بدحالی سے بحالی تک کے امدادی ماڈل


دنیا کے سرمایہ دار ممالک جن کو فرسٹ ورلڈ کا جاتا ہے، وہ ایسے صنعتی ممالک ہیں جو اپنی آلودگی پوری دنیا میں پھیلا رہے اور اس کا سب سے بڑا اثر تیسری دنیا کے غریب ممالک پر ہوتا ہے۔ وقت گزرنے اور فضائی آلودگی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ موسمی یا ماحولیاتی تبدیلی پوری دنیا کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اور یہ ماحولیاتی تبدیلی آئے دن کوئی نہ کوئی نقصان کر دیتی ہے۔ اس بارے میں ایک یا دو ممالک نہیں بلکہ تمام براعظموں کو اپنے قول و فعل کو برابر کرنا ہو گا۔

حال ہی میں ابھی ایک ہفتہ پہلے کی بات ہے پاکستان میں خطرے کی گھنٹیاں بجائی گئی اور ”بپرجو آئی“ نام سے ایک طوفان کی آمد کا اطلاع دیا گیا۔ یہ طوفان جو سمندری تھا اور تیز ہواؤں کے ساتھ اس نے جو ٹارگٹ مقرر کیے تھے، ان میں صوبہ سندھ کے ساحلی علاقے شامل تھے۔ پھر ایک دن یہ سمندری طوفان اپنی ہیئت اور ساخت سمیت رخ کو تبدیل کرتے ہوئے بھارتی شہر گجرات سے ٹکرایا۔ اسلام آباد کے رہائشی رواں برس موسم کے اتار چڑھاؤ پر حیران ہیں۔ اصل میں یہ موسمی تبدیلی ہے جو آج سب لوگوں کو حیران و پریشان کر رہی ہے۔ کینیڈا میں اچانک گرمی کچھ ڈگری سینٹی گریڈ بڑھنے اور لاکھوں ہیکٹرز پر مبنی جنگلات کے خاک ہونے یا پاک ایران بارڈر پر بلوچستان میں چلغوزوں کے قیمتی درختوں کے بھسم ہونے کے واقعات بالکل تازہ ہیں۔

جب ماحول کی یہ تباہی خال خال نظر آتی تھی، تو دنیا کے کئی ایک ممالک متاثر ممالک کی امداد میں آگے آگے ہوتے تھے۔ جیسے ہی اس تباہی اور ممالک کی تعداد بڑھی اور بربادی کا عالمی کینوس بڑھتا گیا تو امداد دینے والے ممالک اور ادارے بھی مشکلات کا شکار ہوتے گئے۔ امدادی کاموں کی سطح کو بھی محدود کیا گیا، جس کی وجہ سے جن ممالک میں بھی نقصان ہوتا، وہاں تباہی کا تدارک بھی محدود ہوتا گیا۔ امدادی کام اور بحالی کا کام کسی کورٹ کچہری کے سول مقدمے کی طرح، برسہا برس چلتا رہا ہے، جو تاحال پورا نہیں ہوتا۔ ایسے میں دوسری تباہی اپنے پنجے گاڑ دیتی ہے۔ فطرت کے ساتھ کھیلتے کھیلتے قدرتی قوانین سے چراند کرتے کرتے پہلی دنیا نے تیسری دنیا کو تباہ کرنے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اب یہ سوال سامنے آنے لگا ہے سرمایہ دارانہ نظام پہلی ختم ہو گا یا تیسری دنیا کے غریب ممالک؟

حال ہی میں مجھے معروف دانشور نورالہدی شاہ کے ہمراہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے قریب 116 کلومیٹر طویل ”اکرم واہ“ دیکھنے کا موقع ملا۔ ادی کا دھیان اور خیال باقی حکومتی امور سے ہٹ کر اس بات پر تھا کہ نہر کے دونوں کناروں پر بننے والے گھر ”کل کے گھروں“ سے بہتر ہیں یا نہیں؟ انہوں نے متاثرہ سینکڑوں خواتین سے ان کے پرانے نیز ادھ بنے نئے گھروں میں ملاقات کی۔ ان سے خبریں پوچھیں۔ صورت حال کو معلوم کیا۔

قصہ مختصر یہ تھا کہ 2021 ع میں ملک کی عدالت عالیہ اور سندھ ہائی کورٹ کے حکم سے نہری کناروں پر آباد لوگوں کو ناجائز قابضین قرار دے کر وہاں سے ہٹانے کا حکم صادر کیا تھا۔ دونوں کناروں پر موجود ہزاروں لوگ دربدر ہو گئے، ہزاروں گھر اور سینکڑوں دکانیں مسمار ہوچکے، لیکن چلتے چلتے تقریباً سولہ کلومیٹر کا ایسا علاقہ تھا، جن لوگوں کو آباد کرنے کے لیے حکومت سندھ کی ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ نے دنیا کے مختلف اداروں میں دستک دینا شروع کی۔

