کیا فیملی سائز پر قانونی قدغن کا مطالبہ شخصی آزادی سے متصادم ہے
کوئی دو دہائیاں قبل میرے گاؤں میں ایک خانہ بدوش فیملی آئی اور ادھر ہی بسیرا کر لیا۔ اس خاندان کے سربراہ کا نام اقبال حسین ہے (رازداری کی خاطر فرضی نام استعمال کر رہا ہوں ) ۔ وہ جھگیاں لگا کر ادھر رہتے ہیں۔ بچے اور عورتیں ہر روز گاؤں میں بھیک مانگنے کے مشن پر نکلتے ہیں اور جو ملتا ہے لے آتے ہیں۔ اسی بھیک پر ان کی گزر بسر ہو رہی ہے۔
اقبال حسین کی ایک بیوی تھی اور اس میں سے اس کی دس بیٹیاں اور چار بیٹے زندہ ہیں۔ پندرہویں بچے کی پیدائش کے دوران جھگی میں ہی اس کی موت واقع ہو گئی۔ نوزائیدہ بچہ بھی فوت ہو گیا تھا۔ اقبال حسین نے بیوی کی وفات کے چند ماہ بعد ہی دو بیٹیاں دے کر ایک نوجوان لڑکی سے شادی کی۔ اس شادی سے اقبال حسین کی چھ بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ یعنی کل ملا کر اقبال حسین کے بائیس بچے ہیں۔ اقبال حسین کے تین بڑے بیٹے شادی شدہ ہیں اور ان کے اکیس بچے زندہ سلامت ہیں اور گنتی ابھی جاری ہے۔ اسی طرح اقبال حسین کی آٹھ بیٹیاں شادی شدہ ہیں۔ ان میں سے ایک بے اولاد ہے اور باقی سات بیٹیوں کے سینتیس بچے زندہ سلامت ہیں۔ ادھر بھی گنتی ابھی جاری ہے۔ طریقہ کار وہی ہے۔ عورتیں اور بچے بھیک مانگ کر لاتے ہیں۔ مرد کوئی کام نہیں کرتے۔ افراد کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ساتھ جھگیوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
مجھے اس فیملی کے کوئی پندرہ بچوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ ان میں لڑکیاں اور لڑکے دونوں ہی شامل تھے۔ کسی بچے کو بھی اپنی عمر کا اندازہ نہیں تھا۔ تقریباً سبھی خوراک کی کمی کا شکار تھے۔ کسی کے بھی چہرے پر رونق یا مسکراہٹ نہیں تھی۔ کسی کی آنکھوں میں شرارت یا کوئی خواب نہیں تھے۔ کسی کے رویے میں کوئی امید نہیں تھی۔
کوئی بچی یا بچہ کبھی سکول نہیں گیا۔ کسی کو صحت کی سہولت حاصل نہیں ہے۔ تقریباً سارے بچے سٹنٹڈ ہیں۔ مطلب غذائیت کی کمی کی وجہ سے ان کے قد اور دماغ چھوٹے رہ گئے ہیں یا رہ جائیں گے۔ بدقسمتی سے یہ کوئی ایک مثال نہیں ہے۔ ہمارے گاؤں اور محلے ایسے خاندانوں سے بھرے پڑے ہیں جہاں بچوں کی تعداد آدھا درجن یا اس سے زیادہ ہے اور گھر میں وسائل کی شدید کمی ہے۔ بات صرف مالی وسائل کی نہیں ہے۔ ذہنی استعداد کی بھی بہت ضرورت ہے تاکہ بچوں کی پرورش پیار اور سہولت سے کی جا سکے۔
اقبال حسین کے گھر میں اتنے بچوں کے حقوق کا ذمہ دار کون ہے۔ اتنے بچوں کو وہاں اکٹھا کرنے کا جرم کس کا ہے۔ یہ جرم ریاست کا ہے۔ جس نے اپنے شہریوں کو اس قابل ہی نہیں بنایا کہ وہ اپنی زندگی میں کوئی منصوبہ بندی کر سکیں۔ خاندانی منصوبہ بندی تو ایک خوش حال زندگی کی منصوبہ بندی کا صرف ایک جزو ہے۔ ریاست نے اپنے شہریوں کو اس قابل ہی نہیں ہونے دیا کہ انہیں اور تو کیا اپنے بچوں کے بنیادی حقوق کا ہی احساس ہو سکے۔
