مسعود قمر اور نثری نظموں کے ادبی تحفے
مجھے ناجیہ احمد کا ’جو خوبصورت نثری نظمیں تخلیق کرتی ہیں‘ پیغام آیا کہ ان کے پاس ایک اور نثری نظمیں لکھنے والے شاعر مسعود قمر کا پیغام آیا ہے کہ وہ انہیں اپنی نظموں کا نیا مجموعہ۔
آئینے میں جنم لینے والا آدمی۔
اس لیے بھیج رہے ہیں تا کہ وہ اسے مجھ تک پہنچا سکیں۔ میں نے کہا یہ تو میری خوش بختی ہے کہ مسعود قمر نے نہ صرف مجھے یاد رکھا بلکہ میرے لیے ایک ادبی تحفہ بھی بھجوایا۔ وہ شاید جانتے ہیں کہ میں تحفوں میں کتاب کے تحفے کو اور وہ بھی اپنی تخلیق کردہ کتاب کو سب سے زیادہ قیمتی تحفہ سمجھتا ہوں۔
جب ناجیہ نے مجھ سے پوچھا کہ آپ مسعود قمر کو کیسے جانتے ہیں تو میں نے انہیں بتایا کہ مسعود قمر سے میری پہلی ملاقات 1986 میں اس وقت ہوئی تھی جب میرے دانشور دوست سائیں سچا نے سویڈن میں ایک مہاجر ادیبوں کی ایک ہفتے کی ورکشاپ کا انتظام و اہتمام کیا تھا اور یورپ اور شمالی امریکہ سے چودہ ادیبوں ’شاعروں‘ فنکاروں اور دانشوروں کو دعوت دی تھی۔ اس ورکشاپ میں جن نئے شاعروں سے میری ملاقات ہوئی تھی ان میں سے ایک مسعود قمر بھی تھے۔ انہوں نے ایک شام اپنی ایک نثری نظم۔
خدا اور فوٹوگرافر۔
سنائی تھی جو خدا کو ماننے اور نہ ماننے والے سب حاضرین کو اتنی پسند آئی تھی کہ ادبی ورکشاپ کے بعد جب سائیں سچا اور میں نے مل کر اس ورکشاپ کی تخلیقات کو جمع کر ایک اردو اور انگریزی کی مشترکہ اینتھالوجی بنام۔
۔ شناخت کی تلاش۔
SEARCH FOR IDENTITY
چھاپی تھی تو اس میں ہم نے مسعود قمر کی نثری نظم بھی شامل کی تھی۔ آئیں آج تین دہائیوں بعد آپ بھی اس نظم سے محظوظ و مسحور ہوں
خدا اور فوٹوگرافر
شہر کی آگ اگلتی سڑکوں پر
نوجوان ’پھٹی بنیانوں اور زخمی سینوں کے ساتھ
سچائی کی مے پی کر
مدہوش ہوتے ہوتے رقص کر رہے ہیں
لڑکیاں
ننگے پاؤں اور کھلے بالوں کے ساتھ
خوں رنگ بارشوں میں نہا رہی ہیں
اور بچے
تتلیوں کا پیچھا کرتے کرتے
ٹینکوں اور بھاری بوٹوں تلے کچلے جا رہے ہیں
ایسے میں دوستو
تم ایک ہاتھ میں کاغذ
اور دوسرے میں قلم پکڑے
ہوٹلوں کی کھلی کھڑکیوں سے انہیں مت دیکھو
کہ ظلم ہوتے دیکھنا
صرف خدا اور فوٹو گرافر کر ہی زیب دیتا ہے۔
عالمی ادب کے سنجیدہ قاری بخوبی جانتے ہیں کہ ساری دنیا میں نثری نظموں کو بڑی عزت اور احترام سے دیکھا جاتا ہے لیکن اردو ادب میں اس کے ساتھ سوتیلی بیٹی کا سا سلوک کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے نثری نظم کو بطور صنف نہ ماننے والوں کی قطار بہت لمبی ہے اور اس قطار میں فیض احمد فیض اور احمد ندیم قاسمی جیسے معزز و محترم و معتبر و مستند شاعر بھی شامل ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ کوئی تخلیق یا نثر ہوتی ہے یا نظم۔ وہ نثری نظم کی جداگانہ شناخت کو تسلیم نہیں کرتے۔
ایک دفعہ اردو ادب کے استاد سحر انصاری نے نثری نظم کے بارے میں میری رائے پوچھی تو میں نے عرض کیا کہ اگر ایٹم بیک وقت مادہ بھی ہو سکتا ہے اور توانائی بھی تو کوئی تخلیق بیک وقت شاعری اور نثر کیوں نہیں ہو سکتی۔ عالمی ادب میں اس کی ایک جاندار مثال خلیل جبران کی تخلیقات ہیں۔
