واٹ نیکسٹ


بھلے لوگو، یہ کسی اور قبیل کے فرد ہوتے ہیں۔ اس لیے ادنیٰ پرجاتیوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ ان کے کسی عمل پر رائے دیں، ان کی کامیابیوں پر شادیانے بجائیں یا پھر ان کی مرگ ناگہانی پر آنسو بہائیں۔ یہ منفرد لوگ اپنی مرضی سے جیتے ہیں، ان کی زندگی میں کئی بار موت ان کی آنکھوں تلے پھرتی ہے اور پھر یہ اچانک کسی دن ہنستے کھیلتے اپنے چاہنے والوں کو خدا حافظ کہ دیتے ہیں۔ ہم جو مرضی کہتے پھریں، ایسے سر پھرے اپنی حیاتی میں بھلا کہاں کسی عامی کی سنتے ہیں کہ جینے سے توبہ کر لیں؟

مجھے یہاں ایمانوئل کانٹ یاد آ گیا ہے۔ کانٹ دورِ حاضر کا وہ فلسفی ہے جس نے دنیا کی حالت بدل دی۔ آج یورپ اور ترقی یافتہ ممالک میں پایا جانے والا شخصی آزادی کا تصور اسی جرمن فلاسفر کا مرہونِ منت ہے۔ کانٹ کا کہنا ہے کہ ہر انسان اپنی زندگی کا خود مالک ہے۔ وہ آزاد ہے۔ اور انسان اتنا آزاد ہے کہ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص خود کشی بھی کرنا چاہے تو کسی دوسرے انسان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اسے روکے۔

لہذا جو لوگ آزادی پر یقین رکھتے ہیں وہ عام لوگوں کی طرح ہر وقت عقل کی بات نہیں کرتے۔ یہ جسے ادنیٰ لوگ اچھا، برا۔ غلط، صحیح۔ عقل مندی، بے وقوفی سمجھتے ہیں ان کی لغت میں ایسے کوئی الفاظ نہیں ہوتے۔ وہ تو کسی حد تک چینی مذہب ”تاؤ“ کے پیروکار ہوتے ہیں جن کا ایمان ہے کہ دنیا میں بگاڑ کا سبب اچھے، برے، غلط، صحیح، خوب صورت، بدصورت، نیک، بد جیسے اسمِ صفت ہیں، جو انسان کو ایسے قید کرتے ہیں کہ وہ اپنی پرواز بھول جاتا ہے۔

آج بنی نوع انسان کی معراج بھی ایسے لوگوں کے ہی سبب ہے جنہوں نے زندگی کا اصل مزا لیا۔ جنہوں نے اس حقیقت کو پا لیا کہ انسان کا دنیا میں آنے کا مقصد صرف کھانا پینا، سونا اور آبادی بڑھانا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مقصد کسی ان دیکھے لمحے کی جستجو ہے۔

یہ لوگ کبھی رائٹ برادران کی طرح اڑنے کے خواب کی تکمیل کی خاطر اپنی ہڈیاں تڑواتے ہیں تاکہ ان کے بعد آنے والے لوگ جہاز پر سفر کرسکیں اور کبھی یہ لوگ جانے کیسے بحر اوقیانوس عبور کر کے آسٹریلیا پہنچ کر انسانی زندگی کی ابتدا کرتے ہیں۔ ایسے سر پھرے کبھی خلا میں قدم رکھتے ہیں تو کبھی سمندر کی تہ سے موتی نکال لاتے ہیں۔ یہ منفرد روحیں اگر ریل کا پہیہ چلا کر انسان کی تقدیر بدلتی ہیں تو کبھی یہ دل کی بند شریانیں کھولنے جیسے ان ہونے کام سر انجام دیتی ہیں۔

