مہنگائی نیک فال ہے

گزشتہ ڈیڑھ سال سے مہنگائی کا طوفان جہاں کمزور طبقوں کو خس و خاشاک کی طرح بہائے لیے جا رہا ہے وہاں سو میں نوے فیصد طبقوں کے لیے نیک فال ثابت ہوا ہے۔ بڑے جاگیر داروں، سرمایہ کاروں، سیٹھوں اور ذخیرہ اندوزوں کی ایسی چاندی ہوئی ہے کہ شاید پچھلے پچھتر سالوں میں کبھی نہ ہوئی تھی۔ ایک روپے کی چیز دس بیس اور بعض بعض موقعوں پر پچاس روپے کی فروخت ہوئی ہے۔ جس وقت پٹرول کی قیمتوں میں پندرہ پندرہ دن کے وقفے سے تیس تیس روپے اضافہ کیا جا رہا تھا موٹر سائیکل سواروں کی جان تو حلق میں آ رہی تھی لیکن تیل کے ذخیرہ اندوز خوشی سے جھوم رہے تھے اور قیمتوں میں اضافہ سے ایک دن قبل ہی تیل کی مصنوعی قلت پیدا کر دیتے تھے۔
علاوہ ازیں مہنگائی سیاست دانوں کے حق میں بے حد نیک شگون ثابت ہوئی ہے۔ ڈیڑھ سال قبل حکومت تبدیلی ہوئی اور گیارہ بارہ پارٹیوں کی مخلوط حکومت جس بھونڈے طریقے سے آئی تھی اگر مہنگائی نہ ہوتی تو شاید عوامی احتجاج اور مظاہروں کی نذر ہو جاتی۔ مہنگائی نے لوگوں کی کمر سیدھی نہیں ہونے دی بایں وجہ وہ سمجھ نہیں پائے کہ کن بیرونی و اندرونی ہاتھوں نے راتوں رات ان کے نخل آرزو کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔
ڈیڑھ سال قبل حکومت گرا دیے جانے کے بعد جانے والی حکمران جماعت کے مقتدر اداروں سے گلے شکوے شروع ہو گئے بعض تقریریں تو تلخ اور ”گستاخی“ کی حدوں کو چھونے لگی تھیں چنانچہ مقتدر حلقوں نے مذکورہ جماعت کے خاتمے کا جو مصمم ارادہ کر لیا تھا اس کو عملی جامہ پہنانے میں مہنگائی نے بے حد مدد کی ہے۔ سیاسی جماعتیں عام آدمی کے ربط و ضبط جس کو فین فالوونگ کا نام دیا جاتا ہے۔ سے زندہ رہتی ہیں جب عام آدمی دو وقت کی روٹی پوری کرنے کی تگ و دو میں لگ گیا تو وہ جیالے جو اپنے محبوب سیاسی راہنماؤں کے لیے جان نچھاور کرنے کو تیار تھے یا تو ملک چھوڑ کر چلے گئے یا پھر آٹا دال کی فکروں میں غرق ہو گئے۔
مہنگائی پاکستان سے باہر استعماری طاقتوں کے لیے بھی خوش آئند رہی ہے۔ وہ بے یقینی، کمزور قومی انتظام، افراتفری، ہنگام آرائی اور معزز اداروں کے حوالے سے نفرت کی خواہش جو ان قوتوں کے دلوں میں سالوں سے مچل رہی تھی مہنگائی نے پوری کر دی ہے۔ نیز یورپ و خلیج کے وہ ممالک جو وسائل کی فراوانی رکھتے ہیں لیکن افرادی قوت کی قلت کا شکار ہے پاکستانی نوجوانوں سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ کب یہ اپنے ملک کے معاشی احوال سے بے زار ہو کر دھکے کھاتے، سمندروں میں ڈوبتے، جنگلوں میں پیادہ پا چلتے ہمارے ملکوں میں مزدوری کرنے آئیں گے اور پٹرول پمپوں، خالی ٹیکسیوں، ہوٹلوں، فیکٹریوں اور ملوں کو رونق بخشیں گے۔ ستم یہ ہے کہ وسائل سے مالا مال ممالک پاکستان جیسے ملکوں میں تیزی سے بڑھتی آبادی پر خوش ہیں جبکہ اپنے ملکوں کی آبادی پر روک لگائے بیٹھے ہیں وہ سمجھتے ہیں اگر سستے اور پرجوش مزدور پلے پلائے مل جائیں تو خود اتنی محنت سے پالنے کی کیا ضرورت ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ مہنگائی صرف مزدوروں، تازہ کمانے اور تازہ کھانے والوں، ملازمت پیشہ طبقوں اور معاشی جد و جہد کے میدان میں آنے والے نئے مجاہدوں کی سانسیں چھین رہی ہے تاہم سیاست دانوں، مقتدر حلقوں، استعماری قوتوں، غیر ملکی کرنسی رکھنے والوں اور کاروباری داؤ پیچ جاننے والے کے آنگن میں مہنگائی نے جو پھول کھلائے ہیں ان کی تر و تازگی اور مہک سالوں تک رہے گی۔

