مہتاب اکبر راشدی کا مجموعۂ مضامین ”منہنجی سوچ، منہنجو قلم“ (میری سوچ میرا قلم)


ملک کی معروف دانشور اور ثقافتی شخصیت مہتاب اکبر راشدی کو پاکستان ٹیلی وژن کے 1970 ء اور 1980 ء میں شہرت پانے والی مایۂ ناز میزبان کی حیثیت سے تو اس دور کے ناظرین میں سے ہر خاص و عام پہچانتا ہے، مگر ان کی دوسری اہم شناخت ایک منجھی ہوئی قلمکارہ کی ہے، جو متعدد نثری کتب کی مصنفہ بھی ہیں، جن کی کتب میں سے اکثر پچھلے ایک عشرے میں شائع ہوئی ہیں۔ نثر ان کا کلیدی میدان مشق ہے، جس میں انہوں نے کچھ افسانے بھی لکھے ہیں، لیکن چونکہ وہ بین الاقوامی تعلقات کی استاد بھی رہی ہیں اور سندھ یونیورسٹی جامشورو سے لے کر امریکی جامعات تک انہوں نے پڑھایا بھی ہے، تو دوسری طرف وہ سرکاری ملازمت سے اپنی رٹائرمنٹ کے بعد عملی سیاست میں بھی سرگرم ہیں اور رکن سندھ اسمبلی بھی رہی ہیں، لہاذا ملک، بالخصوص سندھ کی سیاسی و سماجی صورتحال کے حوالے سے ان کا قلم تواتر اور جراءت کے ساتھ لکھتا رہا ہے۔

جن کا اظہار کرنے والے ان کے مضامین اور کالمز پچھلے کئی برس سے سندھ کے معروف روزناموں کی زینت بنتے رہے ہیں۔ ان کی نگارشات کو نہ صرف پڑھا اور معاشرے کے تمام تر حلقوں میں پسند کیا جاتا ہے، بلکہ کئی بار مقتدر حلقوں میں ان کی تحریروں میں شامل تنقید کا نوٹس لیتے ہوئے، ان کے مشوروں پر عمل بھی کیا گیا ہے اور اس طرح سے متعدد مرتبہ عوامی مفاد میں کئی مسائل حل بھی ہوئے ہیں۔

چند ماہ قبل ( 2022 ء کے اواخر میں ) شائع ہونے والی مہتاب اکبر راشدی کی سندھی کتاب ”منہنجی سوچ، منہنجو قلم“ (ترجمہ: میری سوچ میرا قلم) ، مضامین، مقالہ جات، مختلف کتب کے مقدموں اور پیش لفظ، کتب کے مطالعات، تعارف اور تبصروں کے ساتھ ساتھ ایک عدد انٹرویو پر مشتمل ہے۔ خود مصنفہ کے بقول ”اس کتاب کا بڑا حصہ ان کتب (تقریباً 20 ) کے پیش لفظ پر مشتمل ہے، جو میرے مہربان اور سندھ کے مستند ادیبوں نے میرے تجزیے اور تبصرے پر بھروسا کرتے ہوئے، اپنی کتب کے لیے لکھوا کر میری عزت افزائی کی ہے۔“

اس کتاب میں سب سے پرانی نوشت 1974 ء میں لکھی ہوئی اور سب سے نیا مضمون 2021 ء میں تحریر کردہ شامل کیا گیا ہے۔ حالانکہ ان مضامین میں سے اکثر دس پندرہ برس پہلے ( 2011 ء تا 2016 ء) کے لکھے ہوئے ہیں، جو انہی دنوں اخبارات میں طبع ہوئے۔ یعنی اس کتاب میں نصف صدی قبل کی نوشت کو بھی محفوظ کیا گیا ہے۔

