ملٹری کورٹس اور عمران خان

ملٹری کورٹس میں عام شہریوں کے ٹرائلز کے حوالے سے اس وقت ملک میں دو قسم کی آراء ہیں۔
ایک طرف حکومتی اتحاد نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف ملٹری کورٹس میں مقدمات چلانے کی حمایت کر رہا ہے کہ پاکستانی آئین میں ملٹری کورٹس میں سویلینز کا ٹرائل ماضی میں بھی ہوتا رہا اور اب بھی ہو سکتا ہے۔ سول عدالتوں میں سزائیں دلوانا مشکل مرحلہ ہے۔ سول عدالتوں کا سانحہ 9 مئی میں ملوث لوگوں کو حال اور مستقبل دونوں کے لیے بلا تحقیق ضمانتیں دینا اس کا ثبوت ہے۔
دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیمیں، وکلاء اور سول سوسائٹی اسے آئین میں انسانی حقوق کی ضمانت کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہہ رہی ہیں۔ کہ جب ملک کا نظام عدل کام کر رہا ہے اور ایک آئینی سویلین حکومت موجود ہے تو ملٹری کورٹس کی ضرورت کیا ہے؟ سپریم کورٹ میں بھی ملٹری ایکٹ کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے۔
آئیے دیکھیں کہ ملٹری کورٹس میں سویلینز کا ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں؟ آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق کن جرائم پر ہوتا ہے؟
آرمی ایکٹ کا اطلاق جرم کا ارتکاب کرنے والے فوجی اہل کاروں اور بعض صورتوں میں عام شہریوں پر بھی ہو سکتا ہے اس ایکٹ کے تحت ہونے والی عدالتی کارروائی کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کہا جاتا ہے۔ ،
فوجی عدالت کا سربراہ اور استغاثہ کے وکیل فوجی افسران ہوتے ہیں۔ ملزموں کو پرائیویٹ وکیل رکھنے کا حق ہوتا ہے۔ اگر کوئی ملزم استطاعت نہ رکھتا ہو تو فوجی افسر اس کی وکالت کرتے ہیں۔ 2015 میں سینیٹ نے 21 ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کی متفقہ منظوری دی تھی۔
ابتداء ”ملٹری کورٹس حاضر سروس دفاعی اہلکاروں کے مقدمات کی سماعت کے لیے بنائی گئیں لیکن جنرل ایوب نے ان کا دائرہ کار سویلین افراد تک بڑھا دیا۔ آرمی پبلک اسکول پش اور پر حملے کے بعد بھی محدود مدت کے لیے ملٹری کورٹس کو سویلین افراد کے خلاف مقدمات چلانے کی اجازت دی گئی۔ فوجی عدالتوں میں ٹرائل تیز رفتاری سے مکمل ہوتا ہے اور اس میں شواہد اور شہادتوں کو دیکھا جاتا ہے۔ لوگ بری بھی ہو جاتے ہیں۔
آرمی ایکٹ کے تحت ان افراد کو سزا دی جا سکتی ہے :
1۔ سول اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے اور دھماکہ خیز مواد رکھنے والے۔
2۔ پاکستان کے خلاف جنگ کرنے والے۔
3۔ فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کرنے والے اغوا برائے تاوان کے مجرم۔
4۔ غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو مالی معاونت فراہم کرنے والے۔
5۔ مذہب اور فرقے کے نام پر ہتھیار اٹھانے والی کسی دہشت گرد تنظیم کے اراکین۔
آرمی ایکٹ کے سیکشن ٹو ون ڈی میں دو ایسی شقیں موجود ہیں جن کے تحت عام شہریوں پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے جن میں پہلی، جاسوسی یا عسکری راز فراہم کرنا اور دوسری فوجیوں کو حکم نہ ماننے پر اکسانا یا پھر فوج کے ادارے کے خلاف اکسانا شامل ہے۔
آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کے تحت کسی بھی سویلین کا معاملہ 31 ڈی میں لا کر اس کا کورٹ مارشل کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے پہلے اس کے خلاف کسی تھانے میں مقدمہ کے اندراج اور مجسٹریٹ کی اجازت ضروری ہے۔ آرمی ایکٹ کے تحت سویلین کی سزا کی تازہ مثال میجر جنرل ر ظفر مہدی عسکری کے بیٹے حسن عسکری ہیں جنھیں جولائی 2021 میں پانچ برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔
انھوں نے 2020 میں جنرل قمر باجوہ کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں مبینہ طور پر ان کی فوجی پالیسیوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں مستعفی ہونے کو کہا تھا۔ جنرل باجوہ کے دور میں 641 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزائیں دی گئیں جن میں 345 افراد کو سزائے موت ہوئی۔ اب تک 56 افراد کی سزاؤں پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے۔ پانچ افراد ان عدالتوں سے بری ہوئے۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ دو کی ذیلی دفعہ آٹھ کے تحت وہ تمام مقامات ممنوعہ تصور ہوں گے جنہیں حکومت نے ایسا قرار دیا ہو اور وہ مقامات یا عمارتیں بھی ممنوعہ مقام تصور ہوں گی جہاں جنگ یا دفاعی نظام سے متعلق تنصیبات یا ریکارڈ وغیرہ موجود ہو۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ دفعہ تین کے مطابق کسی شخص کا ممنوعہ مقامات میں محض داخل ہو نا جرم تصور ہو گا اور ایسے شخص کو 10۔ 14 برس تک کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ دفعہ آٹھ کے تحت ایسے افراد کے سہولت کاروں اور اعانت کنندگان کو بھی وہی سزا دی جا سکتی ہے جو اس جرم کے مرتکبین کودی جائے گی۔ عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے دوران کور کمانڈر ہاؤس اور جی ایچ کیو راولپنڈی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں فوجی تنصیبات اور عمارتوں پر حملوں کے پرتشدد واقعات، فوج اور فوجی ادارے کے خلاف اکسانے میں ملوث تحریک انصاف کے کارکنوں کو ان دونوں ایکٹس کے تناظر میں 10۔
14 سال کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اس شق کی زد میں بظاہر عمران خان بھی آتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین کے پاس اصولی طور پر معترض ہونے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے کیونکہ جب وہ وزیراعظم تھے تو ان کے دور میں 25 سویلینز کا ملٹری ٹرائل ہوا تین کو سزائے موت جبکہ دیگر کو 10۔ 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اگر عمران خان ملٹری کورٹس کے خلاف ہوتے تو اپنے دور اقتدار میں خاموش کیوں رہتے؟ اس وقت انہیں، اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ کو ملٹری کورٹس میں عام شہریوں کے ٹرائلز کیوں نہ دکھائی دیے۔ عمران خان بھی ”ایک پیج“ اور مقبولیت کے زعم میں بند گلی میں پہنچ گئے اور عالم یہ ہوا کہ
تیرے ہوتے ہوئے آ جاتی تھی ساری دنیا
آج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا
اسی لیے اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا صرف پی ٹی آئی کے چیئرمین اور ان کے ورکرز ہی سویلینز کے زمرے میں آتے ہیں؟ پچیس کروڑ عام شہریوں میں سے ایسے افراد کیوں ان کی دست شفقت سے محروم ہیں؟
آرمی ایکٹ بہت واضح ہے۔ آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ 9 مئی کو عسکری تنصیبات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے ہوئے یا نہیں؟ عسکری معاملات میں دخل اندازی اور عوامی سطح پر خوف و ہراس پھیلا گیا یا نہیں؟ اگر یہ سب جرائم سرزد ہوئے تھے اور قانون بھی موجود ہے تو پھر ملٹری کورٹس کی مخالفت سمجھ سے بالاتر ہے۔ بلاشبہ سول عدالتیں موجود ہیں ’مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہماری لوئر کورٹس میں فوری انصاف ملتا ہے؟ ہزاروں ملزمان کے کیسز دہشت گردی اور دیگر عدالتوں میں بھی چل رہے ہیں۔
ملٹری کورٹس میں اب تک صرف 102 افراد کا کیس ٹرائل کے لیے بھجوایا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان ہزاروں ملزمان کی بات کیوں نہیں کی جا رہی؟ صرف 102 ملزمان کے لیے ہی اتنا واویلا کیوں کیا جا رہا ہے؟ ماضی میں خود عدلیہ نے 2007 ء میں مشتاق احمد بمقابلہ سیکرٹری دفاع، 2015 ء میں فل کورٹ اور 2017 ء میں زمان خان بمقابلہ فیڈریشن آف پاکستان جیسے کیسز کے فیصلوں میں ملٹری کورٹس میں سویلینز ٹرائل کو جائز قرار دیا۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ پاکستان میں لاء اینڈ آرڈر کی کیا صورتحال ہے۔
اگر ہم ماضی کی طرح چھوٹ دیتے رہے تو آئندہ کا بگاڑ کیسے روکا جا سکے گا؟ اگر ہمیں ملک کا امن عزیز ہے تو پھر نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو عبرت کا نشان بنانا ہو گا۔ دونوں فریق اس پر متفق ہیں کہ نو مئی کو مجرموں کو سخت سزا ضرور ملنی چاہیے۔ تو پھر درمیانہ کوئی حل ممکن ہو تو اس کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔ موجودہ مشکلات عمران خان نے اپنے لیے خود پیدا کی ہیں۔ انہوں نے پاک فوج کی قیادت کے خلاف سنگین الزامات لگائے۔ نو مئی کے واقعات میں ان کا نام بھی آ رہا ہے اس وقت جو صورتحال دکھائی دے رہی ہے۔ اس میں عمران خان کے خلاف ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلائے جانے کے امکانات بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
اگر عمران خان کو ملٹری کورٹ سے سزا ہو گئی تو اس سے ملک میں ایک نئی مثال قائم ہو جائے گی۔ جس کا مطلب یہ ہو گا کہ آرمی پر حملہ کرنے والوں کے لیے کوئی معافی نہیں لیکن اس کے سیاسی اثرات اچھے نہیں ہوں گے اس مثال کے بعد اس طرح کی مشکل میں کسی دوسری جماعت کا سربراہ بھی آ سکتا ہے۔ اگر 9 مئی کے حملوں کے مجرموں کے خلاف فوجی عدالتوں میں ٹرائل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو بھی منصفانہ ٹرائل کی دفعات ( 9، 10، 10۔A) کی تعمیل کی جانی چاہیے۔ آرٹیکل 9، 10 اور 10۔ A افراد کی حفاظت، گرفتاری اور نظر بندی سے متعلق تحفظات اور منصفانہ ٹرائل کے حق سے متعلق ہیں۔ بلاشبہ امریکہ سمیت کئی ممالک نے جب ان کے اہم مفادات پر حملہ کیا گیا تو انہوں نے غیر معمولی اقدامات کیے۔ بہرحال آئندہ ایسے واقعات سے ہم اس وقت تک نہیں بچ سکتے، جب تک ہم نوجوانوں کی تعلیم اور روزگار کے مسئلے پر توجہ نہیں دیں گے، کوئی نہ کوئی گروہ نوجوانوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرے گا اور ان کا استحصال جاری رکھے گا۔ سپریم کورٹ کو اپنی ماضی کی نظیریں سامنے رکھنا ہو گا تاکہ انتشار مزید نہ پھیلے۔

