میاں طفیل محمد: انداز بیاں اور


انداز بیاں اور۔ میاں اشرف کمالوی جرآت و استقامت کا کوہ گراں، میاں طفیل محمد معروف کالم نگار و فیچر رائٹر میاں اشرف کمالوی کی میاں طفیل محمد کی برسی 25 جون کے حوالے سے خصوصی تحریر

قیام پاکستان سے قبل کی تاریخ کی ورق گردانی کریں تو پورے ہندوستان کی معیشت، تجارت، تعلیم، سرکاری و پرائیویٹ ملازمتوں اور دیگر اہم شعبوں میں ہندو اور سکھ ہی غالب نظر آتے ہیں، ضرورت مند مسلمان بوجہ مجبوری اگر ہندو بنیے کے مقروض ہو جاتے تو پھر سود در سود کی لعنت سے پیچھا چھڑانا ان کے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہو جاتا، معاملات عدالتوں میں جاتے تو وہاں مجسٹریٹ، ججز اور وکلا سبھی غیر مسلم ہوتے، لہذا مسلمانوں کو ہر طرف مایوسی اور محرومی کے اندھیروں سے ہی واسطہ پڑتا۔

ایسے میں ایک نوجوان طفیل محمد نے جب گورنمنٹ کالج لاہور سے سائنس مضامین کے ساتھ بی ایس سی کا امتحان اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا تو مشرقی پنجاب کی ریاست کپورتھلہ کے گاؤں رائے پور آرائیاں کے پسے اور دبے ہوئے مسلمانوں کو ہر طرف امید کی کرنیں سورج بنتی دکھائی دینے لگیں۔ طفیل محمد کے والد میاں برکت علی ایک سکول ٹیچر کی ملازمت کے ساتھ ساتھ صبح کے وقت اپنے بھائیوں کا کھیتی باڑی میں بھی ہاتھ بٹایا کرتے تھے، یہ خاندان اپنی شرافت، امانت، دیانت، اعلی ظرفی اور خدمت خلق کے باعث پورے علاقہ میں قدر و منزلت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا۔

اس خاندان کے بزرگ گاؤں میں نمبردار اور زیلدار تھے۔ جب کے طفیل محمد کے تایا میاں رحمت علی ریاست کپور تھلہ اسمبلی کے ممبر رہے۔ طفیل محمد کے والد نے شروع ہی سے انہیں ایک بڑا آدمی بنانے کا خواب دیکھا، اور یہ یقیناً ان کی دعاؤں اور محنتوں کا ہی ثمر شیریں تھا کہ یہ بچہ طفیل محمد جس نے نومبر 1913 میں جنم لیا اور بعد ازاں پوری دنیا میں عموماً اور عالم اسلام میں خصوصاً اسے ایک ایسے مدبر رہنما کی حیثیت سے جانا پہچانا گیا کہ تاریخ کے صفحات میں ایسی مثالیں کم کم ہی ملتی ہیں، 25 جون 2009 کو زندگی کی 96 بہاریں دیکھ کر، ایک بھرپور اننگز کھیلنے کے بعد جرآت و استقامت اور تدبر و فراست جیسی خصوصیات کا حامل یہ عظیم رہنما دنیا بھر میں پھیلے اپنے لاکھوں عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ کر اپنے پروردگار کے حضور پیش ہو گیا، انالاللہ وانا الیہ راجعون۔

شاعر نے ایسی ہی نابغہ روزگار ہستیوں کے متعلق کہا تھا کہ، پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ۔ افسوس کہ تم کو میر سے صحبت نہیں رہی۔ طفیل محمد کا رجحان شروع سے ہی سائنس مضامین کی طرف تھا، لیکن اپنی ریاست کے عوام اور اپنے خاندان کے بزرگوں کے اصرار پر انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے امتیازی حیثیت سے وکالت کا امتحان پاس کیا اور ریاست کپورتھلہ کے پہلے مسلمان وکیل کی حیثیت سے وکالت کا آغاز کر دیا۔ لیکن اللہ تعالی نے ان کو انگریز کی عدالتوں میں پیش ہونے کے لئے نہیں بلکہ ایک جلیل القدر مقصد کے لیے چن لیا تھا، لہذا میاں صاحب اپنے اندر ایک عجیب سی بے چینی و کشمکش اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ محسوس کرنے لگے۔

