بجٹ
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کا بجٹ 9 جون کو پیش کیا اور 24 جون کو قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے اس کی منظوری دے دی۔ پاکستان میں وفاقی حکومت کے سالانہ بجٹ کی میعاد ہر سال 01 جولائی سے آئندہ سال کی 30 جون تک ہوتی ہے، اور اس ایک سال کو مالیاتی سال کہا جاتا ہے۔ آئندہ مالی سال کا دورانیہ 01 جولائی 2023 سے 30 جون 2024 تک ہو گا۔ فرد واحد یا ملک کی آمدن اور اخراجات کے خلاصے کو بجٹ کا نام دیا جاتا ہے، جس میں ایک یا ایک سے زیادہ ذرائع سے حاصل ہونے والی کمائی اور اس کے خرچ کا حساب رکھا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، بجٹ اس بات کا تخمینہ ہے کہ آپ ایک مخصوص سال میں کتنی رقم کمائیں گے اور اسی عرصے کے دوران اسے کیسے اور کہاں کہاں خرچ کریں گے۔ یہ امر اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ کمائی اور اخراجات کے درمیان توازن برقرار رکھنا یا کھو دینا زندگی کو آسائشوں یا مسائل سے دو چار کر سکتا ہے۔
وفاقی بجٹ کا کل تخمینہ 14 ہزار 480 ارب روپے ہے۔ آسان الفاظ میں یہ وہ رقم ہے جو وفاقی حکومت اگلے مالی سال میں خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ این ایف سی کے تحت 5 ہزار 390 ارب روپے صوبوں کا حصہ نکلتا ہے جبکہ سود اور قرضوں کی ادائیگی پر 7 ہزار 303 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ دفاعی ضروریات کے لیے 1 ہزار 804 ارب روپے مختص ہوئے ہیں۔ بقایا رقم پینشن ادائیگیوں اور ترقیاتی کاموں پر خرچ کی جائے گی۔ یوں آنے والے مالی سال میں پاکستان اپنی آمدن کا نصف سے زائد حصہ صرف قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کرے گا۔
اور اگر آمدن کی بات کی جائے تو سرکار نے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 9 ہزار 415 ارب روپے مقرر کیا ہے۔ سادہ الفاظ میں آمدن اور اخراجات میں لگ بھگ 7 ہزار ارب روپے کا فرق ہے۔ یہی فرق فسکل ڈیفیسٹ یا مالیاتی خسارہ کہلاتا ہے۔ پاکستان کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے 7 ہزار ارب کا قرض لینا ہو گا۔ یہ قرضہ اندرونی و بیرونی دونوں ذرائع سے لیا جاتا ہے مگر اس بجٹ میں دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے امداد ملنے کی امید کی وجہ سے دو عشاریہ چار ارب ڈالر کی متوقع امداد کو بھی آمدن میں شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ ابھی تک آئی ایم ایف کی جانب سے قرضہ جاری کرنے کا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔ یوں آئی ایم ایف سے ڈیل نہ ہونے کی صورت میں حکومت کے لیے کافی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
دنیا کے ہر ملک میں ہر سال حکومتی بجٹ پیش کیا جاتا ہے اور تقریباً ہر جگہ عوام بجٹ سے امیدیں لگاتے ہیں کہ اس کے باعث ان کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوں گی۔ ایک عام شخص کے لیے اچھا بجٹ یقیناً وہی ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں اس کی آمدن میں اضافہ اور اخراجات میں کمی واقع ہو، بے روزگاروں میں کمی آئے، صحت کی سہولیات بہتر ہوں، تعلیم سستی ہو اور ملک میں ترقی دیکھنے کو ملے۔ مگر کسی بھی کمزور معیشت میں بجٹ کا سب سے بڑا مقصد معاشی استحکام کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
معاشی ترقی یا گروتھ کا نمبر بعد میں آتا ہے۔ اسی طرح عوام کو ریلیف دینا بھی ایک چیلنج بن جاتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں ایک اچھا بجٹ وہی کہلائے گا جو ملک میں معاشی استحکام لانے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو ریلیف بھی مہیا کرے۔ کسی بھی حکومت کے لئے بجٹ بناتے وقت سب سے بڑا چیلنج ملکی معیشت اور شہریوں کے درمیان توازن پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اگر حکومت ٹیکس میں اضافہ کرے تو سرکار کی آمدن میں اضافہ ہوتا ہے مگر غریب عوام پر بوجھ آن پڑتا ہے۔ اگر سرکار ٹیکس اکٹھا نہ کرے تو اسے اپنا خرچہ نکالنے کے لئے بیرونی قرضوں کا سہارا لینا پڑتا ہے جو کہ مستقبل میں ٹیکس اضافہ کی مد میں پورے کرنے ہی پڑتے ہیں وگرنہ ملک دیوالیہ ہونے لگتا ہے۔
حالیہ بجٹ کی بات کی جائے تو اس میں بہت سے رسک فیکٹرز موجود ہیں جن سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ قرضوں پر بہت زیادہ انحصار کیا گیا ہے اور ہمیشہ کی طرح غریب شہریوں پر ٹیکس کا اضافی بوجھ ڈالا گیا ہے۔ حکومت کا ٹیکس ریونیو بڑھانا بہت ضروری ہے مگر ٹیکس نیٹ میں پہلے سے شامل لوگوں پر مزید بوجھ ڈالنے کی بجائے نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا چاہیے۔ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لئے ٹیکس دہندگان کو مزید سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔
یہ ٹیکس اصلاحات اور ٹیکس مشینری کو اوور ہال کیے بغیر ممکن نہیں ہے، نظام میں سٹرکچرل تبدیلیاں لانا بہت ضروری ہیں۔ ایف بی آر میں عملے اور وسائل کی کمی ہے، اس طرف بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ الیکشن سال میں پیش کیا جانے والا بجٹ اکثر سیاسی ہوتا ہے جو وقتی طور تو عوام کو ریلیف مہیا کرتا ہے مگر ملکی معیشت پر ہمیشہ برے اثرات چھوڑ جاتا ہے۔ ملکی خزانے میں اتنے پیسے نہیں ہوتے جتنا حکومت لوگوں کو دینے کا وعدہ اور ارادہ کر بیٹھتی ہے۔
اب اگر بجٹ کے مثبت پہلووں پہ بات کی جائے تو مخصوص ٹیکسوں کے خاتمے یا کمی کے نتیجے میں سولر سسٹم کی اشیا، ہائبرڈ گاڑیاں، ڈائپر، ادویات کا خام مال اور دیگر کئی اشیا سستی ہوئی ہیں۔ ماحولیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ بلاشبہ ایک اچھا قدم ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جو کہ وقت کی ضرورت تھا۔ معیاری بیجوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ان کی درآمد پر تمام ٹیکسز اور ڈیوٹیز ختم کر دی گئی ہیں۔ اس سے زراعت کے شعبے کو ترقی ملے گی اور کسانوں کی بھی حوصلہ افزائی ہو گی۔ اور کم از کم تنخواہ 32 ہزار روپے تک بڑھانے کا فیصلہ بھی ایک خوش آئند عمل ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو پاتی ہے؟


