آپ مسلمان کیوں نہیں ہو جاتیں؟


ایک دوست نے ویڈیو بھیجی جس میں پاکستانی اداکارہ سنیتا مارشل جو عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہیں،  کسی پوڈ کاسٹ میں شریک تھیں- میزبان نے سنیتا سے سوال کیا کہ آپ مسلمان کیوں نہیں ہو جاتیں جس پر اداکارہ نے بہت ہی عمدہ جواب دیا کہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے- یہ جواب سن کر میزبان نے ارشاد کیا ” اللہ آپ کو ہدایت دے”-

نجانے کیوں ہم مسلمانوں کو یہ یقین ہو چلا ہے کہ صرف ہم ہی جنت میں جائیں گے- ہم سے اچھا کوئی نہیں ہے- اگر آپ سے اچھا کوئی نہیں ہے تو مشعال خان کو کس نے مارا تھا؟ اگر عیسائی برے ہیں تو  جرمنی کی ڈاکٹر رتھ فاو نے اپنی زندگی کے پچاس سال کراچی میں جذام کے اسپتال کو کیوں دیئے؟ اگر ہم اچھے ہیں تو لوگ پاکستان جیسے  مسلمان ملک کو چھوڑ کر غیر قانونی طور پر کافروں کے ملک میں جانا کیوں پسند کرتے ہیں جس میں ان کی جان تک جا سکتی ہے؟

اگر ہم اچھے ہیں تو سری لنکن باشندے کو کیوں جلایا تھا؟ اگر ہندو برے ہیں تو جہاں ان کے مندر توڑے تھے وہاں سر گنگا رام کی بنائی ہوئی لاہور کی عمارتیں اور سر گنگا رام اسپتال بھی توڑ دیتے جو انہوں نے قائم کیا تھا؟ اگر کرکٹر محمد رضوان ایک امریکی عیسائی خاتون پروفیسر کو قرآن دے سکتا ہے تو کیا ہم میں اتنی رواداری ہے کہ اگر وہ خاتون پلٹ کر محمد رضوان کو بائبل دے دیتی تو کیا ہمارا مسلمان کرکٹر اس کو قبول کرتا؟ اگر یہی محمد رضوان امریکہ کی سڑکوں پر سرعام اور بلا خوف و خطر  نماز پڑھ سکتا ہے تو کیا کوئی ہندو بھائی ہمارے ملک کی سڑکوں پر مورتی رکھ کر پوجا کر سکتا ہے؟

اگر ہم اچھے ہیں اور لوگوں کو اسلام میں آنے کی دعوت دے رہیں ہیں تو  غریب عیسائی مزدوروں کو اجرت مانگنے پر توہین رسالت کا الزام لگا کر کون آگ لگا رہا ہے؟ اگر دوسرے مذاہب کے لوگ  اتنے ہی برے ہیں اور ہم اللہ سے دعا کر رہے ہیں کہ ان کو ہدایت دے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تقریباً آدھے تعلیمی ادارے اور اسپتال ہندو، پارسی اور عیسائیوں نے ہی کیوں قائم کیے ہیں؟ اگر وہ اتنے ہی برے ہیں تو ہم کیوں اپنے بچوں کو ان کے اے لیول، او لیول اور کیمبرج سسٹم میں داخلہ دلاتے ہیں؟

ہم کیوں ہولی منانے سے خوفزدہ ہیں؟ اگر قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں کچھ طالب علموں نے رنگ کھیل لیا، گانے گا لیے،  ڈانس کر لیا تو کون سا اسلام خطرے میں آ گیا؟ آپ کے مدرسوں میں چھوٹے غریب بچوں کے ساتھ کیا کیا نہیں ہو رہا؟ اگر ہم اتنے ہی اچھے ہیں تو ہماری عدلیہ کے تین مشہور، عادل اور انصاف پسند عیسائی جج کارنیلئس،  ہندو جج رانا بھگوان داس اور پارسی جج دراب پٹیل کے نام  ہی کیوں ذہن میں آتے ہیں؟ اسلام آباد میں مندر نہیں بن سکتا لیکن نیو یارک میں مسجد بنتی ہے تو فخر سے ہم پھولے نہیں سماتے- لندن برج پر اذان نشر ہو سکتی ہے لیکن پاکستان میں کرسمس پر کیک پر بھی ہیپی کرسمس یا میری کرسمس نہیں لکھوا سکتے- اور دعوت دیتے ہیں دوسروں کو کہ ہم جیسا بن جاؤ- بھئی وہ کیوں تم جیسے چور بن جائیں؟ جہاں مسلمانوں کا نہ دودھ خالص، نہ دوا- نہ  مسجد میں رکھی چپل اور جوتے محفوظ- نہ ہی پانی کی  سبیل سے زنجیر میں بندھا  ہوا گلاس- جگہ جگہ بھیک مانگتے ہوئے کم سن بچے- اسپتال کے فرشوں پر لیٹے اور دم توڑتے مریض- انسانی اعضا کی اسمگلنگ اور جعلی پیوند کاری- نہ کسی کی عزت محفوظ نہ ہی مال و جان- نہ زندگی کی بنیادی ضروریات اس مسلم معاشرے میں- اگر پیسہ ہے تو اپنی حفاظت کے لئے گارڈز رکھ لو، بجلی کے لئے جنریٹر، گیس کے لئے سلنڈر،  پانی کے لئے ٹینکر ورنہ غریب ہونا یہاں ایک جرم سے کم نہیں ہے- سڑکیں مسلمان ٹھیکیداروں نے ایسے بنائی ہیں جو ہر دن ہائی وے پر انسانی جانیں نگل رہی ہیں- بچوں کے سرکاری اسکولوں میں نہ بیٹھنے کی بنچز،  نہ ہی پنکھے اور نہ ہی پینے کا صاف پانی- پارک اور بچوں کے کھیلنے کی جگہوں پر قبضہ مافیا نے بڑی بڑی عمارتیں اور پلازے بنا دئیے ہیں- موسیقی،  آرٹ اور تفریح مہیا کرنے والی ہر چیز اس مسلم معاشرے میں حرام-  مجھے کوئی یہ تو سمجھائے کہ اسلام کی  دعوت کس بات پر دے رہے ہو؟

آرمی پبلک اسکول میں ایک سو چالیس بچوں کو شہید کرنے والے کون تھے؟ آپس میں گلے کاٹتے اور ایک دوسرے کی مسجدوں اور امام بارگاہوں پر حملہ کرنے والے مسلمان؟ اگر دعوت دی بھی  تھی تو یہ بھی بتاتے کہ کون سا فرقہ سنیتا مارشل کے لئے بہتر رہے گا؟ سنی، شیعہ،  وہابی، دیو بندی، اہل حدیث،  بریلوی،  شافعی،  مالکی؟

دوسروں کے ذاتی معاملات میں دخل دیتے ہوئے کچھ خیال کیا کریں۔

Facebook Comments HS