کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا


حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے مل کر ملک میں سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے قیام کا اعلان کیا ہے ساتھ ہی وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ سالوں میں نہیں بلکہ ہفتوں اور مہینوں میں تین چار دوست ممالک کی جانب سے کم از کم 40 سے 45 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری شروع ہو رہی ہے جس سے 20 لاکھ افراد کو براہ راست اور تقریباً 80 لاکھ افراد کو بالواسطہ روزگار ملے گا۔

یہ بات نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ موجودہ مشکل صورتحال میں امید کی کرن اور روشن مستقبل کی نوید ہو سکتی ہے لیکن۔ لیکن افسوس کہ سانپ کا ڈسا رسی سے بھی ڈرتا ہے۔ اور دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ ابھی صرف دو سال پہلے کی بات ہے کہ ایک ہر دلعزیز منتخب وزیر اعظم صاحب سمندر سے لاکھوں بیرل تیل نکلنے کی خوش خبری سنا رہے تھے۔ صرف تین سال پہلے کی بات ہے کہ وہی صاحب سعودی عرب کی جانب سے 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور گوادر میں جدید آئل ریفائنری قائم کرنے کی نوید سنا چکے ہیں۔

سبز پاسپورٹ کی عزت ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر تو خیر رہنے دیجئے۔ بلکہ اگر تھوڑا سا اور پیچھے چلے جائے تو میاں نواز شریف صاحب نے بھی اپنے دور میں سرمایہ کاری کے لئے ون ونڈو آپریشن شروع کیا تھا اور قرض اتارو ملک سنوارو کا نعرہ بھی عوام میں بہت مقبول ہوا تھا۔ ان خالی خولی نعروں کی یاد دہانی کا مقصد قوم میں مایوسی پھیلانا ہر گز نہیں، بلکہ ہماری خواہش ہے کہ ڈاکٹر مصدق ملک جیسے سنجیدہ اور دانشور وزیر کے بیانات اور چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر صاحب کی مخلصانہ کوششیں رنگ لے آئے۔ وزیر اعظم اور اس کی ٹیم کی اخلاص اور صلاحیتوں پر ہمیں شک نہیں مگر ہمیں چند خدشات ضرور ہیں جس کا ذکر بروقت ضروری ہے۔

ترقی یافتہ دنیا اور جدید ممالک میں روایت یہی ہے کہ اس قسم کے اہم ترین کاموں بلکہ قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی منصوبوں کے لئے اسی مناسبت سے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ اعداد و شمار کی بنیاد پر مناسب ہوم ورک کیا جاتا ہے، اس کی راہ میں حائل مشکلات، اس کے لئے درکار صلاحیتوں ضرورتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور ایک قومی مقصد کے طور پر اس کو حتمی شکل دے کر نافذ کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اعلان پہلے کیا جاتا ہے پراجیکٹ شروع کیا جاتا ہے اور پھر اس کے بعد منصوبہ بندی شروع کی جاتی ہے۔ ملک میں درجنوں یونیورسٹیاں، درجنوں اضلاع، بی آرٹی سمیت متعدد پراجیکٹ اسی پہلے بولو پھر تولو نظام کے تحت قائم کی گئی ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ جس بے ڈھنگے پن سے اچانک اس عالمی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا خدانخواستہ اس کا نتیجہ بھی عمران خان کے سمندری تیل اور گوادر ریفائنری کی طرح نہ ہو۔