پیکاک پبلشرز کی شائع شدہ مہتاب اکبر راشدی کی اس پانچویں کتاب کو مصنفہ نے اپنی استاد اور سندھ کی معروف تعلیم دان مریم نوحانی مرحومہ کے نام منسوب کرتے ہوئے انتسابی کلمات میں لکھا ہے : ”استاد محترم، میری بے حد پیاری آپا پروفیسر مریم سلطانہ نوحانی کے نام، جن کا فن خطابت اور حسن تحریر میرے لیے باعث رہنمائی بنے رہے۔“

کتاب کے ناشر، ڈاکٹر آفتاب ابڑو نے مصنفہ کے ذاتی خصائل، قلمی صلاحیتوں، سیاسی تدبر و بصیرت، قوت فیصلہ سازی اور ہر دور کے حالات حاضرہ پر ان کی گہری نگاہ جیسے اوصاف کے ذکر پر مشتمل 11 صفحات کا تفصیلی پبلشر نوٹ تحریر کیا ہے۔ اس کتاب کا پیش لفظ تحریر کرتے ہوئے ذوالفقار ہالیپوٹو کہتے ہیں : ”اس کتاب کی کچھ نگارشات اور ان کے عنوانات انتہائی تخلیقی ہیں، جو آپا کے ایک سماجی سائنسدان اور سابقہ بیوروکریٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے اندر کے آرٹسٹ کی سوچوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

اس کتاب میں شامل کچھ مضامین ایک خوبصورت کرانا لاجیکل آرڈر (ترتیب) ہیں، واقعات اور سرگرمیوں کی۔ بس پڑھتے جائیے اور کتنے ہی ادوار کی تاریخ سنیما کے پردے کی طرح آپ کے ذہن کی اسکرین پر مناظر بدلتی جاتی ہے۔ کچھ مضامین میں کئی ایسے واقعات کی وضاحت ہے، جن سے متعلق ہمارے پاس اس سے پہلے غلط نظریات مشہور تھے، مگر آپا مہتاب نے ان سے متعلق فرسٹ ہینڈ اکاؤنٹ فراہم کیا ہے۔ ’میری پیاری لاوارث سندھ‘ (مضمون) میں کئی ایک ایسے واقعات کا ذکر ہے۔“

”میری سوچ کی پرواز“ کے عنوان کے تحت مہتاب اکبر راشدی نے منجانب مصنفہ نوشت میں اپنے تحریری وجدان کان بالعموم اور اپنی اس کتاب میں شامل تحریروں کے تخلیقی عمل کا بالخصوص ذکر کیا ہے۔ رقم طراز ہیں : ”جس کے ہاتھ میں قلم ہے، وہ اپنے لکھنے کی رفتار کو سوچنے کی رفتار کے ساتھ ملانے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ اس کے ذہن میں آنے والا کوئی خیال، کوئی سوچ رقم ہونے سے رہ نہ جائے اور وہ سب کچھ تحریر ہو کر قرطاس پر آ جائے۔

دست قارئین میں موجود یہ کتاب بھی ایسی ہی تحریروں پر مشتمل ہے، جن میں مضامین کی صورت میں نے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا ہے۔ ان میں کچھ مخصوص موضوعات پر تحریریں شامل ہیں، جن کا ہمارے ملک کے سیاسی و سماجی حالات سے بالواسطہ تعلق ہے۔ یا پھر کچھ بین الاقوامی معاملات اور ان میں سے بھی کچھ میں آپ کو خود کچھ سیکھنے کی خواہش کا اظہار ملے گا۔“

اس کتاب ”منہنجی سوچ، منہنجو قلم“ (میری سوچ میرا قلم) میں مجموعی طور پر 42 تحریریں شامل ہیں، جن میں مضامین، مقالے، کتابوں کے پیش لفظ، کتب پر تبصرے اور آخر میں ایک عدد انٹرویو شامل ہے۔ ان 42 میں سے پہلی 17 تحریریں، تاثراتی اور تجزیاتی مضامین ہیں، جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے :

1۔ سندھ کی خواتین اور جدوجہد آزادی میں ان کا کردار
2۔ سندھی ادب میں چند ہی خواتین کا حصہ کیوں؟
3۔ مستقل کی سندھی عورت
4۔ صحتمند معاشرے میں عورت کا کردار
5۔ تحریک و تعمیر پاکستان میں سندھ کا کردار

6۔ میری پیاری لاوارث سندھ ( 2012 ء میں جامعہ سندھ جامشورو کی حالت زار کی کہانی اور ان حالات کا 1970 ء کی دہائی کے ان حالات کے ساتھ موازنہ، جب مصنفہ خود اس مادر علمی میں شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کی استاد تھیں۔ )

7۔ میرا نام لکھیں! ( 2011 ء میں سندھ کی مجموعی سیاسی و سماجی صورتحال کا دکھدائک منظرنامہ)
8۔ یوں تو ہونا ہے! (اکتوبر 2011 ء میں منظور شدہ ”سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس“ کا نوحہ)
9۔ دیے کی لو کو آگے کرتے چلیں!
10۔ سندھ کی وحدانیت کے خلاف سازشیں اور سندھ اسمبلی کا کردار
11۔ معیاری حکمرانی۔ ایک خواب!
12۔ سنہری سندھ
13۔ ملالہ کا ملال (ملالہ یوسفزئی پر سوات میں کیے گئے قاتلانہ حملے کے حوالے سے )
14۔ تھر اور ہم
15۔ جب تک سورج طلوع ہو
16۔ سندھ کے دکھوں کا ناں ختم ہونے والا سفر
17۔ روشن ماضی کے زندہ لمحے (زبیدہ کالج کو الوداع کہتے وقت تحریر کردہ تاثرات)

مندرجہ بالا موضوعات میں سے متعدد مضامین خواتین سے متعلق ہیں، جن کے بارے میں مصنفہ بقلم خود اسی کتاب میں لکھتی ہیں : ”دنیا کی خواتین کی عموماً اور سندھ کی خواتین کی حالت زار پر خصوصاً میں نے دل سے لکھا ہے۔ جن میں قارئین کو کچھ تاریخی حوالہ جات بھی ملیں گے تو تحقیقی پہلو بھی نظر آئے گا۔“

ان 17 مضامین کے بعد کی 25 تحریریں ( 18 تا 42 ) سندھی ادب کی مختلف کتب پر مہتاب کے تحریر کردہ پیش لفظ، دیباچے، تبصرے ہیں اور ایک عدد انٹرویو ہے۔ جن کی فہرست مندرجہ ذیل ہے :

18۔ قلم کا جادو (غلام ربانی آگرو کی معروف شخصیات پر خاکوں کی کتاب ”جہڑا گل گلاب جا“ (جیسے پھول گلاب کے ) پر پاکستان ٹیلی وژن کراچی کے پروگرام ”سندھ رنگ“ میں کیا ہوا تبصرہ)

19۔ کرشمے خوابوں کے (معروف سندھی ادیب، لچھمن کومل بھاٹیا کی خود نوشت پر مختصر تاثر)

20۔ جب تاریخ گویا ہوتی ہے (پیر علی محمد شاہ راشدی کی خطوط کی کتاب ”تاریخ ساں ڳالہیوں“ (تاریخ سے باتیں ) کا مطالعہ)

21۔ بھٹائی، انور پیرزادو اور عشق کا تسلسل (انور پیرزادو کی کتاب ”بھٹائی“ کا مطالعہ)

22۔ فن، فکر اور فلسفے کی کہکشاں (جامی چانڈیو کی کتاب ”سندی جوگیاں ذات“ (ان دیدہ وروں کی ذات) کا پیش لفظ)