ایسے تمام لوگ ہمارے ارد گرد بھی موجود ہوتے ہیں۔

وہ ڈاکٹر جو کووڈ اور اس جیسی دوسری موذی، متعدی اور جان لیوا بیماریوں میں مبتلا لوگوں کا خوشی خوشی علاج کرتا ہے، وہ پولیس کا جوان جو جان ہتھیلی پر رکھ کر کچے کے علاقے میں گھس جاتا ہے، کسٹم کو وہ اہلکار جو اسمگلروں کا پیچھا کرتا ہے۔ وہ سپاہی جو دشمن کے ٹینک کے سامنے اطمینان سے لیٹ گیا، وہ بہن جس نے اپنا گردہ اپنے بھائی پر دان دیا، وہ ایدھی، وہ راشد منہاس وہ سد پارہ۔ یہ سب عام انسان نہیں ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کے لیے صدیوں پہلے سن زو اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف ”آرٹ آف وار“ میں کہہ گیا تھا، ”زندگی کا مزا اسے ملتا ہے جو زندگی کو ہر وقت میدانِ جنگ میں گزارتا ہے“ ۔ کیوں کہ سکون تو موت کا دوسرا نام ہے۔

تو پھر ہم عامیوں نے بھلا یہ کیسے فیصلہ کر لیا کہ کشتی پر سمندر پار کرنے والے بے وقوف تھے۔ وہ پچیس لاکھ اور اپنی جان ضائع کرنے کے بجائے یہیں کوئی چھوٹا موٹا کام کر لیتے۔ اپنے ملک میں ہی روکھی سوکھی کھا لیتے۔ غلط، صحیح، قانونی، غیر قانونی کو اگر تھوڑی دیر کے لیے ہم علیحدہ رکھیں تو وہ نوجوان جو کم علمی، لالچ، حرص اور دوسروں سے حسد کے بجائے صرف اس لیے رسک لے گئے کہ کچھ بڑا کر سکیں، ان کے اس عمل پر اپنی رائے کا اظہار کرنا کیا ہمارے جیسے عام خوفزدہ انسانوں کو اچھا لگتا ہے؟

کیا ایسے جعلی زندوں کو جو صرف سانس لیتے ہیں اور حقیقت میں جانے کتنے ہی سال پہلے مر چکے ہیں ان کا ایسے بہادر لوگوں کی موت پر آنسو بہانا بنتا ہے؟ چلیں چھوڑیں، وہ باپ بیٹا جو ہنستے کھیلتے سمندر کی لہروں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گم ہو گئے۔ وہ کامیاب انسان جو اپنا پیسہ آگہی اور شعور پر خرچ کر رہا تھا کیا اس کی مہم جوئی پر وہ شخص رائے زنی کر سکتا ہے جس نے اپنی جمع پونجی ضائع ہونے کے خوف سے مرکز قومی بچت میں رکھی ہوئی ہے؟ یا پھر ”ٹائٹن“ کی ساخت پر وہ شخص تبصرہ کر سکتا ہے جو اپنی نئی موٹر سائیکل کی ٹینکی پر اس لیے کپڑا چڑھا لیتا ہے کہ اس پر خراش نہ لگ جائے؟ نہیں بالکل بھی نہیں۔

اس سے پہلے کہ یہ سنجیدہ تحریر مزاحیہ ہو جائے، صرف یہی حاصل کلام ہے کہ ہم جیسے چوہے دل انسانوں کو ایسے ارفع لوگوں کو اپنی گفتگو کا موضوع بنانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ہمیں ان کی موت پر آنسو بھی نہیں بہانے چاہئیں۔ ان بہادر لوگوں نے ہنستے ہنستے موت کو گلے لگا لیا اس لیے ہمیں بھی ان کی کوشش پر مسکرا دینا چاہیے۔ ہمیں ان سب کو نہ ہی اچھا کہنا چاہیے اور نہ ہی بے وقوف۔ ہمیں صرف یہ جان لینا چاہیے کہ ہمارا رائے دینا بنتا نہیں کیوں کہ یہ سب ہم جیسے نہیں تھے۔ یہ انسان کی کوئی اور قسم تھے۔ یہ اپنی ان مہمات میں کامیاب ہو بھی جاتے، یورپ پہنچ جاتے یا سمندر کی تہ سے خشکی پر آ جاتے، انہوں نے اپنی اس مہم کی تکمیل کے فوراً بعد اپنے آپ سے اگلا سوال کرنا تھا what next؟

Facebook Comments HS