اسے کہتے ہیں ”تربیت“


پانچ افراد کے اس گروپ میں دو نوعمر لڑکیاں، دو لڑکے اور ایک تین چار سال کا بچہ تھا۔ دونوں لڑکیاں خوبصورت ہونے کے ساتھ دیدہ زیب لباس میں ملبوس تھیں۔ دونوں لڑکوں نے بھی عمدہ لباس زیب تن کر رکھا تھا اور اپنے گھنے لمبے بالوں کو ضبط میں رکھنے کے لیے سیاہ رنگ کے کنگھے سروں پہ ٹکا رکھے تھے۔ بھنوؤں کی تراش خراش لڑکوں نے بھی لڑکیوں کی طرز پہ کروا رکھی تھی۔ وضع قطع، چال ڈھال سے وہ کسی مال دار گھرانے کے افراد معلوم ہوتے تھے۔ گفتگو سے بھی پڑھے لکھے اور مہذب ہونے کا تاثر دیتے تھے۔

ابتدائی بات چیت میں انھوں نے بتایا کہ وہ کراچی کے علاقے کورنگی کے رہائشی ہیں۔ دونوں لڑکے سگے بھائی اور دونوں لڑکیاں سگی بہنیں ہیں اور وہ سب شادی شدہ یعنی یہ دو جوڑے ہیں۔ ساتھ نظر آنے والا یہ بچہ بڑے جوڑے کا ہے۔ مزید یہ کہ وہ کراچی سے سیر کے لیے ملتان آئے اور ہوٹل میں دو کمرے لے کر رہائش اختیار کرلی۔ بعد میں ایک کار رینٹ پر لے کر ملتان میں موجود بزرگوں کے مزاروں پہ حاضری دے رہے تھے۔ آج انھوں نے دیہات کی سیر کا قصد کیا اور چلتے چلتے کافی دور دیہات میں نکل آئے۔ ایک دکان سے کھانے پینے کا کچھ سامان خریدنے لگے، لوگوں کو پتہ نہیں کیا شک گزرا اور چور سمجھ کر پولیس کو کال کر دی۔ جناب والا نہ تو ہم چور ڈاکو ہیں نہ نوسرباز، ہم تو شریف شہری ہیں۔ خواتین اور بچے ہمارے ساتھ ہیں، عورتوں کو ساتھ لے کر ہم اس طرح کا گھناؤنا فعل بھلا کیوں کریں گے؟

”اگر تم چور، ڈاکو یا لٹیرے نہیں ہو تو پولیس کو دیکھ کر تم نے اپنی گاڑی کیوں دوڑا دی اور کسی عادی مجرم کی طرح فرار ہونے کی کوشش کیوں کی؟“ تفتیشی ٹیم کے سب سے سینیئر رکن نے سوال کیا تو ایک لڑکا فی الفور بولا ”ہم ڈر گئے تھے، سر ہم ڈر گئے تھے۔“ باقی سب نے اس کی تائید کی۔

”ہماری مخبری کے مطابق تم لوگوں نے پچھلے ایک ہفتے سے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے اور لوگوں کے ساتھ مختلف انداز میں نوسر بازیاں کر رہے ہو۔“ ایک اور پولیس افسر کے سوال پر ان میں سے ایک گویا ہوا ”نہیں جناب ہم تو شاہ شمس دربار کی زیارت کے بعد دیہات کی سیر کو نکلے تو دیہاتیوں نے شبہ میں پولیس کو کال کر دی، ہم چور ڈاکو نہیں ہیں۔“

چٹی سفید چمڑی پر دو نیل بھی ابھی ٹھیک سے نہیں پڑے تھے کہ وہ سب کچھ بتانے پہ آمادہ ہو گئے۔ اس نوسرباز گروہ کا تعلق کراچی سے تھا۔ یہ تربیت یافتہ لوگ تھے جو باقاعدہ منصوبہ بندی سے لوگوں کو لوٹتے تھے۔ یہ اپنی واردات کے لیے دیہاتی اڈوں پر موجود ایسی دکانوں کا انتخاب کرتے تھے جن پر کریانہ، سبزی، آڑھت، جنرل سٹور کا تھوک و پرچون کا ملا جلا کاروبار ایک ہی چھت تلے ہوتا ہے۔

ان کا طریقہ واردات کچھ اس طرح تھا کہ یہ دکان سے کچھ فاصلے پر کار کھڑی کر کے خراماں خراماں باہر نکلتے اور نازو انداز سے چلتے ہوئے دکان کی سمت بڑھتے۔ خوبصورت اور نوجوان لڑکوں کے ساتھ چست لباس میں ملبوس حسیناؤں کو دیکھ کر دیہاتی دکاندار ان کے ایمان شکن جلووں میں کھو جاتے۔ یہ دکاندار سے نہایت شیریں زبان میں بات کرتے اور کھانے پینے کا مختلف سامان نکالنے کا کہتے۔ ایک لڑکی چلتے چلتے دکان کے اندر چلی جاتی اور دکاندار سے کسی آئٹم کی تفصیل پوچھنا شروع کر دیتی، کچھ اٹھاتی، کچھ واپس رکھتی اور دکاندار کی توجہ پوری طرح اپنی طرف مبذول کر لیتی۔

اسی اثناء میں غلے کے قریب والا نوجوان غلے سے رقم نکالنے کی کوشش کرتا۔ انواع و اقسام کا سامان خریدنے کے بعد وہ دکاندار کو پانچ ہزار روپے کا اصلی نوٹ دیتے اور بقایا رقم وصول کر لیتے۔ بقایا رقم لینے کے بعد انھیں کچھ اور سامان یاد آ جاتا اور وہ دکاندار سے کہتے آپ یہ چار ہزار پکڑیں اور ہمیں ہمارا پانچ ہزار والا نوٹ واپس دیں ہم آپ کو کھلے پیسے دیتے ہیں۔ پانچ ہزار لینے کے بعد وہ چار ہزار کے جعلی نوٹ دکاندار کو تھما دیتے اور دکاندار بھی بنا تصدیق کے انھی غلے میں رکھ لیتا کہ اس کے تئیں یہ اس نے خود ہی تو ان کو دیے تھے۔ اس طرح دس پندرہ منٹ میں دس پندرہ ہزار روپے کی نوسربازی کر کے وہ اگلی منزل کی طرف رواں دواں ہو جاتے۔

جب دکاندار کو ہوش آتا تب تک پنچھی اڑان بھر چکے ہوتے تھے۔ ایک دکاندار نے شام کو حساب کتاب کیا تو رقم میں واضح کمی پائی گئی۔ ساتھ ہی کئی ہزار کی جعلی کرنسی بھی اس کی رقم میں شامل تھی۔ ذہن لڑانے پہ یاد آیا کہ خوبرو حسیناؤں کے ساتھ کچھ شہری بابو اس کی دکان پہ سودا لینے آئے تھے، ہو نہ ہو یہ کارستانی ان کی ہی ہے۔ متاثرہ دکاندار نے اپنی اس پریشانی کو ایک عزیز کے ساتھ شیئر کیا جس کی اپنی ایک کریانے کی بڑی دکان تھی اور دکان پہ آنے والے غیر روایتی گاہکوں کے حلیوں اور نشانیوں سے آگاہ کر دیا۔ شومئی قسمت دیکھیے کہ نوسربازوں کا یہ گروہ اگلے دن وہاں واردات کی غرض سے عین اسی دکان پر پہنچ گیا جس کے مالک کو پیشگی معلومات حاصل ہو چکی تھیں۔

نوسربازوں نے روایتی انداز میں اپنی واردات شروع کر دی مگر اس بار دکاندار الرٹ تھا۔ جیسے ہی ان میں سے کسی ایک کا ہاتھ غلے کی طرف بڑھا اس نے دبوچ لیا اور شور و واویلا مچا کر اردگرد کے دکانداروں کو بلانا چاہا۔ نوسربازوں کی سکیم الٹی پڑی تو ان سب نے بھی شور شرابا مچانا شروع کر دیا۔ جمع ہونے والے لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ معاملہ کیا ہے۔ اس مخمصے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نوسرباز گروہ نے بھاگ کر کار میں پناہ لی اور گاڑی بھگا دی۔ دکاندار نے پولیس کے ایمرجنسی نمبر پہ کال کر دی۔ پولیس کی موبائل وین جو قریبی علاقے میں گشت پر مامور تھی وہ مذکورہ گروہ کے پیچھے لگ گئی۔ خطرناک انداز میں تیز رفتاری سے چلائی جانے والی کار کو کچھ وقت کی تگ و دو کے بعد قابو کر لیا گیا۔

نوسربازوں کے تمام اعترافات سننے اور ساری کہانی جان لینے کے بعد میرے اندر کا موٹیوشنل سپیکر انگڑائی لینے لگا۔ تین چار سال کا معصوم بچہ تمام حالات سے بے خبر کھیل کود اور شرارتوں میں مشغول تھا۔ میں نے ان چاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ”دیکھو اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہر اس صلاحیت سے نوازا ہے جس کی بنا پر تم سب باعزت روزگار کما سکتے ہو اور معاشرے میں ایک بہتر مقام بنا سکتے ہو۔ تم سب نوجوان، خوش شکل، خوش لباس انسان ہو اور پہلی نگاہ میں انتہائی مہذب دکھائی دیتے ہو پھر تمہیں اس طرح کے مکروہ دھندے میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ دیکھو تم اس معصوم بچے کو ساتھ لیے پھر رہے۔ سوچو کہ تمہارے اس فعل سے اس کی تربیت پر کتنا برا اثر پڑ رہا ہے۔

جب میری تقریر کی ہانڈی جذبات کی تیز آنچ پہ کھدڑ کھدڑ پکنے لگی تو ان میں سے ایک گویا ہوا۔ ”سرکار کیسی باتیں کرتے ہو، یہ ہمارے آباء و اجداد کا پیشہ ہے، دادا پردادا سے چلا آ رہا ہے۔ ہمارے دادا نے یہ فن ہمارے والد، چچا تایوں اور پھوپھیوں کو سکھایا، ان سے ہوتا ہوا یہ فن ہم تک پہنچا، اب ہم اپنے بچوں کو ساتھ لیے پھر رہے ہیں کہ ان کو بھی کچھ“ سیکھ ”ملے۔“

Facebook Comments HS