معاصر اردو غزل کے خد و خال


معاصر غزل دو انتہاؤں پر کھڑی ہے ایک طرف جدیدیت کے نام پر پھکڑ بازی ہے تو دوسری طرف روایت کے نام پر فرسودگی ہے۔

ایک دو موضوعات اور شعر کہنے کی ایک آدھ تکنیک ہاتھ آ جائے تو اس سے کتنی دیر تک دلچسپی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ یہی ایک دو موضوعات اور ایک آدھ تکنیک آج کم و بیش سبھی کے ہاں ایک جیسی ہے۔ ستم تو یہ ہے کہ موضوعات سطحی، تکنیک عامیانہ اور زبان ادبیت سے عاری ہے۔ روایت سے کٹ کر یا روایت کے شعور کے بغیر ایک نیا شعری سلسلہ شروع کر دیا جائے تو اس میں زیادہ دیر تک تنوع، وسعت اور لطافت برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں یکسانیت پیدا ہو جاتی ہے اور آج کی شعری فضا یکسانیت سے دو چار ہے۔

آج کا شعر چونکا دینے کے عنصر کے سہارے کھڑا ہے۔ شعر سناتے ہی سامعین کو متوجہ کرنے اور عوامی سطح پہ شہرت حاصل کرنے کی جستجو اور جلدی میں ایسے شعر کہے جا رہے ہیں جن میں چونکا دینے کا عنصر موجود ہو ایسی شاعری سے لطف تو اٹھایا جاتا ہے لیکن اسے بسر نہیں کیا جا سکتا یعنی یہ دیر پا اثر چھوڑنے والی شاعری نہیں ہے۔

زبان و بیان میں انتہائی درجے کی سطحیت ہے۔ زبان شاعرانہ آہنگ سے کوسوں دور ہے۔ انگریزی الفاظ کا دانستہ و غیر دانستہ استعمال کثرت سے ہو رہا ہے حالانکہ ان الفاظ کے بہترین اردو متبادل موجود ہیں۔ یوں کہیے کہ اردو غزل اردو زبان کی بجائے اردش زبان میں لکھی جا رہی ہے جس سے کچھ وقت کے لیے عوامی سطح پہ توجہ تو حاصل ہو جاتی ہے لیکن خواص متوجہ نہیں ہوتے۔ انگریزی یا کسی بھی دوسری زبان کے الفاظ کا استعمال قابل قبول ہے اگر وہ اردو زبان کے مزاج میں ڈھل کر آئے اور اسے مصرعے میں عمدگی سے برت لیا جائے لیکن یہاں معاملہ برعکس ہے۔ ادبی زبان کثافتوں سے پاک ہوتی ہے لیکن آج کی ادبی زبان لطافتوں سے عاری ہے۔

ایک شاعر کا اپنے عہد کے علوم سے واقف ہونا بڑی خوبی ہے لیکن یہاں یہ خوبی خامی بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ نوجوان شعرا سائنسی علوم سے کسی حد تک واقف ہیں اور سائنسی شعبوں سے منسلک بھی ہیں۔ وہ سائنسی موضوعات کو شاعری میں برتتے ہوئے شعری تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں محض سائنسی اصطلاحات کے غیر مانوس استعمال سے شعریت کا خون ہو جاتا ہے۔

مختصر یہ کہ موضوعات اور زبان دونوں حوالوں سے معاصر غزل سطحیت اور یکسانیت کا شکار نظر آتی ہے۔ ایک تو اظہار اور فکر میں سطحیت اور بازاری پن در آیا ہے دوسرا نیا کہنے کی دھن میں زبان و بیان میں اس قدر تبدیلی کر دی گئی ہے کہ غزل کی اصل روح ہی فوت ہو جاتی ہے۔

اس قبیل کے غزل گو شعرا کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ قارئین و سامعین تک فوری پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہر طرح کے موضوع کو بیان کرنے اور بیان کے سانچوں کو توڑنے کی جرآت رکھتے ہیں۔

دوسری طرف معاصر غزل میں روایت سے اس قدر وابستگی نظر آتی ہے کہ تازگی کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ مسائل و موضوعات تو کچھ حد تک آج کے دور کے ہوتے ہیں لیکن اظہار میں قدما کی پیروی کی کوشش ہوتی ہے۔ ثقیل الفاظ، مشکل پسندی، فارسی زندگی، تراکیب سازی، تخیل آفرینی اور فکر و فلسفہ کو شعر میں سمونے کی جستجو میں تازگی کا وہ احساس نہیں رہتا جو موجودہ نسل کے ذوق کی تسکین کا باعث بنے۔ زبان و بیان اس قدر روایتی اور ثقیل ہے کہ آج کے انسان کے فہم اور مزاج سے لگا نہیں کھاتا اس روایتی انداز سے اجنبیت اور اکتاہٹ پیدا ہوتی ہے۔

گویا ایک طرف لوگوں تک پہنچنے کی دھن میں غزل کی آبرو پامال ہو رہی ہے تو دوسری طرف غزل کی آبرو قائم رکھنے کی سعی میں عوام الناس سے رشتہ کٹ رہا ہے۔

ان دو انتہاؤں کے درمیان غزل کی ایک اور لہر رواں دواں ہے جو تازگی کے احساس سے بھرپور ہے۔ جس میں روایت کا شعور اور جدت کی سحر انگیزی جلوہ افروز ہے۔ اس غزل میں موضوعات اور زبان آج کی ہے اور مصرعے کی بنت کا شعور روایت سے آیا ہے۔ جس سے صرف حظ ہی اٹھایا نہیں جاتا بلکہ اسے بسر بھی کیا جاتا ہے۔ اس غزل میں ایک طرف تو کیفیتوں کے اظہار میں دل نکالے جاتے ہیں تو دوسری طرف آج کے سماجی مسائل اور سائنسی موضوعات کو شعر آشنا کرایا جاتا ہے۔ دو انتہاؤں کے درمیان یہ رواں لہر ہی غزل کا اصل مزاج ہے جس میں لطافت ہے، شیرینی ہے، سوز و گداز ہے، شائستگی ہے اور اثر آفرینی ہے۔ غزل کے اصل مزاج کے قریب کہے گئے اشعار کو اچھے اشعار سمجھا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “معاصر اردو غزل کے خد و خال

  • 30/06/2023 at 10:13 شام
    Permalink

    ”گویا ایک طرف لوگوں تک پہنچنے کی دھن میں غزل کی آبرو پامال ہو رہی ہے تو دوسری طرف غزل کی آبرو قائم رکھنے کی سعی میں عوام الناس سے رشتہ کٹ رہا ہے۔”

Comments are closed.