بوسنیا کی چشم دید کہانی -40


اسد اللہ خاں غالب نے آمد بہار کی جو منظر کشی حرف آخر کے طور پر کچھ یوں کی تھی
آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج
اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی

کچھ ایسا ہی منظر کرسمس کی آمد سے کوئی ایک ماہ قبل اپنے گرد و پیش میں پایا جانے لگا۔ بل اور ڈورنگ نے کرسمس کا تہوار اپنے اہل خانہ کے ساتھ منانے کی خاطر نومبر کے دوران چھٹی حاصل نہیں کی تھی تا کہ دسمبر کے آخر میں چھٹی ملنا یقینی رہے۔ دسمبر کی چھٹی کے موقع پر اپنا دو ہفتوں کے لیے پاکستان جانے کا پروگرام بھی بن چکا تھا۔ ادھر جنوری کے دوسرے ہفتے میں ہمارے فرانسیسی اور جرمن ساتھیوں کی مدت مشن پوری ہو رہی تھی لہٰذا کرسمس کے ساتھ ساتھ ان کی وطن واپسی کی تیاریاں بھی شروع ہو چکی تھیں۔

دسمبر کے پہلے ہفتے میں سٹولک اور کروایٹوں کی اکثریت کے دوسرے علاقوں میں کرسمس کے استقبال کی تیاریاں شروع ہو گئی تھیں۔ ہر طرف رنگ برنگ قمقمے سجائے جانے لگے تھے۔ سٹولک کے سینٹر کے قریب وہ مقام جہاں کبھی بوسنیا کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک شاہ سلیم اول کی تعمیر کردہ شاہی مسجد قائم تھی اور جسے دوران جنگ اس انداز سے صفحہ ہستی سے مٹایا گیا تھا کہ وہاں اب ایک چٹیل میدان کے سوا کچھ بھی نہ تھا، بلدیہ سٹولک نے اس جگہ کی صفائی کروائی اور اس کے وسط میں کرسمس ٹری سجایا۔

میں ان دنوں جب یہاں سے گزرتا تو یہ منظر دیکھ کر طبیعت کچھ بوجھل سی ہو جاتی۔ میرے ظاہر کا آزاد خیال مسلمان یہ سوچتے ہوئے دل کو تسلی دیتا کہ مسجد نہ سہی کرسمس ٹری سہی۔ اس جگہ کی نسبت تو پھر بھی عبادت گاہ کے طور پر قائم ہے لیکن اندر کا گیا گزرا مسلمان اس دلیل کو ہر مرتبہ ایک خاموش احتجاج کے ساتھ رد کر دیتا اور اسے قائل کرنے کا حوصلہ بھی جمع نہ کر پاتا۔

25 دسمبر کی رات دس بجے کے بعد میں اقبال اور فلپ کرسمس کی تقریبات کا نظارہ کرنے نکلے۔ سب سے پہلے ہم موسطار گئے اور یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا مشترکہ تہذیب کے اثرات ابھی بھی باقی ہیں، اس کے مسلم اکثریتی حصے کا دورہ کیا۔ رات کے تقریباً 11 بج چکے تھے اور اس حصے میں خوابیدگی کا راج تھا۔ ٹیٹو پل سے دریائے نرٹوا کو پار کرنے کے بعد شہر کے مغربی حصے میں داخل ہوتے ہی منظر بدل گیا۔ کیفے باروں کے ارد گرد چہل پہل دیکھی۔

لوگ جوق در جوق دعائے نیم شب میں حصہ لینے کے لیے چرچز کی طرف جا رہے تھے۔ شہر کی فضا پٹاخوں سے گونج رہی تھی جس میں کلاشنکوف کی گولیوں کی گونج بھی وقفے وقفے سے شامل ہو رہی تھی۔ موسطار کے بعد ہم شٹلک، میجی گوریا اور چپلینا گئے۔ ان قصبوں میں سڑکیں ویران اور چرچ خوب آباد تھے۔ میجی گوریا کے چرچ میں تو تل دھرنے کی جگہ نہ تھی اور باہر بھی ایک بڑا مجمع لگا ہوا تھا۔ ہم بھی اس کا حصہ بن گئے۔ سردی میں کھلے آسمان کے نیچے زیادہ دیر ٹھہرنا مشکل کام تھا۔ لیکن ہم فلپ کی خاطر کھڑے رہے کہ کیتھولک ہونے کے ناتے وہ تقریب کے اختتام سے قبل یہاں سے ہلنا شاید پسند نہ کرے۔ لیکن ہمارا اندازہ غلط ثابت ہوا۔ تھوڑی دیر تک وہاں کھڑا رہنے کے بعد وہ بولا