ایک طرف اپنے وقت کے نامور خطیب امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری سے بچپن ہی سے ان کی محبت و عقیدت تھی تو دوسری طرف وہ سید ابوالاعلی مودودی کی تحریروں کے بھی گرویدہ ہوتے چلے گئے۔ ذہن میں بار بار یہ سوال ابھرتا کہ آخر وہ کس سید کی راہ پر چلیں، سید عطا اللہ شاہ بخاری یا سید ابوالاعلی مودودی۔ بالآخر ایک دن جب سید عطا اللہ شاہ بخاری ایک جلسہ سے خطاب کے بعد اپنے حجرہ میں جانے لگے تو نوجوان طفیل محمد بھی ان کے پیچھے ہو لیا، اپنا مسئلہ بیان کیا تو امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری یوں گویا ہوئے کہ وکیل صاحب، خدا لگتی پوچھتے ہو تو کرنے کا اصل کام تو وہی ہے جو سید کا وہ لاہوری لعل سید ابو الاعلیٰ مودودی کہتا ہے۔

اسی سید کے پاس چلے جاؤ اور اس کے ساتھ مل کر کام کرو، یوں نوجوان قانون دان کو یکسوئی حاصل ہوئی اور وہ جماعت اسلامی کے تاسیسی اجلاس میں دوسرے 75 افراد کے ہمراہ شریک ہوا۔ وہاں کی صورتحال بھی خاصی دلچسپ رہی، کیوں کہ طفیل محمد کے اندر کی دنیا تو بدل چکی تھی لیکن ظاہری شکل و صورت سے وہ سرتاپا انگریز ہی نظر آتے تھے۔ کلین شیو، پینٹ کوٹ ٹائی میں ملبوس، سر پر انگریزی ہیٹ اور پاؤں میں تسموں والے بڑھیا شوز، تاسیسی اجلاس میں شریک شرعی شکل و صورت والے چند افراد کو وہ بالکل ہی نہ بھائے اور ان کے ماتھے پر شکنیں دیکھی گئیں۔

جب اپنے آپ کو جماعت اسلامی کی رکنیت کے لیے پیش کرنے کا مرحلہ آیا تو تین چار لوگوں کے بعد میاں صاحب نے بھی اپنے آپ کو جماعت کی رکنیت کے لئے پیش کر دیا تو انہیں لوگوں نے ان کی انگریزی وضع قطع کے باعث انہیں جماعت کی رکنیت کے لیے نا اہل قرار دلوانے کی کوششیں بھی کیں، لیکن سید مودودی کی دور رس نگاہیں کچھ اور ہی دیکھ رہی تھیں، لہذا میاں صاحب کو اپنی انگریزی شکل و صورت کو شرعی بنانے کے لیے، ان کی اپنی خواہش پر چھ ماہ کا وقت دے کر رکن بنا لیا گیا۔

میاں صاحب چھ ماہ بعد اس امتحان میں کامیاب و کامران ٹھہرے۔ اس وقت کسے معلوم تھا کہ آج جسے جماعت کا رکن بنانے میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے وہی آئندہ چل کر جماعت اسلامی کا آہنی تنظیمی ڈھانچہ استوار کرنے میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔ اگرچہ میاں صاحب نے سید مودودی کے افکار و خیالات اور سوچ کے تابع رہ کر ہی جماعت کے داخلی اداروں، عاملہ اور شوریٰ کو منظم کیا، لیکن یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اگر جماعت کو میاں صاحب جیسا اعلی پائے کا منتظم اور بے مثال مدبر میسر نہ آتا تو جماعت کا تنظیمی ڈھانچہ اس طرح کا ناقابل شکست کبھی نہ بن پاتا کہ بڑے بڑے نامور لوگوں کے جماعت سے نکل جانے کے باوجود جماعت کا تنظیمی سٹرکچر لڑکھڑایا تک نہیں۔

