معاشی صورتحال اور مستقبل سے مایوس نوجوان


یہ جون کی ایک عام سی دوپہر تھی۔ گرم مرطوب اور ساکن۔ قائد اعظم یونیورسٹی جانے کے لیے بنی گالا سے آن لائن رائیڈ آرڈر کی اور تھوڑی دیر بعد ایک تند و توانا جوان بائک کے ساتھ متعلقہ پتے پر پہنچ گیا۔ آج کل تو ویسے یہ معمول کی بات ہے کہ بے روزگاری کے سیلاب میں اچھے اچھے خوبرو جوان دوپہروں کو اپنے پسینے سے مزین کرتے ہیں۔ اور ان بائک چلانے والوں میں زیادہ تعداد پڑھے لکھے افراد کی ہی ہوا کرتی ہے۔ محنت کرنے سے زیادہ عزت کا کام میرے نزدیک تو کوئی نہیں اور نہ ہی بائک چلانے میں کوئی عار ہے اگرچہ آپ پڑھے لکھے ہی کیوں نہ ہوں۔

لیکن مدعا محنت نہیں، متعلقہ صلاحیتوں کے مطابق محنت کرنے کے مواقع ہونا ہے۔ خیر بائک پہ بیٹھتے ہی محمد نعیم نے بات چیت کا آغاز کیا اور معلوم ہوا کہ محمد نعیم اپنے گھر کا اکلوتا کمانے والا ہے اور عرصہ سات سال سے اسلام آباد میں مقیم ہے۔ محمد نعیم کا تعلق جنوبی پنجاب کے کسی گاؤں سے ہے اور وہ سات سال پہلے اسلام آباد تعلیم کے حصول کے لیے آیا تھا۔ محمد نعیم نے اسلام آباد کی نمل یونیورسٹی سے شعبہ معاشیات میں سولہ سال کی تعلیم مکمل کی اور پھر اسی بھیڑ چال کا حصہ ہو گیا جس میں آج ہمیں ہر پہلا بندہ دکھائی دیتا ہے یعنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لئے مناسب حصول روز گار۔

محمد نعیم کی گفتگو سے نا امیدی اور اداسی بیک وقت گونج رہی تھی اور تواتر سے اس پہ گزرے شدید حالات کا پتہ بتاتی تھی۔ اس کے ساتھ گفتگو سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ ایک اچھا خاصا قابل فہم اور موجودہ ملکی و غیر ملکی صورتحال سے باخبر فرد ہے۔ معاشیات چونکہ اس کا اپنا مضمون تھا تو معیشت کی بنیادی معلومات پہ بھی اس کی گہری نظر تھی۔ خصوصاً پاکستانی معیشت کی موجودہ صورتحال اور اس کو درپیش مسائل، ان مسائل کا حل اور موجودہ حکومت کی غیر ذمہ دارانہ انسان دشمن پالیسی بھی اس کی گفتگو کا بنیادی عنصر تھی۔

بات کرتے کرتے وہ اپنا قابو کھو دیتا اور پھر جو بھی منہ میں آئے، محمد نعیم کے پچھلے دو سال، یعنی اسلام آباد کی ایک بہترین یونیورسٹی سے سولہ سالہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کے دو سال باقاعدہ بے بسی کی تصویر تھے۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کچھ کہہ گیا جو شاید اس پہ بھی گراں گزر رہا تھا۔ محمد نعیم نے نصیحتاً مجھ سے یہ ملک چھوڑنے کے لئے کہا اور تاکید کی واپس کبھی لوٹ کر نہیں آنا۔ محمد نعیم سخت ترین الفاظ جن میں گالیاں زیادہ تھیں، مسلسل مریم، بلاول اور اسی مثل دوسرے کئی اشرافیائی ناسوروں کی بات کرتے ہوئے تقریباً چلاتا جا رہا تھا کہ یہ ملک ہمارے لیے بنایا ہی نہیں گیا۔ پاکستانی فوج کے بارے میں اس کی رائے اتنی شدید تھی کہ مجھے معلوم ہوا شاید گزشتہ فوجی تنصیبات کو جلانے والے واقعات کا ماسٹر مائنڈ یہی تھا۔ محمد نعیم بولتا چلا جا رہا تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ شاید اپنی بے بسی پہ رو رہا ہو۔

