تاریخ: ایک دھندلا آئینہ


تاریخ ایک حیرت انگیز مضمون ہے۔ یہ ان واقعات کا مطالعہ ہے جنہوں نے انسانی تہذیب کے ارتقاء کو تشکیل دیا۔ یہ ان افراد کا مطالعہ بھی ہے جنہوں نے مختلف دور میں نئے اور بعض اوقات انقلابی خیالات متعارف کرائے تھے۔ یہ افراد فلسفی، سائنسدان، مذہبی رہنما، فاتح، ماہر اقتصادیات اور سماجی سائنسدان تھے۔ تاریخ جنگوں، تباہی اور مصائب جیسی ہولناکیوں سے بھی بھری پڑی ہے، جن کا انسانوں کو سامنا کرنا پڑا۔

تاریخ ایک قطعی سائنس نہیں ہے۔ تاریخی ارتقاء کو واقعات کے فطری نتیجے کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ایک اکیلا واقعہ تاریخ کے قدرتی بہاؤ کو بدل سکتا ہے۔

تاہم، تاریخ کے بارے میں ایک قابل ذکر چیز یہ ہے کہ تاریخ ایک پینٹنگ کی طرح ہے۔ جب ہم کسی پینٹنگ کو بہت قریب سے دیکھتے ہیں اور ایک چھوٹے سے حصے کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بالکل غیر مربوط دکھائی دیتی ہے۔ ہر نقطہ پڑوسی نقطہ سے آزاد دکھائی دیتا ہے۔ اس قریبی مشاہدے سے وسیع تصویر کا پتہ لگانا مشکل، تقریباً ناممکن، ہوتا ہے۔ تاہم، جب اسی پینٹنگ کو دور سے دیکھا جاتا ہے، تو سب کچھ سمجھ میں آ جاتا ہے۔ اور ہم پینٹنگ کی خوبصورتی اور ہم آہنگی کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ یہاں تک کہ چھوٹے پیمانے پر کچھ خامیاں بھی بڑی تصویر میں نظر نہیں آتیں۔

تاریخ بھی ایسی ہی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ، ہم عام طور پر قدرتی ارتقاء کو نہیں دیکھ سکتے۔ لیکن ماضی میں سو یا ایک ہزار سال یا اس سے زیادہ عرصے کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک قدرتی سا بہاؤ نظر آتا ہے۔ ہر واقع ایک دوسرے سے یوں جڑا لگتا ہے جیسے ہم ان کی پیشین گوئی کر سکتے تھے بالکل اسی طرح جیسے ہم سائنس میں حال کی بنیاد پر مستقبل کا حال بتا سکتے ہیں۔ بے ترتیب واقعات ایک عقلی جواز حاصل کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر ، ہم تہذیبوں کے عروج اور زوال کو ایک فطری عمل کے طور پر دیکھتے ہیں جس کو عقلی تجزیہ کی بنیاد پر سمجھا جا سکتا ہے۔ ہم سینکڑوں اور ہزاروں سال پہلے کے واقعات کی تشریح کر سکتے ہیں۔ 16 ویں صدی میں آسٹریا کی سلطنت کے ساتھ عثمانی ترکوں کے تنازعہ کا پتہ اس عداوت سے لگایا سکتا ہے جو سینکڑوں سال قبل ہونے والی صلیبی جنگوں کے دوران عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان پیدا ہوئی تھی۔

اس نکتے کو مزید واضح کرنے کے لیے ایک مثال پیش کرتا ہوں۔

ہم غور کرتے ہیں کہ، بیسویں صدی کے آغاز میں، دنیا کا نقشہ اس سے حیرت انگیز طور پر مختلف تھا جو ہم اب دیکھتے ہیں۔ خلافت کا دور، ایک دور جو 632 عیسوی سے چلا جا رہا تھا، سلطنت عثمانیہ میں ابھی تک زندہ تھا۔ چینی اور روسی سلطنتوں پر بادشاہتیں تھیں۔ برطانوی سلطنت کا سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ تقریباً پورا افریقہ، زیادہ تر جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ استعمار کے زیر اثر تھے۔ مشرقی یورپ کے بیشتر حصوں پر محیط آسٹریا کی سلطنت یورپ کی سب سے بڑی سلطنت تھی۔