دوسری بات یہ ہے کہ جتنا بڑا قومی پراجیکٹ ہوتا ہے اس کے لئے اتنی وسیع اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ کسی بھی پراجیکٹ کے ساتھ وہی کھیل کھیلا جاسکتا ہے جو سابقہ حکومت نے چار سال سی پیک کے ساتھ کھیلا۔ لیکن اس حالیہ افسوسناک مثال کے ہوتے ہوئے بھی اس بڑے معاشی سرگرمی کے لئے قومی اتفاق رائے تو درکنار، حکومت میں موجود سیاسی جماعتوں کو بھی ایک ساتھ نہیں بھٹا یا جا سکا۔ عوام بجا طور پر سوال اٹھا سکتے ہیں کہ دو ماہ کی مہمان حکومت پندرہ سالہ منصوبوں کی منظوری اور اس پر عملدرآمد کی ضمانت کس طرح دے سکتی ہے؟ اگر مسلم لیگ حکومت قومی اتفاق رائے کی بجائے ایک پیج پر ہونے کا چورن بیچتی ہے تو پہلے اسے دو سال پہلے والے تاریخ کی سب سے مضبوط ایک پیج کو ڈھونڈ کر پڑھنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ وہ خواب غفلت سے بیدار ہو اور انہیں طاقت کے سرچشمے کی بجائے اپنے سیاسی مخالفین کی طرف رجوع کرنے کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے۔

تیسری اور اہم ترین بات یہ کہ ون ونڈو آپریشن، انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل سمیت نام کوئی بھی ہو اگر اس کا مقصد واقعی سرمایہ کاروں کو ایک چھت تلے سرمایہ کاری کرنے اور کاروبار شروع کرنے کی سہولیات فراہم کرنا ہے تو اس کے لئے درجنوں اداروں کی نام نہاد خودمختاری کو ختم کرنا ہو گا اس کے لئے بیوروکریسی کی سرخ فیتے کو ہمیشہ کے لئے کاٹنا ہو گا اس کے لئے سرمایہ کاری اور انڈسٹریلائزیشن کے نام پر قائم اداروں کی اجارہ داری ختم کرنا ہوگی۔

یورپ امریکہ اور کینیڈا جیسے ممالک کا گولڈن ویزہ، امیگریشن لاز میں سرمایہ کاروں کے لئے بے تحاشا مراعات تو رہنے دیجئے وسط ایشیا میں قابل تقلید مثالیں موجود ہے۔ ازبکستان جہاں پانچ سال پہلے پالیسی بنی۔ سرمایہ کاروں کو انڈسٹری لگانے کے لئے زمین مفت فراہم کی جاتی تھی، بجلی گیس رعایتی نرخ پر فراہم کی جاتی تھی اور ایکسپورٹ کرنے والوں کو ٹیکس میں اب بھی چھوٹ دی جاتی ہے۔ اور حیران کن بات یہ کہ سرمایہ کار کو سالوں اور مہینوں بجلی گیس، پانی اور ماحولیات کے دفاتر کے چکر نہیں کاٹنے پڑتے۔

ایک ہی دن میں ایک ہی چھت تلے سرمایہ کار کو عزت کے ساتھ بھٹا کر 8 ڈالر کے عوض انہیں یہ تمام اجازت نامے اور منظوریاں دے دی جاتی ہے۔ اور اگلے روز اس منظور شدہ کام کے ذمہ دار عہدیدار اپنا اپنا کام شروع کرتے ہیں۔ اگر ہمیں واقعی ملک میں بیرونی سرمایہ کاری لانی ہے تو اس کے لئے اتفاق رائے سے مگر سخت اور دو ٹوک فیصلے کرنے ہوں گے ۔ ہمیں اپنے قائم اداروں کی ذہنیت کو قانون کے ڈنڈے سے تبدیل کرنا ہو گا۔ ہمیں ملک میں جزا و سزا کا نظام قائم کرنا، سرکاری بابوں کو کرپشن کی بجائے تنخواہ اور مراعات پر صبر کرنے پر قائل کرنا ہو گا۔ سرکاری اور غیر سرکاری بھتہ خوری کا سدباب کرنا ہو گا۔ اور یہ کم از کم ازبکستان کی طرح حقیقی ون ونڈو سہولیات دینی ہوگی۔ پھر یہ سرمایہ کاری حکومتوں تک محدود نہیں رہے گی۔ دنیا بھر سے سرمایہ کار آئیں گے اور ملک و قوم کا مستقبل یقیناً بہت جلد روشن ہو گا۔

Facebook Comments HS