اس طرح کی ایک آواز ”ورلڈ بینک“ کو سنائی دی جنہوں نے ”اکرم واہ“ کے 16 کلومیٹر پر مبنی آبادی کی رہائش اور دکانوں کی بحالی کے لیے معاہدہ اور کام شروع کیا ہے۔ 36 فیصد مرد اور 7 فیصد خواندہ خواتین پر مبنی ہزاروں لوگوں پر محیط ان آبادیوں کو پھر سے بحال کرنے کے لئے حکومت سندھ اور ورلڈ بنک کے مابین ہونے والے معاہدے میں، 132 گاؤں کے 1246 پکے اور نیم پکے اور کچے گھروں، دکانوں، عبادت گاہوں، اسکول چاردیواری اور گھروں میں پانی کی ترسیل اور مکمل واٹر سپلائی اسکیم کی تعمیر شامل ہے۔

اس میں 80 فیصد علاقہ دیہی اور 20 فیصد نیم شہری آ جاتا ہے۔ جو بات زیادہ متاثر کن ہے اور انسانی طور پر امداد کی اخلاقیات پر پوری اترتی ہے، وہ ہے بدحال بنائے گئے گھرانوں کی مکمل بحالی تک ان کے روزمرہ کے اخراجات میں مدد کرنا اور اپنا حصہ شامل کرنا۔ دربدر ہونے والوں میں ظاہر ہے مرد اور خواتین کے ساتھ ان کے بچے بھی شامل ہیں۔

اس ضمن میں ایک اہم بات ان ہنرمند خواتین کی امداد ہے جن کو فی ہنرمند عورت 25 ہزار روپے، ہر کنبے کے کمانے والے کو 25 ہزار اور گزر سفر سہل ہونے تک امداد دینا شامل ہے۔ جبکہ جو غربت کی لکیر سے نیچے لوگ رہتے ہیں اس کے لئے 25000 فی کنبہ مقرر کی ہے۔ اس امدادی رقوم میں ایک مرتبہ دیے جانے والے 10 ہزار بھی شامل ہیں، جو کہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات کے طور پر دیے گئے ہیں۔ ان تمام لوگوں کو مرحلہ وار رقوم کی ترسیل جاری ہے۔

حکومت سندھ کو چاہیے کہ جو معاہدہ ورلڈ بنک کے ساتھ ہوا ہے، اس معاہدے میں دوطرفہ پرہیز اور مشاہدے کا سامان موجود ہے۔ ایک جانب ورلڈ بنک کی امداد سے ہزاروں لوگوں کو فوری بحالی کے کام میں لیت و لعل سے کام نہیں لینا چاہیے اور بحالی کا یہ کام کسی منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم کے متاثرین کے ماڈل پر ہرگز ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں ورلڈ بنک نے مسکین لوگوں کی معاشی بحالی کا جو نقشہ تیار کیا ہے، اس پر من و عن عمل کرنے کے لئے سندھ حکومت میں بحالی کے ماہرین کی ازسرنو تربیت کے ساتھ آفت میں لپٹے سندھ میں چپے چپے پر بحالی کے ضروری کام کو پورا کرایا جائے۔

سندھ حکومت کو ”اکرم واہ“ کے کنارے بے گھر ہونے والے افراد کی آباد کاری کے تناظر میں اس اہم بات پر غور کرنا ہو گا کہ کیا اس ماڈل کی طرز پر باقی جگہوں پر عمل کیا جاسکتا ہے؟ کیا ورلڈ بینک کی جانب سے لایا گیا ماڈل دیگر مقامات پر کارآمد ہو سکتا ہے؟

اگر اس کا جواب ”ہاں“ میں آتا ہے تو حکومت سندھ کو ایسے ماڈل کے لئے اپنے افسران کو فوری تربیت دے کر کئی ایک کام ایک ساتھ کرنے کی رواج ڈالنی چاہیے۔ اس سلسلے میں، آج سے 8 برس پہلے، سندھ کے ریگستانی شہر ”تھرپارکر“ میں اسلام کوٹ اور دیگر مقامات پر بجلی گھروں کی تعمیر اور بجلی پیداوار کے لئے خدمت کا جو کمیونٹی ماڈل تیار کر کے عملی طور پر مقامی لوگوں کی مدد کی گئی ہے، وہ ماڈل بھی زیر غور لانا چاہیے۔

Facebook Comments HS