غصہ اور بدلے کی آگ
غصہ انسان کے اندر موجود ایسا جذبہ اور احساس ہے جس سے رنجش، خفگی اور ناپسندیدگی کا پتا چلتا ہے۔ غصے کا ہونا ایک حقیقت اور نارمل بات ہے لیکن اس کا بے قابو ہو جانا پریشان کن ہے جو ضبط کی غیر موجودگی کا بتاتا ہے۔ غصہ قابو میں رکھنا ہمارے لئے ضروری ہے کیونکہ اس کا دورانیہ جتنا زیادہ ہو گا، نقصان بھی اتنا ہی شدید ہو گا۔
جب غصہ بے قابو ہو جائے تو بدلے کی آگ بھڑکتی ہے جو بہت بڑے نقصانات کروا دیتی ہے۔ روزانہ اخبارات ایسی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں کہ غصے میں آ کر ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو قتل کر دیا۔ بعض اوقات دو لوگوں کے درمیان عدم برداشت کی وجہ سے جھگڑا ہوتا ہے جو ایک فرد کے قتل سے شروع ہو کر آنے والی کئی نسلوں اور خاندانوں کے جھگڑوں میں تبدیل ہو جاتا ہے اور بے شمار افراد جان سے جاتے ہیں، پھر خاندانوں اور قبیلوں میں دشمنیاں جاری رہتی ہیں۔
چند ماہ پہلے ایک افسوسناک خبر پڑھی تھی۔ اسلام پورہ لاہور سے اغوا ہونے والے آٹھ سالہ بچے کی فیروز والا سے لاش برآمد ہوئی تھی۔ اس ناقابل تلافی نقصان کے پیچھے وجہ بہت معمولی بتائی گئی تھی۔ ملزم بچے کے والد کا کرایہ دار تھا اور دونوں میں چند روز قبل معمولی جھگڑا ہوا تھا جو بڑھتا گیا اور اس نے بدلہ لینے کے لئے بچہ اغوا کر کے سفاکی سے قتل کر دیا۔
غصہ آنے پر معمولی تلخ کلامی کو شروع میں قابو کر لیں، ایک گالی کے بدلے میں دو گالیاں نہ دیں
بلکہ ایک بھی نہ دیں، کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں، پانی پئیں، اس طرح معاملات کو بگڑنے سے یقینی طور پر روکا جا سکتا ہے۔ غصے کی شدت اور انجام ہمیشہ شرمندگی اور پچھتاوا ہیں۔ بے قابو غصے کی ابتداء بداخلاقی سے ہوتی ہے اور انجام کسی بڑے نقصان، جرم یا گناہ کی شکل میں ہوتا ہے جس کی ایک مثال میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔
ایک زمانے میں بہت ساری ایسی خبریں بھی نظر سے گزرتی تھیں کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کو گھور کر دیکھا اور دونوں میں لڑائی شروع ہو گئی۔ بچوں میں ایسی معصومانہ لڑائی تو سمجھ آتی ہے کہ گھورنے پر لڑ پڑیں لیکن عاقل و بالغ سے امید کم ہی ہوتی ہے۔ بعض اوقات خواتین کی لڑائی مردوں کی لڑائی میں تبدیل ہو جاتی ہے اور نقصان دونوں طرف ہوتا ہے۔
کینہ اور حسد غصے کا اہم سبب ہوتے ہیں اور بدلے کی آگ بجھنے نہیں دیتے ہیں۔ ایک انسان اگر آپ کو اس لئے برا لگے کہ اس کے پاس پیسہ بہت ہے یا یہ سوچنا کہ کسی کے پاس آپ سے بڑا عہدہ یا گھر کیوں ہے، حسد کہلاتا ہے۔ حسد کرنے والا شخص نہ صرف منفی جذبات کی آگ میں جل رہا ہوتا ہے بلکہ بدلہ لینے اور دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں بھی لگا رہتا ہے۔
کچھ خواتین گھریلو سیاستوں اور کینہ پالنے میں بہت آگے ہوتی ہیں۔ چالیس سال پہلے کسی کے ساتھ خاندان میں جھگڑا ہوا ہو تو آج بھی اپنے شوہر، قریبی رشتے داروں اور جس جس پر بس چل جائے سب کو اس سے دور کریں گی اور نفرت کروانے کی بھرپور کوشش کریں گی۔ خطاکار توبہ کر لیتا ہے، اللہ بھی معاف کر دیتا ہے لیکن انسان معاف نہیں کرتا ہے۔ کسی کی خطا کو یاد رکھنا، کینہ پالنا اور نفرت میں اس سے زیادہ گناہ خود کرتے جانا عقلمندی نہیں ہے۔ حقوق اللہ کو بھی بچانا اور قبول کروانا ہے تو یاد رکھیں کہ حقوق العباد بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ ہم سب کو خود ترسی کی بیماری، اپنی نمازوں اور روزوں کی گنتی کروا کر خود کو جنتی ثابت کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اپنا تجزیہ بھی ضرور کرنا چاہیے اور اللہ سے ہمیشہ ہدایت مانگتے رہنا چاہیے۔
پھر ان کی جگہ ایسے ناخلف آئے جنہوں نے نماز ضائع کی اور خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، پھر عنقریب گمراہی کی سزا پائیں گے۔
سورۃ مریم آیت نمبر 59
سڑک پر مختلف گاڑیوں کی ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ ہم سب نے دیکھی ہے۔ اگر کسی نے مجھے اوور ٹیک کر لیا تو میں دوسرے کو مجرم سمجھ کر پیچھے بھاگوں گا یہ سوچے بغیر کہ وہ کسی ایمرجنسی میں ہو سکتا ہے، بدلے کی آگ اس وقت ٹھنڈی ہو گی جب اسے ناصرف کراس کر لوں بلکہ اس کے سامنے گاڑی لا کر ہلکی سی بریک بھی لگاؤں تاکہ اسے احساس ہو کہ وہ بہت بڑا مجرم ہے جو اب شکست کھا چکا ہے۔ ایسے میں بدلہ لینا ہم ضروری سمجھتے ہیں خواہ اس سے کسی کا نقصان ہو جائے یا کوئی اور بے گناہ کچلا جائے۔
کوئی سڑک کراس کر رہا ہو یا کسی گاڑی نے میرے سامنے سے آتے ہوئے دوسری سڑک پر مڑنا ہو اور میری رفتار کم ہو، اس موقع پر میں اچانک گاڑی کی رفتار بڑھا لوں گا تاکہ کوئی مجھ سے جیت نہ سکے، اس منفی رجحان پر قابو پانا بہت ضروری ہے۔ تحمل اور دوسروں کے لئے قربانی دینا سیکھیں، اپنے غصے اور جذبات پر قابو رکھیں۔ اگر آپ آگے نکلنا چاہتے ہیں تو نیکیوں کی رفتار بڑھائیں اور بھاگنا ہے تو حقوق اور فرائض کی ادائیگی کے لئے بھاگیں۔
جہاں جہاں سے پانی گزر سکتا ہے ہر اس جگہ سے موٹر سائیکل سوار گزرنے کی کوشش کرتا ہے، خود غلطی کر کے دوسروں کو غصے سے گھورتا ہے۔ ہیلمٹ سر کی حفاظت کے لئے ہے، پیٹرول کی ٹینکی کو پہنانے کے لئے نہیں، چالان ہو جائے تو خود کو سمجھائیں، پولیس والے کو برا بھلا نہ کہیں۔
عورت کی زبان درازی ہو یا مرد کی ضد اور غصہ، بدلے کی آگ خاندانوں کو برباد کر دیتی ہے۔ انجام پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ہے جو بالآخر بچوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے پاکپتن میں شوہر نے جھگڑے پر بیوی کے ساتھ ساتھ سالے اور سسر کو بھی فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ بیوی گھریلو رنجش پر میکے آ کر بیٹھ گئی تھی اور شوہر نے منانے کی کوشش کی لیکن نہ ماننے پر جھگڑا بڑھ گیا۔ شوہر سے برداشت نہیں ہوا اور اس نے تینوں کو قتل کر دیا۔ وقتی غصے اور برداشت کی کمی نے خاندان اجاڑ دیا، غور ضرور کریں۔
دفاتر میں کام کا لوڈ زیادہ ہو، تھکاوٹ ہو یا سٹریس کی وجہ سے شدید غصہ آ رہا ہو تو بہت سارے لوگ سگریٹ پیتے ہیں جو صحت کی مزید تباہی کا باعث ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنے دفتر میں سینئر پوزیشن پر ہیں اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں تو جونیئرز پر غصہ نہ نکالیں، بدتمیزی کرنا یا اونچی آواز نکالنا اس وقت ہوتا ہے جب منطق اور دلیل کے بغیر دوسرے پر حاوی ہونا مقصد ہو۔ سمجھ داری سے کام لیں کیونکہ آپ کی پوزیشن آپ سے تحمل کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر آپ کا سینئر ایک بد تمیز یا ظالم آدمی ہے اور اس کو دیکھ کر سر پھاڑنے کا دل کرے تو ایسا نہ سوچیں، اپنے ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کو شکایت کریں تاکہ اس کے شر سے اور لوگ بھی محفوظ ہو سکیں۔
ایک تحقیق کے مطابق غصہ دل، دماغ، نظام انہضام اور پھیپھڑوں کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ تخلیقی صلاحیتوں کو بھی بڑھنے سے روک دیتا ہے۔ غصہ اس وقت کریں جب نہ آ رہا ہو اور کسی کی تربیت مقصد ہو تاکہ ہوش قائم رہے اور آپ کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ساتھ دے۔ بدلے کی آگ میں خود کو کبھی نہ جلائیں تاکہ ہر طرح کے نقصان اور پچھتاوے سے بچ سکیں۔


