جمہور، جمہوریت اور الیکشن


لفظ جمہور کے لغوی معنی ریت کا ڈھیر اور اصطلاحی معنی اکثریت (لوگ/عوام) کے ہیں۔ اور اسی طرح جمہوریت کے معنی جمہور کی حکومت کے ہیں۔ اسے ہم یوں بھی کہہ سکتے کہ ” جمہور کے ذریعے، جمہور کی اپنی منتخب شدہ حکومت، جو جمہور کے لئے کام کریں۔“ جمہوریت (جمہور کی حکومت) کہلاتی ہے۔ یہاں تک تو بات لغوی اور اصطلاحی معنی و مفہوم کے لحاظ سے ہو رہی ہے۔ جس سے ہمیں با خوبی اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ جمہور اور جمہوریت سے کیا مراد ہے۔ اگر ہم جمہوریت کے اصطلاحی معنی کو بالائے طاق رکھ کر جمہوریت کی روح کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا۔ کہ جمہوریت کسی خاص نعرے کا نام نہیں، کسی خاص شکل کا نام نہیں، کسی مخصوص انتخابی عمل کا نام نہیں۔

بلکہ جمہوریت تو مستقل طور پر جمہور کی خدمت و حکومت کا نام ہے۔ جمہوریت آزادی اظہار رائے کا نام ہے۔ جمہوریت جمہور میں امن و معاشی خوشحالی پیدا کرنے کا نام ہے۔ تیسری دنیا کے لوگوں کو جمہوریت کی روح سے زیادہ اس کی مخصوص شکل کے بتوں کو عوام کی سوچ میں پیوست و راسخ کر دیا جاتا ہے۔ جس کا شاخسانہ ہی ہے کہ 76 سالوں سے، ترقی و خوشحالی ندارد اور اس کی جگہ غربت و خوف نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ اب ترقی یافتہ ممالک کو دیکھا جائے کہ وہ جمہوریت کی روح اور ظاہری شکل کے پیچیدہ مسئلے کو کس قدر سمجھتے ہیں۔

جب امریکہ، برطانیہ و یورپی ممالک جن کا شمار جمہوریت کے چیمپئن و علمبردار کے طور پر کیا جاتا ہے۔ جب ان ممالک میں شعبہ سیاسیات کے طلبہ ماہرین سیاست سے یہ سوال کرتے ہیں کہ مغربی دنیا کے نزدیک ایشیائی ملک چین میں کسی بھی جمہوری نظام کا وجود نہیں اور نہ ہی مغربی ممالک کی طرح آزادی رائے و میڈیا کی آزادی کا کوئی تصور موجود ہے تو پھر بھی چین ہر شعبہ ہائے زندگی میں ترقی کس بنیاد پر کر رہا ہے۔ ایسے سوالات جمہوریت کی روح سے زیادہ جمہوریت کی ظاہری شکل پر یقین رکھنے والے ماہرین کے لئے بے پنا پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔

تیسری دنیا کے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک میں جمہور اور جمہوریت دونوں ہی بے سروسامانی کے عالم میں نظر آتے ہیں۔ یہاں جمہور کے لیے ہمیشہ گنگا الٹی بہتی ہے۔ اور اشرافیہ ہمیشہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتی ہے۔ پسماندہ عوام کی سوچ اول تو ذات برادری، سڑک پکی، نالی سے آگے کی نہیں ہوتی۔ ان کو تو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا، کہ یہ مطالبات کونسلر کے دائرہ کار میں آتے ہیں یا کہ ممبر صوبائی، قومی اسمبلی و اراکین سینٹ کے۔

دوسری بات اگر عوام ہوش کے ناخن لیتے ہوئے ان سب مذکورہ بالا مطالبات کو بالائے طاق رکھ کر کسی بھلے امیدوار کا انتخاب کرنا چاہیے تو وہ انہیں میدان انتخابات میں میسر ہی نہیں ہوتا۔ آخر عوام کرے تو کرے کیا۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ بقول قدرت اللہ شہاب ”الیکشن کا کاروبار بلیک مارکیٹ سے زیادہ وسیع اور دست غیب سے زیادہ طلسماتی ہوتا ہے۔“ ایسے حالات میں اسے سمجھنا عام آدمی کے بس کی بات ہی نہیں ہوتی۔