کیا یہاں ٹھہرنے سے بہتر نہیں ہے کہ ہم کسی کیفے بار کا رخ کریں
تم نے تو ہمارے دل کی بات کہہ دی۔ ہم تو تمہارے مذہبی جذبات مجروح ہونے کے ڈر سے چپ تھے۔ اقبال نے کہا

میں مذہب سے اتنی ہی وابستگی رکھنا پسند کرتا ہوں کہ اس کا عمل دخل جذبات کی دنیا سے باہر رہے لہٰذا میرے بارے میں ایسی خود ساختہ رائے سے اگر آپ اپنی مذہبی وابستگی کی تشفی کرنا چاہتے ہیں تو وہ بات الگ ہے۔ وگرنہ یہ ناچیز تو ”کی جاناں میں کون“ کی منزل پر ہے۔ فلپ بولا

فلپ عجیب اتفاق ہے کہ تم نے جو بات کی ہے انھی خیالات کا اظہار تقریباً انھی الفاظ میں ہمارے ایک بڑے شاعر نے کوئی تین سو سال پہلے کیا تھا۔ اس موقع پر میں نے گفتگو میں حصہ لینا مناسب جانا

مجھے آپ کا تو پتہ نہیں لیکن ہمارے ہاں چھوٹے پولیس افسر اور بڑے شاعر کے خیالات میں اکثر ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور مذہب سے دونوں کا تعلق برائے نام ہی ہوتا ہے۔ وہ بولا

کرسمس کے اگلے دن یعنی 26 دسمبر کی دوپہر کو میں چھٹی پر پاکستان کے لیے روانہ ہوا۔ اس دن صبح سے مسلسل بارش ہو رہی تھی اور اتنی شدید ہوا چل رہی تھی کہ قدم جمانا مشکل تھا۔ بہت سے دوسرے ساتھیوں کی طرح میں بھی براستہ روم پاکستان جا رہا تھا۔ روم جانے کے لیے مجھے پہلے سپلٹ (کروایشیا کا دوسرا بڑا شہر) جانا تھا جہاں تک پہنچنے کے لیے تین گھنٹے لگتے تھے۔ وہاں سے بذریعہ بحری جہاز اٹلی کے ایک ساحلی شہر انکونا تک دس گھنٹے کا سفر تھا اور انکونا سے روم تک بذریعہ ریل گاڑی کوئی پانچ گھنٹے درکار تھے۔

سپلٹ تک اقبال اور فلپ میرے ہم راہ آئے۔ نم آلود موسم میں فلپ آج کچھ زیادہ ہی سنجیدگی سے گاڑی چلا رہا تھا۔ جس کے نتیجے میں اسے ہر دوسرا ڈرائیور غیر محتاط محسوس ہو رہا تھا۔ چنانچہ ”اوہ پوتاں“ کی مشق سخن جاری و ساری تھی۔ اس کی اس حرکت پر اقبال آج بھی اس طرح ہنس ہنس کر بے حال ہو رہا تھا جیسے کالج کے دنوں میں این سی سی کی تربیت کے دوران اپنے حوالدار استاد کے پل تھروکو ”پھلترو“ کہنے پر ہم سے ہنسی روکنا مشکل ہو جاتا تھا۔ این سی سی کے حوالدار استاد کی طبیعت کے برخلاف فلپ اس موقع پر برہم نہ ہوتا تھا اور تھوڑی ہی دیر بعد خود بھی اپنی حرکت پر ہنسنے لگتا تھا۔

سپلٹ میں بھی طوفانی بارش کا وہی عالم تھا۔ بندرگاہ پہنچنے کے بعد ”جاردینا“ کمپنی کے دفتر سے رابطہ کیا۔ پتہ چلا کہ ”میرا“ نامی جہاز بندرگاہ پر لنگر انداز ہے۔ تھوڑی سی کوشش کے بعد ہم نے جہاز کو ڈھونڈ نکالا۔ عملے سے رابطہ کرنے پر اطلاع ملی کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے جہاز کے وقت پر روانگی کے امکانات کم ہیں۔ اس دوران چو نکہ مسافر جہاز میں سوار ہونا شروع ہو گئے تھے لہٰذا میں نے بھی اقبال اور فلپ کو خدا حافظ کہا اور جہاز میں داخل ہو گیا۔

