ڈاکٹر مبارک علی کی بینائی، پرویز ہود بھائی اور ہولی کا تہوار


اس دفعہ کا پروگرام "بیٹھک” جسے سید عمران شفقت ہوسٹ کرتے ہیں، بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ شریک گفتگو شرکاء نے پروگرام کا آغاز ایک المیہ سے کیا، جس کا تسلسل ہم ایک طویل عرصہ سے دیکھتے چلے آ رہے ہیں اور جو روز بروز بدتر سے بدتر ہوتا چلا جارہا ہے،وہ المیہ ہے ہماری "خرد دشمنی” کا رویہ۔
عقل و خرد سے سہمے ہوئے لوگ سچائی کے مختلف رنگوں سے گھبراتے ہیں، کیونکہ وہ ایک طرح کی سوچ اور فکر جسے بچپن سے حتمی سچائی کے طور پر ان کے ذہن میں فکس کر دیا گیا ہوتا ہے اسے ہی آخری سچّائی تسلیم کرنے لگتے ہیں اس لیے جو کوئی بھی جب ان کے تصورات کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ ان کی نظر میں گمراہ یا شیطان کا چیلا کہلاتا ہے۔
خوشیوں اور مختلف قسم کی رنگینیوں سے نامانوس معاشرے بےہودگی، رذیل ترین مکروہات، ٹھرک اور جنسی گھٹن کی آماجگاہ ہوتے ہیں۔  بدقسمتی سے اس قسم کے وحشی معاشرے حس لطافت جیسے حسین جذبات و احساسات سے بالکل ہی نابلد ہوتے ہیں۔
ایسے معاشروں میں پارسا قسم کے ٹھرکی جابجا ملیں گے، یہاں بے عقلوں کا راج ہوتا ہے اور عقل ہمیشہ راندہ درگاہ رہتی ہے اور عقل والے دربدر۔
 ثبوت کے طور پر قیصر راجہ اور ساحل عدیم کے یوٹیوب چینلز کی فالونگ ملاحظہ کی جاسکتی ہے جبکہ ان کے برعکس پروفیسر ہود بھائی، ڈاکٹر مبارک علی یا بلیک ہول چینلز کی فالونگ  دیکھ لیں ہماری ترجیحات کا جائزہ چند سیکنڈ میں واضح ہو جائے گا۔
المیہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اتنا زیادہ مذہبی ہونے کے باوجود بھی اخلاقیات کی ان بلندیوں کو نہیں چھو پایا جہاں آج وہ معاشرے پہنچ چکے ہیں جن کے صرف ہمیں ننگے جسم ہی دکھائی دیتے ہیں، اعلی اخلاقی اقدار نہیں۔
 ہم معاشرے کو ہر لحاظ سے مذہبی بنانے کے باوجود بھی گنتی کے چند ایسے لوگ پیدا نہیں کر پائے جنہیں معاشرے کے ماتھے کا جھومر کہا جاسکتا ہو مگر اہل کفار نے مذہب کو ہر انسان کا ذاتی فعل اور انتہائی نجی معاملہ قرار دیتے ہوئے ریاست کو مذہب سے الگ کر کے ایسے لاکھوں لوگ اپنے معاشرے کی سرزمین پر سجا دیے جنہیں واقعی سالٹ آ ف دی ارتھ کہا جا سکتا ہے۔
 ظاہر ہے قدرت بھی انہی کا ساتھ دیتی ہے جو اس سے اٹکھیلیاں کرتے رہتے ہیں، کائناتی پہیلیوں کو ڈی کوڈ کرتے رہنے کی ضد میں اپنی زندگیاں تیاگ دیتے ہیں، جن کی منزلوں کی شاہراؤں پر حتمیت یا فل اینڈ فائنل کی تختیاں نصب نہیں ہوتیں بلکہ وہ مسلسل چلتے رہنے اور نئے سے نئے حقائق کھوجتے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
 ہم ایسے معاشرے جہاں مذہبی مبلغین کو پبلک یونیورسٹیز میں بطور "آئیڈیل” کے مدعو کیا جاتا ہو وہاں ڈاکٹر مبارک علی اور پرویز ہود بھائی جیسوں کو کون پوچھے گا؟
 اس معاشرے کو شعور کی بینائی دیتے دیتے ڈاکٹر مبارک علی خود اپنی انکھوں کی بینائی گنوا بیٹھے، بدلے میں جو کچھ انہیں حاصل ہوا ہے ان کے چینل کی فالونگ اور پبلشرز کے سفاکانہ رویوں سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
 امداد سومرو نے بالکل درست کہا کہ "ڈاکٹر مبارک علی کی بینائی نہیں گئی بلکہ ہم ہی اندھے ہیں، صدیوں سے اندھے ہیں اور مستقبل بھی کوئی زیادہ روشن نہیں ہے”
 وجاہت مسعود کے مطابق "ہمارے قومی اخبارات کے اداریوں میں پروفیسر ہودبھائی کو "پروفیسر بے ہود بھائی” تک لکھا گیا”
 اب ایسے معاشروں میں جہاں حقیقی دانشوروں کا مذاق اڑایا جاتا ہو اور عقل کے نام پر شعبدہ بازیاں کرنے والوں یا اپنی چکنی چپڑی روحانی باتوں سے  معجزاتی کبوتر نکالنے والوں کو یونیورسٹیز میں بطور چیف گیسٹ بلایا جاتا ہو تو وہاں عقل والوں کی کون سنے گا؟
 ایسے معاشروں میں بڑے بڑے عہدوں پر آپ کو انتہائی چھوٹے قد کے لوگ ملیں گے جنہیں "فکری بونے” مخاطب کرنا زیادہ مناسب ہوگا، جو بظاہر تو پی ایچ ڈی ہوں گے مگر ان کی ذہنی سطح ایک مذہبی پیشوا سے زیادہ نہیں ہو گی۔  شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری جامعات میں پی ایچ ڈیز اسلامیات پڑھانے کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنے حقیقی سبجیکٹ کو نظر انداز کر دیتے ہیں، اس قسم کے مظاہر ہمیں اپنی جامعات میں جا بجا دکھائی دیں گے۔ جب جامعات کا یہ حال ہوگا تو سربراہان جامعات سے آپ "مختلف” کی کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟ کیا وہ عقلیت پسندی یا عقلی رویوں کو فروغ دیں گے؟
 جب جامعات میں عقیدت سکھائی جانے لگے گی تو پھر عقل و شعور کی مشکل ترین راہوں کا انتخاب کون کرے گا؟ اب عقیدت اور خرد پسندی کو ایک ساتھ کیسے نتھی کیا جا سکتا ہے؟
 دونوں کے بندوبست میں زمین آسمان کا فرق ہے، جہاں عقیدت سر جھکا دیتی ہے وہیں سے تو تشکیکیت کا اغاز ہوتا ہے، عقیدت تو سر تسلیم خم کرنا سکھاتی ہے جبکہ خرد سوالات کی صورت میں منطقی مباحثہ کرنا سکھاتی ہے اور نئے سے نئے چیلنج کے راستے ہموار کرتی چلی جاتی ہے۔
 اسی لیے تو ہمیں چیلنجنگ قسم کے لوگ قابل قبول نہیں ہوتے، کیونکہ وہ سوچنا اور ریزننگ کرنا سیکھاتے ہیں جبکہ ہمیں تو سدھایا جانا زیادہ پسند ہے اور سر پر ایک مستقل آ قا کا وجود، جس کے پیچھے ہم ریوڑ کی طرح چلتے رہیں، صدیوں سے جو چیز گھٹی میں پڑی ہوئی ہو اس سے چھٹکارا بھلا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟
 ایچ ای سی کا حال ہی میں جاری ہونے والا نوٹیفکیشن جسے بعد میں کم عقلی اور بے وقوفی کا مظاہرہ تصور کرتے ہوئے واپس لے لیا گیا، جس کے مطابق ہولی کے تہوار پر اس وجہ سے پابندی لگا دی گئی کہ "اس سے ہمارا تشخص متاثر ہوتا ہے”
 ظاہر ہے جیسا دیس ویسا بھیس، ایچ ای سی کی سربراہ جو کہ ایک خاتون ہیں اسی پسماندہ سماج کی نمائندہ ہیں، جو اسی گھسے پٹے سسٹم سے چھلنی ہو کر اس اہم مقام تک پہنچی ہیں وہ اپنے طور پر بھلا "مختلف” کیسے ہو سکتی ہیں؟ جو ان کے دماغ میں فیڈ ہو چکا ہے وہ اس کے خلاف بھلا کیسے جا سکتی ہیں؟
 فرحت ہاشمی کو سننے والا / والی بھلے پی ایچ ڈی ہو جائے کیا فرق پڑتا ہے؟
 ویسے اچنبھے کی بات نہیں ہے کہ وائٹ ہاؤس میں افطار پارٹی کی تقریب منعقد ہونے یا ہمارے کرکٹر محمد رضوان کی نیویارک کی گزرگاہ پر نماز ادا کر لینے سے کفار کا مذہب خطرے میں نہیں پڑتا جبکہ ہمارے ہاں ایک بالکل ہی بے ضرر سا ہولی کا تہوار منا لینے سے ہمارا مذہب اور تشخص دونوں خطرات میں گھر جاتے ہیں آخر ایسا کیوں؟
 یورپی ممالک میں ہمیں ہر طرح کی مذہبی ازادی چاہیے مگر اپنے دیس میں دوسرے مذاہب کے لوگ گوارا نہیں ہیں اور نا ہی ہم انہیں کسی بھی طرح کی مذہبی آزادی دینے کو تیار ہیں؟
 یہ منافقت کا کیسا معیار ہے کہ ہمیں اپنی اقدار یا بودوباش میں سچائی دکھتی ہے جبکہ دوسروں میں خامیاں ہی خامیاں؟
 دنیا کے سبھی تہوار ایک طرح سے خوشیوں کے اظہار کا ذریعہ ہوتے ہیں جنہیں صدیوں سے دنیا بھر کے مختلف انسان اپنے اپنے طور طریقوں سے مناتے چلے آ رہے ہیں اور یہ تہوار انسانوں کا مجموعی ورثہ کہلاتے ہیں۔
 اب ان تہواروں میں اپنے جھوٹے یا کھوکھلے تفاخر کو قائم رکھنے کے لیے تعصب چھاننا اور خواہ مخواہ انسانوں کے بیچ نفرتوں کی دیواریں کھڑی کرنا کوئی دانشمندانہ رویہ نہیں ہوتا بلکہ ایک طرح سے بیمار ذہنیت کی عکاسی ہوتا ہے اور اج کی دنیا میں اس قسم کی بیمار ذہنیت کے ساتھ آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔
 رونگ نمبرز میں گھرے سماج میں بھلا جینوئین یا ریشنلٹی کو ترویج دینے والے کیسے پنپ سکتے ہیں؟
 ویسے بھی جس سماج کو جعلی پن یا شعبدہ بازی کی لت لگ جائے انہیں کھرا پن ہضم نہیں ہوتا۔
Facebook Comments HS