نو مئی کے اثرات: لگا دی آگ اپنے گھر میں سرگرم‌ فغاں ہو کر


عمران خان کو بھی نواز شریف کی طرح زعم تھا کہ وہ جب چاہیں کسی کو بھی آگے لگا سکتے ہیں۔ خان کو زیادہ زعم سوشل میڈیا کا تھا۔ ضرورت سے زیادہ اعتماد نے انہیں اتنا نقصان دیا کہ اب عالم یہ ہے کہ ”اکیلے پھر رہے ہیں یوسف بے کارواں ہو کر “ نو مئی ایک بڑی غلطی تھی اور اس کے بعد ضد، ہٹ دھرمی اور انا پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمران خان نے ان حملوں کو فوج کی سازش قرار دے کر اس سے بھی بڑی غلطی کی۔ پروپیگنڈا کیا جار رہا تھا کہ فوج پی ٹی آئی کے حق میں تقسیم ہے۔

چند ریٹائرڈ جرنیلوں کے موجودہ یا سابقہ قیادت کے ساتھ اپنے کچھ ایشوز تھے جس کے لیے انہوں نے خان کے کندھے استعمال کیے۔ انہوں نے خان کو یقین دلا رکھا تھا کہ اگر انہوں نے فوج کی موجودہ قیادت کے خلاف اپنا جارحانہ رویہ برقرار رکھا تو فوج میں ان کے حامی بغاوت کر کے انہیں دوبارہ وزیراعظم بنوا دیں گے۔ انہوں نے بس لوگوں کو ٹارگٹ دینا اور پلان کرنا ہے۔

شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ دانا وہ نہیں جو دیوقامت چٹانوں سے ٹکرا جائے بلکہ وہ ہے جو راستہ بدل لے، بہادر وہ نہیں جو بپھری لہروں کی پروا کیے بغیر دریا میں کود جائے بلکہ وہ ہے جو طغیانی کم ہونے کا انتظار کرے، باشعور اور سلیقہ مند وہ نہیں جو ضد، انا اور ہٹ دھری سے بغل گیر ہو جائے بلکہ وہ ہے جو حکمت، تدبر اور فہم و فراست کا دامن تھامے رکھے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی سیاست انانیت اور تکبر کی نذر ہو گئی اور ان کے کارکنوں کا عزم بھی قصۂ پارینہ بن گیا

9 مئی کے بعد ”خوف کے بت توڑ دو “ ”ہم چھین کے لیں گے آزادی“ کے نعرہ زن ”بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق“ کا ماحول بنانے کے بجائے عدالتوں کے روبرو جان بچانے کے خوف میں مبتلا دکھائی دیے ”۔ عمران خان لاڈلے تھے جنہیں ہر سہولت فراہم کی گئی بلکہ انہیں دوسروں کی عزتیں اچھالنے کی بھی مکمل آزادی تھی۔ جنرل باجوہ کے آرمی چیف بننے کے بعد یہ عمل عروج پر پہنچا۔ وزارت عظمی کے بعد عمران خان کے اندر کا انسان باہر نکل آیا۔

عدلیہ، میڈیا اور نیب کو ان کے قدموں میں ڈالا گیا۔ انہیں وہ کام کرنے کی بھی اجازت تھی جو ماضی کے وزرائے اعظم کے لئے ناقابل معافی جرم تھے۔ زرداری کے لئے حسین حقانی کے ذریعے امریکہ سے رابطہ ناقابل معافی جرم تھا لیکن عمران خان کو زلفی بخاری کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیل نواز داماد جیریڈ کر وشنر سے رابطوں کی کھلی چھٹی تھی۔ نواز شریف سے ڈی جی آئی ایس پی آر مقابلہ آرا رہتے لیکن عمران خان کی فوج سے زیادہ ترجمانی کرتے تھے۔

وزیراعظم کو اپنے حلف کے مطابق ریاستی راز اپنی بیوی کے ساتھ شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن عمران خان کو اس کی کھلی چھٹی تھی۔ عدم اعتماد کے بعد جنرل باجوہ کے ساتھ عمران خان کی 4 خفیہ ملاقاتیں زلمے خلیل زاد کے ذریعے ہوئیں جن میں ایک طرف وہ اقتدار کی بھیک مانگتے رہے اور دوسری طرف میڈیا میں میرجعفر اور میر صادق کہہ کر انہیں بلیک میل کرتے رہے۔ آرمی قیادت میں تبدیلی کے بعد بھی عمران خان نے لاڈلے والا رویہ برقرار رکھا۔

ایک طرف وہ جنرل عاصم منیر اور ڈی جی آئی ایس آئی سے رابطے کر کے منتیں کرتے رہے اور دوسری جانب ان پر الزامات لگا کر بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ عمران خان کی ایک اور غلطی یہ تھی کہ وہ جنرل عاصم اور جنرل ندیم کو جنرل باجوہ اور جنرل فیض سمجھ بیٹھے، حالانکہ وہ مزاج، طرز زندگی اور فرائض کی بجاآوری میں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ وہ صبر سے کام لیتے رہے لیکن عمران خان مقبولیت کے زعم میں مبتلا رہے اور ایسے اقدامات کیے جو حکومت نہیں بلکہ ریاست مخالف بھی تھے۔

