سیاسی مرکز کے لندن سے دبئی منتقل ہونے کے مضمرات


ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کی دبنگ پریس کانفرنس اور میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کی دبئی میں براہ راست ملاقاتوں نے پاکستان کی آئندہ سیاست کے خد و خال کو کافی حد تک واضح کر دیا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ ادھر عید سے قبل فوج نے اپنے اندر احتساب کا عمل مکمل کر لیا اور ادھر پی ٹی آئی کے قلع قمع کے بعد نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے اگلے الیکشن میں سیٹس ایڈجسٹمنٹ، نگران وزیراعظم کی نامزدگی اور اقتدار کی ’بندر بانٹ‘ کا مرحلہ قبل از وقت طے کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

اگر اسے حسن اتفاق ہی قرار دیا جائے تو پھر بھی کم از کم یہ فوج کی سوچ اور لائحہ عمل میں ایک انقلابی تبدیلی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ مجوزہ پریس کانفرنس اپنی لائن آف ایکشن کے اعتبار سے بالکل واضح اور شفاف تھی۔ اب تو نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے لئے میدان بالکل صاف ہو چکا ہے، پی ٹی آئی ان کے مدمقابل نہیں ہو گی۔ پہلے ان دونوں جماعتوں میں ٹاکرا ہوتا ہے مگر اب میں صرف ’نورا کشتی‘ ہو گی۔ اگر 9 اور 10 مئی کے باغیانہ اور ملک دشمن واقعات پہلی بار واقع ہوئے تو فوج نے بھی اتنا بڑا ’کورٹ مارشل‘ اور ’احتساب‘ پہلی بار کیا جس میں انکوائری کے بعد سیکورٹی میں ناکامی وغیرہ پر 3 میجر جنرلز اور 7 بریگیڈیئرز سمیت 15 سینئر افسروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی گئی۔ کہا جا رہا ہے کہ ان میں ایک لیفٹننٹ جنرل بھی شامل ہیں۔ ان سب فوجی افسروں کو سہولیات دیے بغیر برطرف کیا گیا ہے۔

اس پریس کانفرنس کے فوراً بعد سپریم کورٹ کے یکے بعد دیگرے تین بنچ ٹوٹے اور تب جا کر چیف جسٹس عطا بندیال کی آنکھیں کھلی اور انہوں نے فوجی عدالتوں کے خلاف حکم امتناعی کی درخواستوں پر سماعت کو 15 دن کے لئے ملتوی کر دیا (ایک خبر یہ بھی ہے کہ سماعت کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کیا گیا ہے ) ۔ شاید آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے یہ واضح کرنا مقصود تھا کہ اگر سپریم کورٹ کو اقرباء پروری میں 9 مئی کے کسی مجرم کو بچانے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو فوج اسے برداشت کرے گی اور نہ ہی فوجی عدالتوں میں زیر سماعت 9 مئی کے واقعات میں ملوث 102 مجرموں، منصوبہ سازوں اور اس کے ’ماسٹر مائنڈ‘ کو معاف کیا جائے گا، چاہے ان کا قریبی تعلق فوج سے ہو یا پھر عدلیہ سے ہو۔

فوج کے اندر اس احتساب اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی اس تہلکہ خیز پریس کانفرنس سے فوج نے بالواسطہ طور پر اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے کہ ماضی میں اس سے غلطیاں ہوئی ہیں جن کو وہ دوبارہ دہرانا نہیں چاہتی ہے۔ میاں نواز شریف اور بلاول بھٹو کو کرکٹ کھیلنے کا شوق ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ جب عمران خان اقتدار اور جنرل باجوہ ایک پیج پر تھے تو عمران خان نے ایک دفعہ پچ پر جنرل باجوہ صاحب کو سول وردی میں ’لوز‘ گیند کروائی تھی جس پر باجوہ صاحب نے ’چھکا‘ مارا تھا!

