عبدالقہار خان ودان


گنتی کے چند ایسے قوم پرست رہنما ہیں جو مثبت دلائل اور مثبت رویہ کے ساتھ فکری بات کرتے ہیں۔ بہت کم سیاسی رہنما ہیں جو عام سیاسی کارکنوں کے لیے صرف ایک کال کی دوری پر دستیاب ہوتے ہیں۔ جب کہ بہت کم ایسے لیڈر ہیں جو ضد، غرور اور بدعنوانی سے دور ہوں ان میں عبدالقہار خان ودان بھی شامل ہیں۔ جو سادہ طرز زندگی گزارتے ہے۔

عبدالقہار خان ودان ضلع قلعہ عبداللہ میں پیدا ہوئے اور انہوں نے کاکوزئی (اچکزئی کا ایک ذیلی قبیلہ) کے ایک متوسط ​​گھرانے میں آنکھ کھولی۔ اپنی طالب علمی سے ہی، انہوں نے ایک قوم پرست کے طور پر اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا اور آج تک اسی پشتون قوم پرست جماعت پختون خوا ملی عوامی پارٹی (PKMAP) سے وابستہ ہے۔

وہ PB۔ 7 پشین۔ II سے بلوچستان کے رکن صوبائی اسمبلی بنے اور 1990۔ 1993 تک ڈپٹی سپیکر رہے۔ وہ ٹاؤن ناظم زرغون ​​ٹاؤن کوئٹہ ( 2000۔ 2004 ) ایسے وقت میں منتخب ہوئے جب میرے والد تحصیل (ٹاؤن ناظم چمن) تھے۔ عبدالقہار خان ودان 2013 میں این اے 262 قلعہ عبداللہ سے رکن قومی اسمبلی بنے اور 2018 تک اس کے رکن رہے، انہوں نے قومی اسمبلی کے رکن رہتے ہوئے قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ خیال رہے کہ 2013 کے عام انتخابات میں محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی کی دو نشستیں ایک قلعہ عبداللہ اور ایک کوئٹہ سے جیتی تھیں۔ محمود خان اچکزئی نے این اے 262 کی سیٹ چھوڑی جہاں سے عبدالقہار خان ودان بعد میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

جب میں بچپن میں تھا تو میں نے اپنے مرحوم چچا ڈاکٹر عبدالصمد اچکزئی سے عبدالقہار خان ودان کو محمود خان اچکزئی کا ایک وفادار ساتھی ہونے کا سنا تھا جو بغیر کسی مفاد کے خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کے فلسفے پر عمل پیرا تھا۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ عبدالقہار ودان پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور اس کی قیادت کے ساتھ وابستگی اور وفاداری کی علامت ہیں۔ جنہوں نے بہت سی رکاوٹوں کے باوجود اپنے وقار اور سیاسی جدوجہد پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا وہ مسائل جو کہ مقامی قبائل خصوصاً مقامی غبیزئی قبیلے کے لوگوں نے پیدا کی تھی جو عبدالقہار خان ودان کی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور محمود خان اچکزئی کے ساتھ وفاداری اور وابستگی کی سزا کے طور پر جاری رکھے ہوئے تھے جو کہ اب بھی جاری ہے۔ اور عبدالقہار خان ودان کی انتخابی کامیابی میں ہمیشہ روڑے اٹکاتے رہتے ہیں۔

عبدالقہار خان ودان فطرتی طور پر انسانیت دوست ہونے کے ساتھ ساتھ امن پسند بھی ہیں۔ وہ کسی بھی قسم کے تشدد کے خلاف رہا ہے جس کا میں خود گواہ ہوں کہ اس نے بار بار ضلع میں تشدد کے ساتھ ساتھ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی تنقید کی ہے۔ مقامی سطح پر وہ پشتون (پشتونوالی) کے روایتی تصورات کے ذریعے جھگڑوں کو حل کرنے میں مصروف عمل رہتے ہے۔ 20 نومبر 2015 کو پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس میں انہوں نے اے پی ایس کے معصوم بچوں کے غیر انسانی قتل عام پر شدید تنقید کی۔

اس کے علاوہ جب چمن میں اہل علاقہ کے دھرنے کی وجہ سے چمن کی سیکیورٹی کی صورتحال خراب ہوئی تو عبدالقہار خان ودان نے شہر میں امن قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ گزشتہ سال جب چمن سیلاب کی زد میں آیا اور وزیر اعظم شہباز شریف نے شہر کا دورہ کیا تو عبدالقہار خان ودان نے شہر اور سرحدی مسائل اور کاروبار کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا۔

