کیا اس بار سرد جنگ کی سوچ کو شکست ہوگی؟

عالمی صورتحال اس وقت کافی پیچیدہ ہے اور چین اور جرمنی کو با اثر طاقتوں کی حیثیت سے تبدیلیوں اور حالات کے تناظر میں مل کر کام کرنا چاہیے اور عالمی امن اور ترقی میں مزید کردار ادا کرنا چاہیے ”۔ یہ الفاظ چین کے صدر چی جن پھنگ نے جرمن چانسلر اولاف شولز سے ملاقات کے موقع پر کہے تھے۔ انہوں نے اس ملاقات کے حوالے سے مزید کہا تھا کہ چین جرمنی کے ساتھ مل کر مستقبل پر مبنی ہمہ گیر تزویراتی شراکت داری قائم کرنے اور چین جرمنی اور چین یورپی یونین تعلقات میں نئی ترقی کو فروغ دینے کے لیے کام کرنے کا خواہاں ہے۔
جرمن حلیف نے بھی اس کے جواب میں کہا تھا کہ جرمنی چین کے ساتھ ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کو بڑھانے اور جرمنی۔ چین تعلقات کو مستحکم بنانے اور انہیں فروغ دینے کے لئے کوشاں ہے۔ شولز کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 20 ویں قومی کانگریس کے بعد دورہ چین پر آنے والے پہلے یورپی رہنما تھے۔ اور جرمن چانسلر بننے کے بعد یہ ان کا چین کا پہلا دورہ بھی تھا۔ اس سے قبل جرمنی کی سابقہ چانسلر مرکل بھی کئی دوروں میں چین جرمنی تعلقات کی بنیاد رکھ چکی تھیں۔
9 مئی 2022 کو چینی صدر شی جن پھنگ نے جرمن چانسلر اولاف شولز کے ساتھ ورچوئل ملاقات میں چینی صدر شی جن پھنگ نے نشاندہی کی تھی کہ بین الاقوامی صورتحال پیچیدہ تبدیلیوں سے گزر رہی ہے اور عالمی سلامتی اور ترقی کو درپیش مشکلات اور چیلنجز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس ہنگامہ خیز اور بدلتے ہوئے دور میں مزید استحکام اور اعتماد کی اشد ضرورت ہے۔ چین اور جرمنی دونوں اثر و رسوخ کی حامل اہم طاقتیں ہیں۔ موجودہ صورتحال میں چین اور جرمنی کو خاص طور پر دوطرفہ تعلقات کی صحت مند اور مستحکم ترقی کو برقرار رکھنے اور چین جرمنی تعلقات کے مستحکم، تعمیری اور قائدانہ کردار کو بھرپور طریقے سے ادا کرنے کی ضرورت ہے جس سے نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ ہو گا بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ چین اور یورپی یونین جامع اسٹریٹجک شراکت دار ہیں، اور چین اور یورپی یونین کے مشترکہ مفادات، اختلافات سے کہیں زیادہ ہیں۔
جرمن چانسلر اولاف شولز نے بھی عالمی سپلائی چین کے استحکام اور میکرو اکنامک پالیسی کوآرڈینیشن کو یقینی بنانے اور تجارت اور سرمایہ کاری کو مضبوط بنانے جیسے امور سمیت مختلف شعبوں بشمول موسمیاتی تبدیلی، انسداد وبا، صحت، تعلیم اور ثقافت میں دوطرفہ تعاون پر زور دیا تھا۔
چین کے وزیر اعظم لی چھیانگ کا حالیہ دورہ جرمنی بھی دونوں ممالک اور عالمی دنیا کے لیے کافی مثبت پیغام لے کر آیا ہے۔ دونوں ممالک اسٹریٹجک تعلقات کے ساتویں دور میں ہیں۔ جرمنی کے صدر اور چانسلر سے برلن میں ملاقاتوں میں یہ واضح پیغام دیا گیا کہ چین جرمنی کے ساتھ مل کر امن، ترقی اور تعاون پر قائم رہتے ہوئے دنیا کے استحکام اور خوشحالی کے لیے تعمیراتی کردار کرنا چاہتا ہے۔
جرمنی بھی چین کا قابل اعتماد ساتھی بننا چاہتا ہے اور چین کے ساتھ مل کر آزاد تجارت کا تحفظ کرنا چاہتا ہے۔ جرمنی کی جانب سے یہ بیان کہ وہ ڈی کپلنگ کی مخالفت کرتا ہے اور چین کے ساتھ مل کر دنیا کے امن و ترقی کے فروغ کے لیے کوشش کرنا چاہتا ہے، دونوں ممالک کے مستقبل کے تعلقات کو بھی کافی حد تک واضح کرتے ہیں
