امید کی کرن نظر نہیں آتی
یار لوگوں کا خیال ہے۔ کہ اس بات کا پتہ چلانے کے لیے کہ خوشیا گھر پر موجود ہے۔ یا نہیں۔ آسمان کی طرف نگاہ بلند کریں۔ اگر وہاں نچلی فضا میں زمین کی طرف مائل بہ پرواز چیلیں دکھائی دے جائیں۔ تو سمجھ لیں۔ کہ خوشیا نہ صرف اپنے گھر پر موجود ہے۔ بلکہ اس کے مضبوط، کھردرے طاقتور اور جہازی سائز کے پہلوانی ہاتھوں کے شکنجے میں کسا ہوا کوئی قسمت کا مارا اپنی حجامت بھی کروا رہا ہے۔ اور اس محجوم کی ناگفتہ بہ حالت کے سبب فضا میں اڑنے والی چیلیں بھی اس غلط فہمی کا شکار ہیں۔ کہ یہ قسمت کا مارا ہوا بس چند ہی گھڑیوں کا مہمان ہے۔ خوشیا ہمارے گاؤں کا حجام ہے۔ جسے خوشیا نائی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
تقریباً سوا چھ فٹ قد، فربہی مائل جسم، سرخ و سفید رنگت، موٹی موٹی سرخی مائل آنکھیں، چوڑا چکلا چہرہ، چہرے کی مناسبت سے سر کی جسامت چھوٹی محسوس ہوتی ہے۔ وہ غیر معمولی طور پر کھلے ہڈ پیروں کا مالک ہے۔ اس کے بازوؤں کی لمبائی چوڑائی عام آدمی کی پنڈلیوں سے بھی فزوں تر ہے۔ کیوں کہ جوانی کے زمانہ میں وہ پہلوانی کا شغل بھی کرتا رہا ہے۔ اس لیے اس کے استاد نے اس کے دونوں کانوں کی ہڈیوں کو درمیان سے توڑ کر اس پر اپنا پٹھا ہونے کی مہر مستقل بنیادوں پر ثبت کی ہوئی ہے۔ بھاری جسامت اور زیادہ وزن کی وجہ سے دونوں پاؤں کو باری باری دبا کر اس طرح چلتا ہے۔ کہ لگتا ہے۔ جیسے دونوں پاؤں سے لنگڑا ہو۔
ملگجا تہہ بند، نیلا کرتا، کالا صافہ اور اپنے ہی گاؤں کے موچی کے ہاتھ کا سیا ہوا سرخ رنگ کا دیسی جوتا پہنے اکثر بیشتر وہ گاؤں کی گلیوں میں بطخ چال چلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ گاؤں کے موچی سے جوتا سلوانا اس کی مجبوری ہے۔ کیوں کہ ایک بار غلطی سے وہ انگریزی طرز کا جوتا خریدنے کے لیے شہر میں واقع جوتوں کی ایک بڑی دکان پر گیا۔ تو دکاندار نے اپنی دکان میں موجود سب سے بڑے سائز کا جوتا کمال مہارت اور محنت شاقہ سے اس کے پاؤں پر چڑھا کر اسے چلنے کے لیے کہا۔
جونہی خوشیا نے دو قدم اٹھائے۔ تو اس کے پاؤں میں چڑھا ہوا جوتا بھی دو حصوں میں منقسم ہو کر اس فانی دنیا کی بے ثباتی کا منہ چڑانے لگ گیا۔ یہ الگ داستان ہے۔ کہ وہ کس طرح دکان دار سے جان چھڑوا کر واپس گاؤں پہنچا۔ جو اپنے جوتے کی اس بری طرح ٹوٹ پھوٹ پر اس سے اس کی قیمت کا تقاضا کر رہا تھا۔ بہرحال وہ دن اور آج کا دن، اس نے آئندہ کبھی بھی انگریزی طرز کا جوتا خریدنے کے تصور سے بھی توبہ کر لی تھی۔
کیوں کہ ایک بار غلطی سے وہ انگریزی طرز کا جوتا خریدنے کے لیے شہر میں واقع جوتوں کی ایک بڑی دکان پر گیا۔ تو دکاندار نے اپنی دکان میں موجود سب سے بڑے سائز کا جوتا کمال مہارت اور محنت شاقہ سے اس کے پاؤں پر چڑھا کر اسے چلنے کے لیے کہا۔ جونہی خوشیا نے دو قدم اٹھائے۔ تو اس کے پاؤں میں چڑھا ہوا جوتا بھی دو حصوں میں منقسم ہو کر اس فانی دنیا کی بے ثباتی کا منہ چڑانے لگ گیا۔ یہ الگ داستان ہے۔ کہ وہ کس طرح دکان دار سے جان چھڑا کر واپس گاؤں پہنچا۔ جو اپنے جوتے کی اس بری طرح ٹوٹ پھوٹ پر اس سے اس کی قیمت کا تقاضا کر رہا تھا۔ بہرحال وہ دن اور آج کا دن، اس نے آئندہ کبھی بھی انگریزی طرز کا جوتا خریدنے کے تصور سے بھی توبہ کر لی تھی۔