وہ ابھرتے ہوئے چیلنجز اور مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ان کے حل کے لئے جامع حکمت عملی اور پالیسی پر عمل درآمد کے منصوبے پیش کرتے رہے ہیں۔ جب وہ ایم این اے تھے تو مختلف مسائل میں گھرے بلوچستان کے عوام کی توانا آواز تھے۔ پانی کی کمی کے حوالے سے ان کے پاس قابل عمل منصوبے تھے اور بار بار وفاقی حکومت سے صوبے بھر میں ڈیموں کی تعمیر پر زور دیا۔ ان کی کوششوں سے ضلع قلعہ عبداللہ میں 300 کے قریب ڈیم تجویز کیے گئے۔

وہ قومی اسمبلی کے سرگرم اراکین میں سے ایک تھے اور ان اراکین میں سے تھے جنہوں نے فلور اف دی ہاؤس پر لوگوں کے مسائل کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے تھے۔ انہوں نے صوبے کے باسیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بارہا آواز بلند کی۔ 2015 میں انہوں نے قومی اسمبلی میں بلوچستان میں پاسپورٹ دفاتر کی کمی کا مسئلہ اٹھایا۔ ان کی جدوجہد کی وجہ سے ہی بلوچستان کے لیے 73 نئے پاسپورٹ آفس کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ اکتوبر 2015 میں انہوں نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں کوئٹہ سے ملک کے دیگر حصوں کے لیے پروازیں نہ ہونے کی وجہ سے صوبے کے مسافروں کو درپیش مسائل کے بارے میں بتایا۔

انہوں نے اس مسلے کو اسمبلی میں اٹھایا جب کوئٹہ سے پی آئی اے کی صرف ایک پرواز تھی۔ ان کی بروقت کوششیں ثمر آور ہوئیں اور پروازیں بڑھ گئیں۔ 3 دسمبر 2014 کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں انہوں نے صوبے کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اپنی آواز بلند کی۔ انہوں نے بلوچستان میں گیس پریشر اور لوڈشیڈنگ کے علاوہ صوبے کے ریونیو کے حوالے سے جامع اور مدلل انداز میں بھرپور آواز اٹھائی۔ انہوں نے این ایچ اے کے حوالے سے بلوچستان کے تحفظات کا بھی اظہار کیا۔ وہ فاٹا کو نیا صوبہ بنانے کے حامی بھی تھے اور اسمبلی کے فلور پر خطے میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے تھے۔

وہ مذہب اور سیاسیات کے مختلف تصورات پر اچھی طرح سے عبور رکھتے ہیں۔ 19 اگست 2014 کو انہوں نے معاشی اور معاشرتی مسائل، ان کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ریاست کے کردار کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ مذہب انسان کو گناہوں سے روکتا ہے۔ یہ وہ حقیقت تھی جو جزا و سزا کے تصور پر مبنی تھی۔ اور اسلام میں اس حوالے سے امر المعروف اور نہی و عن المنکر کا تصور ایک بہترین نمونہ ہے۔ انہوں نے ریاست کی ذمہ داریوں کے حوالے سی بھی بات کی اور کہا کہ ریاستوں کو اپنے شہریوں کے غلط کاموں کو روکنے، ان کے حقوق کی حفاظت اور قانون کی عملداری کے لیے بنایا جاتا ہے۔ اس تبصرے میں بھی وزن تھا کیونکہ قانون فطرت اور سماجی معاہدے (Social Contract) کا تصور اسی سے جڑا ہوا ہے۔

جیسا کہ اوپر بالا پیراگراف میں لکھا گیا ہے کہ عبدالقہار خان ودان صوبائی اسمبلی کے رکن، بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر، زرغون ٹاؤن کوئٹہ کے ناظم اور پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔ یہ بات قابل تعریف ہے کہ ان کے تمام سیاسی کیرئیر میں ان پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں۔ سیاسی سیٹ اپ اور جمہوریت، جہاں موسمی پرندو کی موجودگی وافر مقدار میں موجود ہو، جہاں کرپشن اپنے عروج پر ہو، جب وفاداری نایاب ہو، جہاں سیاست دانوں میں، انا، ضد اور غرور بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہو، اور جب سیاستدانوں کی طرف سے میکاولی کے بے ہودہ ہتھکنڈوں کو سرعام استعمال کرنا کامیابی کی ضمانت اور زینت سمجھا جاتا ہو۔ وہاں کے گھٹن زدہ سیاسی اور معاشرتی ماحول میں عبدالقہار خان ودان جیسے سیاستدانوں کی موجودگی کسی نعمت سے کم نہیں۔

Facebook Comments HS