سندھ میں جاری ڈاکو راج، لاقانونیت اور جمہوریت

سندھ اور پنجاب کے کچے کے علاقوں میں اس وقت بھی معصوم بچوں سمیت 50 سے زائد مغوی ڈاکوؤں کے پاس قید ہیں جن کو صرف اغوا برائے تاوان کے لئے اغوا کیا گیا ہے۔ بڑے مغویوں کے ساتھ اب چھوٹے معصوم بچوں کو بھی اغوا برائے تاوان کے لئے اغوا کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ کچھ روز قبل کشمور کے علاقے میں ڈاکو نے ہندو جگدیش کمار کو معصوم بچے دیپک کے ساتھ اغوا کر کے لے گئے جبکہ ڈرائیور کو گاڑی سمیت چھوڑ دیا ہے۔ معصوم دیپک کے گھر میں کہرام برپا ہے۔
خیرپور کے علاقے سیٹھارجہ سے معصوم بچے جعفر بھٹو کو اغوا کیا گیا تھا۔ تنگوانی کے علاقے سے اسکول ٹیچر ظہور احمد بھکرانی کا معصوم بچہ جنید احمد کو اغوا کیا گیا ہے، جو اس وقت بھی ڈاکوؤں کے پاس قید میں ہے۔ کندھ کوٹ کے علاقے رسالدار شاہ سے ڈھائی سالہ معصوم بچہ محمد عظیم مانک کو ڈاکوؤں نے اغوا کر لیا ہے، جو اس وقت بھی ڈاکوؤں کے قید میں ہے۔ کشمور کے علاقے سے معصوم بچہ حسین دشتی اغوا ہوا، جسے پولیس نے مبینہ مقابلے کے بعد بازیاب کرانے کا دعویٰ کر لیا ہے۔
کندھ کوٹ سے مزید ای معصوم بچے فرحان سومرو کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ ڈاکو نے اس بچے رسیوں سے باندھ کر اسی کی ویڈیو وائرل کی ہے، جو ابھی تک ڈاکوؤں کے قید میں ہے۔ مئی مہینے میں کندھ کوٹ سے ہندو معصوم بچے سمرت کمار کو گھر کے باہر کھیلتے ہوئے اغوا کیا گیا۔ بعد میں ایس ایس پی شکارپور امجد شیخ نے بازیاب کرایا گیا۔ کندھرا سے ہندو نوجوان ساحل کمار کو اغوا کیا گیا، جسے ایس ایس پی سکھر نے کچھ دنوں بعد بازیاب کرایا۔
کچھ روز قبل سندھ پنجاب بارڈر کے قریب گھوٹکی کے علاقے میں پولیس کی کارروائی میں اسلحہ سے بھری کار کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ کار سواروں کی فائرنگ پر پولیس کی جوابی فائرنگ میں ایک ملزم جاں بحق ہو گیا جبکہ دو زخمی ہو گئے۔ جاں بحق شخص کی شناخت خیبر پختون خواہ پولیس کے سب انسپکٹر مختار علی کے نام سے ہوئی ہے۔ اور ان کی کار سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا تھا۔ یہ ہے ہمارے ملک کے سیکیورٹی فورسز کا حال جو خود غیر قانونی اسلحہ کی فروخت میں ملوث ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ سندھ کے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے پاس امریکہ کا اسلحہ ہے، بھارت کا اسلحہ ہے، افغانستان کا اسلحہ ہے! ۔ بالکل یہ بات جس نے بھی کہی ہے، پھیلائی ہے، سو فیصد سچ ہے۔ میں نے امریکا میں دیکھا تھا یہ ڈاکوؤں امریکا میں ٹریننگ کر رہے تھے۔ یہ ڈاکو ٹرمپ کے دور میں امریکا گئے تھے، اس وقت میں بھی امریکا میں رہتا تھا۔ یہ ڈاکو بھارت گئے تھے، مودی نے انہیں ٹریننگ دلوا دی تھی، اس وقت میں نیو دھلی میں صحافت کرتا تھا۔ یہ ڈاکو افغانستان گئے تھے اور افغان صدر حامد کرزئی نے انہیں تربیت دی تھی، میں نے انہیں افغانستان میں دیکھا تھا
میں اس وقت کابل یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔ اور جب یہ ڈاکو امریکا بھارت اور افغانستان سے واپس آئے تو انہیں امریکی، اسرائیلی، بھارتی اور افغانی اسلحہ بطور گفٹ دیا گیا تھا۔ واپسی آتے ہوئے میں نے خود اپنی گنہگار آنکھوں سے جہاز میں ڈاکوؤں کو اسلحہ لے کر آتے ہوئے دیکھا تھا۔ یہ ڈاکو کچے کے علاقوں میں فارسٹ کی زمینوں پر قبضہ کر کے امریکی مفادات کے لئے کام کرتے ہیں، کچے کی پولنگ اسٹیشنز پر ٹرمپ اور جو بائیڈن کو جتواتے ہیں، یہ اغوا برائے تاوان کے لئے امریکی صدر بارک اوباما اور ہیلری کلنٹن کے کہنے پر اغوا کرتے ہیں اور تاوان کی رقم لے کر آدھی امریکا بھیج دیتے ہیں۔
