پر آ گئے تھے۔ میں ادھر آ گیا۔ الحمدللہ اب ہر مہینے دو سے تین ہزار درہم گھر بھیجتا ہوں۔ سب خوش ہیں۔

”پر تم اپنے لیے کیا رکھتے ہو!“

”ٹپ سے پانچ آٹھ سو (درہم) مل جاتے ہیں۔ میرا گزارا ہوجاتا ہے۔ اک کمرے میں آٹھ لوگ ہوتے ہیں۔ نہیں نہیں چار کی صبح اور چار کی رات کی ڈیوٹی ہوتی ہے، تو گزارا ہوجاتا ہے۔“

”جب میری بیٹی چار مہینے کی تھی تو پاکستان گیا تھا۔ اور اب دو سال کی ہو گئی ہے۔ ڈیڑھ سال سے اوپر ہو گیا ہے پاکستان نہیں گیا۔“

یہ بات بتاتے اس نوجوان کی آنکھیں بھر آئیں۔ ”لیکن انکل سچی بات ہے میں ان کے لیے خوش ہوں۔“

کسی اور نوجوان سے پوچھا کہ ”تم جو کماتے ہو بھیج دیتے ہو، تم نوجوان ہو، یہاں کی رونقیں تمہیں اپنی طرف کھینچا نہیں کرتی؟“ نہیں سر! یہ سب کچھ ہمیں دکھائی نہیں دیتا! کیوں دکھائی دے؟ اپنے ماں باپ چھوٹے بھائی بہنوں کو میں کس طرح دھوکہ دے سکتا ہوں۔ گھر پکا بن گیا ہے، بہن کی شادی کرائی ہے۔ بچت بھی کی ہے۔ انکل سچ بتاؤں، محنت کر کے سو جاتا ہوں تو صبح پھر محنت کرنے کے لیے اٹھتا ہوں۔ میرے پاس اور کام سوچنے کے لیے بھی وقت نہیں! ”

”گزارا ہوجاتا ہے انکل! چائے /کافی 15 درہم کی بھی ملتی ہے تو 2 درہم کی بھی! یہاں بہت سستی چائے اور روٹی بھی ملتی ہے۔ ہمیں پتا ہے کہاں پر کون سی چیز اچھی اور سستی ملتی ہے۔ اپنے لیے اچھے جوتے ضرور لیتا ہوں، وہ کام کے لیے ضروری ہے۔ جب پاکستان جانا ہوتا ہے سب کے لیے کچھ نہ کچھ لے لیتا ہوں۔“

”دراصل ہم نے اپنا سب کچھ بھیج کر اور آدھا قرض لے کر اک بندے کو بیس لاکھ دیے تھے۔ سرکاری نوکری کا پکا آسرا تھا، میں نے گریجوئیشن کی ہوئی ہے۔ پھر۔ وہ بندہ کہیں گم ہو گیا۔ اتنا قرضہ کہاں سے اترتا۔ پھر اللہ نے کرم کیا میں یہاں آ گیا۔ اب تین سال ہو گئے ہیں۔ جی شادی پسند کی ہے۔ ایک سال پہلے۔ دراصل رشتہ دار ہی ہے۔ اماں کو کہا تھا کہ پسند ہے۔ بس شادی میں اک مہینہ چھٹی ملی تھی۔ کووڈ کی وجہ سے نوکری ختم ہونے کا خطرہ تھا۔ اس لیے جلد آ گیا۔ اک سال سے اوپر ہو گیا ہے۔ نہیں گیا۔ جی سر۔“

اک اور چمکتی ہوئی آنکھوں والے نوجوان نے بتایا۔

”ہمارا سب کچھ ختم ہو گیا تھا۔ گاؤں ختم ہو گیا تھا۔ آپ کراچی لاہور والوں کو کوئی پتہ نہیں، ہمارے اوپر کون سی قیامت گزری ہے۔ اک دن ہمارے بڑے بوڑھوں نے مسجد میں اکٹھا ہو کر دعا مانگی ”اے مالک گر قیامت آنی ہے، تو برپا کردے۔ “ اب چار سال سے پیسے بھیج رہا ہوں۔ چیزیں بہتر ہوئی ہیں۔ دو بہنیں اب یونیورسٹی میں ہیں۔ ہم شہر میں آ گئے ہیں۔ ابو اب اور محنت نہیں کر سکتے۔ میرے مارکس بہت اچھے تھے، مجھے انجنیئر ہونا تھا۔ لیکن۔ لیکن اپنے برباد حال خاندان کی کفالت کے لیے جستجو کرتا یا انجنیئر ہونے کا خواب دیکھتا۔ ”“ کوئی اپنا وطن نہیں چھوڑنا چاہتا۔ یہ لوگ ہمیں بڑی نفرت سے دیکھتے ہیں۔ لیکن اور کوئی راستہ ہی نہیں تھا۔ ”

”انکل میں نے فارمیسی کی ہوئی ہے۔ تین سال سے جاب کر رہی ہوں۔ اپنے سرٹیفکیٹ اٹیسٹ کرانے میں بڑی خواری ہوئی تھی میرے بوڑھے ابو میرے ساتھ مارے مارے پھرتے تھے۔ رشتہ دار اور عذاب کیے ہوئے تھے، کہ غیر شادی شدہ لڑکی کو کیوں اکیلا باہر بھیج رہے ہو۔ میں نے ابو کو کہا، کچھ بھی ہو جائے میں باہر جاؤں گی۔ میں اپنے والدین اور چھوٹی بہن بھائیوں کو سسکتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ شادی گئی بھاڑ میں! میں یہاں پر بڑی عزت سے کام کر رہی ہوں۔ کوئی مجھے عورت ہونے کی وجہ سے کچھ کہہ نہیں سکتا۔ یہاں البتہ پاکستانی ہونے کی وجہ سے تنخواہ کم ہے۔ ہمسایہ ملک کے لوگوں کی بھی تنخواہ ہم سے زیادہ ہوتی ہے۔ اور جتنی ذلت مجھے عورت ہونے کی وجہ سے اپنے شہر اور وطن میں اٹھانی پڑی۔ ہر جگہ گھورتے ہوئے وحشی مرد۔“ وہ بچی اپنی باتیں سناتی رہی اور میں یہ تک بھول گیا کہ میں اس میڈیکل اسٹور پر کون سی دوائی لینے گیا تھا!

لیکن یہ نوجوان اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی اپنے ملک سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔ اپنی ذات پر گالیاں و ذلت برداشت کرلیتے ہیں۔ لیکن کوئی بھی پاکستان کے خلاف بولنے کی کوشش کرتا ہے تو شیر کی طرح دھاڑ کر جواب دیتے ہیں! وہ اپنا دکھ، وطن میں کی گئی بے واجبیوں کو اس طرح دیکھتے ہیں کہ پاکستان جانے ہم جانے، تم کون ہوتے ہو ہمارے ملک کے خلاف بکواس کرنے والے! ”۔

ایسی لاکھوں داستانیں ہیں! یہ نوجوان اپنا سب کچھ، اپنی زندگی اپنوں کے نام قربان کر دیتے ہیں! جانے کے بعد ، بھیچتے رہتے ہیں زر مبادلہ جس پر ’ہم سب‘ چلتے ہیں۔ ان کی تیاگی گئی محبتوں اور ذبح کی گئی شیر نوجوانیوں کا حساب کون دے گا! ؟

کسی تحصیلدار، (مختیار کار) ، ڈپٹی کمشنر، کمشنر، ڈی جی، سیکریٹری، وزیر اور حاکم کے بڑے بڑے آفس، بڑے بڑے گیسٹ ہاؤس، چیمبرز، ایکڑوں میں پھیلی ہوئی رہائش گاہیں! یہ ان کمروں سے چھوٹی ہیں، جس میں یہ نوجوان پردیس میں آٹھ آٹھ اک کھٹے رہ کر اپنی زندگی کی دہائیاں گزار دیتے ہیں!

یہاں کسی کو کچھ نہ کہو، کسی کا نام نہ لو، کسی کو مورد الزام نہ ٹھہراؤ۔ لیکن کوئی اپنے جوانوں کی موت پر قلم سے سینہ کوبی نہ کرے! ؟ یہ ماتم بھی نہ کرے کہ انسانی سمگلنگ والے بھی پاکستانیوں کو باقی دنیا سے حقیر سمجھتے ہیں۔ اس لیے یونان کے سمندری پانیوں میں ڈوبنے والی کشتی میں پاکستانیوں کو جہاز کے عرشہ پر نہیں بٹھایا، بلکہ کمتر لوگوں کو عرشے کے نیچے بٹھایا گیا تھا، جہاں پر کسی بھی ہنگامی حالات میں بچنے کے چانس بہت کم ہوتے ہیں!

ہم نے اپنا پرچم دکھ میں سرنگوں کر دیا ہے، کافی لوگ پکڑے گئے ہیں، یہ سب کارندے ہیں۔ لیکن ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ اب کوئی سودا پیسے کے عیوض نہ کرنا! میرے جوانوں کو اس طرح بے یارو مددگار نہ کرنا!

Facebook Comments HS