خوامخواہ کے مامے


شہزادہ داؤد اور ان کے 19 سالہ بیٹے سلیمان داؤد کی موت کی المناک خبر ہے۔ دونوں باپ بیٹا فادر ڈے پر آبدوز میں سمندر کی گہرائی میں اترے تھے تاکہ مشہور جہاز ٹائٹینک کا ملبہ دیکھ سکیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے ساڑھے سات کروڑ پاکستانی روپے ادا کیے۔ اللہ دونوں باپ بیٹے کو غریق رحمت کرے، ان کی موت المناک ہے۔ دل درد سے بھر آیا ہے۔ میں نے اس کربناک واقعے کے متعلق کوئی پوسٹ نہیں ڈالی لیکن خدا گواہ ہے کہ میں دونوں کی سلامتی کی دعائیں مانگتا رہا۔ اسید کا زیادہ تر وقت میرے ساتھ گزرتا ہے، ان دنوں اکثر اس بدقسمت باپ بیٹے کا خیال آتا رہا اور دل سے ان کی سلامتی کے لئے دعائیں مانگیں۔

پتہ نہیں یہ خواہش کس کی تھی، باپ کی جس کو پورا کرنے بیٹا ساتھ ہو چلا یا پھر جوان بیٹے کی خواہش پورا کرنے پر باپ نے لبیک کہا۔ جو بھی ہے دونوں اب کہیں سمندر کی تہہ میں پڑے ہوں گے۔ ممکن ہے کبھی کسی مہم جو کے راستے میں یہ آبدوز بھی آئے اور میڈیا پر پھر سے خبریں چلنی شروع ہوں۔ جو بھی ہے درد کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ اس خاندان کی زندگی میں چل پڑا ہے۔

جب امید کے سارے دیے بجھ چکے ہوں گے اور یقینی موت سر پر آ کھڑی ہوگی تو باپ اور بیٹا ایک دوسرے سے لپٹ گئے ہوں گے، باپ نے اس وقت بھی بیٹے کو حوصلہ دیا ہو گا اور پھر رفتہ رفتہ دونوں نے موت کی بانہوں میں سر رکھا ہو گا۔

ان کی گمشدگی کی خبر اپنے ساتھ ایک اور بھی خبر لائی تھی اور وہ ہے ہمارے معاشرے کی سفاکیت اور منافقت کی۔ بجائے اس کے کہ باپ بیٹے کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ان کی سلامتی کی دعا مانگی جاتی ہم نے ان کی دولت کو ہدف تنقید بنانا ضروری سمجھا۔ ہم پاکستانیوں کے ساتھ ایک مسئلہ ٔ ہے، دولت سے ہمیں جتنی محبت ہے اس سے کہیں زیادہ ہم دولت مند سے نفرت کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے پاس ڈھیر ساری دولت ہو لیکن جن کے پاس دولت ہے وہ ہماری نفرت کا نشانہ ہیں۔

ہمیں یہ غلط فہمی ہے کہ صرف اور صرف عبدالستار ایدھی جیسے لوگ ہمارے ہیروز ہیں۔ ہمیں یہ سادہ سی بات سمجھ نہیں آتی کہ ایدھی صاحب جیسی شخصیات کی تمام تر پرخلوص کوششیں دولت ہی کی مرہون منت ہیں، وہ دولت جو ایدھی صاحب نے نہیں کمائی بلکہ اوروں نے کما کر ان کی جھولی میں ڈال دی اور اس سے ایدھی صاحب نے خدمت کی ایک لازوال داستان رقم کی۔ ہم جب تک ایدھی صاحب کی طرح ہاشوانی اور داؤد فیملی جیسے کرداروں کو اپنا ہیرو اور محسن نہیں سمجھیں گے، تب تک ہمارے دن تبدیل نہیں ہونے۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ دولت اقوام ایسے ہی افراد کے ہاتھوں اکٹھی ہوتی ہے اور معاشرے میں گردش کرتی خلق خدا کے لئے آسانیوں کا مؤجب بنتی ہے۔

بات پھر سیاست کی طرف آتی ہے لیکن کیا کریں ہماری تاریخ ہی ایسی ہے۔ غلط تصورات کو ہمارے ذہنوں میں ڈال کر ہمارے ذہنوں کو قفل لگا دیے گئے ہیں۔ ”دولت کے ہر انبار کے پیچھے ایک جرم ہوتا ہے“ ۔ گارڈ فادر فلم سے متاثر ہماری معزز عدلیہ نے ایسا کہا تھا اور میرے سمیت سب نے واہ واہ کی تھی۔ ہم بھول گئے تھے کہ پاور گیم میں ایک بندے کو گندا کرنا مقصود تھا کہ دوسرے کو ملک حوالے کرنا تھا۔ دولت کے ہر انبار کے پیچھے یقیناً جرم ہو سکتا ہے لیکن اگر دولت کا انبار راتوں رات حاصل کیا گیا ہو، اگر دولت کی عمارت دہائیوں میں بنی ہو تو جرم سے زیادہ امکان یہ ہے کہ محبت اور ذہانت کو بروئے کار لا کر اینٹ اینٹ جوڑ کر عمارت کھڑی کی گئی ہے اور اس عمارت کو کھڑا کرنے میں ہزاروں لاکھوں لوگوں نے اپنے حصے کا رزق بھی حاصل کیا ہے۔

میاں شریف جیسے لوگ کسی معاشرے کے حقیقی محسن ہوتے ہیں جو نہ صرف اپنے ارد گرد لوگوں کے لئے خیر، تقویت اور تشویق کا باعث بنتے ہیں بلکہ دنیا میں بھی اپنی قوم کے لئے فخر سمیٹتے ہیں۔ ہم ان کی اولادوں کو پاور پولیٹکس میں رگیدنے کے لئے چار سو چور چور کی صدائیں بلند کرتے ہیں۔ اسی میاں شریف کو ایک جاگیردار وزیراعظم نے بیک جنبش قلم درجنوں دیگر پاکستانی ارب پتیوں سمیت پائی پائی کا محتاج کر دیا تھا جن میں سے کئی اس سانحے سے سنبھل ہی نہ سکے اور پاکستان چھوڑ کر ساری عمر اپنے ماضی کو یاد کرتے شراب کے نشے میں دھت اپنا غم غلط کرتے رہے۔ میاں شریف جیسے کم ہی تھے جنہوں نے دوبارہ زیرو سے آغاز کر کے اپنی ایمپائر کھڑی کی۔ ہم نے اس کے بیٹے کو پانامہ میں پکڑ کر باہر کرنا چاہا اور جب پانامہ سے کام نہیں بنا تو اقامہ کے ذریعے اسے تا حیات نا اہل کر دیا۔

میرے عزیزو! دولت سے پیار ہے تو دولت مندوں سے نفرت کرنا چھوڑ دو۔ ”کروڑوں روپے لگا کر سمندر کی تہہ میں اترنے سے اچھا غریبوں کی مدد ہے“ ؛ جیسی جذباتی باتوں نے ہمارا دماغ شل کر دیا ہے۔ جس کی دولت ہے اس کے استعمال کا اختیار بھی اس کے پاس ہے، خوامخواہ ہر کسی کے مامے بننا بری بات ہے، آگے آپ کی مرضی

Facebook Comments HS