عالمی اور علاقائی تناؤ میں ہماری سیاسی پارٹیوں کا ممکنہ اتحاد

اس وقت عالمی سطح پر اور علاقائی حدود اربعہ میں ساری سیاست عمومی طور پر اور ہماری ملکی سیاست خصوصی طور پر بٹی ہوئی ہے یا بٹنے جا رہی ہے۔ اس وقت عالمی طور پر امریکہ، یورپ اور ہندوستان سمیت ایک جانب جب کہ رشیا، چائنہ، ترکیہ، ایران، پاکستان اور مڈل ایسٹ دوسری جانب ایک دوسرے کے خلاف سیاسی منجنیقیں نکال کر کھڑے نظر آرہے ہیں۔ ان سب کے درمیان اسرائیل ایک فاتح اور افغانستان ایک مفتوح کی صورت منتظر فیصلہ دیگراں ہے۔
لمحہ موجود میں دبئی یا پھر عید بعد سعودی عرب میں جو سیاسی اتحاد کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے وہ ہماری اندرونی اور بیرونی سیاست پر بھی اثر ڈالے گا اور وہ اثر پہلے دن سے آشکار ہو جائے گا۔
زرداری کی بنفس نفیس ادھر موجودگی اور نواز شریف کا لندن سے آنا خود زمانہ حال میں متوازی جبکہ مستقل میں غیر متوازی سیاست کا پیلامہ ہے۔
غیر فطری اتحاد کی تاریخ پی این اے سے لے کر پی ڈی ایم تک موجود تو ہے لیکن یہ جڑنے سے لے کر ٹوٹنے کی تاریخ کا بھی ایک کامل تجربہ ہو سکتا ہے جیسے کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے اور مستقل میں متوقع ہے۔
حال ہی میں ایک جھلک ہم بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے مسلم لیگ ( ن ) کے خلاف سندھ کے سیلاب فنڈ کے حوالے سے سیاسی تلخی کا ایک ٹریلر دیکھ چکے ہیں جو فوری طور پر حل کرا کے اتحاد کو کچھ عرصے کے لئے آگے لے جانے کے لئے پھر سے متحرک کر دیا گیا ہے۔
آنے والے وقتوں میں یا حکومت سازی میں پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد میں سرفہرست اے این پی، پی ٹی آئی، پختونخوا میپ کا خوشحال کاکڑ گروپ، زین بگٹی گروپ، اختر مینگل گروپ اور دیگر شامل ہوں گے جب کہ مسلم لیگ ( ن ) کے ساتھ فضل الرحمان، استحکام پاکستان، جماعت اسلامی، مسلم لیگ ( ق ) اور تحریک لبیک وغیرہ کھڑے نظر آرہے ہوں گے
حال ہی میں روس میں بھلے چھوٹے پیمانے پر بغاوت نے سر اٹھایا لیکن روس کے خفیہ ایجنسیوں کے اس بیان نے سارے گیم کو یکسر امریکہ کے پلڑے میں ڈال دیا جب اس کا الزام امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر ڈال دیا گیا نہ صرف الزام ڈال دیا گیا بلکہ اس کی اطلاع کا پہلے سے پتہ ہونے کا انکشاف بھی کیا، جس سے سارا قصہ ایک طرح سے سیکیورٹی لیپس پر منتج ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے اور اس طرح کے واقعات آئندہ میں بار بار متوقع ہونے کے مواقع میسر آ سکتے ہیں اور روس کے آئیکنز سرمایہ داروں کی توجہ یا ان کی ایک طرح کی سیاسی اور معاشی مدد کی مسافت میں پہلا قدم گردانا جاسکتا ہے۔
یہ جملہ اب بہت چبایا جا چکا ہے کہ سیاست میں کوئی حرف آخر نہیں ہوتا لیکن اگر اس جملے کو مزید چبایا جائے تو اس سے سمجھنے کے لئے اتنا جوس ضرور نکل سکتا ہے یا اس ٹھوس صورت حال کو اتنا مائع ضرورت کیا جاسکتا ہے کہ سمجھنے میں کئی پہلوؤں میں آسانی آ سکتی ہے۔