اپنے آخری دورہ روس کے اختتام پر چینی صدر شی جن پھنگ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے جدا ہوتے وقت دعویٰ کیا تھا کہ دنیا میں ایسے تغیرات رونما ہونے والے ہیں جو گزشتہ سو برسوں میں نہیں ہوئے۔ پوتن کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے چینی صدر نے مسکراتے ہوئے کہا تھا: ”ہم دونوں مل کر یہ تبدیلی لا رہے ہیں۔“ شی جن پھنگ نے دراصل دنیا کو یہ پیغام دیا تھا کہ اب کسی ایک طاقتور ملک کی بالادستی نہیں چل سکتی اور دنیا کو اپنے مستقبل کے فیصلے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لینا ہو گا۔
شی جن پھنگ کی پیشن گوئی کے پندرہ دنوں کے اندر فرانس کے صدر ایمینوئل میکرون نے بیجنگ کا سرکاری دورہ کر کے ان کے دعوے کی تصدیق کردی۔ اس بے حد کامیاب دورے کی اہمیت اس وجہ سے اور بھی بڑھ گئی تھی کہ یورپین کمیشن کی سربراہ ارسلا وون دیر لیئن بھی صدر میکرون کے ہمراہ تھیں۔ فرانس کے صدر نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد جو بیانات دیے وہ بھی کافی اہم تھے۔ خاص طور پر ان کا یہ اعلان کہ کہ یورپ کو امریکہ پر انحصار کم کر دینا چاہیے اور امور تائیوان کے حوالے سے چین اور امریکہ کے درمیان کسی ممکنہ تصادم میں یورپ کو کسی صورت ملوث نہیں ہونا چاہیے۔ فرانسیسی صدر کی یہ سوچ اور یہ بیان نیا نہیں تھا۔ پچھلے کئی برسوں سے میکرون یورپ کی ”اسٹریٹیجک خود مختاری“ کی پرزور وکالت کر رہے ہیں۔
ڈونالڈ ٹرمپ کے دور اقتدار میں امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں کے تعلقات میں سرد مہری آ گئی تھی تاہم روس یوکرین تنازع پر دنیا کو ایک بار پھر سرد جنگ کی سوچ کی جانب دھکیلا گیا جس کا کئی ممالک شکار بھی ہوئے لیکن بروقت اقدامات اور دور اندیشی پر مبنی سفارتی پالیسی نے دنیا کو ایک اور سرد جنگ میں دھکیلنے سے اب تک روکا ہوا ہے۔ آغاز میں حالات اور سوچ شاید مختلف ہو لیکن اب جب کہ جنگ کافی طویل ہو چکی ہے اور یورپ کو خاص طور پر اس کا شدید نقصان ہو رہا ہے تو یورپی ممالک کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہو رہا ہے کہ انہیں ماضی کی غلطیاں نہیں دہرانا چاہیے۔
شاید یورپی سربراہان کو یہ حقیقت سمجھ آ گئی ہے کہ چین کے ساتھ ٹکرانا امریکہ کی مجبوری ہو سکتی ہے کیونکہ اسے اپنی عالمی بالادستی چھن جانے کا خدشہ ہے لیکن یورپ اس پرائی آگ میں اپنا دامن کیوں جلائے؟ ویسے بھی چین کے ساتھ سفارتی، سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات مضبوط کرنا یورپ کے مفاد میں ہے۔ چین اس وقت یورپی یونین کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔
فرانس اور جرمنی کے 1963 سے پہلے کے تعلقات دنیا سے پوشیدہ نہیں لیکن دونوں ممالک نے بروقت درست اقدامات کے ذریعے تعلقات کو ایک نیا موڑ دیا اور اب دونوں ممالک اپنے عوام کے بہترین مفاد میں دنیا کی سیاست میں حصہ دار ہیں۔ چین کے ساتھ دونوں ممالک کے حالیہ بہترین تعلقات بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ پرائی آگ میں دامن جلانے سے بہتر ہے کہ اس آگ کو بجھانے کی تدابیر اختیار کی جائیں اور صرف اپنا ہی نہیں بلکہ سب کا دامن بچایا جائے۔