اور پھر سب تبدیل ہو گیا، نقشے بدل گئے۔
سوال یہ ہے کہ اتنی اہم تبدیلیوں کی وجہ کیا بنی؟

بظاہر، پستول کی ایک گولی۔ وہ گولی جو ایک سربیا کے باشندے، گیوریلو پرنسپ نے 28 جون، 1914 کو سرائیوو میں ایک گلی کے کونے سے چلائی تھی۔ اس گولی نے اپنے مطلوبہ ہدف کو نشانہ بنایا اور آسٹریا کے ولی عہد آرچ ڈیوک فرانز فرڈینینڈ کو ہلاک کر دیا۔

جوابی کارروائی کے طور پر ، آسٹرو ہنگری سلطنت نے 28 جولائی کو سربیا کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ یکم اگست کو روس سربیا کی جانب سے جرمنی کے خلاف حالت جنگ میں تھا۔ چند ہی دنوں میں فرانس، برطانیہ اور سلطنت عثمانیہ جنگ میں داخل ہو گئے۔ پہلی جنگ عظیم شروع ہو چکی تھی۔

قتل و غارت گری سے بھر پور جنگ 1918 تک جاری رہی۔ جب یہ جنگ روسیوں، جرمنوں اور ترکوں کی شکست پر ختم ہوئی تو سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہو گیا، کمیونسٹ انقلاب نے روس میں صدیوں سے قائم رہنے والی زار حکومت کا صفایا کر دیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بیج ورسائی معاہدے میں بوئے گئے جو کہ اگلی نصف صدی کے اندر استعمار کے لیے موت کی گھنٹی ثابت ہوئے۔

لیکن کیا 1914 کے بعد کی تاریخ کے لیے پستول کی یہ واحد گولی ذمہ دار تھی؟ خلافت کا خاتمہ، کمیونزم کا عروج، ہٹلر کی ظالمانہ حکومت، سرد جنگ، برصغیر پاک و ہند اور بیشتر افریقہ کی آزادی؟ یہ کہنا ناممکن ہے کہ اگر وہ خطرناک گولی اپنے ہدف پر نہ لگتی تو آج دنیا کیسی ہوتی۔

تاہم، مورخین ایک منطقی انداز میں سوچتے ہوئے ان تمام تاریخی واقعات کو دیکھ سکتے ہیں جن کے مطابق جنگ عظیم ناگزیر ہو گئی تھی۔ یہ واقعات انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں رونما ہوئے تھے۔ مورخین کے نزدیک 1870 کی فرانس۔ جرمن جنگ کے نتیجے میں 1894 میں فرانس۔ روسی اتحاد، 1908 میں بوسنیا اور ہرزیگووینا کا آسٹریا۔ ہنگری سلطنت کے ساتھ الحاق اور 1912۔ 13 کی بلقان جنگوں نے عالمی جنگ کو ناگزیر بنا دیا تھا۔ آرچ ڈیوک کے قتل نے صرف محرک کا کام کیا۔

تاریخی ارتقاء کا سائنسی انداز میں مطالعہ کیا جا سکتا ہے اور ماضی کے واقعات کو ایک قدرتی نتیجے کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم، سائنس کے برعکس، تاریخ کے مطالعہ میں پیشین گوئی کی طاقت بہت کم ہے۔ ہم کبھی اندازہ نہیں لگا سکتے کہ اب سے سو یا ایک ہزار سال بعد دنیا کی شکل کیا ہو گی۔

تاہم تاریخ ایک عینک کی مانند ہے۔ جس طرح ایک ہی عینک سے دو مختلف نظری صلاحیت رکھنے والے افراد مختلف انداز میں دیکھتے ہیں، اسی طرح ماضی کے واقعات اور شخصیات کو دو مختلف افراد بالکل مختلف انداز میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس کی ایک مثال ہماری حالیہ تاریخ سے ہے۔ گاندھی اور جناح کو قومی سرحد کے دونوں اطراف میں بالکل مختلف طور پر سمجھا اور دیکھا جاتا ہے۔