اردو ادب میں بھی زاہد ڈار ’نصر ملک‘ کشور ناہید ’مسعود قمر‘ ناجیہ احمد اور کئی اور شاعروں نے خوبصورت نثری نظمیں تخلیق کی ہیں۔ میں نے بھی اپنی پچاس سالہ ادبی زندگی میں چند نثری نظمیں لکھی ہیں۔ ایک حاضر خدمت ہے
امریکہ کی خارجہ پالیسی
وہ رات کو جس سے ہمبستری کرتی ہے
صبح ہوتے ہی
اسے قتل کروا دیتی ہے
پھر بھی
اس کی خواب گاہ کے باہر
عاشقوں کی طویل قطار کھڑی رہتی ہے
چونکہ اردو کے قارئین کا عمومی مزاج غزل اور مشاعرے کا مزاج ہے اس لیے وہ آزاد اور نثری نظموں کو اتنا پسند نہیں کرتے کیونکہ ایسی نظمیں مشاعروں میں سنانے سے زیادہ گھر میں بیٹھ کر پڑھنے والی نظمیں ہیں جو آپ کو کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں اور آپ کے دل و دماغ میں نئی کھڑکیاں کھولتی ہیں۔
میں مسعود قمر کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے نہ صرف مجھے یاد رکھا بلکہ ہزاروں میل دور سے مجھے ادبی تحفہ بھیجا۔ میں نے ان کے نئے تحفے کو ان کے پرانے تحفے۔ بارش بھرا تھیلا۔ کے ساتھ درویش کی کٹیا کی چھوٹی سی لائبریری میں بڑے پیار سے سجا دیا۔
جن دوستوں نے مسعود قمر کی شاعری نہیں پڑھی میں ان کے لیے ان کے نئے مجموعے۔
۔ آئینے میں جنم لیتا آدمی۔
(جسے لاہور کے 249 جی ماڈل ٹاؤن سائبان تحریک پبلشر نے نومبر 2022 میں چھاپا ہے )
سے ایک نظم پیش کرتا ہوں تا کہ آپ پاکستان سے ان کی کتاب حاصل کر سکیں اور ان کی نثری نظموں کا جداگانہ ذائقہ چکھ سکیں۔
ادھورے کاموں والی مکمل عورت (رفعت ناہید کے نام)
تم
کام کرتی رہتی ہو
کم روشنی میں بھی
سورج کی تیز تپش میں بھی
کام۔ کام۔ ادھورے کام
جو تم کبھی مکمل نہیں کر پاتی
تم اپنے شفاف اور خوبصورت پیروں کو
ہمیشہ
پھٹے بدبودار اور گندے موزوں سے
بچائے رکھتی تھی
اور اب
بے کار سے کاموں کی تھکن سے
پہن لیا تم نے
آدھے جسم کو ڈھانپتا ایپرن
مگر تم تو
پورے جسم کی عورت ہو
میں دیکھتا رہتا ہوں ہر وقت تمہیں
بچوں کے گندے موزے دھوتے
ان کے لیے چپس بناتے ’ان کی لڈو سنبھالتے
بچوں کے لیے گول گپوں کی کھٹائی بناتے
اور
استری گرم ہونے تک
نظم لکھتے
سورج
کبھی اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا
یہ تمہارا سایہ ہے
جو تم سے چھپنے کے لیے
سورج کے آگے پیچھے ہوتا رہتا ہے
میں
جب سورج کی تیز تر
تپش میں تمہیں کام کرتے ’تمہاری پیشانی پہ
پسینے کی نمی دیکھتا ہوں
تو
پیشانی پہ بوسہ دینے کے لیے
تمہاری طرف آتے آتے رک جاتا ہوں
مبادا
تم میرے بوسے کی نمی کو پسینے کی نمی ہی نہ سمجھ لو
بس اتنا کہتا ہوں
’ جان اب بس بھی کرو‘ تھکن دیکھو
افشاں جبیں پر اتر آئی ہے ’
اور۔ اور تم ’لٹ کو پیچھے کرتے
سارے پسینے کی نمی
میری چھاتی پہ اتارتے کہتی ہو
’اب کہاں ہے تھکن؟‘
۔ ۔
مسود قمر پاکستان کے ان ادیبوں ’شاعروں اور دانشوروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے نوجوانی میں ہی اپنے خوابوں اور آدرشوں کے لیے قربانیاں دیں اور جیل کی صعوبتوں کو مسکرا کر قبول کیا۔ وہ آج کل ماضی کی ان تلخ و شیریں یادداشتوں کو جمع کر رہے ہیں اور اپنی آنے والی نئی تخلیق
لائل پور سے لانڈھی جیل تک (جیل کی یادداشتیں )
مرتب کر رہے ہیں۔
۔ ۔ ۔


