کب تک سیاسی پارٹیوں پر پابندیاں لگتی رہیں گے

پاکستان میں گزشتہ تقریباً 70 سالوں جمہوریت کا راگ الاپا جا رہا ہے مگر بدقسمتی کہیں یا ہمارے حکمرانوں کی نا اہلی کہیں یہاں پر نام نہاد جمہوریت ہی رہی ہے باقی اس نام نہاد جمہوریت کے پیچھے بھی اسٹیبلشمنٹ ہی رہی ہے اور اس میں آپ خود دیکھیں کہ ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ نے کہا ہے کہ وہ سیاست سے دور ہیں مگر میری اپنی ذاتی رائے ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کبھی بھی اس ملک میں سیاسی مداخلت ختم نہیں کر سکتی اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے انگریز بہادر سے اور کچھ نہیں تو یہ اچھے طریقے سے سیکھا کہ کس طرح سے سیاستدانوں کو آپس میں لڑاؤ اور کھل کر کھاؤ والی بات پر مستقل کام کر رہے ہیں اور اس میں وہ کامیاب بھی ہو رہے ہیں۔
ماضی ہی یادیں تازہ کرتے ہیں کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے 1978 ع میں ایم کیو ایم کے قائد کے ذریعے آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹ آرگنائیزیشن کا بنیاد رکھی گئی اور یوں چھ سال یعنی 1984 ع بعد اے پی ایم ایس او نے مہاجر قومی موومنٹ کو جنم دیا اور یوں 1997 ع میں مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ قومی موومنٹ کا نام دیا گیا۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے مہاجر قومی موومنٹ کے ذریعے سندھی مہاجر جھگڑے کروائے جس میں کئی ہزاروں انسانوں کی جانیں چلی گئیں ایک محشر سا برپا ہوا تھا۔
اس وقت کی مہاجر قومی موومنٹ کے ذریعے کراچی اور حیدرآباد میں خون کی ہولی کھیلی جاتی تھی کاروباری طبقے کو بھتے کی چٹھیاں بھیجی جاتی تھیں اگر کوئی بھتہ نہیں دیتا تھا تو اگلے دن اس کی بند بوری میں لاش ملتی تھی ایسے ہی پھر گورنر راج لگا جس میں معین الدین حیدر نے کافی خون ریزی پر قابو پایا مگر وہ بھی عارضی تھا اور یوں کراچی اور حیدرآباد میں ایک دن میں پچاس پچاس لاشیں گرنا معمول بن گیا تھا، نواز شریف کے دور حکومت میں ایم کیو ایم پر برا وقت آیا اور نواز حکومت نے ایم کیو ایم کو کھڈے لائن لگا لیا، پھر 12 اکتوبر 1999 ع میں جنرل پرویز مشرف نے مارشل لا لگا کر نواز شریف کا تختہ الٹ دیا اور خود صدر بن گیا، جس کے بعد پرویز مشرف نے ایم کیو ایم کو اتنا پاور فل اور نوازا کے پوری سیاسی کیرئیر میں ایم کیو ایم اتنی مضبوط نہیں ہوئی تھی جتنی پرویز مشرف کے دور میں ہوئی پھر ہوتا وہ ہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔
جتنا انہوں نے نواز شریف کے دور حکومت میں دیں تو ان کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ اقتدار کا نشہ اور پیسے کا نشہ انتہائی خراب ہوتا ہے جو ہر جو اپنی اصلیت بھی بھلا دیتا ہے اور ایم کیو ایم کے ساتھ بھی وہ ہی ہوا۔ ایم کیو ایم کے قائد وقتا بوقت اسٹیبلشمنٹ اور پاک فوج کے خلاف زہر اگلنے لگے اور یوں گاہے بہ گاہے اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیو ایم قائد پر پابندیاں لگانا شروع کر دیں اور بالآخر ایم کیو ایم اور اس کے قائد پر پابندی عائد کردی جس کے بعد ایم کیو ایم کی پاکستانی قیادت نے ایم کیو ایم کا نام ایم کیو ایم پاکستان رکھ دیا اور بانی قائد کی ایم کیو ایم لندن کا نام دیا گیا۔