جب مذاہب کی بات آتی ہے تو ماضی کے واقعات کی تشریح کا مسئلہ اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ زیادہ تر موجودہ مذاہب بعض ایسی شخصیتوں کی تعلیمات پر مبنی ہیں جو بہت پہلے اس دنیا میں موجود تھیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ابراہیم آج سے چار ہزار سال قبل جدید عراق کے شہر ار میں پیدا ہوئے تھے، موسیٰ کی پرورش تقریباً ساڑھے تین ہزار سال قبل مصر کے ایک شاہی گھرانے میں ہوئی، مسیحی مذہب کے بانی عیسیٰ دو ہزار سال قبل اس دنیا میں آئے اور اسلام کے بانی محمد (ص) تقریباً چودہ سو سال پہلے موجود تھے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان شخصیات کے بارے میں عصری تاریخی ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مثال کے طور پر ، یہودیوں کی بائبل جو ایک سے دو ہزار سال قبل مسیح کے درمیان پیش آنے والے واقعات کو بیان کرتی ہے، وہ بہت حد تک یہودی نبیوں نے چھٹی صدی قبل مسیح میں بابل میں اسیری کے دوران لکھی تھی۔ بہت زیادہ علمی کوششوں کے باوجود اب تک ابراہیم اور موسیٰ کی تاریخی حیثیت قائم نہیں ہو سکی۔ عیسیٰ مسیح کی زندگی کی تاریخ پر مبنی بائبل جو عیسائیت کی بنیاد رکھتی ہیں، عیسیٰ کی وفات کے تقریباً ایک سو سال بعد لکھی گئی، اور پیغمبر اسلام کی پہلی سوانح عمری آپ کی وفات کے تقریباً 150 سال بعد لکھی گئی۔

سیکولر اور مذہبی تاریخ میں بڑا فرق ہے۔ سیکولر تاریخ واقعات کے بارے میں ابتدائی اور ثانوی ذرائع پر مبنی ہے۔ کوئی بھی باریک تفصیلات بہترین قیاس آرائی پر مبنی ہیں۔ مثال کے طور پر ، اس بات پر کوئی اتفاق نہیں ہے کہ سکندر اعظم کی موت کیسے ہوئی لیکن اس کی موت کی ممکنہ وجوہات کے بارے میں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ کچھ اشارے ملتے ہیں کہ اسے ایک ضیافت میں زہر دے کر قتل کیا گیا اور کئی ممکنہ قاتل ہیں۔ یہ تمام تاریخی تجزیہ ان ذرائع پر مبنی ہے جو سکندر کی موت کے کئی سو سال بعد لکھے گئے تھے اور دستیاب شواہد پر مبنی تھے۔

یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ تقریباً تیئیس سو سال گزرنے کے بعد بھی تاریخ دان نامکمل اور اکثر غیر معتبر ذرائع کی بنیاد پر اتنے عرصہ قبل رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ کسی ایک نقطہ نظر یا دوسرے نقطہ نظر سے کوئی تقدس وابستہ نہیں ہے۔ دو مورخین ایک ہی جیسے تاریخی ذرائع کا مطالعہ کرتے ہوئے مختلف نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔

تاہم جہاں تک مذہبی تاریخ کا تعلق ہے صورتحال یکسر مختلف ہے۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے، زیادہ تر مذاہب کا آغاز عموماً بہت سادہ تھا۔ جن افراد نے اپنی زندگی خدا کی راہ دکھانے کی کوشش میں گزاری وہ بنیادی طور پر اپنے زمانے کے بڑے مصلح تھے۔ کچھ معاملات میں، وہ خدا کے نام پر امن، مساوات اور انصاف کا پیغام دینے میں کافی حد تک کامیاب رہے۔ تاہم، جب تاریخ پر نظر ڈالی جائے، تو مذاہب اس کے مقابلے میں بڑے، بہت بڑے، ہو گئے، جو اس کی ابتدا تھی۔ شروع میں ہر مذہب کا مرکز خود مصلح تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ روایات، اقوال اور تاریخی طور پر من گھڑت کہانیوں اور واقعات نے اس بنیاد سے دور، بہت دور، کر دیا۔ اس رویے نے مذاہب میں عدم برداشت اور جنونیت کو فروغ دیا۔ مذہب کی اصل روح، جو انسانیت سے محبت پر مبنی تھی، تعصبات اور نفرتوں میں تبدیل ہو گئی۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy