واہمہ


یہ کھلی ہوئی کھڑکی ہے نا یہ بہت ہی عجیب و غریب ہے۔ یہ جو کچھ دکھاتی ہے وہ ہمیں دیکھنا نہیں چاہیے۔ ایسے رنگ دکھاتی ہے جنہیں ہم اپنے کینوس میں بھر نہیں سکتے۔ وہ منظر جو آنکھ کبھی دیکھ ہی نہ پائے اسے دیکھنے سے کیا حاصل؟ ایسے خواب دیکھنے کا کیا مطلب جن کی کوئی تعبیر ہی نہ ہو۔ یہ خسارے کا سودا ہے۔ آخر ہم انسان نفع و نقصان کے بارے میں ہی کیوں سوچتے ہیں؟ یہ میری سمجھ سے بالا تر ہے۔ زندگی کو اس سے ماورا ہونا چاہیے۔ نفع و نقصان کے کھیل میں انسان تو آگے نکل جاتا ہے مگر انسانیت کہیں پیچھے بھٹکتی رہ جاتی ہے لیکن انسانوں کا ایک قبیلہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ خسارے کا سودا ہے، اسے خریدنے پہ بضد رہتا ہے۔

میں نہیں جانتی کہ یہ کھڑکی کب، کیسے اور کیوں کھلی؟ مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ جب یہ کھل جاتی ہے تو انسان چاہے جتنی بھی کوشش کر لے اسے بند نہیں کر سکتا۔ میں نے بھی اس سعی لاحاصل میں بہت سا وقت گنوایا مگر بند نہیں کر پائی یعنی کہ نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ اب جبکہ یہ حقیقت آشکار ہو چکی ہے کہ اسے بند کرنے کا اختیار ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے تو میں نے اس سے سمجھوتا کر لیا ہے۔ جب زندگی سمجھوتے کا دوسرا نام ہے تو ایک یہ بھی سہی۔

تم بہت سی باتیں میرے بارے میں نہیں جانتے کیوں کہ تم نے جاننے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی۔ یہ شکوہ نہیں ہے کیوں کہ جسے شکوہ کرنے کا حق نہ ہو اسے شکوہ کرنا زیبا نہیں۔ تمہارے نکتہ نظر سے شاید یہی درست ہے کہ پچھلے موڑ پہ بیٹھی گمنام اور دل چلی عورت جو زندگی کی دوڑ میں کہیں پیچھے رہ گئی ہو اس کے بارے میں کوئی بھی جاننا نہیں چاہتا۔ تم قصور وار نہیں، زندگی کا دستور ہی یہی ہے کہ یہ سنگدلی سے کچھ لوگوں کو روندتی ہوئی آگے نکل جاتی ہے اور پیچھے رہ جانے والوں کو مڑ کر بھی نہیں دیکھتی کہ وہ کس حال میں ہیں؟ ان پہ کیا بیت رہی ہے؟ زندگی کے گمشدہ باب کو ڈھونڈھنے کا وقت کس کے پاس ہے؟ جب اپنا پہلو آباد ہو تو کسی کے ویران پہلو کے بارے میں سوچنے کی فرصت ہی کہاں ملتی ہے۔

میں نے کہیں پڑھا تھا کہ انسان کے اندر ایک ازلی اداسی ہے اسے لاکھ دبانا چاہو مگر وہ باہر ضرور آتی ہے۔ جس جنت کو چھوڑ کر وہ اس کرہ ارض پہ آیا ہے اس کی یاد کے سحر میں ہمیشہ مبتلا رہتا ہے۔ کبھی کبھی یہ اداسی اس کے اندر وحشتوں کے گھنیرے جنگل اگا دیتی ہے۔ وہ دیوانہ وار ان میں بھٹکتا رہتا ہے مگر نہ تو نکلنے کی راہ نہیں ملتی ہے اور نہ ہی وحشت کم ہونے کا نام لیتی ہے۔ اسی دیوانگی کے عالم میں اسے کسی ایسے انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے اس کیفیت سے نجات دلا سکے۔ ہر انسان کی قسمت میں ہمسفر نہیں ہوتا اسے اپنی وحشتوں سے اکیلے ہی نبرد آزما ہونا پڑتا ہے، اپنی بھاوناؤں کو کچلنا پڑتا ہے۔ امید کے پرزوں کو بے بسی سے فضا میں بکھرتے دیکھنے کی تکلیف سہنی پڑتی ہے۔ کسی اور سے لڑنا آسان ہے مگر اپنے آپ سے جنگ ہو تو بہر صورت شکست اپنی ہی ہوتی ہے۔

اس رات کھڑکی کے اس پار بچھے سمندر میں پیار و محبت کے گیتوں کی گنگناہٹ نہیں تھی۔ ساحل سے بوس و کنار اور اٹکھیلیاں کرتی، موجیں بھی خوفزدہ ہو کر کہیں چھپ گئی تھیں۔ ان کی جگہ غضبناک لہریں تھیں جو راستے میں آنے والی ہر شہ کو روند کر اپنی وحشت مٹانے کی بھرپور کوشش میں مصروف تھیں۔ چیختی چنگھاڑتی ہوا کھڑکی کے پٹوں کو بری طرح پیٹ رہی تھی چند لمحے کو یوں لگا جیسے شیشہ توڑ کر اندر گھس آئے گی اور سب کچھ تہس نہس کر دے گی۔