میاں طفیل محمد ایک طویل عرصہ تک سید مودودی کے ساتھ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل رہے، بعد ازاں جب سید صاحب نے خرابی صحت کی بنا پر جماعت کی امارت کا بوجھ اٹھانے سے معذوری ظاہر کی تو ارکان جماعت نے پانچ سال کے لیے میاں صاحب کو جماعت کا امیر منتخب کر لیا، سید مودودی کی زندگی میں ان کی مسند پر بیٹھنا اور اس کا حق ادا کر دینا، بلا شبہ میاں صاحب کی اعلیٰ تنظیمی صلاحیتوں کا ثبوت اور ان کی خداداد فہم و فراست کا عظیم مظاہرہ ہے۔

میاں صاحب نے اپنی سیاسی زندگی میں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، بھٹو کے آمرانہ دور میں تو جیل میں انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا، لیکن اپنے وقت کا یہ انتہائی جرآت مند قائد چٹان کی طرح اپنے موقف پر پوری استقامت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا رہا۔ اور حکومتی ہتھکنڈوں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔ دو تین بار انہیں ریاست کا باغی قرار دے کر ان پر بغاوت کے مقدمات بھی بنائے گئے، لیکن وہ جرات و بہادری کا ایک ایسا کوہ گراں ثابت ہوئے جس سے ٹکرا کر باطل قوتیں پاش پاش ہوتی چلی گئیں۔

لاہور میں جماعت اسلامی کے سالانہ اجتماع پر جب سرکاری غنڈوں نے حملہ کیا، جس میں جماعت کے ایک کارکن اللہ بخش نے جام شہادت بھی نوش کیا، تو گولیوں کی اس بوچھاڑ میں جماعت کے کارکنان نے چیخ چیخ کر مولانا مودودی کو کہا کہ مولانا بیٹھ جائیں، مولانا بیٹھ جائیں، اس موقع پر سید مودودی کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن گئے، انہوں نے فرمایا کہ اگر آج میں بیٹھ گیا تو پھر کھڑا کون رہے گا، آزمائش کے اس مرحلے پر میاں طفیل محمد نے سید کے شانہ بشانہ جرآت و دلیری کی وہ لازوال داستان رقم کی جو جماعت کی قیادت کی رہنمائی کے لئے ایک مینارا نور ہے، اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ موجودہ امیر جماعت جناب سراج الحق صاحب نے اپنے اوپر ہونے والے حالیہ خودکش حملہ میں سید مودودی کی اسی جرآت مندانہ روایت کو زندہ رکھا ہے۔

1970 کے الیکشن میں میاں صاحب نے مغربی اور مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی کی شاندار انتخابی مہم کو بہت احسن طریقے سے منظم کیا، جس میں سید مودودی کی اپیل پر ملک بھر میں منائے گئے یوم شوکت اسلام کے میلوں طویل جلوسوں نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ پیپلز پارٹی نے ایک صوبائی جماعت ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے مشرقی پاکستان میں ایک بھی امیدوار کھڑا نہ کیا اور صرف مغربی پاکستان میں ان کے امیدواروں نے الیکشن لڑا، جب کہ جماعت اسلامی ملک کی وہ واحد جماعت تھی، جس کے امیدوار مشرقی اور مغربی پاکستان کی تمام نشستوں پر انتخابات میں حصہ لے رہے تھے، میاں صاحب عالم اسلام کے کئی مقتدر اداروں اور تنظیموں کے رکن ہونے کے باعث عالمی سطح پر بھی اپنی ایک نمایاں شناخت رکھتے تھے، اس لئے پیپلز پارٹی نے لاہور میں ان کے حلقہ انتخاب کو خصوصی ٹارگٹ کیا، ویسے بھی میاں صاحب جماعت کی انتخابی مہم کے سلسلے میں مشرقی اور مغربی پاکستان میں مصروف عمل ہونے کے باعث اپنے حلقہ انتخاب کو زیادہ وقت نہ دے پائے اور پیپلز پارٹی کے بابائے سوشلزم شیخ رشید کے مقابلے پر بہت ہی معمولی مارجن سے ہار گئے، جس پر لاہور میں ایک جلسہ عام میں عوامی شاعر حبیب جالب نے لاہوریوں پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا کہ انہوں نے میاں طفیل محمد جیسے ہیرے کو ہروا دیا۔