اسٹیبلشمنٹ کا پاکستانی سیاست میں اہم کردار رہا ہے اور وہ اپنا کردار کبھی بھی ختم نہیں کر سکتے اس کی وجہ یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ پاور فل رہنا چاہتی ہے اور وہ کبھی بھی سیاستدانوں اور عوام کو پاور فل بننے نہیں دے گی یہ ہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم کے بعد اب پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا سوچا جا رہا ہے۔ حکومت کو پابندی اگر لگانی ہی ہے تو پھر اس فرد کو کیوں نہیں لگائی جاتی جو اس پورے معاملے کا مہرا ہوتا ہے باقی کسی بھی پارٹی وہ چاہے ایم کیو ایم ہو یا پاکستان تحریک انصاف یا کوئی بھی سیاسی پارٹی ہو اس پر اس طرح سے پابندی لگانے سے نوجوان نسل مایوس ہو جائے گی جس نے اپنی دل سے اس پارٹی کو جوائن کیا ہوا ہوتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی غلط پالیسیوں اور افواج پاکستان سمیت مختلف معاملات میں آگے بڑھ کر بات کرنے کی سزا صرف اور صرف اس کو ملنی چاہیے نا کہ اس کی پارٹی کو کیوں کہ پارٹی ایک فرد کی جاگیر نہیں ہوتی وہ پارٹی عوام کی ہوتی ہے جس نے اس پارٹی میں شامل سیاست دانوں کو چنا ہوا ہوتا ہے۔ اب 9 مئی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو مختلف طریقوں سے گرفتار کر کے ان سے پارٹی چھڑوائی جا رہی ہے جس طرح سے 2018 ع میں دیگر پارٹیوں سے انہی لوگوں کو لا لا کر تحریک انصاف میں شمولیت کروائی جا رہی تھی اب اسی طرح سے پارٹی کو چھڑوائی جا رہی ہے۔
مختلف سیاسی رہنماؤں کو 2018 ع میں کون تحریک انصاف میں شمولیت کروا رہے تھے اور اب کون تحریک انصاف چھڑوا رہے ہیں یہ تو اب پاکستان کے ایک ایک بچے کو بھی پتا ہے کہ اس سب کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ مختلف اوقات میں سیاستدانوں نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اپنی آوازیں بھی اٹھائی ہیں اور اینٹ سے اینٹ بجانے جیسے بیانات بھی دیے ہیں مگر وہ محض بیانات کی حد تک ہوتے تھے اور اس کے بعد طویل عرصے تک ایک بڑی خاموشی ہوجاتی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کو بھی اب سوچنا چاہیے کہ 77 سالوں سے کیا کھویا ہے اور کیا پایا ہے اب کیا پاکستان مزید ٹکڑے ہونا برداشت کر سکتا ہے؟ اگر نہیں تو خدارا اس ملک کو اپنے رحم کرم پر چلنے دیں حکمرانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں تاکہ یہ ملک مستقبل میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔ عوام گزشتہ 77 ع سالوں سے اس ملک میں پستا ہوا آ رہا ہے اب عوام میں وہ دم نہیں رہا کہ مزید مہنگائی کا بوجھ اٹھا سکے، معیشت کے یہ حال ہیں کہ نوجوان بیرون ملک جانے کو ترجیح دے رہے ہیں یہاں پر ان کو روزگار کے مواقع نہیں مل رہے آخرکار مجبور ہو کر وہ باہر جا رہے ہیں۔
ہماری اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ یہ کہتی دکھائی دے رہی ہے کہ ہمارا اب سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اگر سیاست سے تعلق نہیں ہے تو پھر یہ تحریک انصاف سے لوگ بڑی تعداد میں کیسے جار ہے ہیں؟ ہمیں اس کوئی اعتراض نہیں ہے کہ وہ تحریک انصاف چھوڑ کر جا رہے ہیں مگر اعتراض یہ ہے کہ ڈنڈے کے زور پر نہیں ہونا چاہیے وہ اپنی مرضی سے جا رہے ہیں تو بالکل چلے جائیں مگر اس طرح سے تو سوال پیدا ہوتے ہیں کہ کیا اسٹیبلشمنٹ اب بھی پس پردہ سیاست کر رہی ہے؟