زرد پتا بری طرح کانپ رہا تھا مگر اس کی ڈھارس بندھانے والا کوئی نہ تھا۔ پانی کا رنگ بدلا ہوا تھا بالکل ویسے ہی جیسے ایک انسان دوسرے سے منہ پھیر لے تو اس کی آنکھوں کا رنگ بدل جاتا ہے۔ انسانوں کو نظریں پھیرتے تو کئی بار دیکھا ہے مگر سمندر کو نظریں پھیرتے پہلی بار دیکھا۔ جب خود پہ بیتی تو جانا کہ ڈر کسے کہتے ہیں۔

میں تن تنہا سینے سے وہ تصویر لپٹائے جو ہمیشہ میرا حوصلہ بڑھائے رکھتی تھی، پرانی کتاب کے اوراق الٹتی پلٹتی رہی اور کر بھی کیا سکتی تھی؟ ہم ان کتابوں میں کیا کیا کچھ رکھ چھوڑتے ہیں اس کو احساس جب ہوتا ہے جب انہیں عرصہ دراز کے بعد کھولتے ہیں۔ ایک صفحے پہ تتلی کے ٹوٹے ہوئے پر ملے۔ وہ اپنی کہانی سناتے رہے مگر اس منحوس رات جب مجھے حوصلے کی شدید ضرورت تھی تصویر کی آنکھیں کچھ اور ہی کہانی کہہ رہی تھیں۔ ایسی کہانی جسے شاید میں سننا نہیں چاہتی تھی۔ میں نے کئی بار سر جھٹکا کہ شاید یہ واہمہ ہو مگر اس جاں لیوا خیال نے پیچھا نہیں چھوڑا اور کسی آدم خور مکڑے کی مانند اپنے نوکیلے پنجے دماغ میں گڑوے بیٹھا رہا۔

سوچ کا خوفزدہ پنچھی اپنے پنجرے میں سر جھکائے دبک کر بیٹھ گیا۔ میں نے پنجرے کا دروازہ کھول کر اسے آزاد کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر اس نے اڑان بھرنے سے صاف انکار کر دیا۔ یوں لگتا تھا جیسے اس میں جینے کی امنگ ہی باقی نہ ہو۔ امنگ ہی تو زندہ رکھتی ہے، یہ نہ ہو تو انسان جیتے جی مر چاہتا ہے۔

جس نے بھرپور زندگی جی ہو وہ اس بات کو سمجھ نہیں پائے گا کہ محبت اور ضرورت میں فرق ہوتا ہے، ضرورت کی عمر قلیل اور محبت کی بہت طویل ہے۔ ہو سکتا ہے یہ افسانوی باتیں ہوں بے کار، بے سر و پا جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہ ہو۔ ہم انسان بھی عجیب ہیں جو باتیں یاد رکھنے کی ہوتی ہیں انہیں بھول جاتے ہیں اور جنہیں بھول جانا چاہیے وہ یاد رکھتے ہیں۔ ہمیں یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ کہانیوں اور افسانوں کا جنم بھی زندگی کے بطن سے ہوتا ہے۔

اس بحث کو جانے دو، ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ کئی دن تک سمندر بپھرا رہا، ایک طوفان باہر تھا جس کے بارے میں ایک جہان جانتا تھا مگر جو اندر تھا اسے کوئی بھی محسوس نہیں کر سکا۔ منہ زور لہریں سر پٹکتی رہیں، ساحل کئی جگہ سے کٹ پھٹ گیا، زرد پتا کانپتا رہا۔ پنجرے میں پنچھی اسی طرح بے حس و حرکت سر نیوڑھائے بیٹھا رہا۔ حد نظر کے اس پار ایک کشتی گرداب میں ڈولتی رہی۔ شاید اب بھی ڈول رہی ہو، میں نہیں جانتی اس کا انجام کیا ہوا۔ ڈوب گئی یا ڈولتی ڈلاتی ساحل تک آن پہنچی۔ نیند نہ بھی آئے تو کبھی کبھار آنکھیں موند لینے میں ہی عافیت ہوتی ہے۔

آخر کار سمندر کا جوش دھیرے دھیرے ٹھنڈا پڑا وہ اب بہت حد تک شانت ہے۔ یہ اب پورن ماشی کی شب ہی جوش میں آئے گا۔ شب یلدا میں پورن ماشی کی خواہش ہے نا عجیب بات؟ وہ سفید موجیں جو ساحل کو گاہے بگاہے چومتی تھیں لوٹ آئی ہیں مگر وہ پنچھی نجانے کیوں ابھی تک سر نیوڑھائے پنجرے میں بیٹھا ہے۔ لاکھ سمجھایا کہ آدھی ادھوری باتیں سچی نہیں ہوتیں۔ طوفان گزر چکا ہے مگر جو سمجھنا ہی نہ چاہے اسے سمجھانا پتھر سے سر پھوڑنے کے مترادف ہے۔

خزاں کے موسم میں جنم لینے والے کل کی طرح آج بھی اداس ہیں۔ وہ خوش کیسے ہوں کہ امید کا پتا بھی اسی طرح سے زرد ہے۔ ساگر اپنی نیلی آنکھوں سے بہت کچھ کہہ رہا ہے مگر تصویر کی کالی اور گہری آنکھیں بالکل خاموش ہیں۔ کیا یہ کسی اور طوفان کی آمد کا پتہ دے رہی ہیں؟ نہیں نہیں خدا کرے کہ ہمیشہ کی طرح یہ بھی میرا واہمہ ہی ہو۔

Facebook Comments HS