اہم سوالات یہ ہیں کہ بچہ پیدا کرنا ہے یا نہیں اس بات کا فیصلہ کون کرتا ہے؟ ایک بھاری اکثریت نے اس سوال کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں۔ بچہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے بالکل ویسے ہی پیدا کر دیا جاتا ہے جیسے کوئی بھی جانور بچے پیدا کرتا ہے۔ بندر یا بطخ بچہ پیدا کرنے سے پہلے کوئی اجلاس نہیں بلاتے بالکل ایسے ہی ہم پاکستانیوں کی ایک بھاری اکثریت بھی اس سلسلے میں کوئی منصوبہ بندی نہیں کرتی۔
بچہ پیدا کرنے کے فیصلے میں صرف میاں بیوی ہی فریق نہیں ہیں۔ اس میں دو فریق اور بھی ہیں اور وہ بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ ایک فریق وہ بچہ ہے جس کو پیدا کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے، یہ اس بچے کی زندگی کا معاملہ ہے۔ فیصلے میں اس بچے کی نمائندگی ریاست کو کرنی چاہیے۔ اور چوتھا فریق وہ بچے ہیں جو وہ میاں بیوی دونوں یا ان میں سے کوئی ایک پہلے ہی پیدا کر چکا ہے۔ یہ بچے اس بات کی گواہی دیں گے کہ یہ دو لوگ جو مزید بچے پیدا کرنے کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں ان کا پہلے بچوں کے ساتھ سلوک کیسا ہے۔ ان بچوں کی زندگیاں یہ بتائیں گی کہ ان دو لوگوں کو مزید بچے پیدا کرنے کا لائسنس دیا جائے یا نہیں۔
کیا بچہ پیدا کرنے سے پہلے حکومت کی طرف لائسنس لینا لازمی ہونا چاہیے؟ اگر ہاں تو کیا یہ شخصی آزادی کے ساتھ متصادم ہے۔
شخصی آزادی میں وہ چیزیں آتی ہیں جن کا تعلق آپ کی اپنی ذات سے ہے اور ان کے اثرات، خاص طور پر منفی اثرات آپ کی اپنی ذات تک محدود ہیں اور رہیں گے۔ بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ آپ کی ذات تک محدود نہیں ہے۔ اس فیصلے سے پیدا کیا جانے والا بچہ بہت بری زندگی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس لیے پہلے آپ صورت حال کو اس قابل بنائیں کہ جس میں ایک بچے کو اٹھارہ برس تک کی بہترین پرورش کی ضمانت دی جا سکتی ہے اس کے بعد آپ کو بچہ پیدا کرنے کا لائسنس مل سکتا ہے۔
بات کو مزید بہتر طور پر سمجھنے کے لیے بچوں کو گود لینے کے بین الاقوامی قوانین کو دیکھیں۔ آپ کو بچہ گود لینے کے لیے آپ کو اپنی استطاعت دکھانی پڑتی ہے اور اجازت نامہ چاہیے ہوتا ہے تو پھر بچہ پیدا کرنے کے لیے کیوں نہیں۔
اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ بچہ پیدا کرنے کے لیے لائسنس حاصل کرنا لازمی ہونا چاہیے اور یہ بات شخصی آزادی سے متصادم نہیں ہے۔
ٹیل پیس: کہتے ہیں کہ ترقی ہی بہترین مانع حمل طریقہ ہے۔ یعنی تعلیم، صحت اور دنیاوی خوشی کی خواہش اور امکان ہی لوگوں کو اس قابل بنائیں گے کہ وہ اپنے ان بچوں کے حقوق کے بارے میں فکرمند ہو سکیں جو ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ جب تک یہ سٹیج نہیں آتی تب تک بچے پیدا کرنے پر ایک مشروط پابندی کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ اور یہ بات شخصی آزادی کے ساتھ بالکل بھی متصادم نہیں۔


