شطرنج کی گھڑی


 ”ا۔ رے یہ کر کیا رہا ہے؟“
”مجھے تو اس کی یہ کوئی نئی چال لگتی ہے۔“
”بھلا ایسی کوئی چال بھی کسی نے اس کھیل میں چلی ہے!۔“

چھت کے عقب پر دو اشخاص کی گفتگو ہو رہی تھی۔ ان دونوں کی نظریں صحن کی میز پر پڑی شطرنج کی بساط پر تھیں۔ صحن خاصہ وسیع تھا۔ باغ تھا، جس کے اردگرد مختلف رنگوں کے پھول بکھرے تھے۔ باغ کے کونے میں شیشم کا درخت ایستادہ تھا۔ آسماں پر بادل سفید جال بچھائے، آسماں کی نیلگی کو جکڑے ہوئے تھے۔ سورج اپنی زردی سمیٹ رہا تھا۔ خامشی کا سماں تھا، ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے ہر شہ کسی خاص فیصلے کی منتظر ہو۔

شطرنج کے کھیل میں بظاہر ایک ہی کھلاڑی نظر آ رہا تھا۔ اس کے بال سیاہ کالے تھے، ماتھے پر شکنوں کے نشان نمایاں تھے۔ کرتا اور شلوار قمیض میں ملبوس یہ دبلا پتلا کھلاڑی، ہار نے کو تیا ر نہیں ہو رہا تھا۔ اس کے حریف کے سفید موہروں نے اس کے نمایاں موہرے گرا دیے تھے۔ بازی پلٹ چکی تھی۔ اس کے پیادے اپنے آخری وار کے ساتھ اس کھیل میں ڈوب چکے تھے۔ شطرنج کے اس کھیل میں لمحوں میں ہی اس نے اپنی برتری کھودی تھی۔ مرکز اس کے ہاتھ سے نکلتے ہی، اس کے دو مضبوط قلعے بھی گر چکے تھے۔ جوق در جوق اس سے غلطیاں ہوتی جا رہی تھیں۔

 ”یہ تو کھیل ہار چکا ہے“ ۔

 ”پر مجھے ایک تو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آخر یہ اپنی شکست تسلیم کیوں نہیں کر لیتا؟ اور تو اور اس شطرنج کے کھیل میں نمایاں برتری ہونے کے باوجود اس کا پراسرار حریف، اس کے محض چند موہروں کو گرا کر جیت اپنے نام کیوں نہیں کر لیتا، وقت کو مسلسل کیوں ضائع کرہاً ہے؟“

یہ سنتے ہی دوسرے شخص کی باچھیں کانوں تک کھل گئیں۔ ”یہ بھی ایک شطرنج کی حکمت عملی ہے“ ۔
”وہ کیسے؟“

 ”شاید تم بھول رہے ہو کہ کھیل ختم ہوتے ساتھ ہی شطرنج کا ایک دوسرا کھیل شروع ہوجاتا ہے، اور اس میں اصولوں کے مطابق شروع کی برتری پہلے ہارنے والے کو دی جاتی ہی“ ۔

”تو تمھارا کہنا ہے کہ کھیل کو جان بوجھ کر لٹکایا جا رہا ہے؟“
”ہاں، ایسا ہی ہے۔ یوں وقت کو مزید کھینچا جا رہا ہے۔“
”لیکن وقت کو مزید کتنا کھینچا جاسکتا ہے؟ اور شطرنج کی گھڑی کس کے ہاتھ میں ہے؟“ ۔
اس کے ساتھ ہی شطرنج کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے۔ اور باغ کا دلکش منظر غائب ہو جاتا ہے۔
دوسرے منظر کی طرف آتے ہیں۔

سال 1936 ماسکو میں شطرنج کا عالمی ٹورنامنٹ جاری تھا۔ دو اپنے وقت کے شطرنج کے بہترین کھلاڑی آمنے سامنے تھے۔ جن میں سے ایک کا نام جوزراول کا پا بلانکا تھا، جس کا تعلق کیوبا سے تھا، اور دوسرے کا نام ایمانوئل لاسکر، اس کا تعلق جرمنی سے تھا۔ دونوں مضبوط کھلاڑی تھے۔ جب کھیل طویل ہوتا رہا، اور دونوں برابر رہے تو، وقت نے ہار مان لی، اور شطرنج کا میچ ڈرا ہو گیا۔

Facebook Comments HS