محب وطن اور گدھ
پاکستان 1997 کے جنرل الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ نون کی کامیابی کے بعد میاں نواز شریف کے زیر سایہ ترقی کی منزلیں طے کرتا ہوا رواں دواں تھا۔ ہر طرف راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔ کاروبار اپنے عروج پر تھے اور ایک عام انسان بھی خوشحال تھا۔ پھر قوم نے دیکھا کہ ترقی کرتی اس معیشت کو بیرونی نظر لگ گئی اور پاکستان کو میاں نواز شریف صاحب کے شفیق سایہ سے محروم کر دیا گیا۔ محسن پاکستان کو قید و بند کی صعوبتیں جھیلنا پڑیں، ملک میں مارشل لاء آ گیا اور پھر پوری قوم نے دیکھا کہ کس طرح ملک کا حلیہ بگاڑا گیا، کس طرح آئین کی شکل بگاڑی گئی اور کس طرح آئی ایم ایف کو ملک کے اوپر مسلط کر دیا گیا۔
ایک نام نہاد سیاسی جماعت بنائی گئی جس میں ہر طرح کا کرپٹ سیاستدان شامل تھا۔ ان سیاستدانوں نے پاکستان اور معیشت کو گدھوں کی طرح نوچا، انفراسٹرکچر تباہ کر دیا گیا، کاروبار تباہ ہو گئے اور ملک کو اندھیروں میں ڈبو دیا گیا۔ پاکستان کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو سہارا دینے کے لیے ایک بار پھر پاکستان کے امین سیاستدان اکٹھے ہو کر میثاق جمہوریت کے ذریعے آگے بڑھتے ہیں اور مفاد پرست سیاسی گدھوں سے ملک کی جان چھڑواتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ملک میں جمہوریت دوبارہ پنپتی ہے مگر ملکی معیشت 1999 کے مکروہ جھٹکوں سے باہر نہیں نکل پاتی۔ پھر ہم سب نے دیکھا کہ الیکشن 2013 میں میاں نواز شریف دوبارہ ایک واضح اکثریت سے اقتدار میں آتے ہیں اور اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر ملک کی روشنیاں، کاروبار اور امن بحال کرتے ہیں۔ میاں نواز شریف کی کوششوں سے معیشت ترقی کی جانب گامزن ہونے لگتی ہے جو ایک بار پھر ملک دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھا رہی تھی۔ ایک طرف دنیا پاکستان کو ایشین ٹائیگر کا خطاب دے رہی تھی تو دوسری طرف ملک دشمن آگ بگولا ہو رہے تھے۔ مگر میاں نواز شریف کے حوصلے پست نہیں ہو رہے تھے۔
آخر کار ترقی کرتی ریاست اور معیشت کے اوپر فارن فنڈ فتنہ کو مسلط کروانے کی تیاریاں اپنے عروج پر آ گئیں۔ فارن فنڈڈ ماس کھانے والی گدھوں کو ایک بار پھر بھرپور سپورٹ مل رہی تھی۔ سن 2014 کے دھرنے سے دوبارہ شروع ہونے والی تباہی آہستہ آہستہ ملک کو اپنی لپٹ میں لے رہی تھی۔ میاں نواز شریف کے خلاف سازشیں عروج پر تھیں کیونکہ میاں صاحب کسی ملک دشمن پالیسی کو ماننے کے لیے تیار نا تھے۔ آخرکار ملک دشمنی جیت گئی اور محب وطن ہار گئے۔
میاں نواز شریف کو ایک بار پھر اقتدار سے اتارنے کے لیے ملک دشمن قوتوں نے بھرپور کوششیں کیں۔ پاناما سے تو کچھ نا مل سکا مگر اقامہ آڑے آ گیا جس کی بدولت میاں نواز شریف کو حکومت سے نکال باہر کیا گیا۔ میاں نواز شریف کی سیاست کا جوڈیشل قتل کر دیا گیا۔ میاں نواز شریف کی حب الوطنی کا عالم دیکھیں کہ اپنی بستر مرگ پہ پڑی شریک حیات کو چھوڑ کر اپنی بے گناہ بیٹی کے ساتھ صرف ملکی آئین کا شملہ اونچا کرنے کے لیے ملک میں واپس آئے تاکہ اپنی ناجائز سزا بھگت سکیں۔ اپنے سہولت کاروں کے ذریعے ملک کو اپنی لپیٹ میں لینے والے فارن فنڈڈ فتنہ عمران خان دھاندلی زدہ الیکشن 2018 کے بعد وزیراعظم تو بن گئے مگر اپنے سیاسی مخالفین پر ظلم کے پہاڑ ڈھا دیے۔
عمران خان کا ایجنڈا مدینہ کی ریاست، کرپشن کا خاتمہ، آئی ایم ایف سے چھٹکارا اور باہر پڑی لوٹی دولت کو واپس لا کر آئی ایم ایف کے منہ پہ مارنا، پچاس لاکھ گھروں اور ایک کروڑ نوکریوں کی تقسیم، فوج اور دیگر اداروں کو خودمختار بنانا اور مہنگائی کا خاتمہ تھا مگر افسوس کہ ایسا کچھ ہو نا سکا۔
ریاست مدینہ بنانے کا دعویٰ کرنے والا اپنے حلف کے دوران خاتم النبیین کے الفاظ صحیح ادا نا کر سکا کیونکہ اگر ایسا کرتا تو اس کے سسر ناراض ہو جاتے، ریاست مدینہ بنانے کا دعویٰ کرنے والا توہمات پہ یقین رکھتا تھا، ریاست مدینہ بنانے کا دعویٰ کرنے والا عدت میں نکاح کرتا ہے، توہین رسالت کے ملعونوں کو سپورٹ کرتا ہے، قادیانیوں کو مائی باپ بناتا ہے اور انہیں خوش کرنے کے لیے سکھوں کو ماموں بنا کر انڈیا میں موجود قادیانیوں کی عبادت گاہوں تک راہداری بناتا ہے۔ مودی کی جیت پر خوش ہوتا ہے اور کشمیری مسلمانوں کو مودی کے قبضہ میں دیکھ کر دل ہی دل میں تالیاں بجاتا ہے۔
کرپشن کے خاتمہ کا دعویٰ کرنے والے عمران خان کی اپنی شخصیت کرپشن سے آلودہ تھی۔ عمران خان نے اپنے ساتھیوں اور سہولت کاروں کے ذریعے کرپشن کا وہ بازار گرم کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عثمان بزدار جیسے نالائق انسان کو صوبہ پنجاب پر مسلط کیا جس نے اپنی کرپشن کی بدولت صوبہ میں تباہی مچا دی۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں ہر پوسٹنگ اور ٹرانسفر پیسوں کی بدولت کی جاتی تھی اور پیسہ بشریٰ بی بی اور فرح گوگی میں تقسیم ہوتا تھا۔
عمران خان کی بیوی بشریٰ بی بی نے ملک ریاض سے ہیرے کی انگوٹھیاں اور جواہرات تحفے میں لیے جس کی بدولت اس نے عمران خان سے اپنی مرضی کے فیصلے کروا کر فوائد حاصل کیے۔ توشہ خانہ کیس، مالم جبہ کیس، بلین ٹری کیس، ہیلی کاپٹر کیس، بی آر ٹی کرپشن کیس، اپنی بہن کو حکومتی زمین پر قبضہ کا کیس عمران خان کی کرپشن کی منہ بولتی کہانیاں ہیں جو ہماری خراب معیشت کو منہ چڑھا رہی ہیں۔
عمران خان کا ایک بیانیہ یہ بھی تھا کہ وہ آئی ایم ایف پروگرام میں نہیں جائیں گے۔ ایک طرف معیشت سسک رہی تھی مگر عمران خان آئی ایم ایف سے معاہدوں میں دیر کرتے رہے جس کی بدولت ملکی معیشت منفی اعشاریے کراس کر گئی۔ پھر ایک وقت آیا کہ مختصر دورے پر پاکستان آئے ہوئے آئی ایم ایف کے نمائندے وزیرخزانہ بنا دیے گئے۔ آئی ایم ایف ہی کے نمائندے کو اسٹیٹ بینک کا گورنر بنایا گیا۔ آئی ایم ایف ہی ہماری اقتصادی پالیسیاں بنا رہا تھا۔
آئی ایم ایف کے پاس گئے بھی تو اس وقت جب بہت دیر ہو چکی تھی۔ اتنی دیر ہونے کا نقصان یہ ہوا کہ عمران خان کی حکومت کو آئی ایم ایف سے قرضہ کے حصول کے لیے ہر جائز ناجائز بات کو ماننا پڑا۔ اگر یہ کہا جائے کہ آئی ایم ایف کے سامنے آئی ایم ایف بیٹھی مذاکرات کر رہی تھی تو غلط نا ہو گا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ عمران خان کی حکومت کے مہنگے اور جان لیوا معاہدوں نے ملک میں رہنے والے انسانوں کی چیخیں نکلوا دیں۔