وہ جدت پسندی نالاں و شاکی اور اپنی جدی پشتی روایات پر سختی سے کاربند ہے۔ اور غالباً اسی نظریے کے پیش نظر اس نے حجامت بنانے والے نئے اوزاروں کی خریداری کی کبھی بھی زحمت گوارا نہیں کی۔ ایک عدد آزمودہ استرا ایک کہنہ قینچی۔ ایک ٹوٹے دانتوں والا کنگھا، ایک بال اکھاڑنے والی مشین، اور ایک عدد ناخنوں سے خون نکالنے والی بل کھاتی ہوئی اوزار نما سی سلاخ اس کی گچھی کی کل کائنات ہے۔ یہ اوزار اسے اپنے باپ سے ورثہ میں ملے تھے۔
اور غالباً اس کے باپ کو بھی یہ وراثت میں ہی ملے ہوں گے ۔ اس لیے ان کی حفاظت کے سلسلہ میں وہ بڑا محتاط رویہ رکھتا ہے۔ ان اوزاروں کو سان پر تیز کروانا تو بہت دور کی بات ہے۔ وہ تو گھسنے کے خوف سے انہیں اپنی گچھی میں پڑی ہوئی پتھری پر بھی تیز کرنے سے احتراز کرتا ہے۔ انتہائی ناگزیر حالات میں وہ اپنی دیسی کھال کی بنی ہوئی جوتی کو پاؤں سے نکال کر ہاتھ میں پہن لیتا ہے۔ اس پر تھوک لگا کر اسے گیلا کرتا ہے۔ پھر دوسرے ہاتھ میں اوزار پکڑ کر اسے اس گیلی جگہ پر تین چار بار رگڑ کر مطمئن ہوجاتا ہے۔ کہ مذکورہ اوزار کے تیز ہو جانے کا مطلوبہ ہدف حاصل کیا جا چکا ہے۔ یہ عمل بھی وہ محض تکلفاً اور کچھ لوگوں کی ظاہری تسلی کے لیے کرتا ہے۔ ورنہ اہل دیہات کو مونڈتے وقت وہ ان اوزاروں کی کارکردگی اور معیار پر تکیہ کرنے کی بجائے اپنی وراثتی فنی مہارت اور پہلوانی قوت پر زیادہ بھروسا کرتا ہے۔
یار لوگوں کا کہنا ہے۔ کہ شیو بناتے وقت وہ غیر مسلسل باتیں بھی کرتا جاتا ہے۔ مسلسل اس لیے نہیں۔ کہ وہ بات کرتے ہوئے ہکلاتا بھی ہے۔ ان باتوں کے دوران اس کے منہ سے ہونے والی بارش مخالف کے چہرے پر مسلسل برستی رہتی ہے۔ اور خوشیے کو یہاں پر پانی لگانے کی ضرورت سے بھی بے نیاز کر دیتی ہے۔ وہ اپنے مضبوط اور کھردرے ہاتھ سے مخالف کی شیو کو اس انداز سے رگڑتا ہے۔ کہ یوں محسوس ہوتا ہے۔ کہ شاید شیو کرنے کے لیے استرے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔
چہرے کی مناسب رگڑائی کے بعد خدا خدا کر کے شیو بنانے کا عمل شروع ہوجاتا ہے ۔ اس عمل میں بھی وہ مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی کی زندہ تفسیر بنا۔ اپنے فرسودہ استرے کی بجائے اپنی طاقت، قوت اور تجربے کو زیادہ بروئے کار لاتا ہے۔ شیو کرنے کے دوران جونہی مخالف کے چہرے پر کٹ لگتا ہے۔ وہ فوراً ہی پاس رکھی ہوئی پوٹلی سے اپلوں کی بنائی ہوئی تازہ راکھ کی چٹکی بھر کر زخم پر لگا دیتا ہے۔ استرا چلانے اور راکھ لگانے کا یہ عمل مسلسل تادیر جاری رہتا ہے۔
