ملک کے خلاف 9 مئی کی سازش
9 مئی کے سنگین واقعات کو تقریباً دو ماہ ہونے کے باوجود اب بھی یہ واقعات ملک میں ایک اہم موضوع بنے ہوئے ہیں۔ جلاؤ، گھیراؤ سمیت فوجی و سرکاری تنصیبات اور شہداء کی یادگاروں پہ حملوں کے الزامات میں ملوث سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان میں سے 102 افراد کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں گے۔ بظاہر شر پسندی پر مبنی یہ حملے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری کے ردعمل میں پیش آئے تاہم اس کے تانے بانے اور مقاصد ملک میں سنگین ترین نوعیت کا انتشار پیدا کرنے اور ملکی حاکمیت میں مطلوبہ اہداف کی تبدیلی سے بھی منسلک معلوم ہوتے ہیں۔
تادیبی کارروائی سے ایسی کارروائیاں کرنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی تو ہوئی ہے تاہم ان کی طرف سے پروپیگنڈے کے محاذ پہ سرگرمیاں اب بھی جاری ہیں۔ تقریباً دو ماہ کے عرصے میں گرفتاریاں تو ہو گئیں ہیں، عدالتی کارروائیاں زیر کار ہیں تاہم اس تادیبی عمل کو محتاط رویہ کہیں یا کچھ اور بہر حال ملک کے خلاف اس بڑی سازش کی بیخ کنی میں سست روی سے اس سازش میں ملوث افراد کو رعایت دلانے کے لئے پروپیگنڈا مہم چلانے والوں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل احمد شریف نے اسی حوالے سے ایک پریس کانفرنس میں صورتحال کے بارے میں بتایا اور صحافیوں کے سوالات کے جواب دیے۔ انہوں نے بتایا کہ فوجی تنصیبات اور جی ایچ کیو کے سکیورٹی کے ذمہ داران کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں، 3 میجرجنرل، 7 برگیڈیئرز سمیت 15 افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کی گئی اور ایک لیفٹیننٹ جنرل سمیت 3 افسران کو نوکری سے برخاست کیا گیا ہے۔
سانحہ 9 مئی کو نہ بھلایا جائے گا اور نہ ہی ملوث افراد اور منصوبہ سازوں کو معاف کیا جائے گا۔ سانحہ 9 مئی کو نہ بھلایا جائے گا اور نہ ملوث عناصر کو معاف کیا جاسکتا ہے، تمام ملوث کرداروں کو آئین پاکستان اور قانون کے تحت سزا دی جائے گی، اس عمل کو انجام تک پہنچانے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فوجی عدالتوں میں 102 شرپسندوں کا ٹرائل کیا جا رہا ہے اور یہ جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایک ریٹائرڈ فور اسٹار جنرل کی نواسی اور ایک ریٹائرڈ فور اسٹار جنرل کا داماد گرفتار ہے جبکہ ایک ریٹائرڈ تھری اسٹار جنرل کی بیگم، ایک ریٹائرڈ ٹو اسٹار جنرل کی بیگم اور داماد احتسابی عمل سے گز ر رہے ہیں۔ ملک بھر میں 17 اسٹینڈنگ کورٹس کام کر رہی ہیں، ثبوت اور قانون کے مطابق سول کورٹس نے ان کیسز کو ملٹری کورٹس منتقل کیا ہے، تمام ملزمان کو مکمل قانونی حقوق حاصل ہیں، انہیں اپیل کا بھی حق حاصل ہے، ان ملزمان کو سپریم کورٹ میں بھی اپیل کا حق حاصل ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آگے بڑھنے کے لئے 9 مئی واقعات کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہو گا، اگر اس کا راستہ نہ روکا تو یہ بیرونی یلغار کا راستہ ہموار کرے گا، پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ اندرونی انتشار سے ہے جن عوامل اور وجوہات کی وجہ سے یہ سانحہ پیش آیا ان کا تدارک کیا جائے۔ 9 مئی کا سانحہ پاکستان کے خلاف بہت بڑی سازش تھی، تمام حقیقی سیاسی جماعتیں فوج کے لئے احترام ہیں، ایک سیاسی جماعت اپنے لوگوں کو اپنی فوج پر حملہ آور ہونے کا کہے گی ایسا سوچا نہیں تھا، جو نقصانات ہوئے اس پر سسٹم کے مطابق انکوائریز کی گئیں، اس پوری کہانی کے ساتھ جھوٹے بیانیے بھی بنائے جا رہے ہیں۔
سانحہ 9 مئی کے شواہد سے واضح ہوا کہ اس کے پیچھے 3 سے 4 ماسٹر مائنڈز اور 10 سے 12 منصوبہ ساز تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ملٹری لیڈر شپ اور افواج پاکستان 9 مئی کے ذمہ داروں سے مکمل آگاہ ہے، سانحہ 9 مئی کو بھلایا جائے گا نہ ملوث عناصر اور سہولت کاروں کو معاف کیا جائے گا، تمام ملزمان کو آئین پاکستان کے تحت سزائیں دی جائیں گی، 9 مئی کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں کو بے نقاب کرنا اور کیفرکردار تک پہنچانا ضروری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا پاکستان کے لئے وبا کی صورت حال اختیار کر گیا ہے، 9 مئی کے ماسٹر مائنڈ وہ ہیں جو فوج کے خلاف ذہن سازی کرتے رہے، 9 مئی واقعات کے ذمہ دار انسانی حقوق کا واویلا کر کے چھپ نہیں سکتے۔
یہ بات خوش آئند ہے کہ 9 مئی کے واقعات اور اس سے متعلق ملک کے خلاف سازش کے متعلقہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ تادیبی کارروائی کے عمل میں فوج کے افسران اور سابق افسران کے بعض رشتہ داروں بھی شامل ہیں تاہم اس میں ابھی تک پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور ان کی حمایت و آشیر باد کرنے والے ایک ریٹائرڈ فوجی افسر، جن کا نام زود عام ہے، کے خلاف کارروائی ظاہر نہیں ہوئی ہے۔ اس سازش میں ملوث افراد کے خلاف عدالتی کارروائی کو سست روی کا شکار نہیں ہونے دینا چاہیے۔
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس مکمل طور پر 9 مئی اور اس سے منسلک حالات و واقعات کے حوالے سے تھی۔ اس پریس کانفرنس سے دو دن قبل ہندوستانی فوج نے آزاد کشمیر کے ضلع راولاکوٹ کے تیتری نوٹ علاقے میں خاص طور پر ٹارگٹ کر کے آزاد کشمیر کے دو شہریوں کو شہید اور ایک کو زخمی کر دیا تھا اور ہندوستانی فوج کی اس جارحیت سے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشمیر کی لائن آف کنٹرول پہ 2021 میں ہونے والے سیز فائر سمجھوتے پہ بھی ایک بڑا سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
تیتری نوٹ کے اسی علاقے میں گزشتہ کئی ماہ سے ہندوستانی فوج آزاد کشمیر کے اس علاقے کو بھی اپنے قبضے میں لینے کی کوششیں کر رہی ہے جو آزاد کشمیر کے شہریوں کے زیر استعمال ہیں۔ اس کے ایک دن بعد ہندوستانی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جموں میں ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے اور آزاد کشمیر میں بغاوت کرانے پر مبنی شر انگیز باتیں بھی کیں۔ حیران کن طور پر پریس کانفرنس میں نہ تو اس پہ کوئی بات کی گئی اور نا ہی کسی صحافی نے اس متعلق کوئی سوال کیا۔