یہ کہانی محمد نعیم کی نہیں ہے بلکہ پاکستان میں مقیم ہر پہلے نوجوان کی کہانی ہے۔ محمد نعیم ہی کی طرح کے بے شمار قابل اور تعلیم یافتہ نوجوان انتہائی پست زندگی گزارنے پہ مجبور کر دیے گئے ہیں۔ ان نوجوانوں کے پاس خواب ہیں نہ خواہشیں، امید ہے نہ حوصلہ، صرف حسرتیں ہی حسرتیں ہیں اور ان حسرتوں میں بھی غالب حسرت بنیادی ضروریات کی تکمیل ہے۔ یعنی رہنے کے لئے ایک مناسب چھت، کھانے کے لیے عام سی روٹی اور تن ڈھانپنے کو کوئی بھی مناسب لباس۔

حالانکہ باقی دنیا میں بنیادی ضروریات کی تقسیم مندرجہ بالا تین چیزوں کی زمین پہ شروع ہوتی ہے لیکن پاکستان کا نوجوان اس انتہائی پست معیار زندگی سے بھی محروم ہے۔ لوگ کہتے ہیں پاکستان میں آئن سٹائن، نیوٹن، تھامس ایڈیسن یا اس مثل دوسری کئی شخصیات کیوں جنم نہیں لیتی، حضور پاکستان میں توپ خانے ہیں، ہر ذرے کی حفاظت میں سپاہی معمور ہیں، ہائیکورٹ میں کیسز چل رہے ہیں کہ فوج کو لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی کارپوریٹ فارمنگ کے لیے دینی چاہیے یا نہیں، اشرافیہ جاہل اور بد قماش ہے اور ہر پیدا ہونے والا نوجوان نا امید اور اداس ہے تو بھلا ایسی بے بس فضا میں کوئی محقق یا فلسفی کیا ہو۔

فوجی تنصیبات کے تقدس کو بحال کرنے کے لیے پورا ملک زندان کی سی تصویر بنا ہوا ہے، فرد کی عزت نیلام ہے۔ اشرافیہ وسائل پہ قابض ہونے کی دوڑ میں لگی ہے، بلاول کے وزیراعظم بننے کی آوازیں گونج رہی ہیں اور نوجوان ملک سے باہر جانے کے لئے اجنبی سمندروں میں ڈوب کر نجات حاصل کر رہے ہیں مگر اس ملک میں رہنا گوارا نہیں۔ ایسے حالات میں نوجوان چلتے پھرتے آتش فشاں ہیں اور فوجی تنصیبات تو کیا ان لاچار اجسام کو کوئی بھی تنصیبات پھونکنے کا موقع ملے گا تو یہ جلا کر بھسم کر دیں گے اور شکن تک ماتھے پہ نہ ہو گی۔

جن معاشروں میں فرد کی تضحیک روایت بن جائے، انسانوں سے زیادہ عمارتیں مقدس ہوں، فرد سے زیادہ عہدے اہم ہوں وہاں عمارتیں ہی جلا کرتی ہیں، انسان زندہ رہنے پہ ڈوبنے کو ہی ترجیح دیا کرتے ہیں۔ ایسے معاشروں کو معاشرہ کہنا ”معاشرے“ کی تذلیل ہے۔ ایسے معاشرے جہاں بنیادی ضروریات نایاب ہوں، بنیادی حقوق آسائش ہوں، ایسے معاشرے زندہ انسانی اجسام کا قبرستان ہوا کرتے ہیں۔ پاسپورٹ آفس کے باہر لگی لائنیں زیادہ بڑی ہیں یا آٹے کی وصولی کے لیے لگی لائنیں زیادہ بڑی ہیں، آج بھی ہمارے ٹاک شوز کا بنیادی موضوع ہے۔ محمد نعیم اپنے بیان میں صد فیصد درست ہے کہ تعفن زدہ معاشروں کو چھوڑ جانا چاہیے اور کبھی لوٹ کر واپس نہیں آنا چاہیے۔ ایسے ذلیل معاشرے انسان نہیں درندوں کی پرورش کرتے ہیں اور درندوں کی بستیاں کیسی ہوتی ہیں دیکھنا چاہتے ہیں تو اپنے ارد گرد نظر گھما کے دیکھ سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS