بے وفا – پنجابی سے ترجمہ


کوئی نہ کوئی بیماری ہوتی ہے ہر بندے کو میرا مطلب جسم سے نہیں روح سے ہے۔ جیسے مجھے نئی سے نئی عورتوں سے ملنے کا ٹھرک ہے۔ ایک خاص کشش ایک عجیب خوشی انوکھا مزا۔ خاص طور پر ایسی عورتیں جن سے کوئی جان پہچان نہ ہو اور بھی کر لیتا ہوں اگر دل بے ایمان ہو جائے لیکن زیادہ نہیں۔ لیکن یہ عجیب تجربہ ہے کئی دفعہ رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔

لیکن اب ایسی عورتیں کہاں سے ملیں، شہر بھرا ہوا ہے بس ذرا آنکھوں کی پتلیوں کو گردش دینے کی ضرورت ہے اگر آپ کو شہر کے رش والے بس سٹاپ سے نسبتاً پرسکون گوشے میں ایسی عورت نظر آئے جس نے کالا سیاہ برقع پہنا ہو جو جسم کو چھپانے کی بجائے اس کے خد و خال نمایاں کرے جسم کی ایک ہرسی بنتی ہو جو کوئی خاص اشارہ دے رہی ہوں تو آپ اسے مل سکتے ہیں۔

ان کا ہار سنگھار بے باک ہوتا ہے۔ کلائیاں بھر بھر کے رنگ برنگی چوڑیاں، آرٹیفیشل کڑے میں آرٹیفیشل لاکٹ، مٹتی ہوئی نیل پالش، گہری بیس اور سرخ لپ اسٹک اور نقاب سے جھانکتی کا جل دار آنکھیں۔ رکشے، ٹیکسی کچھ کاروں والے زیادہ موٹر سائیکل والے سپیڈ آہستہ کر کے اک اڑتی نظر ڈال کر گزرتے ہیں۔ اگر آپ کچھ حوصلہ کریں پاس گاڑی بھی ہو تو ایک دو منٹ انتظار کرنے کے بعد یہ عورتیں فرنٹ سیٹ پر آ کر خود طور بیٹھ جاتی ہیں۔

کھلاڑی تو ان کو دور سے ہی پہچان لیتے ہیں جیسے ہی نگاہیں ملتی ہیں سر سے خفیف سا اشارہ کرتی ہے اور تھوڑا آگے جا کے گاڑی رک جاتی ہے۔ یہ پیچھے سے تیز تیز چلتی آ کے گاڑی میں بیٹھ جاتی ہے اور گاڑی شہر میں گم ہو جاتی ہے۔ اگر سودا نہ ہو تو اگلا سٹاپ آخری سٹاپ ہوتا ہے۔

کچھ کے پاس اپنے ٹھکانے ہوتے ہیں لیکن زیادہ تر گاہک کے رحم و کرم پر ہوتیں ہیں۔ یہ عورتیں کون ہیں؟ کوئی بھی نہیں۔ کہاں سے آتی ہیں؟ کہیں سے بھی نہیں۔ میں بھی شاید کبھی خیال نہ کرتا اگر مجھے شہلا نہ ملتی۔ شہلا کون سی؟ کوئی بھی نہیں۔ کہاں رہتی تھی۔ کہیں بھی نہیں۔ ہاں بھائی سے آگے اک بس سٹاپ پر الگ تھلگ کھڑی پہ کبھی کبھار نظر پڑ جاتی۔ وہی بے باک ہار سنگار، اس کا جسم سٹدول نہیں تھا اس لیے برقعے کو اپنے اردگرد اس طرح سے لپیٹا ہوا تھا کہ مطلوبہ مقصد بمشکل حاصل ہوتا نظر آ رہا تھا، میں نے بھی اسے بس ایک دفعہ ہی اپنے ساتھ بٹھایا تھا۔

میں اسے اپنی نظر میں رکھا ہوا تھا۔ لیکن ٹائم نہ ہونے کے باعث کبھی گاڑی کو بریک نہ لگائے۔ ایک دفعہ پاؤں نے خود ہی بریک پہ وزن بڑھا دیا۔ مجھے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ بعض اوقات یہ اپنے ریگولر کسٹمرز کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں۔ اس لیے ہر کسی کے ساتھ نہیں جاتیں۔ گاڑی رکتے ہیں میں نے فرنٹ ڈور کھولا وہ جھٹ سے آ بیٹھی اگلے پچھلے رکشے ٹیکسی والے مونچھوں کو تاؤ دیتے کمینی سی ہنسی ہنستے رہے۔

تھوڑا آگے جا کر میں نے پوچھا!
کہاں جانا ہے؟
نسبت روڈ۔
کوئی ٹھکانہ ہے پاس۔
ابھی تو نہیں تین بجے کے بعد دوپہر میں۔