میاں صاحب نے خود بھی ایک انٹرویو میں فرمایا کہ ہم قوم کی ضرورت ہیں، اگر قوم اپنے مسائل سے چھٹکارا چاہتی ہے تو اس کا حل صرف جماعت اسلامی ہے۔ پیپلز پارٹی کا صرف مغربی پاکستان میں امیدوار کھڑے کرنا اور پھر شیخ مجیب الرحمن کی اپنے سے دگنی نشستوں کی واضح اکثریت کو تسلیم نہ کرنا، فوجی جرنیلوں کے ساتھ مل کر سازشوں کا جال بچھا کر شیخ مجیب الرحمن کو اقتدار منتقل نہ ہونے دینا، بعد ازاں ملک کے دو ٹکڑے کروا دینے کا باعث بنا، مجھے چونکہ اخبار بینی کا بچپن سے ہی شوق رہا ہے، لہذا میاں طفیل محمد سے غائبانہ تعارف تو سکول کے زمانے سے ہی ہو چکا تھا، لیکن انہیں پہلی بار دیکھنے اور سننے کا موقع مجھے بھٹو دور میں اس وقت حاصل ہوا، جب میں سالانہ بین الکلیاتی تقریبات میں اپنے کالج کی نمائندگی کے لیے گورنمنٹ کالج ساہیوال میں مقیم تھا، ایک روز پتہ چلا کہ آج شام میاں طفیل محمد یہاں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کریں گے، مجھے چونکہ بڑے سیاسی و مذہبی قائدین کو دیکھنے سننے کا ہمیشہ سے اشتیاق رہا ہے، کہ ان سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے، جب کہ ان پڑھ اور سادہ مقررین کی باتوں سے بھی میں بہت لطف اندوز ہوتا ہوں، لہذا میاں صاحب جیسے بڑے رہنما کے انتظار میں مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ پہلے ہی میں جلسہ گاہ میں سٹیج کے عین سامنے موجود تھا۔

ابھی وسیع و عریض جلسہ گاہ تقریباً آدھی خالی تھی، جو کہ دیکھتے ہی دیکھتے عوام سے کھچا کھچ بھر گئی۔ جماعت مقامی رہنما اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے کہ اچانک ایک دراز قد، انتہائی باوقار بزرگ، سیاہ شیروانی میں ملبوس، سٹیج پر نمودار ہوئے، جنہیں دیکھتے ہی پوری جلسہ گاہ ہمارا قائد تمہارا قائد، میاں طفیل میاں طفیل اور انقلاب انقلاب اسلامی انقلاب کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی، ہزاروں لوگوں نے کھڑے ہو کر، دیر تک تالیاں بجا کر اپنے وقت کے عظیم دلیر قائد کا استقبال کیا۔

وقت کی کمی کے پیش نظر کسی تاخیر کے بغیر میاں صاحب کو دعوت خطاب دے دی گئی۔ میاں صاحب جیسے ہی مائیک پر تشریف لائے، ایک بار پھر عوام کے جم غفیر نے بھر پور نعروں سے ان کی پذیرائی کی، لیکن جیسے جیسے میاں صاحب بولتے چلے گئے، سچی بات یہ ہے کہ مجھے ان کے انداز تقریر سے مایوسی سی ہونے لگی، کیوں کہ ان کے لب و لہجہ میں مقرروں اور خطیبوں والی کوئی بات ہی نہیں تھی۔ وہ خالص دیسی انداز میں انتہائی سادہ الفاظ کے ساتھ عوام سے مخاطب تھے۔

لیکن ایک بات میرے لئے بہت حیران کن تھی کہ اتنی سادگی سے کی جانے والی تقریر بلکہ گفتگو سننے کے لیے، لوگوں کا ایک سمندر ایسے ہمہ تن گوش تھا کہ جلسہ گاہ میں پن گرنے کی آواز بھی صاف محسوس کی جا سکتی تھی، سوائے ان لمحات کے، کہ جب عوام جذبات سے مغلوب ہو کر ہمارا قائد تمہارا قائد، میاں طفیل میاں طفیل کے فلک شگاف نعرے بلند کر رہے ہوتے۔ تب مجھے بھی میاں صاحب کی تقریر بڑے بڑے پیشہ ور مقررین اور خطیبوں سے زیادہ اچھی لگنے لگی، کہ ان کی سادہ اور عام فہم انداز میں کی جانے والی باتیں لوگوں کے دلوں پر دستک دے رہی تھیں۔

وزیراعظم بھٹو کو اپنی مقبولیت کا اس قدر یقین تھا، کہ اس نے اپنے اقتدار کی مدت پوری ہونے سے قبل ہی 1977 کے عام انتخابات کا اعلان کر دیا، دیکھتے ہی دیکھتے تمام اپوزیشن جماعتیں پاکستان قومی اتحاد کے پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو گئیں، بھٹو کی مقبولیت کے غبارے سے ہوا نکل گئی اور بھٹو کو لاڑکانہ کی اپنی ذاتی نشست جیتنے کے بھی لالے پڑ گئے، لہذا اس نے اپنے مقابلے پر الیکشن لڑنے والے قومی اتحاد کے نامزد امیدوار جماعت اسلامی کے نائب امیر مولانا جان محمد عباسی کو اغوا کروا دیا تاکہ وہ ان کے مقابلے میں اپنے کاغذات نامزدگی ہی داخل نہ کر پائیں، اور ان کو اس وقت رہا کیا گیا جب کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا وقت گزر گیا، یوں بھٹو صاحب بلا مقابلہ الیکشن جیت گئے اور ان کی پیروی میں پیپلز پارٹی کے وزرائے اعلی نے بھی ایسے ہی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر کے اپنے آپ کو بلامقابلہ منتخب کروا لیا۔

بھٹو اور ان کے وزرائے اعلی کی طرف سے اس ذاتی انتخابی دھاندلی کو مثال بناتے ہوئے پیپلز پارٹی نے حکومت کے بل بوتے پر ہر حلقہ انتخاب میں بھرپور دھاندلی کے ریکارڈ قائم کر دیے، پاکستان قومی اتحاد نے قومی اسمبلی کے ان جھرلو انتخابات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے دو دن بعد ہونے والے صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا، جس پر اس دن پولنگ اسٹیشنوں پر الو بولتے دیکھے گئے۔ اس دھاندلی زدہ الیکشن کے خلاف عوام نے زبردست احتجاجی تحریک چلائی، جس کے نتیجے میں بھٹو کا اقتدار ختم ہوا اور بلا آخر نواب محمد احمد خان قتل کیس میں اسے پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

بھٹو کے خلاف انتخابی دھاندلیوں کے خلاف چلنے والی یہ تحریک بعد ازاں تحریک نظام مصطفیٰ شکل اختیار کر گئی۔ پاکستان قومی اتحاد نے ملک بھر میں بڑے بڑے جلسے منعقد کیے ، جس سے دیگر قائدین کے علاوہ میاں طفیل محمد بھی اپنے مخصوص انداز میں خطاب کرتے۔ کمالیہ میں منعقد ہونے والے پاکستان قومی اتحاد کے کئی جلسوں میں مجھے بھی بطور سٹیج سیکرٹری فرائض سر انجام دینے کا اعزاز حاصل ہوا، میں نے میاں صاحب کو ہمیشہ اپنے وقت کے سیاسی و مذہبی رہنماؤں سے منفرد و ممتاز پایا۔

انہوں نے جو بات بھی کی، ہمیشہ دو ٹوک انداز میں، کسی لگی لپٹی کے بغیر کی، اگر کبھی ان کی کسی بات کو حکمرانوں نے عدالتوں میں چیلنج کیا، تو وہ اپنی بات پر ایک مرد مومن کی طرح ڈٹ گئے کہ اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی۔ خوش قسمتی سے ایک بار مجھے میاں صاحب محترم سے تنہائی میں ملاقات کرنے اور ان کے ساتھ کھانا کھانے کا اعزاز بھی حاصل ہوا جو کہ میں سمجھتا ہوں کہ میرے لئے انتہائی سعادت و برکت کے لمحات تھے، جن پر مجھے ہمیشہ فخر رہے گا۔

یہ 1990 کی بات ہے، کہ میاں نواز شریف نے بطور وزیر اعلی پنجاب مینار پاکستان گراؤنڈ میں قرارداد پاکستان کی گولڈن جوبلی پر ایک بڑے جلسہ عام کا اہتمام کیا، جلسے جلوسوں میں شمولیت کا جنون مجھے بھی مینار پاکستان گراؤنڈ لے گیا، مقررین میں کراچی کے اس دور کے بے تاج بادشاہ الطاف حسین بھی شامل تھے، جو شاید اس وقت میاں نواز شریف کے اتحادی تھے، یہ ایک بڑا جلسہ تھا، جس میں میاں نواز شریف کے لیے عوام کی محبت دیدنی تھی۔

یہاں سے فارغ ہو کر پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس میں اپنے سابقہ ہوسٹل میں رات گزاری۔ اگلے روز واپسی سے پہلے عالمی اسلامی تحریکوں کے مرکز جماعت اسلامی پاکستان کے ہیڈ کوارٹر منصورہ کا چکر لگا لینے کا خیال پیدا ہوا کہ میرے زمانہ طالب علمی کے ایک عزیز دوست ان دنوں منصورہ میں قیام پذیر تھے، اس وقت میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ آج مجھے عالم اسلام کے جلیل القدر مدبر رہنما کے ساتھ کھانا کھانے کی سعادت حاصل ہونے والی ہے۔

جب میں منصورہ پہنچا تو میری نظر تقریباً ایک فرلانگ کے فاصلے پر کسی جانی پہچانی شخصیت پر پڑی۔ قریب پہنچا تو مجھے پہچاننے میں ذرا دیر نہ لگی کہ یہ محترم میاں طفیل محمد صاحب ہیں۔ میں نے فوراً آگے بڑھ کر سلام عقیدت پیش کیا، انہوں نے نہایت شفقت و محبت سے جواب دیا اور خود ہاتھ آگے بڑھا کر مصافحہ فرمایا۔ پوچھا کہاں سے آئے ہو، میں نے بتایا کہ کمالیہ سے تعلق ہے، یہاں قرارداد پاکستان کے گولڈن جوبلی جلسہ میں شرکت کے لیے آیا تھا، یہ میری خوش نصیبی ہے کہ آپ سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہو گیا، براہ کرم میرے لئے دعا فرمائیے کہ اللہ تعالی زندگی میں مزید آسانیاں پیدا فرمائے۔

اس پر میاں صاحب محترم نے مجھے خصوصی دعاؤں سے نوازا، اور آج مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ میں نے اپنے وقت کے اس جلیل القدر ولی اللہ کے دعائیہ الفاظ کی تاثیر زندگی میں بارہا محسوس کی ہے۔ میاں صاحب دراصل اذان کے انتظار میں گراؤنڈ میں چہل قدمی فرما رہے تھے، جیسے ہی منصورہ کی جامع مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوئی، میاں صاحب نے مجھے ساتھ آنے کا اشارہ کیا، میں میاں صاحب کے ساتھ مسجد میں داخل ہو گیا۔

لیکن دانستہ طور پر میاں صاحب کے برابر کھڑے ہو کر نماز ادا نہ کی اور ان سے پچھلی صف میں کھڑا ہو گیا۔ ادائیگی نماز کے بعد میاں صاحب نے دونوں طرف دیکھا، پھر پیچھے مڑ کر دیکھا اور مجھے ساتھ آنے کا ایک بار پھر اشارہ دیا۔ مسجد سے باہر نکل کر میں نے نہایت عزت و احترام سے اجازت چاہی، لیکن میاں صاحب کے الفاظ نے مجھے انتہائی خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا اور مجھے کئی صحابی رسول یاد آئے کہ کھانے کے وقت کسی مہمان کی تلاش میں رہتے تھے، میاں صاحب نے فرمایا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے، آپ ہمارے مہمان ہیں، گھر میں کھانا تیار ہو گا، کھا کر جائیے گا۔

میں نے بھی ان لمحات کو عطیہ خداوندی جانا اور میاں صاحب کے ساتھ ان کے سادہ سے ڈرائنگ روم میں دعوت شیراز کا لطف اٹھایا۔ کھانے کے ساتھ ساتھ میاں صاحب سے ملکی تاریخ و سیاست کے حوالے سے کچھ گفتگو کی جسارت بھی کرتا رہا، جو کہ ایک الگ موضوع ہے اور میاں صاحب محترم کمال شفقت سے اس طالب علم کو جوابات بھی عنایت فرماتے رہے۔ پھر یہ سوچتے ہوئے کہ میاں صاحب کا وقت بہت قیمتی ہے، اجازت چاہی تو ان کی عظمت کا ایک اور گوشہ بے نقاب ہوا کہ وہ عظیم شخصیت اور جرآت مند قائد جس سے ظالم و جابر حکمران اور آمریت کا لبادہ اوڑھے فرعون ہمیشہ خائف رہے، جس کی ایک للکار سے اقتدار کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو جایا کرتا تھا، مجھ اجنبی شخص کو الوداع کہنے کے لئے دروازے تک تشریف لائے، خود دروازہ کھولا اور ایک بار پھر دعائیہ کلمات سے نواز کر انتہائی محبت و شفقت سے رخصت فرمایا، میری زبان سے بے اختیار نکلا۔

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن۔ گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان۔ اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہیں ہے کہ وہ ہمارے زمانے میں رہے، لیکن وہ ہمارے زمانے کے نہیں تھے، انہوں نے اسی دنیا حرص و ہوس میں عمر عزیز کے 96 سال بسر کیے لیکن وہ اس دنیا کے لگتے نہ تھے، وہ تاریخ کی کتابوں سے نکل کر آئے تھے اور ایک عظیم الشان تاریخ بنا کر، پھر تاریخ کی کتابوں کا حصہ بن گئے۔ کینیا کے ایک عظیم مذہبی رہنما اور عالم دین شیخ عزیز الدین مرحوم جو کہ وہاں کی ایک بڑی جامع مسجد کے اعزازی خطیب بھی تھے اور انہیں دنیا بھر میں بہت عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا، فرماتے ہیں کہ مجھے عالم عرب و عجم کی بڑی بڑی شخصیات کو دیکھنے اور ان سے تفصیلی ملاقات کا شرف حاصل ہے، لیکن جو نور ایمان میں نے پاکستان سے آئے ہوئے شیخ طفیل محمد کی شخصیت میں دیکھا، وہ بے مثال ہے۔

میاں طفیل محمد کی امانت و دیانت، صداقت و اخلاص، علم و حکمت، تدبر و فراست، استقامت و نظامت، جرآت و دلیری کو اگر صرف ایک فقرے میں بیان کرنا مقصود ہو تو شاید اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے کہ جماعت اسلامی کے ارکان نے عالم اسلام کے بطل جلیل، صاحب تفہیم القرآن، امام المسلمون، سید ابوالاعلی مودودی کی زندگی میں ہی انہیں ان کا اولین جانشین منتخب کیا۔ خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔

رابطہ۔ میاں اشرف کمالوی۔ آفس نمبر 28 بھٹی مارکیٹ فیکٹری ایریا فیصل آباد۔ 7944699۔ 0300

Facebook Comments HS