9 مئی کو بعض بیرونی قوتوں اور بعض ریٹائرڈ جرنیلوں کے ورغلانے پر پی ٹی آئی نے اس زعم میں آخری وار کیا اور فوج پر حملہ آور ہوئی۔ کور کمانڈرز میٹنگ، فارمیشنز کمانڈرز اور پھر کابینہ کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ کے متفقہ فیصلوں کے مطابق پی ٹی آئی نے سیکورٹی فورسز کے ساتھ جو کچھ کیا، وہ ستر سال میں ازلی دشمن بھارت بھی نہیں کر سکا تھا۔ سیکورٹی فورسز کو یقین ہے کہ یہ پی ٹی آئی کا منظم منصوبہ تھا۔ 9 مئی کے بعد کچھ وقت تحقیقات اور کچھ اپنی صفوں کو درست کرنے میں لگا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کی پریس کانفرنس نہ صرف کور کمانڈرز میٹنگ اور فارمیشن کمانڈر میٹنگز کی پریس ریلیز کی تشریح تھی کہ ہم نے اگر اپنے تھری اور ٹو اسٹار جرنیلوں کو نہیں چھوڑا تو سویلینز کو کسی بھی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔

اپنے سینئر فوجی افسران کو سزائیں دے کر ایک پیغام پی ٹی آئی چیئرمین اور ان کے حامیوں کو دیا گیا کہ آنے والے دنوں میں کیا کچھ ہونے والا ہے۔ فوج ہمیشہ اپنے تھری سٹار جرنیلوں کو سزائیں دینے سے گریز کرتی ہے تاکہ ٹرینڈ شروع نہ ہو لیکن نو مئی کے بعد جو سزائیں دی گئی ہیں اس سے واضح ہے کہ بات دور نکل گئی ہے۔ جو فوج سینئر ترین عہدوں پر فائز 20 کے قریب افسران جن میں لیفٹیننٹ جنرل، میجر جنرلز اور بریگیڈئیرز کو معاف نہیں کر رہی، ان کی بیگمات، نواسیوں اور دامادوں تک کو رعایت نہیں مل رہی تو باقیوں کو کیسے معافی ملے گی؟

ملک کی بقا کے لیے تمام اداروں میں اچھے تعلقات ہونا بہت ضروری ہے، عمران خان خود پرستی کے ایک ایسے حصار میں قید ہیں جس میں ان کو اپنے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا، اوپر تلے ان کے غلط فیصلوں نے ملک کو ایسی مشکلات سے دوچار کر دیا کہ یہ فیصلہ کرنا ضروری ہو گیا ہے کہ آیا ملک بچایا جائے یا ایسے شخص کو بچایا جائے۔ جس کے ذہن میں تعبیر سے زیادہ تخریب کا سودا سمایا ہوا ہے۔

یہ تو ہوئی خان صاحب کی بات لیکن دوسرا پہلو بھی غور طلب ہے معاملات جس انتہا کو پہنچے ان میں مقتدرہ کے سرکردہ افراد 2011 سے ایک ایسے نفرت انگیز بیانیے کو فروغ دینے کے عمل کی بھرپور سرپرستی فرماتے رہے جس کے ذریعے وطن عزیز کے تمام سیاستدانوں کو بلا استثناء بدعنوان اور نا اہل ثابت کر دیا گیا۔ ”پانچویں پشت کی ابلاغی جنگ“ لڑنے کے بہانے نوجوانوں کی ایک کھیپ بھی تیار ہوئی جو مذکورہ بیانیے کو سوشل میڈیا کے ذریعے مزید غضبناک بناتی رہی۔

رہے ہم آشیاں میں بھی تو برق آشیاں ہو کر
لگا دی آگ اپنے گھر میں سرگرم‌ فغاں ہو کر

والا معاملہ بن گیا اس پر مستزاد یہ کہ اپریل 2022 ء سے کی جانے والی ”ذہن سازی“ کے اسباب اور سہولت کاری پر بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ تمام سیاستدانوں کو ”چور اور لٹیرے“ ثابت کرنے کے لیے کرشمہ ساز کو دیدہ ور بنا کر سیم پیج کی برکتوں سے مالا مال کس نے کیا۔ اپنے ہاتھوں سے تراشیدہ ”جن“ بے قابو ہونا شروع ہوا تو اپریل 2022 ء میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے فارغ ہونے کے بعد ”مزید خطرے ناک“ ہو کر ”امریکی سازش“ اور ”امپورٹڈ حکومت کا بیانیہ اپنایا تو پھر بھی اس کے ساتھ لاڈلا پن اختیار کر کے اسے مزید شہ کس نے دی کہ وہ شہ مات پر اتر آیا۔

اس کے نتیجے میں بھارتی میڈیا میں ہولی اور دیوالی کا سماں دکھائی دیا۔ سیاسی عناصر کی آڑ میں دراصل فوجی بغاوت کی ناکام کوشش ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آئندہ پی ایسے تجربات اور سیاست میں مداخلت سے اجتناب کیا جائے گا؟ معیشت کے بحران کو اناڑیوں کی بھینٹ چڑھا یا جائے گا، ؟ سیاست اور سیاسی فیصلہ سازی میں دست آرائی کی مشق جاری رہے گی سیاسی استحکام شرپسندوں کو صرف سزائیں دینے کا نام نہیں بلکہ سیاسی عمل میں بنیادی تبدیلیوں کا متقاضی ہے۔ تاکہ ذہنی کج روی کا سلسلہ رک جائے اور آئندہ ایسا بحران پیدا نہ ہو۔

Facebook Comments HS