دل کی بے قراریوں کو بیان کریں
پاکستان میں سیاسی شطرنج کا کھیل کچھ پھنس سا گیا ہے۔ ملک سے باہر تارکین وطن اس صورت حال کے بارے میں بہت تشویش میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ اکثر تارکین وطن ملک کی موجودہ صورت حال سے بد گمان اور بددل ہیں۔ ان تمام کی امیدیں مایوسی میں بدل رہی ہیں۔ اکثر کا ایک ہی سوال ہوتا ہے پاکستان میں کس کی حکومت ہے۔ کیونکہ میں ابھی بھی پرامید ہوں کہ جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا ہے۔ ہاں اس سے جمہوریت کے کردار پر شک کیا جا سکتا ہے، مگر جمہوری نظام کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جمہوریت میں لوگوں کو یا عوام کو گنا جاتا ہے۔ تولا نہیں جاتا۔ پاکستان کے اہم لوگ اور سیاسی اشرافیہ انتخابات سے اتنی خوف زدہ کیوں ہے۔ اس وقت جو اہم لوگ پاکستان کی سرکار کے پردھان ہیں۔ وہ آئین کو کیوں نظر انداز کر رہے ہیں۔ اس وقت قومی اسمبلی نامکمل ہے اور وہ جو بھی قانون سازی کر رہی ہے۔ وہ بھی مشکوک اور مخدوش ہے۔ آپ ملک عزیز ایک بڑی آبادی کو کتنا عرصہ نظر انداز کریں گے۔ اس ساری صورت حال میں میڈیا کا کردار خواص کے لیے رہ گیا ہے اور سوشل میڈیا پر جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ مکمل طور پر قابل اعتبار نہیں ہے۔
پاکستان میں میڈیا کیا آزاد ہے! میڈیا کی اتنی آزادی کافی خطرناک ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ میڈیا کے اکثر کردار جانب داری کی طرف مائل نظر آ رہے ہیں۔ ذاتی حیثیت میں کسی کو پسند کرنا یا کوئی مشورہ دینا کوئی برا نہیں مگر جب آپ پیشہ ورانہ حیثیت میں تبصرہ کر رہے ہوں اور مکمل طور پر مخالفت کریں وہ اخلاقی طور پر کسی طرح مناسب نہیں لگتا۔ اس وقت بھی ہمارے اخبارات عوام کو خبر نہیں دیتے۔ بلکہ وہ عوام کو اطلاع دیتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اطلاع اور خبر میں فرق کیا ہے۔ اطلاع تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے لیڈر اور سابق وزیر اعظم پر اب تک نامعلوم لوگوں کی طرف سے 100 سے زیادہ ایف آئی آر درج کروا دی گئی ہیں۔ یہ اطلاع اس وقت کی سرکار کی طرف سے بھی ہو سکتی ہے۔ وزارت داخلہ کے نیک نام وزیر داخلہ کی طرف سے بھی دی جا سکتی ہے۔ یہ اطلاع ملک کے منفرد وزیر خارجہ کی جانب سے آ سکتی ہے۔ مگر خبر یہ ہے کہ ایسے مقدمات کے مدعی کو بتایا نہیں جا سکتا ہے اور غلط ایف آئی آر پر کارروائی بھی نہیں ہوتی۔ اطلاع یہ ہے کہ کراچی میں میئر کا انتخاب جمہوری طریقہ سے ہوا۔ مگر خبر یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کا دعویٰ ہے کہ ہم باقی ملک میں اس ہی طریقہ سے انتخاب کروائیں گے۔
پاکستان کی نامکمل اسمبلی کے حزب اختلاف کے لیڈر جو کسی اچھے وقت میں پیپلز پارٹی کے ساتھ اور فیصل آباد کے راجہ تھے۔ پھر جب ہوا کا رخ بدلا اور ان کا رابطہ خصوصی اداروں کی معرفت پی ٹی آئی سے کروایا گیا تو وہ پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے، پھر جب سابق سپہ سالار جنرل باجوہ نے ملک کی بہتری کے لیے امریکہ سے مشورہ کے بعد بہت ہی مناسب طریقہ سے غیر جانبداری کا لبادہ پہن کر ملک کی 13 سیاسی جماعتوں کو باہمی اعتماد کے لیے مجبور کیا اور مکمل مشاورت کے بعد جمہوری اداروں کی مدد سے سرکار تبدیل کر دی اور وزیر اعظم کے لیے پرانے دوست پنجاب کے سابقہ دروغہ جی شہباز سپیڈ کو سامنے لایا گیا اور باؤ جی کو یقین دلوایا گیا کہ آپ کے برادر محترم آپ کی جبری ہجرت کو قانونی طور پر ختم کروا کر واپسی کا قانون بنانے کے بعد آپ کو شان و شوکت سے واپس لایا جائے گا۔ اور پھر وزیر قانون نے نامکمل اسمبلی سے ایسا قانون بھی منوا لیا مگر سپریم کورٹ کو نظر انداز کر دیا گیا۔ اس پر سپریم کورٹ نے قدغن لگا دی۔ سنا ہے کہ اب دوبارہ مل جل کر ایسا قانون بن چکا ہے جو ماضی کے سپریم کورٹ کے فیصلے نظر انداز کر سکے گا اور جلد ہی باؤ جی اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ میدان عمل میں آ کر سابق صدر آصف علی زرداری کو تمغہ جمہوریت دیں گے۔