موجودہ آرمی چیف حافظ سید عاصم منیر صاحب، جنرل باجوہ کا طرز عمل دہراتے ہوئے نواز شریف یا بلاول بھٹو کے ساتھ کرکٹ کا ’فرینڈلی‘ میچ نہیں کھیلیں گے۔ موجودہ کمانڈر ان چیف اپنی ترجیحات اور سوچ میں بہت واضح اور شفاف نظر آ رہے ہیں۔ وہ کسی مفاد یا لالچ میں آ کر کسی بھی قسم کا کمپرومائز نہیں کریں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ملک عدم سیاسی استحکام کی صورت میں مزید معاشی بدحالی کو برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔

فوج اور حکومت نے معیشت کی بحالی کے لئے غیر ملکی انوسٹمنٹ کی ’فول پروف‘ اور ’لانگ ٹرم‘ پالیسی بنائی ہے جسے کم از کم اگلی دو دہائیوں تک جو بھی نئی حکومت آئے گی وہ اسے تبدیل نہیں کر سکے گی۔ لندن سے نواز شریف کا دبئی آ کر آصف زرداری اور دیگر معتبر اور طاقتور معاشی ستونوں سے ملاقاتیں کرنا اس حوالے سے بھی اہم اور معنی خیز ہے کہ جس طرح پہلے سعودی عرب نے نواز شریف کو شاہی پروٹوکول دیا تھا اب وہی عمل متحدہ عرب امارات میں دہرایا جا رہا ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ پاکستان کا دیرینہ دوست چین اور بردار اسلامی ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر وغیرہ پاکستان کی معیشت کو بحال کرنے میں سنجیدہ ہیں مگر وہ اس کے بدلے میں نواز شریف کو دوبارہ اقتدار میں لانا چاہتے ہیں۔

فوج کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ ماضی کے چار مارشلاؤں کے معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے تھے مگر اب سیاسی و جمہوری استحکام پیدا کر کے ملک کو ہر قیمت پر معاشی بحران سے نکالنا ہو گا۔ اب حکومت اور فوج دونوں کو یہ بھی مکمل ادراک ہو چکا ہے کہ معیشت کی بحالی کے بغیر ملکی ایٹمی اثاثوں کو بچانا ممکن نہیں رہا ہے۔ یوں ہماری قومی سلامتی ہماری مضبوط قومی معیشت سے جڑ گئی ہے جس پر فوج کسی قسم کی اور کسی بھی قیمت پر سودی بازی نہیں کرے گی۔

اطلاعات ہیں کہ پاکستان کے موجودہ آرمی چیف وہ پہلے سپہ سالار ہیں جو امریکہ کی مرضی کے خلاف اپنے عہدے پر متمکن ہوئے ہیں۔

گزشتہ ہفتے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کے بعد جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا اس میں دونوں رہنماؤں نے عالمی دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک ساتھ کھڑے رہنے کا عہد کرتے ہوئے پاکستان سے بھارت کو نشانہ بنانے والی تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ادھر سعودی عرب میں جو بائیڈن کا استقبال کرنے کے لئے شہزادہ سلیمان بن محمد کی بجائے ان کا استقبال کرنے کے لئے صرف دو افراد ائر پورٹ پر آئے جن میں گورنر مکہ اور امریکہ میں سعودی سفیر شامل تھے۔

پاکستان میں روس سے تیل کے شپ آ رہے ہیں اور پاکستان روس سے نئے اقتصادی اور تجارتی معاہدے کرنے کے لئے پر تول رہا ہے۔ پاکستان نے شرح سود میں اضافہ کر کے آئی ایم ایف کی شرط بھی مان لی ہے تاکہ لوگ بنکوں میں زیادہ سے زیادہ پیسہ جمع کروائیں۔ وزیر خزانہ کی ناکامی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف آئی ایم ایف سے خود مذاکرات کر رہے ہیں اور امید پیدا ہو گئی ہے کہ اس عالمی مالیاتی ادارے سے معاہدے کی تجدید ہو جائے گی اور نہ بھی ہوئی تو پاک فوج اور حکومت کا جو معاشی بحالی کا اشتراک عمل چل رہا ہے یہ پاکستان کو دیوالیہ نہیں ہونے دے گا۔

پاکستان اور خطے کی یہ وہ بدلتی ہوئی صورتحال ہے جب نواز شریف اور آصف علی زرداری دبئی میں اکٹھے ہوئے ہیں۔ حالات نے یہ پلٹا صرف اسی صورت میں کھایا ہے جب آرمی کی ترجیحات میں بنیادی اور خوشگوار تبدیلی آئی ہے جو ملکی سلامتی اور معاشی استحکام کے لئے ایک نیک شگون ہے۔ زہے نصیب!

Facebook Comments HS