اس وقت جیسے میں نے اوپر لکھا ہے کہ عالمی طور پر امریکہ، یورپ اور ان کے اتحادی ہیں اور علاقائی طور پر روس چائنہ اور ان کے ہمراہی ہیں۔
اب باآسانی ہم کہہ سکتے ہیں کہ مستقبل میں ہمارے ہاں یہ سیاسی اتحاد کہاں کہاں کھڑے نظر آرہے ہوں گے جسے ہم پرو امریکہ اور پرو چائنہ کے سیاسی اصطلاحات سے جانتے تو ہے ہی مزید جاننے لگیں گے۔
اگر ہم سی پیک کو نظر میں رکھیں اور ساتھ ساتھ آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں اور ہماری سماجی، معاشی اور مراعاتی و حکمراں طبقے کی خانگی و نجی تعلقات اور مجبوریوں کو پیش نظر رکھیں تو بات اور واضح ہو جاتی ہے کہ ہمارا جھکاؤ کس جانب ہو سکتا ہے یا ہم کس جانب کا دباؤ برداشت کر سکتے ہیں یا سہ سکتے ہیں۔
ادھر ہمارا سیاسی تدبر یا سیاسی حکمت عملی بھی کار فرما آ سکتی ہے اگر ہم اس کو بروئے کار لا سکیں تو ہم دونوں جانب کی طاقتوں کو دونوں گروپس کی شکل میں مصروف عمل رکھ سکتے ہیں لیکن اس کے لئے نہایت ہی بڑے پن اور ذاتی مفادات سے بالا ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے اور تھوڑی سی بھی ذاتی رنجش یا لغزش اس کھیل کو واپس نکات تک لا سکتا ہے۔
حقیقت میں ہم ایک ایسی صورت حال سے دو چار ہیں کہ نہ تو ہم ایک گروپ کو چھوڑ سکتے ہیں اور نہ دوسرے گروپس سے جوڑ سکتے ہیں۔ ایک کو بھی کہتے ہیں کہ آپ درست فرما رہے ہیں اور دوسرے کو بھی کہہ رہے ہیں کہ آپ بھی بجا کہہ رہے ہیں اور اگر اس دوران کوئی ثالثی کے لئے آئے اور ہم سے کہیں کہ آپ پہلے فریق کے نکات کو بھی درست کہہ رہے ہیں اور دوسرے فریق کے کہنے کو بھی بجا سمجھ رہے ہیں تو فیصلہ کیسے کیا جائے؟ تو ہم ثالث کو یہ کہہ کر مطمئن یا غیر مطمئن کر سکتے ہیں کہ آپ بھی غلط نہیں کہہ رہے ہیں۔
ہم خود بہت متزلزل ہیں ایک جانب پیسے کی کمی کو رو رہے ہیں اور دوسری جانب ہماری شاہ خرچیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی، اس صورت حال میں کس کو خفا کریں اور کس کو خوش رکھیں۔ اس کھیل سے سنجیدگی سے نکلنا ہو گا۔ لیکن اس کا فیصلہ کرے گا کون؟ یہ تو ہمارا اپنا مسئلہ ہے۔ ہماری اندرونی ذمہ داری ہے جب ہم اپنی داخلہ صورت حال کو قابو نہیں کر سکتے خارجی صورت کو کیسے گرفت میں لیں گے۔
دنیا اتنی بے وقوفی نہیں ہے ان کی نظریں ہمارے ہر عمل اور ہر عادت پر ہیں اس کے لئے سب سے پہلے ہمیں اپنی عادات اور اپنے اعمال کو بدلنا ہو گا وگرنہ بہت ساری چیزوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے کیونکہ جب کوئی کسی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جائے تو پھر بندے کو یہ احتیاط ضرور کرنا چاہیے۔ پہلے تحقیق کر لیا کریں کہ جس دعوت میں مدعو ہیں وہ خیرات ہے یا ولیمہ پھر ہاتھ دھو لیا کریں ورنہ تعزیت اور مبارک باد کے اظہاریہ جملے ان کی آمد کا سارا مقصد فوت کر سکتا ہے۔