اور شیو بنانے والے کو تو یوں محسوس ہوتا ہے۔ جیسے کہ اس کی عمر کا ایک حصہ اس کام میں صرف ہو گیا ہے۔ اور جب خوشیا شیو کے اختتام کا اعلان کرتا ہے۔ تو شیو بنانے والے والے کے چہرے کو اس راکھ میں ڈھونڈ نکالنا ممکن نہیں رہتا۔ اس کا بال کاٹنے کا انداز بھی منفرد اور نرالا ہے۔ وہ اپنا پورا ہاتھ کھول کر حجامت بنوانے والے کے سر پر پھیلا دیتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے۔ کہ وہ اس ہاتھ کی مدد سے اپنے شکار کو قابو کرتا ہے۔
تاکہ وہ سر کو ادھر ادھر ہلانے پر قادر نہ رہے لیکن کچھ لوگ یہ گمان کرتے ہیں۔ کہ سر کے اوپر اپنا کھلا ہوا ہاتھ پھیلا کر وہ اس بات کا تعین کرتا ہے۔ کہ بالوں کی کٹائی کہاں تک کرنا ہے۔ اپنے ہاتھ کے نیچے آتے ہوئے بالوں کو چھوڑ کر بقیہ بالوں کو وہ اپنی وراثتی مشین سے کمال مہارت کے ساتھ مونڈ دیتا ہے۔ اور اس طرح بال کٹوانے والے کے سر پر صرف ہاتھ بھر رقبہ کے برابر ہی بال باقی بچتے ہیں۔ اس کی کہنہ مشین بالوں کو کاٹتی کم ہے اور کھینچتی زیادہ ہے۔ لیکن محجوم کے سر پر رکھا ہوا طاقت ور بھاری ہاتھ اسے ردعمل کے اظہار سے روکے رکھتا ہے۔ اور یوں وہ بے چوں و چرا اپنی حجامت کرواتا چلا جاتا ہے۔
آج کتنے خوشیے نائی ہیں۔ جو وطن عزیز کے لاچار اور بے بس عوام کو اپنے اپنے کند اوزاروں کی مدد سے مونڈنے میں مصروف ہیں۔ حج کے موقع پر قربانی کے بعد ہر حاجی کو لازماً بال منڈوانا ہوتے ہیں۔ وہاں پیشہ ور حجاموں کے علاوہ بے شمار ایسے لوگ بھی حاجیوں کو مونڈ رہے ہوتے ہیں۔ جن کے مطمح نظر صرف دس ریال کی وہ رقم ہوتی ہے۔ جو وہ ایک حاجی کو مونڈ کر اس سے وصول کرتے ہیں۔ ان غیر پیشہ ور اور ناتجربہ کار حجاموں کے ہاتھوں میں ہمہ قسم کے اوزار ہوتے ہیں۔
کسی کے پاس استرا ہے۔ تو کسی کے پاس سیفٹی ریزر کسی نے سر کنڈے کو چیر کر اس میں بلیڈ پھنسا کر اسے قابل استعمال بنایا ہوا ہے۔ اور کوئی ننگا بلیڈ لیے ہی انہیں مشق ستم بنا رہا ہوتا ہے۔ کسی کے ہاتھ میں آٹو میٹک ریزر ہے۔ تو کوئی صرف نصف بلیڈ کے ٹکڑے پر ہی گزارا کر رہا ہوتا ہے۔ مونڈنے والوں کی صحت پر اس بات کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ کہ وہ کس اوزار سے مونڈ رہے ہیں۔ لیکن جن حاجیوں کو مونڈا جا رہا ہوتا ہے۔ ان کی حالت قابل رحم ہوتی ہے۔
ان کے سروں پر جابجا خون نکل رہا ہوتا ہے۔ وہ سخت تکلیف، اذیت اور کرب کی حالت میں ہوتے ہیں۔ لیکن یہ نو مشق حجام خوشی خوشی اپنے اپنے شکاروں کی گنتی کرتے جاتے ہیں۔ اور اپنی جیبوں کو ریالوں سے بھرتے جاتے ہیں۔ کون کتنی تکلیف میں ہے۔ انہیں کن الفاظ سے یاد کرتا ہے۔ انہیں ان کی قطعی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ یہی کیفیت اس وقت وطن عزیز میں ہے۔ مختلف گروہ حکومتی سرپرستی میں اپنے اپنے کند اوزاروں سے قوم کو مونڈنے میں مصروف ہیں۔
بعد از ریٹائرمنٹ چیئرمین سینٹ کو دی جانے والی ذاتی مراعات کے متعلقہ پاس ہونے والا بل بھی اس کی ایک ادنیٰ سی مثال ہے۔ جسد قومی ان کہنہ مشق اور آزمودہ حجاموں کی کارروائی سے لہو میں نہایا ہوا ہے۔ اور آسمان پر غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے گدھ محو پرواز ہیں۔ اور حالات کی بہتری کے لیے دور دور تک امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی۔