جہاز کی پہلی منزل پر استقبالیہ، ایک ریستوران، کیفے بار، ڈیوٹی فری شاپ اور چند نشستوں کا انتظام تھا۔ دوسری منزل پر دو دو بستروں پر مشتمل کیبن تھے۔ میں نے باقی مسافروں کی تقلید میں اپنا پاسپورٹ استقبالیہ میں جمع کروانے کے بعد اپنے کیبن کی چابی حاصل کی اور سامان وہاں چھوڑنے کے بعد واپس پہلی منزل پر آ کر ریستوران میں بیٹھ گیا۔ یہاں سے جب اٹھا تو کیفے بار چلا آیا۔ پہلی منزل پر تمام نشستیں پر ہو چکی تھیں۔

آدھی رات گزر چکی تھی۔ کچھ مسافر خراٹے لے رہے تھے۔ زیادہ تر نے اونگھنا شروع کر دیا تھا۔ جہاز کی روانگی کے لیے موسم ابھی غیر موافق ہی تھا۔ میں نے اب اپنے کیبن کا رخ کیا اور بستر پر دراز ہو گیا۔ زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے لاڈلوں احمد، اسد اور اسفند سے چھ ماہ تک دور رہا تھا اب ان کے اور میرے درمیان کم ہوتے ہوئے فاصلے میں جو ٹھہراؤ آ گیا تھا اس سے بے قراری ہو رہی تھی۔ مجھے یاد نہیں میں کب سویا۔ میری آنکھ رات تین بجے کے قریب اس وقت کھلی جب لنگر اٹھانے پر جہاز نے ہچکولے کھانے شروع کیے۔ اس اطمینان کے ساتھ کہ میرا اور منزل کا فاصلہ ایک بار پھر کم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ میں دوبارہ سو گیا۔

صبح دس بجے میری آنکھ کھلی تو تاحد نگاہ پھیلے ہوئے سمندر میں میرا جہاز ڈانواں ڈول ہوتا آگے بڑھ رہا تھا۔ موسم کی خرابی کی وجہ سے سفر کا دورانیہ بھی بڑھ گیا۔ جہاز انکونا کی بندرگاہ پر شام چار بجے کے قریب لنگر انداز ہوا۔ سست مزاج اطالوی کسٹمز کے عملے کی پڑتال سے گزرنے کے بعد جب میں نے جہاز سے باہر قدم رکھا تو انکونا کا ساحل شاعر مشرق کی نظمیہ شاعری کی تصویر بنا ہوا تھا۔ شام کی سیاہ قبا پر لالے کے پھول بکھرے ہوئے تھے اور پروں کی بست و کشاد سے اٹھکیلیاں کرتے ہوئے سیگلوں کی چہچہاہٹ سے فضا نغمہ بار تھی۔

بندرگاہ سے بذریعہ بس میں ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ یہاں جب روم جانے والی ریل گاڑیوں کے اوقات روانگی پر نظر ڈالی تو رات کو سفر جاری رکھنے کا ارادہ تبدیل کرنا پڑا۔ ریلوے اسٹیشن کے سامنے دو ہوٹلوں کو میں نے پہلے ہی تاڑ لیا تھا۔ میں ہوٹل روزا کے استقبالیہ پر پہنچا تو ایک سوکھی سی معصوم شکل لڑکی خوش آمدید کہتے ہوئے بولی

فرمایے میں آپ کی کیا خدمت کر سکتی ہوں۔
کمرے کا حصول اگر آپ کی خدمت کے زمرے میں آتا ہے تو اس کا کرایہ بتا دیجیے۔ میں نے کہا
ساٹھ مارک یومیہ

کیا اس میں رعایت کی کوئی گنجائش ہے۔ میں نے عرض کی۔ بولی۔ ویسے یہ ہمارا شعار تو نہیں لیکن آپ سے پچپن مارک لے لیں گے۔

جب آپ نے اپنے شعار پر سمجھوتے کا عندیہ دے ہی دیا ہے تو پھر رعایت میں یہ بخل کیسا، میرے خیال میں 40 مارک مناسب ہوں گے۔ میں نے گزارش کی۔
اس نے کچھ دیر سوچا پھر اتفاق رائے کر لیا۔

Facebook Comments HS