انکل عرفی


عیدالاضحٰی کی شام ہلکا سا قیلولہ کرنے کے بعد جب تازہ دم ہو کر موبائل فون اٹھایا تو چند عید مبارک کے پیغامات کے بعد اچانک ایک پیغام پر نظر پڑی کہ ممتاز اداکار شکیل انتقال کر گئے۔ ہم واٹس اپ کی اطلاعات پر آنکھیں بند کر کے کبھی بھی یقین نہیں کرتے ہیں، حسب عادت ٹویٹر کے باوثوق ذرائع اور نیوز چینلز پر نظر دوڑائی تو اس خبر کی تصدیق ہو گئی۔ بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی کے پاکستان ٹیلیویژن کے ادوار ایک فلم کی طرح نظروں کے سامنے چلنے لگے، طبیعت میں اداسی سی چھا گئی۔

بلا شبہ شکیل کے بغیر ٹیلیویژن کا سنہری دور نامکمل ہے۔ کچھ عرصہ پہلے راجو جمیل نے ایک تقریب میں جو کہ نیلوفر عباسی کے اعزاز میں سجائی گئی تھی، اس تقریب میں شکیل صاحب کی صحت کے حوالے سے پریشانی کا اظہار کیا تھا اور ان کے لیے دعاؤں کی خاص اپیل کی تھی۔ اسی روز سے ان کے مداح ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا شکار تھے اور عین عید الاضحٰی کے روز یہ افسوسناک خبر سننے میں آئی۔

شکیل صاحب کا اصل نام یوسف کمال تھا بعد میں وہ شکیل یوسف کہلائے، غالباً شکیل کا نام ان کو ان کی وجاہت کی بناء پر دیا گیا۔ بلیک اینڈ وائٹ ٹیلیویژن کے دور میں پیدا ہونے والے زیادہ تر بچوں کا نام ”شکیل“ ان کی شخصیت سے متاثر ہو کر رکھا جاتا رہا تھا۔ شکیل صاحب 1938 میں بھوپال میں پیدا ہوئے، ان کی ابتدائی تعلیم وہیں مشنری اسکول میں ہوئی۔ 1952 میں ان کا خاندان ہندوستان سے ہجرت کر کے کر کے کراچی میں سکونت اختیار کر گیا۔

انہوں نے اپنے کیریئر کی شروعات فلم سے کی، کہنے کو تو ان کا فلمی کیریئر 37 سال پر محیط ہے لیکن اس میں انہوں نے صرف 20 فلموں میں کام کیا جس میں 17 فلمیں اردو، دو سندھی اور آخری فلم انگریزی میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی سوانح حیات سے متعلق تھی جس میں انہوں نے قائد کے ساتھی اور ملک کے پہلے وزیر اعظم شہید ملت لیاقت علی خان کا کردار نبھایا۔ اس مختصر فہرست میں کامیاب فلموں کا تناسب مزید کم ہے، ایک سندھی فلم جبکہ دو اردو فلمیں ہی کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔ رحمان اور شبنم کی ”چاہت“ جبکہ وحید مراد کی ”دل میرا دھڑکن تیری“ شامل ہیں۔ پاکستان میں یہ بات تواتر کے ساتھ کی جاتی ہے کہ ٹی وی کے کامیاب اداکار فلم میں کیوں ناکام ہو جاتے ہیں اور ہمیشہ ٹیسٹ کیس کے طور پر شکیل کا نام لیا جاتا تھا، بہرحال فلم اور ٹی وی کا تقابل ایک علیحدہ بحث ہے۔

شکیل جیسے قد آور اداکار ٹیلیویژن کی شان اور مان رہئے ہیں۔ ہمہ جہت کردار نگاری چاہیے وہ فاطمہ ثریا بجیا کے مشترکہ خاندانی نظام پر مشتمل ڈرامے افشاں، انا، عروسہ ہوں یا حسینہ معین کی تخلیقات شہزوری، انکل عرفی، زیر زبر پیش، ان کہی ہوں۔ شکیل صاحب نے اپنی اداکاری سے انمٹ تاثر چھوڑا۔ یہی نہیں اطہر شاہ خان کے انتظار فرمائیے میں، آنگن ٹیڑھا کے محبوب صاحب، تاریخی ڈرامے کے کردار شہزادہ عبداللہ غرض ہر کردار میں نگینے کی طرح فٹ ہو جاتے تھے۔

بجیا اور حسینہ معین کے ڈراموں کا مرکزی کردار ہیروئن ہوتیں تھی لہذا ان کے اکثر ڈراموں میں مرد اداکاروں کے لیے بہت منجھی ہوئی بغیر کسی جھول کے پر تاثر اداکاری درکار ہوتی تھی، خاص طور سے بجیا کے ڈراموں میں خواتین کے اتنے زیادہ کردار ہوتے تھے کہ مردوں کے کردار یاد ہی نہیں رہتے تھے۔ اتنی مسابقتی فضا میں بھی شکیل صاحب نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ خواتین ناظرین میں وہ بہت زیادہ مقبول تھے۔ ہماری دھندلی یادوں میں ان کی ایک سیریل ”نامدار“ جو کہ ایک جاسوسی سیریل تھی اس میں ان کے ساتھ خالدہ ریاست مرحومہ نے مرکزی کردار ادا کیا، جبکہ ایک سنگل ایپیسوڈ پر مشتمل ڈرامہ شائستہ قیصر کے ساتھ تھا۔

اس ڈرامے کا نام تو یاد نہیں لیکن اس کا ایک خاص سین جس میں آواز بدلنے کے لیے وہ ٹیلی فون کے ماؤتھ پیس پر رومال لپیٹا کرتے تھے۔ اس دور میں کئی نوجوانوں نے یہی کوشش کی لیکن پکڑے گئے اور ثابت ہوا کہ اس طریقے سے آواز میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ہے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب ٹیلیفون پر سی ایل آئی کی سہولت نہیں تھی۔

شکیل صاحب بلامبالغہ ایک ورسٹائل اداکار تھے، وہ چاہے انکل عرفی ہوں یا شاہین کے ابو عبداللہ۔ ایک طرف بیگم سے ڈرنے والے دھیمے لہجے کے مالک محبوب احمد جبکہ دوسری طرف ایک خشک اور سخت طبیعت نفسیاتی مسائل سے دوچار بیوروکریٹ علی تیمور، انہوں نے ایک بڑے اور فطری اداکار کے طور پر اپنے اوپر کسی بھی کردار کی چھاپ نہیں لگنے دی۔ انہوں نے جس بھرپور طریقے سے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں انکل عرفی کا کردار نبھایا تھا اگر کوئی عام اداکار ہوتا تو کبھی اس کردار سے باہر ہی نہیں آتا۔

انہوں نے اسٹیج پر بھی جنگ کے موضوع پر بحیثیت صداکار اور اداکار سولو پرفارمنس دی، اس کے علاوہ علی حیدر کی مشہور ویڈیو ”پرانی جینز“ میں باپ کا کردار نبھایا۔ شکیل صاحب کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت پاکستان نے 1992 میں ان کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔ شکیل صاحب کچھ عرصے سے بڑھتی عمر کے مسائل سے دوچار تھے، ان کو آرتھرائٹس ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ خود سے چلنے پھرنے سے قاصر ہو گئے تھے۔ 29 جون 2023 کی شام عیدالاضحٰی کو یہ وجیہ و شکیل فنکار اپنے چاہنے والوں کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ گیا۔ فنکار برادری سمیت سرکاری سطح پر وزیراعظم اور وزرائے اعلی نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ اللہ تعالٰی ان کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔

Facebook Comments HS