موسمیاتی تبدیلی کے اسباب اور فرد کا کردار

ہر اک شخص کسی نہ کسی طرح موسم کی شدت پر بات ضرور کرنے لگا ہے۔ اب چاہے یہی بات موسموں کی شدت کے حوالے سے ہو یا معیشت اور موسمی تبدیلی کے باہمی ربط و تعلق کی۔ کوئی قدرتی طور پر پائی جانے والی اشیا کی کمیابی یا ان کے معدوم ہونے کی بات چھیڑے یا سبزیوں اور پھلوں کے نامیاتی یا غیر نامیاتی پہلو کو زیر بحث لائے۔ موسمی تبدیلی جیسی انگلش میں کلائیمٹ چینج کہا جاتا ہے اب ہماری زندگی کو بدل رہا ہے یا یوں کہیں کہ متاثر کر رہا ہے۔ اس کا سب سے واضح مظہر موسموں کی شدت میں اضافہ اور قدرتی آفات کا تواتر سے برپا ہونا ہے۔ اور اس کے پیچھے چھپے اسباب میں صنعتی سرگرمیوں اور ان سے وابستہ ایجادات، مصنوعات اور منسلک اداروں کی ضروریات و پیداوار ہیں۔
زیادہ دور کا عرصہ نہیں مگر پچھلی دس دہائیوں یعنی گزشتہ ایک سو سال میں زندگی گزارنے کے بدلتے ہوئے انداز اور ان سے منسلک و متعلق معاملات کا جائزہ اور مطالعہ بہت سے اسباب اور وجوہات کی نشاندہی کرتا ہے۔ معاشی اور سماجی طور پر طور پر ترقی یافتہ مانے گئے ممالک اس موسمی تبدیلی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے معمار نظر آتے ہیں مگر موسمی تبدیلی کی تباہی کے شکار وہ ممالک ہیں جن کا اس معاملے میں بہت ہی کم عملی کردار ہے۔ پاکستان میں پچھلے سال ہونے والی شدید بارشیں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب اور بارش و سیلاب سے ہونے والی تباہی کا وسیع دائرہ کار اس کی واضح مثال ہے۔
جب ہم اک عام آدمی کی زندگی، اوقات کار، وسائل اور اختیار کے بارے میں بات کریں تو عمومی طور پر لاچاری کی کیفیت بیان کی جاتی اور بظاہر دکھائی دیتی ہے۔ مگر اجتماعی رویے میں اک فرد کے کردار، عادات، رسم و رواج اور ثقافت کے پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے تو اک فرد کے طور پر موسمی تبدیلی کے حوالے سے شخصی کردار کی اہمیت سمجھی اور محسوس کی جا سکتی ہے۔ بغیر تکنیکی اور فنی اصطلاحات میں الجھے ہم اک جائزہ کے طور پر بہت سی سادہ مثالوں، عادات، رویوں اور اعمال کو اک تحقیقی انداز سے سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
انسانی زندگی میں اوقات کار کا اک قدرتی نظام اور طریقہ کار پایا جاتا ہے جو ہزاروں سال سے جاری و ساری ہے مگر بظاہر ترقی کے نام پر آنے والے بدلاؤ کی زد میں انسان نے شاید کچھ ایسی غلطیوں کا ارتکاب کیا ہے جس کا نتیجہ اب اس کے سامنے ہے۔ سورج کے طلوع ہونے سے لے کر غروب ہونے کے درمیانی وقفے کی ایک تاریخی، سماجی، معاشی، سیاسی اور معاشرتی اہمیت کبھی بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی ہے۔ انسان کے رویے، کام، معمولات، عادات، صحت اور زندگی کے ہر اک شعبے پر اس کا اک گہرا اثر ہے۔
سورج کے طلوع ہونے کے بعد صبح اٹھنا اور سورج کے غروب ہونے کے بعد سو جانا اک تاریخی عمل رہا ہے جس کو انسان ہزاروں سال سے جاری رکھا ہوا تھا مگر گزشتہ ڈیڑھ سو سے دو سو سال کے عرصے میں ہونے والی بہت سی ایجادات اور ان کے غیر ضروری یا بے جا استعمال کی وجہ سے آج انسانی زندگی اس سیارے پر معدوم ہونے کے خطرے کی جانب جاتی نظر آنے لگی ہے۔
بجلی کو پیدا کرنے، قابو کرنے اور ذخیرہ کرنے کی دریافت اور اس سے منسلک ایجادات نے انسانی زندگی کو گزشتہ سو سال میں یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان تمام دریافتوں اور ایجادات کی وجہ سے آنے والے بدلاؤ نے بھی انسانی زندگی کے معیار پر گہرا اثر مرتب کیا ہے۔ اس کا اک ذیلی اثر درختوں کے کٹاؤ اور سبز قطعوں کی معدومیت سے جڑا ہوا ہے۔ طرز تعمیر کی سہولیات اور بجلی سے چلنے والی بہت سی مصنوعات موسمی تبدیلیوں کے حالیہ اثر سے براہ راست منسلک ہیں۔
اک سادہ مثال کے طور پر ائر کنڈیشنر اور فریج اور ان سے پیدا ہونے والی گرین گیسوں کے اثرات اور ان کے موسمی تبدیلیوں سے تعلق کے بارے میں صرف انٹرنیٹ پر سرچ کرنے سی بی تفصیلات جاننا کوئی مشکل عمل نہیں۔ تعمیراتی صنعت کے پھیلاؤ کا درختوں کے کٹاؤ، جنگلات اور زرعی اراضی کے خاتمے اور بہت جانوروں اور پرندوں کی انواع کی معدومیت سے تعلق اک اور واضح اور نہ جھٹلائی جانے والی مثال ہے۔
سمندروں میں تیل کی تلاش کے لیے کی جانے والی ڈرلنگ اور اس کا ماحول کی آلودگی، سمندری حیات کے خاتمے کی صورت حال سے تعلق اور اس تعلق کا ماحولیاتی چکر (ایکو سائیکل) کی ترتیب میں گڑبڑ میں کردار سادہ طور پر دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔
میری رائے میں موسمی تبدیلیوں کے نتیجے میں آنے والے مضر اثرات کے لیے اک فرد کے کردار اور عام طور پر میسر حل پر مبنی بات کی اہمیت اور اس کا وسیع پرچار بہت ہی ضروری ہے۔ اک سادہ مثال کے طور پر گزرتے وقت کے ساتھ گرمی کی بڑھتی ہوئی شدت کے لیے ایک فرد کیا کر سکتا ہے۔ اپنے گھر، اطراف، گلی یا محلے میں درخت لگا کر اور پودوں کی افزائش ایک آسان عمل اور بہت سے قابل عمل اور ضروری حلوں میں سے اک حل کے طور پر سامنے آتا ہے۔ ائر کنڈیشنر، فریج اور مائیکرو ویو اوون کا غیر ضروری استعمال اک فرد یا گھرانے کے اختیار میں ہے۔
صبح جلدی بیدار ہونا اور جلدی سونا اک اور قابل عمل حل ہے جو اک فرد کی سطح سے شروع ہو کر معاشرے کی سطح تک جاتا ہے اور موسمی تبدیلی کے حوالے سے بہت سی بہتری کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ پلاسٹک کے غیر ضروری استعمال سے گریز بھی اک فرد کی سطح پر کیا جانے والا عمل ہے جس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اگر اک فرد سیارہ زمین کے اک باشندے کے طور پر اپنی ذمہ داری کو صرف محسوس ہی کرنا شروع کردے تو اس سے اک بڑے اور بہتر بدلاؤ کی بنیاد مضبوط ہونے لگتی ہے۔

