ہندو مسلم اتحاد کا بجھتا ہوا شعلہ

1919 ء کی آئینی اصلاحات کا اعلان اس وقت ہوا جب ہندوستان میں جلیانوالہ باغ کا ہولناک واقعہ ظہور پذیر ہو چکا تھا اور پنجاب مارشل لا کی زد میں تھا۔ ان اصلاحات میں ہندوستانیوں کو
ملکی نظم و نسق میں شامل کرنے کی ایک نیم دلانہ کوشش کی گئی تھی۔ مرکزی اور صوبائی مجالس قانون ساز میں اگرچہ خاطرخواہ توسیع ہوئی تھی اور منتخب ارکان کی حیثیت اور اختیارات میں بھی معتد بہ اضافہ کیا گیا تھا، مگر ان کا حکومت کی تشکیل اور اس کے موثر کنٹرول میں حصہ انتہائی محدود تھا۔ کانگریسی قیادت نے 1919 ء کی آئینی اصلاحات مسترد کر دی تھیں اور گاندھی جی نے مسئلۂ تحفظ خلافت کے نام پر عدم تعاون کی تحریک کا پروگرام بنا لیا تھا، چنانچہ فروری 1920 ء کے انتخابات میں کانگریس نے حصہ نہیں لیا، البتہ اس کے ایک بازو نے اس پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے ”لبرل پارٹی“ کے نام سے انتخابات لڑے اور وزارتوں کی ذمے داریاں بھی قبول کیں۔ بعد ازاں 1924 ء کے انتخابات میں کانگریس نے اپنے اس بازو کو انتخابات میں باقاعدہ حصہ لینے کی اجازت دے دی تھی۔
دراصل ان دنوں تحریک خلافت ہندوستان کی سیاست پر پوری طرح چھائی ہوئی تھی اور ہندو مسلم اتحاد کا وہی منظر تھا جو 1857 ء کی جنگ آزادی میں جلوہ گر تھا۔ اس منظرنامے میں گاندھی جی مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے اور سول نافرمانی کے ذریعے حکومت برطانیہ کو مفلوج کرنے میں جت گئے۔ اس جذباتیت سے جناب محمد علی جناح یکسر الگ تھلگ رہے، کیونکہ وہ سیاسی شائستگی اور پرامن جمہوری عمل کے زبردست علم بردار تھے۔
انہوں نے بہت پہلے خبردار کر دیا تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک کسی بڑے سانحے کا باعث بن سکتی ہے۔ چوری چرا کے خوں آشام حادثے نے ان کے شکوک و شبہات بالکل درست ثابت کر دیے تھے۔ دراصل کانگریس اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک دہشت گرد تنظیم بن چکی تھی جس نے 1905 ء اور 1911 ء کے دوران بدترین دہشت گردی کا مظاہرہ کیا تھا اور قتل و غارت کا بازار گرم کر کے تاج برطانیہ کو تقسیم بنگال منسوخ کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔
تحریک خلافت جہاں ایک طرف ہندو مسلم اتحاد کا ایک نہایت ولولہ انگیز استعارہ بن گئی تھی، وہاں اس نے ہندوؤں کے دلوں میں مسلمانوں کے بارے میں خوف بھی پیدا کر دیا تھا۔ پرجوش تحریکی قائدین اپنی تقریروں میں یہ کہنے لگے تھے کہ پورا عالم اسلام ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کی مدد کو کسی وقت بھی پہنچ سکتا ہے۔ ان باتوں سے ہندو لیڈروں کے دلوں میں یہ خوف رینگنے لگا کہ مسلمانان ہند مسلم حکومتوں کی مدد سے انہیں سیاسی حقوق سے محروم کر سکتے ہیں، چنانچہ مہاتما گاندھی کے ذہن میں یہ سوال کلبلانے لگا کہ آیا تحفظ خلافت کے ساتھ ’سوراج‘ کے مسئلے کو نتھی کر دینا مناسب رہے گا یا آگے چل کر خطرناک نتائج کا حامل ہو گا۔ غالباً اسی گھبراہٹ میں انہوں نے چوری چرا کے واقعے کے فوراً بعد سول نافرمانی کی تحریک ختم کرنے کا اعلان کر دیا جس کے بعد فرقہ وارانہ فسادات کا ایک خونیں سلسلہ چل نکلا۔