اس نے چہرہ ابھی بھی ڈھانپا ہوا تھا۔ گہرے سرخ رنگ کی ساٹن کی شلوار پر گہری سرخ پھولوں والی قمیض پہنی ہوئی تھی۔ اس قبیل کی ساری عورتیں یہی رنگ پہنتی ہیں۔ گلے سے برقعے کے دو تین بٹن کھلے ہوئے تھے ( یہ ان کی نشانی ہے ) میں آہستہ سے اس کا ہاتھ دبایا۔

آپ کے ہاتھ بہت ٹھنڈے ہیں
اس نے اک خاص ادا سے سیٹ پر ملتے ہوئے کیا
”ہاں“ کہہ کر میں ہاتھ ہٹا لیا۔

”دیدار نہیں کرواؤ گے“ میں نے خاموشی سے شکاف کیا۔ کرواتی ہوں جو چاہے دیکھ لینا، سارا کچھ آپ ہی کا ہے۔ یہاں سب دکانوں والے مجھے جانتے ہیں تھوڑا آگے جا کر۔

تھوڑا آگے جا کے اس نے منہ سے نقاب اتار دیا وہ میرے دل کو نہ بھائی میں نے سوچا اسے کچھ دے دلا کر فارغ کردوں، اس کے چہرے پر اس کا پیشہ نظر آ رہا تھا۔ لگتا تھا اب یہ چہرہ بھی اس کا ساتھ دے دے کر تھک چکا ہے۔ جیسے اس قماش کی سب عورتوں کے چہروں کے ساتھ اک عمر میں جا کر ہوتا ہے، ویسا ہی تیز تیز، بے باک بولنا اور لفظوں سے شہرت کو ہوا دینا۔ میری خاموشی سے وہ بولی۔

اور بھی لڑکیاں ہیں جتنی چاہیں گے مل جائیں گی۔
تمہارا نام کیا ہے؟
شہلا۔
آپ کی گاڑی کس قدر گندی ہے۔ صفائی کیوں نہیں کرواتے۔ اور کتنے یار ہیں تمہارے۔
(میرے جیسا ہر مرد ایسی عورت سے یہ سوال ضرور کرتا ہے اور سب کا جواب ایک ہی ہوتا ہے )
کوئی بھی نہیں آپ بن جائیں
یہ لوگ اتنا سڑتے کیوں ہیں؟
کیا مطلب

ذرا تیار ہو میک اپ کر لو ایسے دیکھیں گے۔ تو یہ۔ جاہل۔ پینڈو۔ انسان اپنی مرضی سے کچھ کر ہی نہیں سکتا کوئی ملنے والا آ جائے تو دیکھتے رہتے ہیں۔ آپ کے خیال میں کہاں رہنا چاہیے۔ جہاں کوئی نہ دیکھے انسان سکون کی سانس تو لے۔ شہر کے باہر رہیں تو چوری کا ڈر کوئی آئے اور مار ہی دے۔ پھر بندہ لوگوں کی نظروں میں بھی آ جاتا ہے۔ میں نے شاہد ر ایک کمرہ لیا ہوا ہے لیکن وہاں ہر کوئی ٹوہ وچ رہندہ اے۔ میری خواہش اے امریکہ چلی جاؤ وہاں بہت آزادی ہے جیسا مرضی کپڑا پہنو نہ پہنو، مجھے ساڑھیاں پہننے کا بے حد شوق ہے میری الماری کپڑوں سے بھری ہوئی ہے۔ کبھی شام کو آئے نہ۔ تم اکیلی رہتی ہو؟ نہیں ایک اور لڑکی بھی ساتھ رہتی ہے۔ میں پسند نہیں آئی تو اور مل جائیں گی۔

تمہاری عمر کتنی ہے؟
آپ کو کتنی لگتی ہے۔
یہی کوئی تیس، پینتیس

نہیں اس سے کم ہے جب میرا شوہر مر گیا تو بچوں کا بوجھ، گھر میں بھوک ناچنے لگی تو بیماری بھی آ گئی جس سے میں عمر میں بڑی لگنے لگی۔

اب نسبت روڈ قریب تھا اسے محسوس ہوا میں اسے یہاں اتار دوں گا۔ ذرا بریک تو لگائیں کچھ پھل فروٹ تو لے لیں۔

نسبت روڈ کہاں؟

اوس نے ایک گلی کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے گاڑی گلی کی طرف موڑ لی۔ گلی کی نکر پر پان سگریٹ کا کھوکھا جس کے پاس کھڑے لڑکوں نے ہمیں جانچتی ہوئی نظروں سے دیکھا۔ گلی کے ایک موڑ پہ اس نے کہا بس ادھر ہی۔

جب آپ نے ”کچھ“ کرنا ہی نہیں تھا تو ایسے ہی میرا وقت ضائع کیا۔
کتنے پیسے لیتی ہو۔
جتنی آپ کی مرضی ہو دے دینا، اگر آپ خوش ہوئے تو۔
پھر بھی۔
پانچ سو
زیادہ نہیں

آپ دو سو دیے دیں آئیں نا 3 بجے کے بعد یہ ساتھ والی گلی ہے نا۔ اس سے آگے ایک کالا دروازہ ہے وہ ہمارا گھر ہے۔ کتنے گھر ہیں تمہارے شاہدرے بھی ہے، یہ بھی ہے، اب کچھ تو دیں میں تو صبح سے بھوکی ہوں، میں نے اسے کچھ پیسے پکڑا دیے وہ خوش ہوگئی اسے امید نہیں تھی کہ پیسے ایسے مل سکتے ہیں۔ جلدی سے گاڑی سے اتری اور تیز تیز چلتی کسی اور گلی میں مڑ گئی۔ مجھے بتایا کہیں اور جا کہیں اور رہی تھی۔ کچھ دیر میں اسے کھڑا دیکھتا رہا اس کی چال بھی ویسی ہی تھی جیسی اس طرح کی عورتوں کی ہوتی ہے۔

اسکے بعد بھی وہ مجھے نظر آتی رہی۔ لیکن نہ اس نے میری طرف دیکھا اور نہ ہی میں نے بریک لگائی۔ میں جانتا تھا کہ اگر میں رکا بھی تو وہ نہیں بیٹھے گی۔ ہم دونوں بھی ایک دوسرے کو پہچان گئے تھے یہ کہانی تو ہوئی تو ہوئی اجنبیوں کی ہے، سارا مزہ ہی اجنبیت میں ہے۔ اک پرائی اجنبی عورت آپ کے ساتھ ہے جو چاہے کریں جیسا چاہے مزہ لیں۔

وہ رستہ میرا گزر گاہ ہے لیکن کافی عرصہ وہ مجھے نظر نہ آئی۔ آج خراب موڈ کے ساتھ میں نے دکان کھولی، لڑکا صفائی کرنے لگ گیا۔ لوہے کا کام بندے کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔ روز ایک جیسا کام۔ روز کا وہی شور، وہی بک بک۔ آتے ہی خبر ملی بھاؤ گر گیا جس دن مال بیچ دیں اس سے اگلے دن بھاؤ بڑھ جاتا ہے۔ اخبار پڑھتے ہوئے میری نظر ایک خبر پر پڑی۔

پاک کالونی میں شادی شدہ عورت کی پر اسرار موت، شہلا گھر میں اکیلی رہتی تھی۔ خاوند کبھی کبھار ملنے آتا، ناک آنکھوں اور کمر پر تشدد کے نشان تھے۔ میں نے دماغ پر زور ڈالا تو نام کے ساتھ ساتھ مجھے سارا کچھ یاد آ گیا۔ میں جلدی سے ساری خبر پڑھتا ہوں۔

لاہور (خاص رپورٹر سے ) پاک کالونی رحمت پارک میں ایک شادی شدہ عورت شہلا عرف ببو پر اسرار حالت میں اپنے بیڈروم میں مردہ پائی گئی اس کا خاوند اس سے کبھی کبھار ملنے آتا تھا۔ وہ گھر میں اکیلی رہتی تھی اس کا خاوند ملنے آیا دروازے پر دستک دی لیکن اندر سے کوئی جواب نہ پاکر اہل محلہ سے پوچھا انھوں نے بتایا کہ اس گھر سے تو بدبو آ رہی ہے پولیس موقع واردات پر پہنچی تو دیکھا شہلا کی لاش گل سڑ چکی تھی۔ اس کے ناک پر تشدد کے نشانات تھے۔

میں بار بار اس خبر کو پڑھ رہا تھا۔ ایسی عورتیں کبھی بھی اپنا نام ٹھیک سے نہیں بتاتی لیکن اس نے مجھے اپنا ٹھیک نام بتایا تھا، میں یہ بھی جانتا ہوں کہ خبر میں بتائی گئی جگہ شاہدرے ہی کی کوئی گلی کوئی بستی ہوگی۔ میں اب شکر ادا کرتا ہوں کہ اس جگہ نہیں گیا۔ اگر مجھے بھی کوئی مار دیتا۔ آہ۔ میں نے سکھ کا سانس لیا۔ لیکن کہاں کبھی کبھار مجھے خواب آتے ہیں نظر کچھ نہیں آتا۔ لیکن آواز آتی ہے، آپ کے ہاتھ بہت ٹھنڈے ہیں، اور مجھے بو سی آتی ہے میں سوچتا ہوں نجانے مجھے اب یہ کون سی بیماری لگ گئی ہے میرا مطلب تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے ۔ ہے نا۔

Facebook Comments HS

One thought on “بے وفا – پنجابی سے ترجمہ

  • 28/06/2023 at 12:06 صبح
    Permalink

    اللہ تعالٰی آپ کے قلم کی وسعت کو اور آپ کے الفاظ کے چناؤ میں مزید برکتیں اور ترقیاں ڈالے ۔ اس طرح ہمیشہ سرخرو رہے بہت ہی عمدہ تحریر ہے آپ کی سلامت رہیں آپ نے آج کے معاشرے کے تلخ حالات اور واقعات پر روشنی ڈالی ہے

Comments are closed.