ملک خداداد پاکستان میں امیدوار ان کا انتخاب یہاں کا نظام بہت سی خوبیوں کی بنیاد پر کرتا ہے۔ وہ بیک وقت میں صادق بھی ہو، امین بھی اور پارسا بھی ہو۔ اور مذہبی عقائد و عبادات کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھنا اس کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ ان کڑی شرائط سے گزر کر وہ گوہر اور کندن کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ مگر حیرانی کی بات یہ ہے صادق و امین کی تعریف کیا ہو گی؟ مذہبی ہونے سے کیا مراد ہے؟ ان سب باتوں کی وضاحت و تشریح کے لیے عوام کی طرح نظام و قانون بھی خاموش ہے۔

اور کسی کی ایمانداری کو جانچنے کا کیا پیمانہ ہے۔ اس کی وضاحت بھی قانونی نقطہ نظر سے ہمیشہ عوام اور خود قانون کی نظروں سے اوجھل ہے۔ اسی طرح رشوت ستانی، ووٹ کی خرید و فروخت، اقربا پروری سے بچنے کے لئے قانون میں امید وار کے لئے اخراجات کی مد میں خرچ ہونے والی رقم کی جانچ کے لیے بھی بہت سخت قوانین وضع کیے گئے ہیں، جس میں امیدوار صوبائی اسمبلی 20 لاکھ، قومی اسمبلی 40 اور اراکین سینٹ کے لیے یہ 15 لاکھ تا مختص کی گئی ہے۔

اس سے زائد رقم ان کے اکاؤنٹ میں نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم اگر کوئی دوسرا شخص امیدوار کی اجازت کے بغیر اس کی پبلسٹی کے لیے اخراجات اپنی مرضی سے کر دے تو امیدوار فضول خرچی کی زد میں نہیں آئے گا۔ اب اس بات کا تعین کرنا ناممکن ہو جاتا کہ کہ الیکشن میں مختص کیے گئے اخراجات امیدوار کی اجازت سے ہوئے کہ بغیر اجازت۔ اگر اجازت کی بجائے ”علم میں ہونا“ کے الفاظ قانون میں شامل ہوتے تو صورت حال کافی مختلف ہوتی۔

ایک اور اہم و بڑی وجہ سماج میں اونچ نیچ کا نظام ہے۔ جس پر قانونی سقم ایک چھتری کی مانند سایہ فگن ہوتا ہے۔ ایک طرف امیدوار ان کی شکل میں کھڑے مٹھی بھر جاگیردار، وڈیرے سرمایہ دار اور ساری اشرافیہ دوسری جانب مزارع، ہاری، محنت کش اور مزدوروں کا جم غفیر۔ وہ ان کے سفید و سیاہ کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ میں سو فیصد موجود ہیں۔ اور عوامی حقیقی نمائندگی کسی بھی جگہ موجود نہیں۔ وہ جائیں تو کدھر جائیں۔

ظاہری سی بات ہے خواص اور اشرافیہ کی ہر ایوان میں سو فیصد نمائندگی اس بات کا چیخ چیخ کر اعلان کرتی ہے۔ اشرافیہ قانون سازی میں اپنے آپ کو ہی ترجیح دے گی نہ کے نمائندگی سے عاری عوام کو۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ اس بات کو عوام نے بھی خوب اچھی طرح بھانپ لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد کا تناسب انتہائی کم ہوتا جا رہا ہے۔ کبھی 28 سے فیصد 34 تو کبھی کبھار ہی 55 فیصد ہوتا ہے۔ اگر ریاست یہ چاہتی ہے کہ عوام جمہوری ذمہ داریاں سے اچھی طرح عہدہ برا ہوں۔

تو اسے درج بالا مذکورہ مسائل کو سنجیدگی سے دیکھنا ہو گا۔ عوام کو باشعور اور ہر قسم کی معاشی غلامی سے آزاد کرنا ہو گا۔ جمہور اور جمہوریت کی اصل روح کو زندہ کرنا ہو گا۔ اونچ نیچ کے خاتمے کا قلع قمع کرنا ہو گا۔ قانونی سقم کو دور کرنا ہو گا۔ عوامی استصواب رائے کی اصل روح کو اجاگر کرنا ہو گا۔ اگر ریاست ایسا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو پھر یہ عوامی بے چینی و اضطراب یا تو کسی طوفان کا پیش خیمہ ہیں یا پھر کسی بڑی تبدیلی کو دعوت دے رہے ہیں۔

ماخذ:۔ ناقص انتخابی قوانین۔
شہاب نامہ۔

Facebook Comments HS