تحریک خلافت کی طرح 1919 ء کی آئینی اصلاحات بھی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان بے اعتمادی پیدا کرنے کا باعث بنیں۔ وہ اس طرح کہ ”لبرل پارٹی“ سے تعلق رکھنے والے کئی اشخاص وزیر بن چکے تھے اور انہیں ایگزیکٹو اختیارات بھی مل گئے تھے۔ انہوں نے اختیارات کے استعمال میں شدید فرقہ پرستی کا مظاہرہ کیا جس سے مسلمانوں کے ساتھ نا انصافیوں کا سلسلہ دراز ہوتا گیا۔ علاوہ ازیں ان وزیروں اور ہندو لیڈروں کی حوصلہ افزائی سے شدھی تحریک شروع ہوئی جس کا مقصد مسلمانوں کے ان پس ماندہ گروہوں کو دوبارہ ہندو بنانا تھا جو اسلام قبول کرنے کے بعد بھی ہندو رسم و رواج اپنائے ہوئے تھے۔
یہ مقصد وہ مختلف معاشرتی اور معاشی ترغیبات کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے تھے۔ بدقسمتی سے انہی دنوں انتہاپسند ہندوؤں نے سنگھٹن کا ایک پروگرام شروع کیا جس کا ہدف مسلمانوں سے لڑنے کے لیے نوجوانوں کا ایک جنگجو لشکر تیار کرنا تھا۔ ان واقعات سے فرقہ وارانہ تعصب اور تشدد میں اضافہ ہوتا رہا اور خونریز فسادات کا دائرہ پھیلتا گیا۔
ہندو مسلم اتحاد پر پہلی ضرب 1921 ء کے موسم گرما میں اس وقت لگی جب عربوں اور نائلوں کی ایک مخلوط النسل مسلم برادری موپلوں نے حکومت اور ہندو زمینداروں کے خلاف بغاوت کر دی اور عمر حاجی کی زیر قیادت ”خلافت کی حکومت“ بھی قائم کر لی۔ پولیس ان کا مقابلہ نہیں کر سکی اور کئی مہینے گوریلا جنگ جاری رہی۔ انگریز فوجی افسروں نے موپلوں کے ساتھ انتہائی وحشیانہ طرزعمل اختیار کیا۔ بغاوت کچلنے میں دو ہزار موپلے مارے گئے اور ہزاروں پر بغاوت کے مقدمات چلے۔
ایک موقع پر افسروں نے ایک سو کے قریب ملزمان کو جانوروں کی طرح مال گاڑی کے ڈبے میں مقفل کر کے ایک دوسرے مقام کی طرف روانہ کر دیا گیا۔ شام کو جب قفل کھولا گیا، تو 66 ملزم دم توڑ چکے تھے اور باقی آخری سانسیں لے رہے تھے۔ ہندو اخبارات نے ان واقعات کو یہ رنگ دیا کہ موپلوں کا اصل مقصد ہندو زمینداروں اور سیٹھوں کو تختۂ ستم بنانا تھا۔ اس حاشیہ آرائی سے فضا سخت مکدر ہوئی اور جگہ جگہ ہندو مسلم فسادات کا سلسلہ چل نکلا۔
اسی دوران پنجاب میں، جہاں مارشل لا کے خلاف ہندو اور مسلم آپس میں متحد تھے، وہاں بدقسمتی سے پنجاب کے وزیر میاں فضل حسین کے بعض اقدامات کے بارے میں ہندو پریس نے مخالفانہ بحث شروع کر دی جس سے بعض شعبوں میں ہندوؤں کے ایک خاص طبقے کی اجارہ داری پر زد پڑی تھی اور مسلمانوں کے لیے کچھ سہولتیں پیدا ہوئی تھیں۔ اس نا ختم ہونے والی بحث نے آگے چل کر شدید فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ کیا جس کے سبب ہندو مسلم اتحاد کا باب آگے چل کر بند ہو گیا۔
تحریک خلافت بھی اس وقت ماند پڑ چکی تھی، کیونکہ کمال اتاترک نے خلافت کا ادارہ ہی ختم کر دیا تھا اور ینگ ٹرکس (Young Turks) کی حمایت سے ترکی کو تقسیم ہونے سے بچا لیا تھا، مگر مسلمانان ہند پر خلافت کا منصب ختم ہو جانے سے سکتہ طاری ہوا۔ تحریک خلافت انہوں نے اپنے خون سے سینچی تھی اور ایک شاندار مستقبل کے لیے اپنا سب کچھ تج دیا تھا۔ (جاری ہے )

