احمد جاوید اور تہذیب سخن: چند تاثرات
گزشتہ دنوں جناب احمد جاوید کے ویڈیو پروگراموں کا ایک سلسلہ دیکھ رہا تھا جس کی پہلی وڈیو میں انہوں نے اپنی فکری تشکیل کے حوالے سے یہ بتا کر مجھے حیران کر دیا تھا کہ وہ سولہ برس کے تھے جب شاعری اور تصوف کے قوام سے ان کا ذوق مرتب ہو چکا تھا اور یہ کہ وہ تب تک ابن عربی کو نہ صرف پڑھنے لگے تھے، وجودی تجربے کے ساتھ سمجھنے کی طرف مائل بھی تھے۔ جب میں یہ سن رہا تھا تو میرے ذہن میں وہ احمد جاوید آ گئے تھے جن کی غزلیں میں نے 1985 ءکے آس پاس محمد سہیل عمر کے مرتبہ جریدے ”روایت“ میں پڑھی تھیں۔ وہیں ایک غزل کا مطلع تھا:
آخر الامر تری سمت سفر کرتے ہیں
آج اس نخل مسافت کو شجر کرتے ہیں
اپنی نوعیت، مزاج اور قرینے کے اعتبار الگ طرح کے اس جریدے کے سلیم احمد نمبر کی دو جلدوں سمیت چار شمارے اس دعوے کے ساتھ شائع ہو پائے تھے کہ ان میں تاریخ فکر میں بنیادی تبدیلیوں کا سبب ہونے والی منتخب تحریریں تھیں۔ احمد جاوید کی غزلیں اس رسالے میں مارٹن لنگز، رینے گینوں، سدی نوح کے علاوہ سلیم احمد، جمال پانی پتی اور سراج منیر کی تحریروں اور تراجم کے درمیان شائع ہوئی تھیں اور جس شخصیت کا نقش میرے ذہن میں بنا اس کے محبوب موضوعات وہی ہو سکتے تھے جو اس پرچے کے ابتدائی صفحات پر ہی نمایاں ہو کر سامنے آ جاتے تھے ؛ یعنی مابعد الطبیعیات، علامت اور قونیات۔
بس اس کے بعد میں ان کی طرف متوجہ رہا کہ میری دلچسپی کا کچھ نہ کچھ سامان یہاں میسر تھا تاہم بعد میں میر، غالب اور اقبال سے لے کر آج کے کچھ شعرا پر ان کی گفتگوئیں سنیں تو مجھے اس لیے الگ دھج کی لگیں کہ یہاں وہ محض لفظوں اور مصرعوں کے سامنے کے مفہوم تک نہ رکتے تھے اور صرف زبان کو برتنے کا قرینہ ہی نہ دیکھتے تھے، وہاں تک الفاظ کو چھیلتے جاتے جہاں سے ان کی طرفین نمودار ہو جائیں اور ہماری محبوب صنف شعر غزل کی لسانی، حسی اور فکری تشکیل کے تہذیبی پہلو انگڑائی لے کر جاگ اٹھتے تھے۔
”تہذیب سخن“ میں معاملہ یوں لگتا ہے جیسے وہ افتخار عارف کے کلام کی تعبیر اور تفہیم کے باغ میں اپنے وجود کے دروازے سے داخل ہوئے ہیں کچھ اس طرح کہ افتخار عارف کا وجودی شعری تجربہ خود ان کا اپنا محبوب علاقہ ہو گیا ہے۔ آپ افتخار عارف سے ملے ہوں گے مگر جس پہلو سے اور جس تخلیقی و فکری اوج سے احمد جاوید نے ان کی شخصیت کا خاکہ کھینچا ہے ؛اپنی برداشت اور احمد جاوید کے لفظوں میں انسانی سمائی سے زیادہ اکیلے پن کی ابتلا کو سہنے والا، روح اور جسم کا زندہ برزخ، الم اور نشاط کے درمیان ایسی کنواری تنہائی جھیلنے والا جس نے ان کے شعور اور طرز احساس میں وحدت پیدا کر کے انہیں منفرد کر دیا ہے۔
ایسے افتخار عارف سے آپ کہاں ملے ہوں گے۔ ہاں ان کی شخصیت کا علمی، ادبی اور انتظامی پہلو جیسا ایک فاصلے سے نظر آتا ہے ضرور آپ کی نظر میں ہو گا مگر وہ افتخار عارف جو مزاجاً ملامتی ہیں اور عین اسی ساعت میں خوش ظاہر اور خوش باطن بھی؛ دو انتہاؤں کے بیچ میں کہیں اپنی اخلاقی شخصیت کو یوں متشکل کرتے ہیں کہ اپنی تخلیقات میں دل اور دنیا کے دونوں جہاں ان کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ احمد جاوید نے افتخار عارف کی شخصیت کی جو تصویر بنائی اس میں وہ ایک منور تہذیب کے ہالے میں نظر آتے ہیں ؛روایت میں رہتے ہوئے منفرد، نئے پرانے، پرانے نئے اور اجلے۔
افتخار عارف کی شاعری پر بات کرتے ہوئے انہوں نے عین آغاز میں واضح کر دیا کہ شاعری میں انفرادیت بربنائے اسلوب ہوتی ہے بربنائے مضمون نہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بہ قول احمد جاوید اس باکمال شاعر کا اسلوب اپنے لحن، آواز اور بہاؤ سے بنا ہے اور اپنے لفظوں کے درمیان بنیادی نسبتوں میں یہ بالکل منفرد ہے مگر لطف یہ ہے کہ آگے چل کر جب وہ اشعار کی تعبیر و تفہیم کی طرف آئے ہیں تو بظاہر معروف مضمون کا شعر بھی جو اپنے اسلوب کے سبب الگ سا نظر آ رہا ہوتا تھا، لسانی قرینوں کے اندر شاعر کی جذبی کیفیت کے نشان زد ہونے سے ایسے ایسے گوشوں اور پہلووں سے نمایاں ہونے لگتا ہے کہ وہ بر بنائے مضمون بھی کہیں بڑا شعر ہو جاتا ہے ۔
بہ طور خاص وہاں جہاں وہ شاعر کے ٹریجک سب سٹانس سے معاملہ کرتے ہیں یا شعر کی لسانی اکائیوں کو ایک سے زیادہ زاویوں کے ساتھ دیکھتے ہیں اور کسی پیراڈاکس میں رکھ کر وجود کے اندر اور باہر کی دنیاؤں میں دور تک لے چلے جاتے ہیں۔ بہ قول ان کے ”مفہوم میں ابہام پیدا کرنا عام بات ہے، مفہوم کو ابہام کے حوالے سے مکمل کرنا کمال کی بات ہے۔ لیکن کیفیات کو متعین نہ ہونے دینا یہ بہت کمال کی بات ہے۔ “ یہ کثیر الجہتی اور کمال افتخار عارف کے ہاں احساسات میں رفعت اور جذبات میں بے نفسی کی تظہیر کے ساتھ نشان زد ہوا ہے اور احمد جاوید کے نزدیک یہ توفیقات کا وہ نادریافتہ علاقہ ہے جس کا آج کے لوگ خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔
کتاب کا متن، بارہ نشستوں میں ہونے والی احمد جاوید کی گفتگو پر مشتمل ہے۔ ساتویں نشست میں وہ کہتے ہیں کہ جیسی شاعری ان کے پیش نظر ہے آج کل کے ماحول میں ویسی شاعری ناپید ہے۔ یہیں وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ افتخار عارف کا دینی اور روحانی شعور اور طرز احساس اور ان کے اندر پیدا ہونے والی کیفیات تعلق باللہ اور نسبت مع الرسول ﷺ کا حصہ ہے اور ان کے فن میں ان کی تطہیر تخلیقی لمحوں میں ازخود ہوتی رہتی ہے۔
ان کے دل اور دنیا کے اندر بظاہر جو تصادم یا تنافر ہے، جو تناؤ اور ٹکراؤ ہے وہ قضیہ ان کے تخلیقی عمل میں ایک آہنگ میں ڈھل کر حل ہو جاتا ہے ؛اور یہیں سے ان کا اسلوب وضع ہوتا ہے اور یہ کہ ان کی تخلیق ایک جذب کی کیفیت کی زائیدہ ہے اور ان کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ ان کا مذہبی شعور اور ان کا کلچر جیسے ایک دوسرے میں مدغم ہو چکے ہیں ؛اگرچہ کتاب میں موجود آخری نشستوں کی گفتگو کا فوکس مذہبی شاعری ہے اور یہاں بھی گفتگو کا معیار اتنا اعلیٰ اور بامعنی رہا ہے کہ پڑھنے والا اس سے بہت کچھ حاصل کرتا ہے تاہم کتاب کے ذیلی عنوان ”افتخار عارف کی شاعری کی روحانی جہات“ اور مقدمہ میں مذہبی شاعری کا بہ طور خاص حوالہ کچھ یوں سامنے آتا ہے جیسے افتخار عارف کا دین ان کی دنیا سے الگ کوئی شے ہے۔ خیر، کتاب کا مجموعی متن ہمیں مختلف افتخار عارف کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے ؛ جی وہ جس کی شاعری اس کی اپنی تہذیبی شخصیت کا پرتوہو گئی ہے۔ جی، ویسی تہذیبی شخصیت جس کی تعمیر کے عناصر میں مذہبی روحانیت کا گہرا عمل دخل ہے۔ کتاب کا نام ”تہذیب سخن“ مجھے بہت پسند آیا، اس کی الگ سے داد۔
افتخار عارف جس منفرد مزاج کے شاعر ہیں، احمد جاوید کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ قبل ازیں اپنی معنیاتی جہتوں اور جمالیاتی لطافتوں کو ان سے کمتر شخص پر پوری عیاں کرنے کو تیار ہی نہ تھے۔ اب جو احمد جاوید انہیں میسر آئے ہیں تو میں کلام اور اس کی تعبیر کو یوں مکالمہ کرتے پاتا ہوں کہ معنی اور جمال کا روشن دھارا ایک نیا منظر اچھالتا چلا جاتا ہے۔ سچ کہوں تو ”تہذیب سخن“ محض ایک کتاب نہیں ایک واقعہ ہے۔ ادبی دنیا کا اور بہ طور خاص غزل کی تنقیدی تاریخ کا ایک اہم واقعہ۔ کاش اپنی تہذیبی روایت اور تخلیقی عمل سے بچھڑی اور پچھڑی ہوئی اور بانجھ مشقت میں پڑی ہوئی اردو تنقید اس واقعے سے کچھ سیکھ پائے۔ ایسا ممکن ہو سکتا ہے کہ احمد جاوید نے اس راہ کو دور تک روشن کر دیا ہے۔