اس تاوان کی رقم سے امریکا جنگی اسلحہ خریدتا ہے اور آدھا اسلحہ ڈاکو کو بھیج دیتا ہے۔ یہ بھی ذرائع سے معلوم ہوا کہ نسوانی آواز میں ڈاکو جن لوگوں کو اغوا کرتے ہیں وہ خواتین بھی امریکی ہیں ان کو تربیت دے کر کچے کے علاقے میں بھیجا گیا ہے تاکہ وہ لوگوں کو اغوا برائے تاوان میں مدد کر سکیں۔ کچے کے علاقے میں درخت کاٹ کر ساری لکڑی امریکا وہاں لے جاتا ہے تا کہ وہ کچھ جلا سکیں اور کچھ کا فرنیچر کے طور پر استعمال کیا جائے۔
کچے کے علاقوں میں تیار ہونی والی سبزیاں اور گندم کی بڑی کھیپ بھی امریکا وہاں لے جاتا ہے۔ امریکہ کے جریدہ کے مطابق امریکا میں کھائی جانے والی گندم آدھی سے زیادہ سندھ کے کچے سے وہاں پہنچتی ہے۔ ہماری سندھ حکومت اور سندھ پولیس بھلا امریکی حمایت یافتہ ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کیسے کرتے، امریکا ناراض ہو جائے گا اور سندھ حکومت چھیننے میں دیر نہیں کرے گا۔ ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں بھی امریکی صدر اور امریکی تھنک ٹینک رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نمبر ون نے بہت کوشش کی ہے کہ ہمیں آپریشن کی اجازت دی جائے، کشمور کے کچے کے علاقے میں پروفیسر ڈاکٹر اجمل ساوند کا قتل بھی امریکی حکم پر ہوا تھا، قتل کرنے والے ڈاکو مسلسل امریکی صدر سے رابطے میں تھے اور قتل کے بعد خوشی میں ہوائی فائرنگ کی ویڈیو بنا کر امریکا کو بطور ثبوت پیش کیا گیا تھا۔ ٹھل میں گزشتہ ڈیڑھ دہانی سے اغوا ہونے والی فضیلہ سرکی بھی امریکہ نے ڈاکو کو کہ کر اغوا کرایا تھا۔ کندھ کوٹ سے اغوا ہونے والے سمرت کمار کو بھارتی ایجنسی را نے ڈاکو سے مل کر اغوا کرایا تھا تا کہ سندھ پولیس کی بدنامی ہو سکے، امریکا جب بھی الیکشن قریب ہوتے ہیں سندھ میں قبیلائی تکرار شروع ہو جاتے ہیں، پھر امریکی سیاستدان ووٹ کے لئے عارضی جرگہ کر کے صلح کرواتے ہیں۔
سندھ میں جتنے طاقتور با اثر شخصیات سردار وڈیرے جاگیردار ہیں ان کو بھی امریکی سپورٹ حاصل ہے تا کہ وہ سندھ کے عوام سے ووٹ لے سکیں اور الیکشن جیت جائیں۔ امریکا کتنا ظالم ہے ایک طرف ہمیں دہشتگرد قرار دیتا ہے دوسری طرف کچے میں ہمارے ہی لوگوں کو تیار کر کے اسلحہ دے کر فارسٹ کی زمینوں پر قبضہ کرا کر اسلحہ دیتا ہے لوگوں کو اغوا کرواتا ہے گندم لے جاتا ہے، لکڑی لے جاتا ہے۔ دھاندلی کر کے کچے کی ساری پولنگ اسٹیشنز سے ووٹ لے کر کامیاب ہو جاتے ہیں صدر بن جاتے ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس صلاح الدین پنہور صاحب نے سکھر میں کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ اپر سندھ انسانوں کے رہنے کے لئے خطرناک ہے، یہاں کہ لوگ بدترین زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، وڈیرے سردار سیاستدان ڈاکو کا راج ہے، پولیس کے ساتھ رینجرز اور فوج کا مشترکہ آپریشن کیا جائے، آئی جی سندھ نے عدالت میں آپریشن کے متعلق لکھ کر پلان ترتیب دیا اور پیش کیا۔ جسٹس صلاح الدین پنھور کراچی ہائی کورٹ چکے گئے، کیس میں معاونت کرنے والے لا افسر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ زاہد فاروق مزاری کو کراچی ٹرانسفر کیا گیا اور پھر ہٹا دیا گیا۔
اپر سندھ میں پہلے سے بھی بدترین حالات، لاقانونیت، قتل و غارت، اغوا واقعات روز کا معمول بن گئے ہیں۔ پولیس بے بس نظر آ رہی ہے، اب تو معصوم بچے بھی اغوا ہو رہے ہیں، ان کی ویڈیوز بنا کر اپلوڈ کی جا رہی ہیں۔ لوگ پوچھتے بحث کرتے ہیں، سوال اٹھاتے ہیں کہ ڈاکو راج کب ختم ہو گا، بچوں کو کیوں اغوا کیا جا رہا ہے، بدامنی لاقانونیت کب تک برقرار رہے گی؟ بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ جن علاقوں میں لاقانونیت بدامنی، اغوا برائے تاوان، قتل و غارت اور ڈاکو راج ہے۔