میں یہاں نواز شریف کے پرانے پاکستان اور عمران خان کے نئے پاکستان کا تھوڑا موازنہ ضرور کرنا چاہوں گا۔ نواز شریف کے پرانے پاکستان میں جی ڈی پی 5 اعشاریہ 8 فیصد تھا، نئے پاکستان میں 2019 کے دوران ایک اعشاریہ 90 فیصد تک گر گیا۔ پرانے پاکستان میں امریکی ڈالر کی قیمت 116 روپے تھی جبکہ نئے پاکستان میں ایک ڈالر کا تبادلہ 160 روپے سے ہوتا رہا۔ آصف زرداری کے پرانے پاکستان میں ملکی قرضہ روزانہ پانچ ارب روپے بڑھ رہا تھا، نواز شریف کے پرانے پاکستان میں 8 ارب روپے بڑھ رہا تھا جبکہ عمران خان کے نئے پاکستان میں روزانہ 20 ارب روپے چڑھنا شروع ہو گیا۔ قوم کو بتایا گیا تھا کہ عمران خان آئے گا تو چند ماہ کے دوران کروڑوں لوگوں کو نوکریاں دلوائے گا لیکن ان کی حکومت میں پہلے سال بیروزگار نوجوانوں کی تعداد 5 اعشاریہ 80 ملین ہو گئی جبکہ دوسرے سال بیروزگاروں کی تعداد بڑھ کر 6 اعشاریہ 65 ملین تک پہنچ گئی تھی۔ قوم کو بتایا گیا تھا کہ عمران خان آئے گا تو اربوں ڈالر جمع کرائے گا، چند ارب ڈالر آئی ایم ایف کے منہ پر مارے گا اور باقی غریبوں پر خرچ کرے گا لیکن عمران خان آیا تو معیشت مکمل طور پر آئی ایم ایف کے سپرد کر دی گئی۔ بیروزگاری روز بروز بڑھنا شروع ہو گئی تھی اور چیخ چیخ کر چیلنج دے رہی تھی کہ روک سکتے ہو تو روک لو لیکن کوئی روکنے والا نہیں کیونکہ عمران خان کے لاڈلوں زلفی بخاری وغیرہ کی نوکریاں لگی ہوئیں تھیں اور اربوں روپے کی کرپشن ہو رہی تھی۔
عمران خان کے دور حکومت میں ملٹی نیشنل مافیاز، کنسٹرکشن مافیا، شوگر مافیا، صنعتی مافیا، آٹا مافیا، حتیٰ کہ میڈیا مافیا سب کے سب حکومت میں تھے اور تمام اقتصادی پالیسیاں ان کی مرضی اور منشا سے بنائی جا رہی تھیں۔
عمران خان کی حب الوطنی کا یہ عالم تھا کہ ہسٹری کی سب سے پہلی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد عمران خان نے سائفر کی کہانی شروع کی اور اپنے خلاف تحریک کو امریکہ کی سازش قرار دیا۔ عمران خان نے اس جنرل باجوہ کے خلاف سازش کے الزامات لگانا شروع کر دیے جس باجوہ نے اسے گود میں اٹھا کر وزیراعظم بنایا تھا۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ جنرل باجوہ ہی وہ انسان تھے جس نے عمران خان کی حکومت کو چار سال تک سہارا دیے رکھا۔ اس حقیقت سے بھی کوئی انکاری نہیں ہو گا کہ جب جنرل باجوہ نے فوج کو سیاست سے پاک کرنے کا عزم کیا تو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی۔
کسی بھی ملک کی ترقی آئین کی پاسداری میں ہی پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر انصاف کی پاسداری نہیں ہو گی تو ریاست جہنم بن جائے گی۔ ایسا ہی کچھ واقعہ 9 مئی کے واقعات میں دیکھنے کو ملا۔ مئی 9 کو جب عمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتاری ہوئی تو پوری قوم نے دیکھا کہ عمران خان کے ہائر کیے ہوئے دہشتگرد بلوائیوں نے کس طرح ملک کو رسوا کیا۔ ملکی انفراسٹرکچر، فوجی تنصیبات، شہداء کی یادگاروں، ریڈیو پاکستان، پولیس پر جان لیوا حملے، کور کمانڈر ہاؤس کا جلانا، غرض کہ کہ کون سا سا ایسا بلوائی پن تھا جو عمران خان کے دہشتگردوں نے نہیں کیا۔ نو مئی کو ہونے والی دہشت گردی کوئی عوامی اشتعال نہیں تھا بلکہ یہ باقاعدہ ایک پلاننگ کے تحت کیا گیا کھلواڑ تھا جس کا ماسٹر مائنڈ عمران نیازی تھا۔ نو مئی سے لے کر آج تک ہونے والے واقعات اور عمران خان کا فوج کو بدنام کرنا کیا حب الوطنی ہے۔ قوم اب اندازہ لگا سکتی ہے کہ کون محب وطن ہے اور کون سیاسی گدھ ہیں۔


