کشتی حادثہ : کس کے سر ہے یہ خون ناحق؟


یونان کے سمندر میں ایک او ر بدنصیب کشتی خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی ہے۔ بڑی تعداد میں پاکستانی اس کشتی میں سوار تھے۔ یہ پاکستانی ابھی تک لا پتہ ہیں۔ کون جانے کہ وہ زندہ ہیں بھی یا سمندری لہروں کی نذر ہو گئے ہیں۔ حادثے کا شکار ہونے والی کشتی میں مصری اور شامی شہری بھی سوار تھے۔ اطلاعات ہیں کہ دو درجن خواتین اور معصوم بچے بھی کشتی میں موجود تھے۔ بین الاقوامی تحقیقاتی صحافیوں نے خبر دی ہے کہ یونانی کوسٹ گارڈز نے کشتی کو رسی سے باندھنے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے کشتی الٹ گئی۔

اخباری اطلاعات کے مطابق لاپتہ ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد 400 تک ہو سکتی ہے۔ لا پتہ پاکستانیوں میں ایک بڑی تعداد کا تعلق آ زاد کشمیر سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر میں صف ماتم بچھی ہے۔ گجرات، گجرانوالہ او ر دیگر اضلاع کے شہری بھی لاپتہ افراد میں شامل ہیں۔ ان شہروں میں بھی سوگ کی کیفیت ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس سانحے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اعلان کیا ہے کہ پیر 19 جون کو یوم سیاہ منایا جائے گا۔

اس تناظر میں بروز پیر ملک بھر کی سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔ یقیناً ہم سب اس حادثے پر دکھی ہیں۔ اب ہم سوگ منائیں۔ پرچم سرنگوں کریں۔ یا امداد کا اعلان کریں۔ جو سانحہ رونما ہونا تھا وہ ہو چکا ہے۔ جو نقصان ہو چکا اس کی تلافی کسی طور ممکن نہیں ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد زندہ بچا لئے جائیں۔ مگر عمومی طور پر اس طرح کے حادثوں میں ڈوبنے والوں کو بچانا بہت مشکل ہوتا ہے۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ہر چند مہینوں کے بعد ایسا کوئی نہ کوئی واقعہ پیش آتا ہے۔ اچھی اور پر تعیش زندگی کی خواہش میں، مال و دولت کمانے کی چاہ میں، سینکڑوں لوگ غیر قانونی طریقہ اختیار کر کے ملک سے نکلنے کی کو شش کرتے ہیں۔ جن کی قسمت یاوری کرتی ہے، وہ زندہ سلامت کسی ملک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ دوسری صورت میں یہ خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ کشتی الٹ جانے سے بیسیوں قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ یا دم گھٹنے سے بیسیوں افراد کی اموات واقع ہو گئیں۔ ہر مرتبہ اپنے حسین خوابوں کا پیچھا کرتے کرتے کئی معصوم انسان موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا۔ ایک کشمیری نوجوان ساجد کا قصہ ایک غیر ملکی صحافی کے توسط سے سننے کو مل رہا ہے۔ ساجد نامی یہ نوجوان پاکستان میں اپنے مستقبل سے مایوس تھا۔ اسے لگتا تھا کہ اس ملک میں اسے اچھے مواقع میسر نہیں۔ یورپ جانے کی آرزو میں وہ بھی موت کی اس کشتی میں سوار ہوا۔ نوجوان کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے۔ ساجد کے والد بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے جواں عمر بیٹے کو روکنے کی بہت کو شش کی۔ لیکن وہ نہیں مانا۔

بیٹے کو لگتا تھا کہ پاکستان میں رہتے ہوئے وہ کچھ نہیں کر سکے گا۔ وہ یورپ جانا چاہتا تھا۔ اب ساجد لاپتہ ہے۔ معلوم نہیں کہ اس کے والدین اس کے بارے میں کوئی اچھی خبر سن بھی سکیں گے یا نہیں۔ یونانی انتظامیہ کچھ لوگوں کی جانیں بچا نے میں کامیاب رہی ہے۔ بین الاقوامی صحافی خبر لائے ہیں کہ حکام نے ان زندہ بچ جانے والوں کو ایک مخصوص کیمپ میں رکھا ہے۔ فی الحال انہیں اس جگہ سے باہر جانے اور کسی سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ بچ جانے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں ایسا لگ رہا ہے کہ وہ کسی جیل میں رہ رہے ہیں۔

حادثے کے فوری بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے ہدایت جاری کی کہ اس سارے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے۔ ہمارا وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف۔ آئی۔ اے متحرک ہوا ہے اور بیرون ملک بھیجنے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے بٹورنے والے ایک ایجنٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کراچی ائر پورٹ پر بھی کارروائی کرتے ہوئے ایک اسمگلر کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ اس شخص کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ اس نے کئی افراد کو غیر قانونی طریقہ کار کے تحت لیبیا بھجوایا تھا۔

