جرمنی میں تارکین وطن کے لئے ”پوائنٹ سسٹم“ پر مبنی نئے قانون کی منظوری
جرمن کی پارلیمان نے گزشتہ جمعہ 23 جون کو کثرت رائے سے ایک نئے قانون کی منظوری دی ہے جس کے مطابق موجودہ قوانین میں اصلاحات کرتے ہوئے مجوزہ نئے قانون میں اب کینیڈا کی طرز کا پوائنٹس سسٹم متعارف کرایا جائے گا جس کی بنیاد عمر، تعلیمی یا ٹیکنیکل مہارت اور جرمنی سے تعلق کی بنیاد پر ہو گی۔ اس کے علاوہ مجوزہ نئے قانون میں تعلیمی قابلیت اور جرمن زبان کی مہارت میں بھی نرمی کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ ان اصلاحات کی بدولت اب لاکھوں تارکین وطن قانونی طریقے سے جرمنی میں داخل ہو سکیں گے۔ اس حوالے سے مزید معلومات اگلے دنوں میں دستیاب ہو سکیں گی۔
جمعہ کے دن ہونی والی ووٹنگ میں اس قانون کی حمایت میں 388 ووٹ پڑے جبکہ مخالفت میں ڈالے گئے ووٹ کی تعداد 234 تھی اور اکتیس ممبرز پارلیمان نے ووٹ نہیں ڈالا۔ جرمن کے ذرائع ابلاغ اور دیگر عالمی نشریاتی اداروں کے مطابق ان نئی اصلاحات سے جہاں غیر ملکی تارکین وطن کی بہت بڑی تعداد کے جرمنی پہنچنے کے دروازے کھل جائیں گے وہیں جرمن صنعتی اور اقتصادی صنعتوں کو بھی استحکام ملے گا جو گزشتہ کئی سالوں سے افرادی قوت کی شدید ترین کمی کا سامنا کیے ہوئے ہیں اور اس وقت جرمنی بھر میں دو ملین اسامیاں خالی موجود ہیں۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس قانون کے تحت وہی تارکین وطن جرمنی پہنچ سکیں گے جن کا تعلق یورپین یونین سے باہر کے ممالک سے ہو گا۔ خبروں میں مزید بتایا گیا ہے کہ منظور شدہ قانون کے تحت ہونے والی دیگر اصلاحات میں سرکاری دفاتر اور دفتری امور میں حائل رکاوٹوں کو کم سے کم کیا جانا بھی شامل ہے تاکہ ہنر مند افراد کی جرمنی میں آمد میں تیزی آ سکے۔ قانون منظور ہونے کے بعد برسراقتدار جماعت سے تعلق رکھنے والی وفاقی وزیر داخلہ نینسی فیزر نے کہا کہ ”یہ تارک وطن قانون کارکنوں کی آمد سے متعلق دنیا کا جدید ترین قانون ہے“ ۔
اسی طرح اقتدار میں شامل تینوں جماعتوں نے بھی پارلیمان میں مجوزہ قانون کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ اس قانون کے نافذالعمل ہوتے ہی ایسے غیر یورپین ہنر مند اور تعلیم یافتہ افراد کے لئے جرمنی پہنچنے کی راہیں بہت آسان ہو جائیں گی جو جرمنی معاشرے کا بہت جلد حصہ بن جانے کی اہلیت رکھتے ہوں گے۔ منظور ہونے والے اس نئے قانون کے مطابق ہر سال تقریباً ایک لاکھ تیس ہزار ہنرمند تارکین وطن جرمنی میں داخل ہو سکیں گے جب کہ اس وقت جرمنی کی معیشت کے 200 پیشوں میں ہنرمند افراد کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔
اس قانون کے نافذ العمل ہونے کے بعد سالانہ ایک لاکھ تیس ہزار ہنر مند تارکین وطن جرمنی میں روزگار اور رہائش رکھنے کے اہل ہو سکیں گے۔ عاجز نے گزشتہ تحریروں میں متعدد بار اس امر کا تذکرہ کیا تھا کہ دنیا ایک بڑی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے اور پرانے بوسیدہ نظریات اب زمین بوس ہو رہے ہیں اور ان کی جگہ دور حاضر کے تقاضوں اور ضروریات نے لے لی ہے۔ مغرب کی طرح مشرق میں بسنے والوں کو طرز سیاست اور حکمرانی تبدیل کرنا ہو گی اور قانون طریقوں سے یورپ پہنچنے کے طریقوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی ورنہ سانحہ کشتی یونان رونما ہوتے رہیں گے جس میں جان بحق ہونے والوں کی تعداد سرکاری طور پر 350 بتائی گئی ہے۔ اسلامی ممالک میں تبدیلیوں کے حوالے سے
سب سے بہترین مثال سعودی عرب کی دی جا سکتی ہے جو ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کے وژن 2030 کی روشنی میں برق رفتاری سے تبدیلیوں کے دور سے گزر رہا ہے۔ سعود عرب میں مذہب اب ریاستی ترجیحات میں بتدریج نیچے ہوتا جا رہا ہے۔ کچھ ایسا ہی مغربی اقوام کے اندر بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ وہاں قوانین میں تیزی سے تبدیلیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مہذب اقوام کے لچکدار دنیاوی قوانین کی یہ بہترین خوبی ہوتی ہے کہ وہ انسانی اور ملکی مفاد میں حسب ضرورت تبدیلیاں کر کے درپیش مسائل سے نجات حاصل کرلیتے ہیں۔
کبھی جرمنی ایک ایسا معاشرہ تھا جہاں کسی غیر ملکی کی آمد اور طویل قیام کو معیوب سمجھا جاتا ہے تاہم بدلتے وقت کے تقاضوں کی روشنی میں اب جرمن قوانین تبدیل ہو رہے ہیں تاکہ جرمن معیشت کو نہ صرف برقرار رکھ کر اس کو مزید ترقی دی جا سکے بلکہ مستقبل کو بھی محفوظ کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ماجی میں بھی غیر ملکی افراد کو نہ صرف مسلسل جرمن معاشرے کا حصہ بنایا جاتا رہا ہے بلکہ ان کو مختلف سہولیات بھی دی جاتی رہی ہیں۔ اس حوالے سے سابق جرمن چانسلر انجیلا مرکل کی پالیسیوں کا بہت عمل دخل ہے جنہوں نے حقیقی معنوں میں تارکین وطن کو نہ صرف جرمنی میں کھلے دل سے خوش آمدید کہا تھا بلکہ سیاسی اور عوامی مخالفت کے باوجود تارکین وطن کی آباد کاری کے لئے عملی طور پر بہت مضبوط اقدامات کیے تھے۔