گزشتہ دنوں ایک تقریب کے لیے دوسرے شہر جانا پڑا اور تقریب بھی ایسی جس میں ہر طبقہ فکر کے لوگ مدعو تھے۔ تارکین وطن ملک سے دور ہو کر بھی ملک پر بہت نظر رکھتے ہیں۔ جب بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا تو اندازہ ہوا کہ وطن سے دوری نے ان کو کتنا متاثر کر رکھا ہے اور سب ہی لوگ خواجہ آصف مسلم لیگ نون کے رکن اسمبلی اور مخلوط سرکار کے وزیر دفاع اور سابق سپہ سالار جنرل باجوہ کے ہم مشروب کے بارے میں بہت ہی منفی رائے رکھتے ہیں۔ مجھے حیرانی تھی کہ سب یک زبان ہو کر خواجہ آصف سے اتنے نالاں کیوں ہیں تو راز کھولا۔ خواجہ صاحب وزیر دفاع نے نامکمل اسمبلی کے فلور پر تارکین وطن پر شدید تنقید کی اور جتلایا کہ تارکین وطن کا پاکستان سے اب کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے اور اسی تناظر میں وہ ووٹ کے حق سے محروم ہیں اور ان کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ میں نے بعد میں وزیر دفاع کا نامکمل اسمبلی والا بھاشن سنا تو اندازہ ہوا کہ موصوف نے کتنی سفاکی اور ہٹ دھرمی سے تارکین وطن سے نفرت کا اظہار کیا اور ایسے میں تارکین وطن کا رویہ بڑا جمہوری لگا۔
ایک سوال جو سب تارکین وطن کے دل میں ہے اور وہ ان کو پریشان بھی کرتا ہے۔ سوال یہ ہے ہماری رائے کو اہمیت اور حیثیت کیوں نہیں دی جاتی۔ جب یہ تارکین وطن اس ملک میں آئے تھے تو بہت اکیلے تھے، مگر اب صورت حال بدل چکی ہے۔ ان کے بچے یونی ورسٹیوں میں پڑھ رہے ہیں پہلے پہل صرف پاکستان سے پڑھنے والے لوگ علیحدہ آتے تھے اور کام کرنے والے الگ۔ اب دونوں طرح کے لوگ ان ملکوں میں اپنی پہچان کروا رہے ہیں۔ 2018ء کے انتخابات میں لندن، پیرس اور سپین سے لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے پاکستان گئے تھے۔ پھر ان کو اندازہ ہوا کہ دوسرے ملکوں کے تارکین وطن اس ملک میں رہ کر بھی ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ مگر ان کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اس وقت کی مخلوط پاکستانی سرکار تارکین کو نظر انداز کر رہی ہے۔ لندن میں باؤ جی جس گلی میں رہتے ہیں۔ وہاں آئے دن پاکستانی لوگ اپنا غبار نکالتے رہتے ہیں۔ ولایت کی جمہوریت ان لوگوں کا اعتبار کرتی ہے۔ ان کی حیثیت کو مانتی ہے۔ پاکستان کی مشکلات کا خود بخود حل تو نظر نہیں آتا اور انتخابات نہیں ہوتے۔ تو مشکلات میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ اب تو آئی ایم ایف بھی اس شرط پر معاہدہ کرنے پر تیار ہے کہ ملک میں جمہوریت کے لیے مثبت انداز فکر کی یقین دہانی کروائی جائے مگر وزیر خزانہ آئی ایم ایف کے ساتھ سودا کرنے میں اب بھی پریقین ہیں۔
پاکستان میں 9 مئی کو جو کچھ ہوا وہ قابل فکر ہے اور بہت سارے ایسے معاملات ہیں۔ جو ناقابل بیان ہیں مگر کون کس کی بات پر یقین کرے۔ تاریخ ان باتوں کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ 1971 ءمیں جب ملک تقسیم ہوا تو اس وقت تاریخ نے کوشش کی کہ ماضی کو سامنے رکھو اور مشرقی پاکستان کو بچا لو۔ مگر ہم نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا تاریخ پھر سے ہمیں خبردار کر رہی ہے۔ ہمارے عسکری ادارے تاریخ سے باخبر کیوں نہیں ہیں۔ آج بھی تاریخ کے جھروکوں میں مجبوریوں سے زیادہ ہٹ دھرمی کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان میں آئی ایم ایف کی ایک تاریخ ہے۔ اس میں وزیر خزانہ کا کردار حیران کن ہے۔ وہ وزیر خزانہ جو آئی ایم ایف سے مذاکرات ملک سے باہر دبئی میں کرتے تھے۔ اب حالات مختلف میں وزیر خزانہ کی وجہ سے باؤ جی کی جماعت تقسیم ہو سکتی ہے۔ ہمارے سابق صدر آصف علی زرداری بڑی توجہ سے پاکستانی سیاست کو چلا رہے ہیں مگر معاشی بد حالی ان کو ناکام کر سکتی ہے۔ پاکستان کس کا دوست ہے یہ سوال پرانا ہے۔ پاکستان کا کون دوست ہے اس پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہماری سیاسی اشرفیہ پاکستان کو نظر انداز نہ کرے، عوام کو ضرور کرے وہ تو بدلنے سے رہے۔