آزاد کشمیر میں بھی اسمگلروں کے نو رکنی گروہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا تحرک اچھی بات ہے۔ یہ اطلاعات بھی تسلی بخش ہیں کہ ایجنٹوں اور اسمگلروں کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اس حادثے سے پہلے حکومت، انتظامیہ اور متعلقہ ادارے کیا کر رہے تھے؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ جو قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ یہ خون ناحق کس کے سر ہے؟ یہ کیا بات ہوئی کہ حادثہ رونما ہونے کے بعد حکومت ہدایت جاری کرتی ہے۔

متعلقہ ادارے متحرک ہوتے ہیں۔ ملزموں کی پکڑ دھکڑ ہوتی ہے۔ اس کے بعد یہ معاملہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ کشتی الٹنے کے بعد جو انسانی اسمگلر اور ایجنٹ گرفتار ہوئے ہیں۔ یہ ملزم پہلے کیوں نہیں پکڑے گئے؟ یقیناً اس سے پہلے بھی ان لوگوں نے کئی شہریوں سے لاکھوں روپے بٹورے ہوں گے۔ بیسیوں معصوموں کو غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک بھجوایا ہو گا یا بیرون ملک بھجوانے کا جھانسہ دیا ہو گا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ کاروبار کھلے عام ہوتا ہے۔

ان اسمگلروں اور ایجنٹوں کے باقاعدہ دفاتر قائم ہوتے ہیں۔ یہ اپنے کاروبار کی تشہیر کرتے ہیں۔ لوگ ان کے پر کشش اشتہارات دیکھ کر ان کی جانب راغب ہوتے ہیں۔ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی، زیور، جائیدادیں، فروخت کر کے ان دھوکہ بازوں کو لاکھوں روپے کی ادائیگی کرتے ہیں۔ جب یہ سب کچھ کھلے عام ہو رہا ہوتا ہے تو ہمارے متعلقہ ادارے کہاں سو رہے ہوتے ہیں؟ ہماری ایجنسیاں کیوں ان لوگوں کی غیر قانونی سرگرمیوں کا سراغ لگانے اور ان کی گرفت کرنے میں ناکام رہتی ہیں؟ نہایت ضروری ہے کہ اب اس معاملے کو محض چند روزہ کارروائیوں تک محدود نہ رکھا جائے۔ یہ عمل مستقل بنیادوں پر جاری رہنا چاہیے۔

اس سارے معاملے کے ایک اور پہلو پر حکمرانوں اور ارباب اختیار کے لئے قابل غور ہے۔ غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے والے بیشتر افراد روزی روٹی کی تلاش میں اپنے وطن کو چھوڑتے ہیں۔ بہت سوں کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ موت کا کھیل ہے۔ اس میں ان کی جان جا سکتی ہے۔ اس کے باوجود وہ بیرون ملک جانا چاہتے ہیں۔ باہر جانے والوں میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہوتی ہے۔ حالیہ حادثے میں بھی زیادہ تر پاکستانی نوجوان شامل تھے۔

یہ باہر جا کر روپیہ کمانا چاہتے تھے۔ ان نوجوانوں کی کیفیت کا اندازہ کیجئے۔ یہ اپنے گھر، والدین، بیوی بچوں اور بہن بھائیوں سے دور ہونے پر مجبور تھے۔ یقیناً انہیں اس ملک میں مہنگائی کا طوفان دکھائی دیتا ہو گا۔ لیکن روزگار کے مواقع نظر نہیں آتے ہوں گے۔ گزشتہ کالموں میں بھی عرض کیا تھا کہ ہمارے لاکھوں پڑھے لکھے اور ہنر مند نوجوان اس ملک سے باہر جا چکے ہیں۔ ہم برین ڈرین کا رونا روتے رہتے ہیں لیکن کوئی منصوبہ بندی کرنے میں ناکام ہیں۔

اگر اپنے ہی ملک میں روزگار کے مواقع میسر ہوں تو کس کا دل چاہے گا کہ وہ اپنے خاندان سے ہزاروں لاکھوں میل دور جا کر روزی کمائے۔ ارباب اختیار کو اس صورتحال پر غور کرنا چاہیے۔ مشکل یہ ہے کہ ہمیں سیاسی لڑائی جھگڑوں سے ہی فرصت نصیب نہیں۔ ایسے میں نوجوانوں کے مستقبل کی کون فکر کرے؟ سیاست دانوں کو نوجوانوں کا ووٹ تو چاہیے لیکن نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی طرف ان کی توجہ کم کم ہی جاتی ہے۔

Facebook Comments HS