وداع جنگ


سن پینتالیس میں دوسری جنگ ختم ہوئی تو برلن، ایک شہر نہیں بلکہ فتح کی چار کہانیاں تھیں جو جیتنے والوں نے آپس میں بانٹ لی تھیں۔ بیسویں صدی کی ترتیب کے عین مطابق، وقت کی گرد بیٹھی تو نظریے کی دھول اڑنا شروع ہو گئی۔ اپنے تئیں فرد کی آزادی کا نعرہ بلند کرنے والی اقوام ایک طرف، جبکہ برابری اور اشتراکیت کے نام لیوا دوسری طرف ہو گئے اور ان سب کے درمیان جن لوگوں کو بانٹا جا رہا تھا، ان کا اندراج، تقسیم کے کسی بہی کھاتے میں نہیں تھا۔

پچاس کے عشرے میں جو پابندیاں، برلن شہر کے ایک محلے سے دوسرے محلے تک آمد و رفت پہ لگی تھیں وہ ساٹھ کی دہائی تک سرحدوں کی صورت شاہراہوں سے اٹھتی، شہروں کو کاٹتی، ملکوں میں ڈھل گئیں۔ زمین تقسیم ہو تو نئی تعمیر کی بنیاد پڑتی ہے، لیکن گھر گلیوں کا بٹوارہ ہو تو انسان اپنی پرانی تخریب کو لوٹتے ہیں۔

جب ساری دنیا، آدھی ایک طرف اور آدھی دوسری طرف ہو گئی تو بانٹنے والوں نے تفریق کی خاطر، ان دو دنیاؤں کے بیچ، ایک ان دیکھا، آہنی پردہ سا ٹانک دیا۔ برلن شہر کے درمیان جو لکیر کھینچی گئی وہ پہلے پہل تو خاردار تاریں اوڑھ کر راستوں پہ لیٹی رہی، پھر آہستہ آہستہ کسی واہمے کی صورت سر اٹھاتی اگست 1961 کی ایک صبح، دیوار کی صورت نمودار ہوئی۔ اگلے اٹھائیس سال، یہ دیوار دنیا کے دو حصوں کے درمیان ایک تقسیم کی صورت ایستادہ رہی اور پھر ایک شام، لاکھوں افراد کی خواہش سے رات کی رات، کنکروں میں ڈھل گئی۔

آدمی کا مسئلہ، مگر یہ ہے کہ اسے کنکر کے ساتھ کہانی بھی چاہیے سو جس برلن کی جس چورنگی میں چیک پوائنٹ چارلی والی چیک پوسٹ ہے، اس کے گردا گرد کئی ایسے ایک کمرے کے عجائب گھر ہیں جو یہ کہانیاں سناتے ہیں اور وہ کنکر بیچتے ہیں۔ کہانیوں کی ان دکانوں سے تھوڑا دور، ایک بڑا عجائب خانہ ہے جس میں ایک معمولی سپاہی کی غیر معمولی کہانی ہے۔

کانریڈ شومین، اس وقت تین سال کا تھا جب برلن، ہٹلر کی بند مٹھی سے پھسلا اور اتحادی افواج میں تقسیم ہو گیا۔ زندگی کے اگلے پندرہ سال اس نے سوویت یونین کے زیر انتظام، مشرقی جرمنی میں گزارے اور پھر فوج میں بھرتی ہو گیا۔ تربیت مکمل ہونے پہ کانریڈ شو مین کو برلن تعینات کیا گیا۔ وردی اور بندوق کے بل بوتے پہ نظریے کو نافذ کرتا سپاہی، خال خال سوچتا ہے کہ جس لکیر کی حفاظت پہ وہ مامور ہے، وہ سچ اور جھوٹ کی حتمی سرحد نہیں ہے اور جن چند لشکریوں کو فکر کا یہ فرات نصیب ہوتا ہے، ان کی باقی عمر بھی تشکیک کی کربلا میں گزرتی ہے۔

1961 کے موسم گرما میں دنیا کی اکثریت نے یہ سمجھوتا کر لیا تھا کہ جرمنی اب ایک ملک نہیں بلکہ دو ہیں۔ اسی سال، برلن کی سڑکوں پہ خاردار تاریں، دھیرے دھیرے، زیادہ سے زیادہ علاقے کو اپنی لپیٹ میں لینے لگیں۔ ایسے ہی ایک چوک میں جس کے ایک طرف مشرقی جرمنی اور دوسری طرف امریکی افواج اپنے اپنے علاقوں کی حفاظت کر رہی تھیں، کانریڈ، 15 اگست 1961 کی صبح پہنچا تو اسے بالکل علم نہیں تھا کہ شام آتے آتے کتنا کچھ بدل چکا ہو گا۔

اٹھارہویں صدی میں امن کی یادگار کے طور پہ تعمیر ہونے والے برینڈن برگ کے داخلی دروازے اور سولہویں صدی کے گنبدوں والے معبد کے درمیان، سرد جنگ کا وہ عجائب خانہ ہے جس میں کانریڈ شومین کا پندرہ اگست، معمولی جزئیات سے غیر معمولی تفصیلات سمیت محفوظ ہے۔ اس ایک دن میں کانریڈ کس گھڑی، سپاہیوں کی روایتی بے فکری سے سگریٹ سلگاتے سلگاتے، زندگی کی سلگتی ہوئے فکر سے دوچار ہوا، اس کا تعین خود کانریڈ نہیں کر سکا۔

شاید وہ اس کے کسی ہمکار کا چبھتا ہوا طعنہ تھا جس میں اس کی کم عمری کو اس کی کم ہمتی کا سبب بتایا گیا ہو، یا پھر وہ ایک بوڑھے باپ اور اس کی بیٹی کا مکالمہ ہو، جس میں دوا وقت پہ کھانے کی تاکید مگر گلے نہ مل پانے کا تاسف ہو، ممکن ہے وہ اس کے پہرے کی جگہ کے عین اوپر، پڑچھتی سے ٹپکتا ہوا پانی ہو جو غیر محسوس تسلسل سے اس کے کندھے بھگو رہا تھا، یا پھر دور کھڑا ہجوم ہو جن کی مستقل نعرے بازی اس کے لاشعور کے شانے جھنجھوڑ رہی ہو۔ کیا خبر وہ ہر روز اس راستے سے گزرنے والی ادھیڑ عمر عورت کا فقرہ ہو کہ فوج کسی آزادی کا تحفظ نہیں کرتی بلکہ قید کا جواز پیدا کرتی ہے، کیا پتہ وہ ہر دوسرے دن، اس چوک پہ اپنی ماں کے ساتھ تین پہیوں والی سائیکل پہ آنے والے معصوم بچے کا سوال ہو کہ کیا مجھے سپاہی سے ڈرنا چاہیے یا اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔

برسوں بعد کانریڈ نے اپنے ایک انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ شاید خود بھی نہیں جانتا کہ یہ فیصلہ کب اور کیونکر ہوا لیکن بہرحال، شام چار بجے کے قریب، دوسری طرف ایک قیدی بردار گاڑی پہنچی۔ چند منٹوں بعد ، کانریڈ نے خاردار تار کے اس ڈھیر کو ، جسے وہ کچھ دیر سے دبا رہا تھا، ایک جست میں پار کیا اور اپنی روسی ساختہ رائفل پھینکتے ہوئے امریکی گاڑی میں بیٹھ گیا۔ اس سے پہلے کہ کسی کو کچھ سمجھ آتا، کانریڈ ہاتھ ہلاتا منظر سے غائب ہو چکا تھا۔

کانریڈ کی یہ چھلانگ، آنے والے دنوں میں شخصی آزادی کی تمثیل قرار پائی۔ موقعے پہ موجود ایک فوٹوگرافر نے یہ سارا منظر اپنے کیمرے میں محفوظ کر لیا تھا سو یہ تصویر، بصارتی ثقافت میں دیوار برلن اور اس سے وابستہ تاریخ کے کل کا سب سے اہم جزو بن گئی۔

لگ بھگ تین دہائیوں کے بعد ، 1989 کا سال، کیلنڈر کے سان پہ چڑھا اور آدرش کی قوس قزح، رنگ چھوڑنے لگی۔ فروری میں پولینڈ کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوا، مارچ میں ہنگری نے جمہوریت کا مطالبہ کر دیا اور اگست میں اسٹونیا، لیٹویا اور لتھوینیا کی ریاستوں میں بیداری کی لہر دوڑنے لگی۔ ستمبر آتے آتے اس الاؤ میں اتنی شدت پیدا ہو گئی کہ اکتوبر میں برلن تک اس کی تپش پہنچنے لگی۔ نومبر کے پہلے ہفتے جب ماسکو تک بات پہنچی تو شاید بہت تاخیر ہو چکی تھی اور 9 نومبر 1989 کو لاکھوں برلن واسیوں نے ایک سرکاری پریس کانفرنس اور اس کے بوکھلائے ہوئے اعلامیے کے بعد اس دیوار کو اس شدت سے ریزہ ریزہ کیا کہ اس کے چھوٹے چھوٹے سنگریزے اب دنیا بھر میں برلن یاتریوں کے گھروں میں جگہ پا چکے ہیں۔

برلن کی بندش کے اٹھائیس سالوں میں ہزاروں انسانوں نے برابری والے جرمنی سے آزادی والے جرمنی کا سفر کیا۔ یہ تمام کہانیاں، کسی نہ کسی فلم، ٹی وی یا کتاب میں محفوظ کر لی گئیں تا کہ آنے والے دنوں میں تاریخ کا حصہ بن سکیں اور اسی تاریخ سے تقریر اور تحریر کے حوالے اخذ کیے جا سکیں۔

آدمی بھی کیا سادہ ہے کہ پہلے خود ایک لکیر کھینچتا ہے، پھر اس لکیر سے تاریخ جوڑتا ہے اور آخرکار، اسی تاریخ پہ ایمان لاتے ہوئے اس سے مستقبل وابستہ کر لیتا ہے، یہ جانے بوجھے بغیر کہ اس تاریخ اور اس مستقبل تک پہنچتے پہنچتے، لکیر کی حفاظت پہ کھڑے سپاہی پہ کیا بیتتی ہے۔

کانریڈ نے مغربی جرمنی میں آ کر ایک نئی زندگی شروع کی۔ برلن کی دیوار گری تو وہ بھی ماضی کے تعاقب میں اپنے آبائی شہر پہنچا جہاں اس کے اپنوں نے اسے اپنانے سے انکار کر دیا۔ دنیا بھر سے ملنے والی داد ایک طرف تھی اور اپنے قبیل کے لوگوں سے ملے غداری کے طعنے ایک طرف۔ جون 1998 میں فرد کی حریت کا یہ استعارہ، جو جبر کی خاردار تار اپنے بوٹ سے روند آیا تھا، خودکشی کے راستے، زندگی کی قید سے بھی آزاد ہو گیا۔

”وداع جنگ“ یا
A Farewell to Arms

کے ایک موڑ پہ لیفٹیننٹ فریڈرک ہنری، ریل کے ذریعے سٹریسیا پہنچتا ہے، جہاں اس کی ملاقات ایک بار پھر کیتھرین سے ہوتی ہے۔ رات کے کیتھرین سے کہتا ہے۔

"If people bring so much courage to this world the world has to kill them to break them, so of course it kills them. The world breaks every one and afterward many are strong at the broken places. But those that will not break it kills. It kills the very good and the very gentle and the very brave impartially. If you are none of these you can be sure it will kill you too but there will be no special hurry.”

(محمد حسن معراج)

Facebook Comments HS