23۔ ادب کی کوئی سرحد نہیں (ذوالفقار ہالیپوٹو کی عالمی ادب کے مطالعے پر مشتمل کتاب پر تبصرہ)
24۔ قوی ہمالیہ اور کمزور شخص (فقیر محمد لاشاری کے نیپال کے سفرنامے کا مختصر مطالعہ)
25۔ کپاس کا اجلا سفید پھول (ماہین ہیسبانی کے شعری مجموعے کا دیباچہ)
26۔ صاف پانی میلا ہو گیا (ناصر پنہور کی کتاب پر تبصرہ)
27۔ نقاد (نیاز پنہور کی شخصی خاکوں پر مشتمل کتاب پر تبصرہ)
28۔ ہم سے باتیں کرو دوستو! (جسٹس (ر) سید دیدار حسین شاہ کی خود نوشت پر ایک نظر)

29۔ خزینۂ جواہر (مختلف شخصیات پر لکھے مضامین پر مشتمل میر نادر علی ابڑو کی کتاب کا مختصر دیباچہ، جو ان کی کتاب کی اشاعت سوئم میں شامل کیا گیا۔ )

30۔ با اختیار خاتون، باشعور معاشرے کی علامت (محمد سلیمان ابڑو کی خواتین سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کی روداد پر مشتمل کتاب پر مختصر نظر)

31۔ ایسا کام کرو! (پروین موسیٰ میمن کی مضامین کی کتاب ”وکھر سو وہاء“ کا پیش لفظ)
32۔ سندھ کی غیر متزلزل عورت (فاطمہ زہرہ قاضی کی کتاب کا دیباچہ)
33۔ حیات ثمر آور (نظام الدین جتوئی المعروف این ڈی جتوئی کی خود نوشت کا پیش لفظ)
34۔ عشق سے فنا تک (امر پیرزادو کے شعری مجموعے کا مطالعہ)
35۔ مختصر، مگر جامع مطالعاتی سفرنامہ (الطاف شیخ کے آسٹریا کے سفرنامے کا پیش لفظ)
36۔ امید کی کرن (محمد علی پٹھان کے افسانوں کی کتاب ”امید جو کرنڑو“ پر تبصرہ)

37۔ اجلے دن اور روشن راتوں کی تمنا (محمد علی پٹھان کے ڈراموں کی کتاب ”اچھی رات کارو چنڈر“ [سفید رات۔ سیاہ چاند] کا پیش لفظ)

38۔ افسانے کا سفر جاری (محمد علی پٹھان کے افسانوں کے مجموعے ”طوفان میں ککھاؤں گھر“ [طوفان میں جھونپڑی] کا مطالعہ)

39۔ الفاظ کی مصوری (عاشق عاربانی کے شعری مجموعے کا مطالعہ)

40۔ عقائد سے حقائق تک (مولائی ملاح کی کالم۔ کتاب ”سوبھوں سر گھرن“ [کامرانیاں جان کی قربانی مانگتی ہیں ] کا پیش لفظ)

41۔ جدوجہد، جن کی ذات کا حوالہ ہے (قربان پیرزادو کے مضامین کے مجموعے ”جاکھوڑی جن جی ذات“ کا پیش لفظ)

42۔ روپ نہ کوئی بہروپ (معروف سندھی شاعر، نیاز ہمایونی کا سندھی کے ماضی کے مقبول ادبی جریدے ماہنامہ ”سوجھرو“ کے لیے کیا ہوا انٹرویو)

اس کتاب ”منہنجی سوچ، منہنجو قلم“ کا یک رنگی منفرد تخلیقی سرورق، مصنفہ کے چھوٹے صاحبزادے صہیب اکبر راشدی نے تخلیق کیا ہے۔ 279 صفحات پر مشتمل ہارڈ بائندنگ میں سندھ بھر کے اہم کتاب گھروں پر دستیاب اس کتاب کی قیمت ایک ہزار روپے ہے۔

یہ کتاب بجا طور پر سندھ کے سیاسی و سماجی ادب میں ایک خوبصورت اضافہ ہے، جس کی ادبی حلقوں میں گرمجوشی کے ساتھ پذیرائی ہو رہی ہے

 

Facebook Comments HS