میری ذات میری سوچ سے ہے
آج بہت دنوں بعد چہل قدمی کرتے ہوئے پارک میں ایک بینچ پر بیٹھی تو شام کا وقت تھا۔ یہ وقت جسے جھٹ پٹا بھی کہا جاتا ہے اس میں ایک عجیب سی اداسی اور سکون ہوتا ہے۔ یہ اسی احساس کو باہر لے کر آتا ہے جو آپ کے اندر ہوتا ہے۔
زندگی کا ایک اور دن ڈھل گیا۔ دن کے اختتام پر انسان کو اپنے اندر ضرور جھانکنا چاہیے، اپنی ذات کا احتساب خود کرنا چاہیے۔ ہماری سوچ ہماری ذات پر کیا اثر ڈال رہی ہے یہ ہمیں خود پتہ لگانا ہے۔
مجھے شام کا یہ وقت بہت پسند ہے، یہ مجھے اپنے دل اور دماغ کے چھپے احساسات سے روشناس کراتا ہے۔ پارک میں ٹھنڈی ہوا اور چڑیوں کی چہچہا ہٹ مجھے سکون دے رہی تھی۔ میرے ہاتھ میں ڈائری اور قلم مجھے بہت کچھ سوچنے اور لکھنے پر مجبور کر رہی تھی۔ اپنے دن بھر کی مصروفیات اور عمل کو میں ایک لفظ میں ضرور سمیٹتی ہوں۔ یہ مجھے میری ذات میں چھپی خیر اور شر کو دیکھنے میں مدد کرتی ہے۔ آوازیں اور چہرے آہستہ آہستہ مدہم ہونے لگے۔
اچانک میری سوچ کا دائرہ مکمل ہونے سے پہلے ٹوٹ گیا۔ کسی کی ہنسی کی آواز نے مجھے اس سمت دیکھنے پر مجبور کیا۔ اس شخص کے چہرے پر ایک خو شی دور سے دیکھی جا سکتی تھی۔ اس کی آنکھیں اس قہقہے کی وجہ سے چمک رہی تھیں۔
انسان کا چہرہ اس کے جذبات کی بہت بڑی عکاسی کرتا ہے، اور اگر کوئی کسی کے چہرے کو پڑھنے کا یہ گر سیکھ جائے تو پھر اپنی ذات کے اندر جھانکنا بہت آسان ہو جاتا ہے اور یہی سے آگاہی کا وہ دروازہ کھلتا ہے جو ہمیں اس آئیڈیل کے نزدیک لے جاتا ہے جو ہم اپنے اندر لئے پھرتے ہیں۔
بعض اوقات دوسروں کی ذات میں خامیاں اور برائیاں دیکھتے دیکھتے ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری سوچ کا ہماری ذات پر کیا اثر ہو رہا ہے۔ ہمارا ناقص وجود ہماری زندگی کی کتاب میں کس صفحے پر موجود ہے۔ ہماری کتاب کا مصنف ہم پر کون سی نگاہ ڈالتا ہے، ہمیں نہیں پتہ۔
کسی کی ذات کے رنگوں سے متاثر ہوتے وقت انہی رنگوں کو ہم خود اپنی ذات میں کیوں نہیں بھرتے۔ اعلی ظرفی کی توقعات وابستہ کرتے وقت خود کو اعلی ظرف بنانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ آخر کو خیر اور شر تو ہماری اپنی سوچ سے پروان چڑھتی ہے۔ اور ہماری سوچ ہماری ذات کی پرورش کرتی ہے۔
زندگی کے تجربات ہماری ذات میں ایک ٹھہراؤ لاتی ہے اور یہ اسی وقت ہوتا ہے جب ہم زندگی کے اتار چڑھاؤ پر غور و فکر کرتے ہیں۔ کبھی کبھی زندگی کو پیچھے خالی کرسی پر بیٹھ کر خاموشی سے دیکھنا، شعور کی آنکھ سے محسوس کرنا، اور قسمت کو اس کے حصے کا کام کرنے دینا، یہ بعض اوقات بہت سے فسادات اور بے سکونی سے انسان کو بچا لیتا ہے۔ ہماری زندگی مختلف دائروں کے گرد گردش کرتی ہے۔ تعلیم، نوکری، پیسہ، گھر اور بیوی بچے، یہ سب وہ دائرے ہیں جن کو مکمل کرتے کرتے ہم اپنی ذات کے دائرے کو نامکمل چھوڑ دیتے ہیں۔
اچانک میری سوچوں کا تسلسل ٹوٹا تو پارک میں موجود لوگوں کا ہجوم کم تھا۔ اسی وقت جیسے میرے دن کا دائرہ بھی مکمل ہوتا محسوس ہوا۔ سکون قلب کی کیفیت میرے وجود میں پھیل گئی۔ دن کا اختتام اگر اسی سوچ پر ہو کہ میرے وجود، میری زبان اور میرے اعمال نے میرے دل میں سکون پیدا کیا، میں نے شعور کی آنکھ سے دنیا اور لوگوں کو دیکھنے کی کوشش کی اور خاموشی کی زبان کو محسوس کیا، تو شاید اپنے وجود فانی کے ہونے پر فخر محسوس کر سکیں۔
میں نے گھر واپسی کی طرف قدم اٹھائے تو وہ بوجھل نہیں تھے بلکہ ان میں اعتماد اور سکون تھا۔ میں جانتی تھی کہ رات کو سوتے وقت میرے دل، دماغ اور میری ذات میں کوئی جھنگ نہیں ہو گی۔
زندگی میں کچھ دن ایسے بھی آتے ہیں کہ جب زندگی آسان لگنے لگتی ہے اور انسان اپنے آپ سے مطمئن ہوتا ہے۔
ایک جگہ پڑھا تھا۔
Vision is the art of seeing what is invisible too..
جس سکون و اطمینان کی ہمیں تلاش ہے وہ ہماری ذات کے اندر ہی تو ہے۔ وہ ذات جو میری سوچ سے ہے۔


