شہزادہ داؤد کی ناگہانی موت اور ہمارا رویہ

شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلمان داؤد چل بسے، ان دونوں باپ بیٹے کی موت بھی ایک ایڈونچر کرتے ہوئی جب وہ ٹائی ٹینک جہاز کے ملبہ کو دیکھنے کے لیے اوشین گیٹ کمپنی کی سب میرین ٹائٹن پر روانہ ہوئے لیکن واپس نا آ سکے، ایسا پر خطر ایڈونچر کوئی عام انسان نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے کسی بھی آدمی کا دل رسک فری ہونا چاہیے۔ یہ جو بلینیر ہوتے ہیں، یہ عام لوگ نہیں ہوتے، یہ گاڈ گفٹڈ ہوتے ہیں، یہ مشکل ترین فیصلے لینے سے نہیں گھبراتے۔ یہ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے یہ لوگوں کامیاب ٹھہرتے ہیں۔
داؤد فیملی پاکستان کی پہلی بیس امیر ترین خاندانوں میں سے ہے، یہ لوگ داؤد فاؤنڈیشن کے نام پر خدمت خلق کرتے ہیں، عام زبان میں چیرٹی کرتے ہیں۔ جس میں سکول، کالجز، ہسپتالوں میں عمارات اور بلاکس کی تعمیر، ہسپتالوں میں جدید ترین مشینیں فراہم کرنا شامل ہے۔ جب گورے خدمت خلق کرتے ہیں تو ہم انہیں رشک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں، لیکن جب کوئی پاکستان ارب پتی یہی کام کرتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ حرام کا پیسہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ بل گیٹس، گیٹس فاؤنڈیشن کے نام پر خوب چیرٹی کرتے ہیں، تو پاکستانی ان کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے، یہی کام اگر کوئی پاکستانی کرے، تو فوراً کہتے ہیں کہ اس کے پاس پیسہ کرپشن کی وجہ سے ہے، اس میں اس شخص کا کوئی کمال نہیں۔
ہم پاکستانیوں میں سب سے گھٹیا عادت حسد کرنے کی ہے، ہمارے دماغ میں ایک بات بیٹھ چکی ہے کہ پاکستان کا ہر امیر اور کامیاب شخص کرپٹ ہے، یہ حق حلال سے امیر ہو ہی نہیں سکتا، ہم اپنے سے کامیاب شخص کو برداشت کر ہی نہیں سکتے، شہزادہ داؤد کی ناگہانی موت نے یہ حسد کی بیماری کو مزید ابھار دیا ہے۔
اب شہزادہ داؤد کی موت کو لے کر سوشل میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی برپا ہے، لوگ ان پر میمز بنا رہے ہیں۔ جو کہ باعث شرم ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ آخر وہ دونوں باپ بیٹا تقریباً 5 لاکھ ڈالر لگا کر اس ایڈونچر پر کیوں گئے؟ ان کا پیسہ ہے، وہ جہاں مرضی لگائیں آپ کو اس سے کیا مسئلہ ہے۔ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کسی بھی خوشی کے موقع پر اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرتے ہیں، کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ ہم یہ افورڈ کر سکتے پیں۔ اب ایک کھرب پتی بندا اپنی خوشی سے جتنا مرضی خرچ کرے، اس سے ہمارا کیا لینا دینا؟ میں لکھ کر دیتا ہوں کہ اگر ٹائٹن سب میرین حادثے کا شکار نا ہوتی تو ہم پاکستانیوں کو معلوم بھی نہیں ہونا تھا کہ شہزادہ داؤد کب اس ایڈونچر پر گئے اور کب واپس آئے۔
ایک غلط کانسیپٹ ہے کہ اسلام امیر ہونے کے خلاف ہے، اسلام میں ایسی ہر گز کوئی بات سرے سے وجود نہیں رکھتی، بس آپ اپنے مال کی زکوٰۃ نکالیں، مستحق افراد کی مدد کریں، باقی آپ کا پیسہ ہے آپ جو مرضی کریں، اسلام اس متعلق آپ کو روکتا ہی نہیں۔ البتہ اسراف و فضول خرچی سے منع کیا گیا ہے۔ نبی کریم نے ہمیشہ اچھا کھانے، پہننے اور اچھی سواری کے استعمال کو پسند فرمایا۔
اگر پاکستان سے یہ مخیر حضرات ختم ہو جائیں یقین مانیے پاکستان کے 80 % سرکاری ہسپتال بند ہو جائیں گے۔ ہر سرکاری ہسپتال میں جدید ترین مشینیں، بلڈنگ بلاکس، پانی کے فلٹر، کھانے کی فراہمی داؤد فیملی جیسے مخیر افراد کی وجہ سے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے اللہ نے ان کے مال میں برکت دی ہے۔ ایس یو آئی ٹی کراچی میں ان کا عطیہ کیا گیا انکولوجی سنٹر زندہ مثال ہے۔ جبکہ ان کے فنڈز سے قائم شدہ داؤد سکول کے فارغ التحصیل طلباء زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں، جس کا برملا اظہار وہ سوشل میڈیا پر کر رہے ہیں، کیا اس سے بڑھ کر پاکستان کی کوئی خدمت ہو سکتی ہے؟
اللہ کریم شہزادہ داؤد اور سلیمان داؤد کی مغفرت فرمائے، لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ہم پاکستانیوں کو حسد اور جلن کی بیماری سے نکالے امین۔
اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اپنی زندگی سے حسد اور جلن نکال دیجیئے، یقین مانیے آپ کامیابی کی طرف پہلا قدم رکھ چکے ہیں۔

