شام زندگی
عصر کی نماز پڑھتے ہی وہ تیز تیز قدم اٹھاتے واکنک ٹریک پر آ گئی، یہ وقت اور مقام دونوں اس کے پسندیدہ تھے۔ جب وہ طویل اور تھکا دینے والی دن بھر کی مصروفیات کے بعد سکون کا سانس لیتی، ذکر کرتے ہوئے تیز قدم اٹھاتی، کبھی خود سے محو گفتگو، کبھی رب سے سرگوشیاں کرتے کرتے وقت بہت تیزی سے بیت جاتا اور دن جلد ہی شام کا لبادہ اوڑھ لیتا، تب وہ گھر لوٹ آتی۔
حسب معمول آج بھی جب وہ گھر سے نکلی تو شام سے کچھ دیر پہلے کا خوبصورت سماں آسمان پر شفق کی سرخی پھیلی ہوئی تھی، شفق کی اس سرخی میں آسمان کی وسعتوں میں تیرتے بادلوں کے کئی رنگ کے بادلوں کے کنارے پر شفق کی سرخی یوں دکھائی دیتی جیسے سرمئی دوپٹے پر سنہری گوٹا کناری لگائی گئی ہو، مدھر اور گنگناتی ہواؤں میں پھولوں کی باس رچی بسی، وسیع سبزہ زار، پوری فضا پر فراغت اور اطمینان کی چادر تنی ہوئی، لوگ سیر میں مصروف، بچے جھولے جھول رہے تھے۔
کچھ لوگ بینچوں پر بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف اس سہانے وقت اور فراغت جا لطف اٹھا رہے تھے۔ موسم کی اس خوبصورتی اور شام سے پہلے کی دل آویزی کو اپنی روح کے اندر سموتے ہوئے وہ تیز تیز قدم اٹھاتی واک کرتی رہی، اپنی اس چہل قدمی کے دوران سورج کو لمحہ بہ لمحہ غروب ہوتے دیکھنا، روشنی کا آہستہ آہستہ ملگجے اندھیروں میں بدل جانا، اجالے اندھیروں کے اس کھیل میں وہ سورہ آل عمران کا آخری رکوع تلاوت کرتے، دعائیں مانگتے اور خوشی خوشی قدم اٹھاتے وسیع سبزہ زار، گل پوش روشیں دیکھ کر جنت کے باغوں کی دعا کرتی۔
یوں یہ وقت اسے جسمانی اور روحانی مسرتوں سے ہم کنار کر دیتا۔ وہ خود کو بہت پر سکون محسوس کرتی لیکن آج تو موسم کی سندرتا، پر کیفی اور دل آویزی نے اس پر ایک سرشاری کی سی کیفیت طاری کر دی تھی۔ وہ بڑے مطمئن انداز میں چلے جا رہی تھی کہ گویا ذہن میں ایک دم چھناکا سا ہوا اسے لگا کہ دن کے مختلف حصے بھی گویا زیست انسانی سے متشابہ اور مماثل ہیں۔
صبح کا نورانی اور پاکیزہ وقت بچپن کی پاکیزگی اور معصومیت سے مشابہ۔ چڑھتا ہوا سورج۔ تاباں۔ روشن۔ فروزاں۔ اور دن بھر کی مصروفیات، تگ و دو۔ جدوجہد، کچھ حاصل کرنے، پا لینے کی آرزو اور خواہش، یہی وقت شباب، نصف النہار پر چمکتا سورج تاباں، فروزاں، زندگی کا حاصل، اپنی ہی آگ میں جل جانا۔ کندن بننا۔ جلتی آگ میں کود جانا۔ کچھ پا لینے۔ کچھ کر گزرنے کا زمانہ۔ (نصف النہار پر چمکتا ہوا سورج دھیرے دھیرے زوال کی طرف) سورج کے ڈھلنے اور شباب سے ادھیڑ پن کی طرف آتے کس نے دیکھی!
بڑی تیزی سے اور بڑے غیر محسوس انداز میں یہ جوانی، یہ چمکتا سورج اپنے زوال کی جانب گامزن، پھر زندگی کی سہ پہر، یہ شام سے پہلے کا وقت اطمینان، سکون، فراغت اور دن بھر کی جدوجہد کے بعد سکون کا سانس۔ جب انسان سوچتا ہے کہ کیا کچھ حاصل کر لیا، بچوں کی ذمہ داریوں سے سبک دوش، خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کرنا، اپنی آزادی میں مگن، محو اور خوش بالکل شام کے اس وقت کی طرح۔
ابھی تو سارے میں دھوپ کی آخری نرم کرنوں کا راج تھا اور ابھی دیکھتے دیکھتے اندھیرا اجالا گویا گلے مل رہے ہیں۔ اندھیرے، اجالوں پر غلبہ پا رہے ہیں۔ فرصت و فراغت کا یہ وقت اتنا زیادہ مختصر کیوں؟ ابھی تو دن بھر کی مسافت سے سکھ کا سانس ہی لیا تھا کہ شام کی آمد آمد اور پھر چلتے چلتے سکول کے زمانے کا ایک شعر ذہن کی کھڑکی پر دستک دیتے ہوئے لبوں پر آ گیا۔
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
نہ جانے، نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے۔ نہ جانے یہی ایک مصرع، اس کی تکرار (شام کی آمد کی اتنی جلدی اور غیر متوقع) بے اختیار، اس کے ہاتھ کی گرفت، تسبیح پر ذکر، اس کا دل اداسی اور رنج سے بھر گیا۔ اس نے سر جھکا کر سرگوشی کی، اے میرے رب شام کہیں بھی ہو مگر تیرا ذکر، تیری یاد کے اجالے اور روشنی مجھے تنہا نہ چھوڑے۔ ہر مشکل و تاریکی میں پر نور چہرے کی ضیاء روشنی بن کر منور کرے۔ تیری یاد سے ایسا اجالا کہ جیسے سورۃ فجر کی آخری آیت کا مفہوم۔
ترجمہ ”پھر چل اپنے رب کی طرف، تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی، پھر شامل ہو میرے بندوں میں اور داخل ہو میری بہشت میں۔“ اس دعا کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو گرنے لگے۔ انسانی زندگی کی بے ثباتی اور وقت کی ریت کو یوں ہاتھوں سے پھسل جانے، زندگی کے مختلف ادوار کو تشبیہ دیتے ہوئے اداسی کا ایک گہرا احساس اس کے رگ و پے میں سما گیا اور وہ تھکے تھکے قدموں سے گھر پہنچ گئی۔
چمن سے روتا ہوا موسم بہار گیا
شباب سیر کو آیا تھا سوگوار گیا
وائے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہوا
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا


