کرنسی کے جال سے کیسے باہر نکلا جائے؟


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی اسکول میں دس کمرے تھے اور ہر جماعت میں بیس بچے پڑھتے تھے۔ تمام بچے ہم عمر تھے اور ہر ایک بچہ امیر کبیر گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ ویسے تو اور بھی کئی ایسے اسکول تھے جہاں امیر گھرانوں کے بچے پڑھتے تھے لیکن اس اسکول کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں پڑھنے والا ہر بچہ اپنے ہمراہ سونے اور چاندی کے سکے لاتا تھا۔ گیارہ بجے بریک ہوتی اور تمام بچے اپنے سونے اور چاندی کے سکے لے کر کینٹین چلے جاتے اور ان سکوں کے عوض برگر، جوس، چپس اور دیگر من پسند چیزیں لے کر مزے سے کھاتے۔ اسکول کی انتظامیہ مطمئن تھی۔ سب اچھا چل رہا تھا۔

اچانک ایک عجیب واقعہ ہوا۔

اسکول کی ہر جماعت میں ایک موٹا بچہ داخل ہوا۔ ہر موٹا بچہ بہترین انگریزی بولتا تھا۔ سنہرے بال، نیلی آنکھیں، گھر سے پینے کا پانی اور بلوریں گلاس ساتھ لاتا تھا۔ دراصل یہ دس موٹے بھائی تھے جو ہم عمر تھے اور جن کی شکلیں آپس میں بہت ملتی تھیں۔ انھیں پہچاننا مشکل ہوتا تھا۔ سب ایک جیسے لگتے تھے۔ ہر موٹا بچہ لڑائی بھڑائی میں بھی ماہر تھا اور ذہانت بھی خوب تھی۔ یہ موٹے بچے دراصل اسکول کی کینٹین والے بوڑھے بابا کے دس لڑکے تھے۔ بوڑھا بابا کافی عرصے سے اسکول کی کینٹین چلا رہا تھا۔ وہ نہایت کامیاب بزنس مین تھا۔ امیر گھرانوں کے بچے جلد ہی ان موٹے بچوں میں گھل مل گئے۔ ایک دن ایک موٹا بچہ اپنے ساتھ کاغذ کی بہت ساری پرچیاں لایا۔ اس نے بچوں سے کہا کہ دیکھو! سونے چاندی کے سکے اٹھانا کس قدر مشکل کام ہے۔ تم لوگ نفیس طبیعت کے مالک ہو، تہذیب یافتہ ہو۔ یہ اجلے اجلے کاغذ ہیں۔ ایک سونے کے سکے کے بدلے میں کاغذ کی دو پرچیاں رکھ لو اور ایک چاندی کے سکے کے بدلے میں ایک پرچی لے لو۔ کینٹین میں ان ہی پرچیوں کو دے کر کھانے پینے کی اشیا خرید لیا کرو۔

کچھ بچے مان گئے، کچھ نے انکار کر دیا۔ جنھوں نے انکار کیا، موٹے بچوں نے انھیں قائل کیا۔ جو قائل نہ ہوئے، موٹے بچوں نے ان کی ٹھکائی کی اور انھیں خوفزدہ کیا۔ آخر کار سب بچے موٹے بچوں کی بات مان گئے۔ پھر بوڑھا بابا بچوں سے کاغذ کی پرچیاں لے کر انھیں کھانے پینے کی اشیا فراہم کرنے لگا۔ بچے روزانہ سونے چاندی کے سکے لاتے اور موٹے بچوں کو وہ سکے دے کر ان سے کاغذ کی پرچیاں لے لیتے۔ یہ کوئی خرید و فروخت نہ تھی۔ اسکول کے بچوں نے کاغذی پرچیوں کو سونے چاندی کے سکوں کا متبادل تسلیم کر لیا تھا۔

وقت گزرا تو اسکول کے بچوں کو موٹے بچوں نے ایک آفر دی کہ اگر وہ پورے سال کے سونے چاندی کے سکے انھیں لاکر دے دیں تو وہ بدلے میں انھیں اتنی تعداد میں کاغذ کی پرچیاں مل جائیں گی۔ کچھ بچے مان گئے، کچھ نہ مانے۔ موٹے بچوں نے پچھلے طریقے پر عمل کیا اور سب کو اپنی آفر پر راضی کر لیا۔ اگلے روز اسکول کے بچے پورے سال کے سونے چاندی کے سکے لے آئے اور اس کے بدلے میں انھیں کاغذ کی پرچیاں مل گئیں۔

کچھ ہفتوں بعد موٹے بچوں نے اسکول تبدیل کر لیا لیکن بوڑھا بابا کینٹین چلاتا رہا۔ اسکول کے بچے مطمئن تھے کہ چلو کوئی بات نہیں! بوڑھا بابا تو کاغذ کی پرچیوں کے بدلے انھیں کھانے پینے کی چیزیں بخوشی دیتا ہے۔ پھر غم کس بات کا۔ ایک دن بوڑھے بابا نے بچوں سے کہا کہ وہ پہلے کاغذ کی ایک پرچی کے بدلے میں انھیں جوس یا چپس دیتا تھا، لیکن کل سے دو پرچیوں کے بدلے میں ہی کوئی چیز ملے گی۔ کچھ بچوں نے اسی روز کافی سارے جوس اور چپس خرید لیے لیکن دیگر بچوں کو تو سونے چاندی کے سکے اٹھانا ہی مشقت معلوم ہوتا تھا، وہ ڈھیر سارے جوس اور چپس کے ڈبے کیسے اٹھاتے۔ غرض اگلے روز تبدیلی آ گئی۔ کینٹین میں کسی بھی چیز کی قیمت اب کاغذ کی ایک پرچی کے بجائے دو پرچیاں تھیں۔

بوڑھا بابا روزانہ پرچیوں کی تعداد کو بڑھانے لگا۔ اگلا مہینہ شروع ہوا تو ایک جوس کا ڈبہ کاغذ کی تین پرچیوں کے عوض ملنے لگا۔ دو ماہ بعد وہی جوس کا ڈبہ چار پرچیوں کے عوض ملنے لگا۔ جب میں اس اسکول میں داخلے کی معلومات کے لیے گیا تھا تو ایک جوس کا ڈبہ کاغذ کی تین سو پرچیوں کے عوض مل رہا تھا۔ یہ کاغذ کی پرچیاں صرف اسکول کی کینٹین میں چلتی تھیں۔ اسکول سے باہر ان پرچیوں کی وہی قیمت تھی جو کسی عام کاغذ کی ہوتی ہے۔ کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔

آج امریکی ڈالر کے مقابلے میں کچھ ممالک کا روپیہ، بالکل اسی موٹے بچے کی کاغذ کی پرچیاں معلوم ہوتا ہے۔ جن ممالک میں روپیہ بہ طور کرنسی استعمال ہوتا ہے، یوں لگتا ہے کہ ان میں سے کچھ ممالک میں اوپر بیان کردہ موٹے بچے کی مانند کوئی انھیں کاغذ کی بہت ساری پرچیاں تھما گیا ہے جو صرف ان ہی ممالک کی حدود میں لین دین کے لیے استعمال ہوتی ہیں اور جس کا دنیا بھر میں وہی بھاؤ ہے جو کاغذ کا بھاؤ ہے۔ اوآنڈا کرنسی کنورٹر (OANDA Currency Convertor) کے مطابق آج ایک امریکی ڈالر کی قیمت کم و بیش 14 سیشل روپیہ، 44 ماریشس روپیہ، 82 بھارتی روپیہ، 130 نیپالی روپیہ، 288 پاکستانی روپیہ اور 308 سری لنکن روپیہ ہے۔ تین ماہ قبل ایک امریکی ڈالر کی قیمت کم و بیش 13 سیشل روپیہ، 45 ماریشس روپیہ، 83 بھارتی روپیہ، 129 نیپالی روپیہ، 281 پاکستانی روپیہ اور 320 سری لنکن روپیہ تھی۔

روپے کے بدلے ڈیجیٹل کرنسی جاری کرنے میں ہر بینک کو ہچکچاہٹ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان ممالک کے مرکزی بینک اور مرکزی حکومتیں آپس میں مربوط نہیں ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اس موٹے بچے کا سراغ ملتا ہے جو ان میں سے چند ممالک کو کاغذ کی پرچیاں تھما گیا ہے۔ لیکن اس مسئلے سے نکلنا اور اپنی کرنسی مضبوط کرنا انتہائی آسان ہے۔

لین دین میں کسی بھی ٹرانزیکشن کو اگر اکثریت تسلیم کر لے، یعنی رائے شماری (Consensus) میں اگر پچاس فیصد سے زائد ووٹ یا ساٹھ فیصد ووٹ اس ٹرانزیکشن کے حق میں ہوں تو اس ٹرانزیکشن کو لین دین کے نیٹ ورک پر تسلیم کر لیا جاتا ہے اور باقی تمام افراد، جنھوں نے رائے شماری میں اسے تسلیم نہیں کیا تھا، وہ بھی اسے تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ افراد کی تعداد کی اس خاص ویلیو کو Mining Diversity کہا جاتا ہے، مثلاً ساٹھ فیصد، ستر فیصد، وغیرہ۔ یہ حقیقت ہے کہ علامہ اقبالؒ کا عالم گیر فلسفہ تو ہر ایک کی سمجھ میں نہیں آتا لیکن اقبال کا فلسفۂ حیات ہی اس موٹے بچے کی کاغذ کی پرچیوں اور کینٹین چلانے والے اس بوڑھے سرمایہ دار سے محفوظ رہنے کا واحد نسخہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ نیل کے ساحل سے تا بہ خاک کاشغر، اگر تمام کرنسیوں کو ایک واحد کرنسی میں ڈھال لیا جائے جیسے یورو کرنسی ہے۔ یہ واحد کرنسی ایک مقدس گائے ہوگی، یعنی تمام تر تنقید سے بالاتر۔ اور پھر اس واحد کرنسی کو امریکی ڈالر، برطانوی پاؤنڈ، اور یورو وغیرہ کی موجودہ قیمت پر باندھ لیا جائے جیسے 1960 ء کی دہائی میں خلیجی روپیہ ختم ہو گیا اور کویتی دینار، بحرینی دینار، قطری ریال اور عمانی ریال جاری ہونے لگے اور اس وقت کے برطانوی پاؤنڈ اور امریکی ڈالر کی قیمت پر بندھ (pegged) گئے تھے، تو آدھا عمل پورا ہو جائے گا۔ اگلا مرحلہ اس واحد کرنسی کو ساٹھ فیصد رائے شماری سے تسلیم کرنے کا ہے۔ یہ رائے شماری صرف ترقی پذیر ممالک کے مابین ہوگی جن کی کرنسیاں کاغذ کی پرچیاں ہیں۔ لیکن ایک اہم بات بلکہ لازمی اقدام یہ ہے کہ اس رائے شماری سے قبل تمام ترقی پذیر ممالک کو اپنی صفوں سے نفرتوں کا خاتمہ کرنا ہو گا اور رنگ، نسل، مذہب اور قومی شناخت سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کی عزت اور احترام کو لازمی بنانا ہو گا۔ جب ہی اس واحد کرنسی کو تسلیم کرنے میں طاقت ور کرنسیوں کی جانب سے ہونے والی ممکنہ مخالفت کا سامنا کیا جا سکے گا۔

یاد رہے، طاقتور کرنسیوں کا مقابلہ نہیں کرنا، صرف ان کا سامنا کرنا ہے۔ اور وہ بھی پورے اطمینان اور تحمل کے ساتھ۔ طاقتور کرنسیاں وہی دس موٹے بچے ہیں جن کا بوڑھا بابا کینٹین چلا رہا ہے۔ بوڑھے بابا نے جوس اور چپس کی قیمت بڑھائی تھی، لیکن بچوں نے کاغذ کی پرچیوں کے ساتھ جوس اور چپس کی قیمت کو نہیں باندھا تھا بلکہ بوڑھے بابا کا فیصلہ قبول کر لیا تھا۔ اسکول کے بچے مجبور تھے کیوں کہ ان کے پاس کاغذ کی پرچیوں کے علاوہ اور کوئی ایسی چیز نہ تھی جس کے بدلے وہ کھانے پینے کی چیزیں خرید سکتے۔ لیکن ترقی پذیر ممالک کی کرنسیوں کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہے۔ مثالیں موجود ہیں کہ طاقتور کرنسیاں بھی خود کو کمزور کرنسی کے ساتھ باندھ سکتی ہیں۔ یہی کام روپے اور دیگر کمزور کرنسیوں کو ایک نئے طریقے سے کرنا ہے۔ یعنی ایک واحد کرنسی بنا کر اسے طاقتور کرنسیوں کی موجودہ قیمت سے خود ہی باندھ لینا ہے۔ خلیجی ممالک نے اپنی کرنسیوں کو طاقتور کرنسیوں کے ساتھ باندھ رکھا ہے لیکن یہ ان کا ذاتی فعل نہیں ہے اور بنیادی طور پر ان کی تمام کرنسیاں ایک ہی کاغذ کی مختلف النوع پرچیاں ہیں۔ صرف ظاہراً کسی کی قیمت زیادہ ہے اور کسی کی کم، ورنہ اشیائے صرف کے قیمتوں کے حساب سے ان تمام کرنسیوں کی، خواہ وہ ریال ہو، درہم ہو یا دینار، ایک ہی حیثیت ہے۔

اب سب سے آخری مرحلہ آئے گا اور وہ ہے اس واحد کرنسی کو تسلیم کرنے کا۔ اس کے لیے اتحاد، محبت اور برداشت کا مظاہرہ کرنا ہے، اور وہ بھی صرف اپنی اپنی ذات کی حد تک۔ طاقت ور کرنسیوں سے کوئی خطرہ نہیں ہے اور نہ ہی ان سے جنگ کرنی ہے۔ بلکہ جنگ تو آپس کی نفرت سے کرنی ہے۔ اس نفرت کو محبت میں بدل کر اگر رائے شماری کی جائے تو ساٹھ فیصد کیا، سو فیصد Mining Diversity سے اس واحد کرنسی کو تسلیم کر لیا جائے گا۔ طاقتور کرنسیاں اپنی موجودہ طاقت اور قیمت کو تسلیم کرنے کے عمل پر راضی ہونے میں کچھ دیر نہیں لگائیں گی اور یوں ان کی قیمت بڑھنے کا عمل رک جائے گا۔ اب تمام ممالک اسی واحد کرنسی کو اپنا لیں۔

اس سے مہنگائی کم تو نہیں ہوگی، البتہ مہنگائی بڑھنا ضرور رک جائے گی۔ ویسے بھی اگر کوئی کمزور کرنسی یہ خواب دیکھ رہی ہے کہ کسی طاقت ور کرنسی کی قیمت میں حیرت انگیز کمی واقع ہو جائے گی تو وہ پہلے یہ معلوم کرے کہ وہ کمزور ہی سہی لیکن کرنسی ہے یا محض کاغذ کی پرچی، جس کی قیمت طاقتور کرنسیاں اور پوری دنیا میں چلنے والے ان کے مرکزی بینک طے کرتے ہیں۔ ایسا خواب تو کسی دیوانے کا خواب ہی کہلائے گا۔ یہ بھی ناممکن ہے کہ روٹی پچیس روپے کے بجائے دس روپے کی ملنے لگے۔ البتہ دو سو پچاس روپے کلو والی پیاز کچھ عرصے بعد پچاس روپے میں مل سکتی ہے کیوں کہ اس کی پیداوار اگرچہ طاقت ور کرنسی سے مشروط ہے تاہم یہ مصنوعی مہنگائی ہے جو چند انسان خود پیدا کرتے ہیں۔ اس میں طاقت ور کرنسیاں ملوث نہیں ہوتیں۔ ایک مثال سے اس بات کو سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر بیس روپے والی روٹی کی قیمت پانچ روپے بڑھتی ہے تو اس حساب سے دو ہزار میں ملنے والے کیک کی قیمت میں پانچ سو روپے کا اضافہ ہونا چاہیے لیکن اضافہ صرف ایک سو یا دو سو روپے کا ہوتا ہے۔ اسے مصنوعی مہنگائی کہتے ہیں۔

سیلاب کے آگے سب سے پہلے اگر کسی طرح بند باندھ دیا جائے تو اس کے مزید ممکنہ نقصان سے بچا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد اسی پانی سے نہریں نکلتی ہیں۔ بجلی بنتی ہے۔ یعنی اس سیلاب کی طاقت کو اپنے حق میں استعمال کیا جائے۔ یہ کام بہت آسان ہے۔ بس اقبال کے پیغام کو درست طریقے سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ طاقتور کرنسیاں ناراض بھی نہ ہوں، اور آپس کی نفرت اور غربت بھی ختم ہو جائے۔ اس کے لیے تمام ترقی پذیر ممالک کو پہلے مرحلے میں متحد ہو کر ایک صفحے پر آنا ہو گا، پھر کرنسی بنانی ہوگی اور پھر اسے مل کر تسلیم کرنا ہو گا۔

Facebook Comments HS