وہاں پر سو فیصد پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے، تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، کا تعلق حکمران جماعت سے ہے۔ ابھی لوکل باڈیز الیکشن میں یوسی چیئرمینز سے لے کر ٹاؤن کمیٹیز چیئرمینز، میونسپل کارپوریشن، میونسپل کمیٹیز، ضلع کونسل کے چیئرمینز وائس چیئرمینز بلا مقابلہ منتخب /کامیاب ہوئے ہیں ان سب کا تعلق حکمران جماعت سے ہے، کچے پکے پر حکمران جماعت کے سوا کوئی پرندہ پر بھی نہیں مار سکتا، سوائے حکومت کے۔ سمجھ نہیں آتی جہاں پر ڈاکو راج ہے، سرداری نظام ہے، اغوا برائے تاوان کی صنعت پروان چڑھ رہی ہے، لوگوں کو آسانی سے قتل کیا جاتا ہے، تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، لوگوں کے زمینوں پر قبضہ کیا جاتا ہے، انہیں جھوٹے مقدمات میں گرفتار کر کے جیل بھیجا جاتا ہے، وہاں پر جمہوریت پر یقین رکھنے والی پڑھی لکھی جماعت پیپلز پارٹی بغیر کسی مقابلے، مخالفت کے آسانی سے کیسے جیت جاتی ہے اور کوئی ان کے لئے مشکلات پیدا نہیں ہوتی، لوگ کس بنیاد پر کس وعدے پر انہیں جتاتے ہیں؟
اب آتے ہیں اصل مسئلہ کی طرف تمام مسائل کا حل صرف اور صرف حکومت ریاست کے پاس ہوتا ہے۔ حکومت چاہے تو عام انتخابات کی طرح لوکل باڈیز انتخابات کی طر بغیر کسی نقصان یا مشکلات خوف کہ امن امان قائم کر سکتی ہے۔ حکومت انتخابات کی طرح آسانی سے خاموشی سے بدامنی لاقانونیت، اغوا برائے تاوان اور قتل و غارت کیوں نہیں بند کروا سکتی، لیکن اس کے پیچھے بڑا راز ہے۔ جواب ملتا ہے کہ لاقانونیت بدامنی اغوا برائے تاوان، قتل و غارت گری کے پیچھے بھی حکومت اور حکمران جماعت ملوث ہے، یہ سب ہاتھ کا پیدا کیا ہوا ماحول، حالات ہیں، عام انتخابات تک امن امان قائم کرنا مشکل ہے۔
الیکشن میں کامیابی کے لئے ایک تو جان بوجھ کر حالات ایسے پیدا کیے جاتے ہیں دوسری طرف کچے کی لاکھوں ایکڑ زمین پر قبضہ کرنے، جنگل کی لکڑی کاٹنے، فصل کاشت کرنے، مچھلی کا کاروبار کرنے کے لئے ڈاکو پیدا کیے جاتے ہیں ان سے لوگوں کو اغوا کرایا جاتا ہے تاکہ خوف برقرار ہے۔ سرکار کچے کی لاکھوں ایکڑ زمین خالی نہ کرائے اور دوسری طرف ان علاقوں میں خوف پیدا کر کے الیکشن آسانی سے جیت جاتے ہیں۔ یہ سب اپر سندھ کی عوام پر حکمرانوں کا جبر ظلم، بربریت اور عذاب الہی ہے۔
نیشنل ایکشن پلان کی طرح ڈاکوؤں کی وڈیوز شیئر کرنا، سوشل میڈیا پر رکھنا تشہیر کرنا بھی جرم تصور کیا جائے۔ ڈاکوؤں کی جانب سے جدید اسلحہ کے ساتھ ویڈیوز بنانا دھمکیاں دینا خوف پھیلانا دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو ڈاکوؤں کی اخلاقی مدد کرتے ہوئے ان کی آواز پورے صوبے ملک میں پہنچا کر جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ پولیس کو چاہیے کہ ڈاکوؤں کے سہولت کاروں کے ساتھ ان کی تشہیر کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے، جس طرح دہشتگردوں کی تشہیر کرنا جرم اور دہشتگردی تصور کی جاتی تھی اسی طرح ڈاکوؤں کے تشہیر کرنا بھی جرم تصور کیا جائے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سندھی قوم کو بدترین لاقانونیت اغوا برائے تاوان، قتل و غارت، بدامنی سے محفوظ رکھے اور اپنے بہتر مستقبل کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنے کی عقل شعور دے۔ اللہ تعالیٰ حکمرانوں، افسران شاہی، ڈاکوؤں، پولس، سرداروں وڈیروں کو ہدایت دے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔








