حاجی نذیر احمد کے سفر حج کی مختصر روداد

ڈاکٹر عمیر منظر اپنی تصنیف و تالیف سے مستقل اپنے قارئین کو حیران کیے رہتے ہیں۔ "راجندر رمنچندہ بانی”، ”باتیں سخن کی”، ”رشید حسن خاں (کلام غالب شارح)” جیسی تخلیقی و تحقیقی کتابوں کے بعد ابھی حال ہی میں انھوں نے اپنے دادا جان کی سفر حج پر مشتمل یاد داشتوں کو جمع کرکے ”حاجی نذیر احمد کے سفر حج کی مختصر روداد” کے نام سے شائع کیا ہے۔ تقریبا نوے صفحات پر مشتمل یہ کتاب ان کے ذوق، محنت اور اپنے خاندان خصوصا دادا کے تئیں محبت کا ثبوت ہے۔ کتاب اتنی مختصر ہے کہ اس کو انسان ایک بیٹھک میں ختم کر دیتا ہے، کتاب کو پڑھتے ہوئے مصنف کا اللہ اور اس کے رسول سے محبت و الفت اور جذباتی رویہ کئی جگہوں پر قاری کو آبدیدہ کر دیتا ہے۔ ڈاکٹر عمیر منظر کے دادا اگر آج زندہ ہوتے تو اپنے پوتے کی اس محبت کو دیکھ کر یقینا خوش ہوتے، انھوں نے شاید کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ان کی ٹوٹی پھوٹی تحریروں کو برسوں بیت جانے کے بعد جھاڑ پوچھ کر کوئی نکالے گا اور اسے سجا سنوار کر اس خوبصورت انداز میں پیش کرے گا کہ دیکھنے والے عش عش کرتے رہ جائیں گے۔
پوری کتاب پڑھنے لائق ہے نیز مختصر عام فہم اور کسی بھی طرح کے تصنع سے پاک سیدھے سادے بیانیہ کی وجہ سے قاری کو اپنی گرفت میں لیے رکھتی ہے۔ کتاب کو پڑھتے ہوئے حاجی نذیر صاحب کے بھولے پن کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ مشکل سے مشکل اور پیچیدہ بات کو بھی وہ بالکل آسان زبان میں پیش کرتے ہیں، جس سے قاری کے اندر حج کا نہ صرف شوق پیدا ہوتا ہے بلکہ ان مقامات جس کا ذکر تاریخ اور قران و حدیث میں آیا ہے اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے بے چین ہو جاتا ہے۔ زائر کا جذباتی رویہ پہلے ہی صفحہ سے قاری کو جکڑ لیتا ہے۔ ابتدا وہ کچھ اس انداز سے کرتے ہیں: ”آج صبح دس بجے گھر سے سفر حج کے یے روانہ ہوا۔ قبل روانگی دو رکعت نماز نفل گھر پر ادا کی۔ اس کے بعد مسجد میں دو رکعت نماز نفل ادا کی اور لوگوں سے ملتا ہوا روانہ ہوا۔ ایک جم غفیر کو روتا ہوا اور خود اللہ کے کرم و بخشش پر خوشی کے آنسو بہاتا ہوا روانہ ہوا۔ گھر سے نکلتے ہی نعرہ تکبیر اللہ اکبر کی صدا گونجی وہ بس پر سوار ہونے تک گونجتی رہی”۔ یہ انداز کتاب کے اخیر تک جاری رہتا ہے۔
ستمبر 1980 میں سفر حج کے لیے وہ ممبئی سے پانی کے جہاز سے روانہ ہوئے تھے اور جنوری 1981 میں واپس ہوئے ۔ سفر حج کی روداد میں جہاز کے سفر کی بہت سی باتیں اور پھر مکہ پہنچنے کے بعد مختلف مقامات مقدسہ کی زیارت بھی خاصے کی چیز ہے ۔ مکہ مکرمہ زیارت کے لیے جانے والوں کو چونکہ اب تو بہت کم وقت ملتا ہے اور زیادہ ادھر ادھر جانے کا موقع بھی نہیں ملتا مگر حاجی نذیر احمد نے شعب ابی طالب،مسجد قبا،شہدائے احد ،بیئر عثمان،غار حرا اور جبل نور کی نہ صرف زیارت کی بلکہ ان مقامات سے متعلق اپنے تجربات بھی قلم بند کیے ۔آثار منی دیکھنے کے لیے حج سے پہلے پیدل ہی روانہ ہوگئے تھے ۔مختصر سا کتابچہ پڑھنے والوں کے دل و دماغ دونوں کو متاثر کرتا ہے اور یہ یاد دلاتا ہے کہ حج کے لیے جائیں تو پوری تیاری کے ساتھ جائیں۔
کتاب کی تقدیم پروفیسر اختر الواسع نے رقم کی ہے جس میں انھوں نے خوبصورت انداز میں کتاب کا تعارف کرایا ہے وہیں ”سفر حج کی مختصر روداد” کے عنوان سے ڈاکٹر تابش مہدی کی تحریر شامل ہے جس میں انھوں نے مصنف اور کتاب کے بارے میں روشنی ڈالی ہے۔ تقریبا بیس صفحات پر پھیلا ہوا ڈاکٹر عمیر منظر کا دیباچہ بھی خاصے کی چیز ہے جس میں انھوں نے کتاب کے ساتھ ساتھ مصنف کے بارے میں بھی بڑی وقیع معلومات پیش کی ہیں۔ کتاب کی اشاعت کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: ”محترم حاجی نذیر احمد کے سفر حج کی اس روداد کو کتابی شکل میں پیش کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ آج سے دو چار دہائی قبل کے سفر اور عازمین حج کے دلی جذبات و احساسات سامنے آ سکیں اور اس زمانے میں حج بیت اللہ کے مناظر بھی دیکھ سکیں”۔ یہ پوری تحریر حاجی نذیر احمد صاحب کی شخصیت، علم و ادب، تاریخ اسلام سے ان کی دلچسپی اور شیفتگی کو اجاگر کرتی ہے، جسے بیان کرنے میں ڈاکٹر عمیر منظر پوری طرح کامیاب کہے جا سکتے ہیں۔
کتاب کے اخیر میں مرتب کے تعارف کے ساتھ ساتھ مصنف کی ڈائری کا عکس بھی شامل کیا ہے۔ مرتب نے اخیر میں ان شخصیتوں کے بارے میں مختصر ضمیمہ بھی شامل کتاب کر دیا ہے جن کا ذکر روداد میں آیا ہے، اس حوالے سے انھوں نے انبیا خاتون، انوار الحق، فرید النساء، نبی سرور، مرزا عبد العزیز بیگ وکیل، محمد منیر، شہاب بانکوٹی، حاجی بیچو، حافظ ہدایت اللہ، مولانا رحمت اللہ اثری فلاحی، مدنی، ڈاکٹر ضیاء الرحمان اعظمی، مولانا ظفر احمد فلاحی، مولانا مطیع اللہ فلاحی وغیرہم کا تعارف ایک عمدہ چیز ہے۔ کتاب کو نعمانی کیئر فاونڈیشن نے شائع کیا ہے اور قیمت 180 روپے ہے۔
Facebook Comments HS



شکریہ برادرم